صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 565
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: مِثْلَ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَإِنَّمَا أَمْلَيْتُ هَذَا الْخَبَرَ، وَبَيَّنْتُ عِلَّتَهُ فِي هَذَا الْوَقْتِ مَخَافَةَ أَنْ يَغْتَرَ بَعْضُ طُلَّابِ الْعِلْمِ بِرِوَايَةِ الثَّقَفِيِّ وَخَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَيُتَوَهَّمَ أَنَّ رِوَايَةَ عَبْدِ الْوَهَّابِ وَخَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ صَحِيحَةٌ.
"امام صاحب اپنے استاد محترم جناب یعقوب بن ابراہیم دورقی کی سند سے جناب ابو العالیہ کی حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا بندار کی روایت جیسی روایت بیان کرتے ہیں ، فرق یہ ہے کہ اس روایت میں امام صاحب یہ الفاظ بیان کرتے ہیں : آپ یہ دعا سجدے میں کئی بار پڑھتے تھے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ( جس میں خالد حذاء اور ابو لعالیہ کے درمیان ایک شخص کا واسطہ موجود ہے ) اس وقت بیان کر دی ہے ، اس ڈر سے کہ بعض طالب علم جناب ثقفی اور خالد بن عبداللہ کی روایت سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں اور وہ عبدالوہاب اور خالد بن عبداللہ کی روایت کو صیح سمجھنے لگیں ( حالانکہ وہ منقطع ہے ۔)"
فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا. ← عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← رَجُلٌ: ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 565
