صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 613
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ- عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزَعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ -إِذَا قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ-: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَنَا وَالْمَجْدِ، أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ (1) لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ". لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْرَ أَنَّ أَحْمَدَ قَالَ: "رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا: وَزَادَ: وَقَالَ: "وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا، نَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا.
"حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے:((اللھُمَّ رَبَّنَا الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضَ وَمِلْءَ مَاشِعْتَ مِنْ شَیْءِ بَعْدُ ، أَھْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ، وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔))"اے اللہ! اے ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریف وتوصیف ہے ، آسمان بھر کر اور زمین بھر کر اور اس کے بعد جو چیز تو چاہے وہ بھر کر ( تیری تعریف ہے ) تو تعریف ہے ) تو تعریف اور بزرگی والا ہے ۔ بندے نے جو نہایت سچی بات کہی ہے ، اور ہم سب تیرے ہی بندے ہیں، ( وہ یہ ہے کہ) جو چیز تو عطا فرما دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے ، اور تجھ سے مال و دولت والے کو مال و دولت کچھ نفع نہیں دے گی۔ ( امام صاحب کے ) دونوں اساتذہ کرام نے ایک ہی طرح کی روایت بیان کی ہے ، مگر جناب احمد نے کہا:"رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ(یعنی انہوں نے اللھُمَّاور واؤ کے بغیر روایت بیان کی ہے ) امام صاحب نے اپنے استاد جناب محمد بن یحییٰ کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ اس میں ان الفا ظ کا اضافہ ہے ۔"وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ"جو چیز تو روک دے اسے کوئی نہیں کرسکتا ۔"
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیٰی ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْمِصْرِيَّانِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 613
