صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 589
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو دَاوُدَ، نَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ: اجْتَمَعَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: دَعُونِي أُحَدِّثُكُمْ وَأَنَا أَعْلَمُكُمْ بِهَذَا. قَالُوا: فَحَدِّثْ. قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ دَخَلَ الصَّلَاةَ وَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَالْقَابِضِ عَلَيْهِمَا، فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى عَادَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ بُنْدَارٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ: هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: مَنْ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ -يَعْنِي إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ- فَصَلَاتُهُ نَاقِصَةٌ.
جناب عباس بن سہل الساعدی بیان کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ افراد جمع ہوئے ، ان میں حضرت سہل بن سعد الساعدی ، ابوحمید الساعدی اور ابو اسید الساعدی بھی تھے ۔ تو انہوں نے رسول اللہﷺ کی نماز کا تذکروہ کیا، تو حضرت ابو حمید ؓ نے فرمایا: مجھے اجازت دو میں تمہیں ( رسول اللہﷺ کی نماز ) بیان کرتا ہوں اور میں تم سے اسے زیادہ جانتا ہوں ۔ انہوں نے کہا:(اگر ایسی بات ہے تو ) بیان کرو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو بہترین وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر آپ نماز میں داخل ہوئے اور تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر بلند کیے ، پھر آپ نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر ایسے رکھے جیسے آپ ان کو پکڑے ہوئے ہوں ۔ ( رکوع میں) اپنے سر کو نہ اٹھایا اور نہ بہت جھکایا ( بلکہ درمیانی حالت میں کمر کے برابر رکھا) اور اپنے بازؤں کو اپن پہلوؤں سے دور رکھا ، پھر ( رکوع سے) اپنا سر اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ گئی۔ پھر جناب بندار نے باقی حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے کہ تمام صحابہ کرام ؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے جناب محمد بن یحییٰ کو سنا وہ فرما رہے تھے : جس شخص نے یہ حدیث سننے کے بعد رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔
الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 589
