صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1273
نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا بَرَزَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى يَغِيبَ". وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وَقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ.
حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنی نماز کی ادئیگی کے ساتھ طلوع شمس اور غروب شمس کا قصد وارادہ نہ کرو۔ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ۔ نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو اس کے برابر ہونے تک نماز سے رکے رہو۔ اور جب سورج کا کنارہ غروب ہو جائے تو اس کے مکمل غروب ہونے تک نماز سے رک جائو۔ یہ بندرا کی حدیث ہے اور جناب ابو کریب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : بے شک وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔
أَبُو كُرَيْبٍ: فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ. ← الصَّلَاةِ حَتَّى يَغِيبَ". وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. ← الصَّلَاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا ← ابْنِ عُمَرَ؛ "لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ". ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1273
