صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2282
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُ: "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ. فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ [233 - أ] وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: مِنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِذَا اسْتَيْسَرَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. قَالَ بُنْدَارٌ: وَيَجْعَلُ مَكَانَهَا شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ، وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ. وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيُعْطِيهِ مَعَهَا الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ (1) مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ.
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں یہ تحریر لکھوائی :بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِیہ زکوٰۃ کے وہ فرض احکام ہیں جنہیں رسول اللہﷺ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حکم دیا ہے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں :"جس شخص کی زکوٰۃ جذعہ (چار سالہ اونٹ ) ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو اور اس کے پاس حقہ ہو ( تین سالہ اونٹ ) تو اس شخص سے یہ تین سالہ اونٹ قبول کر لیا جائے اور ساتھ دو بکریاں لے لی جائیں اگر وہ میسر ہوں ، وگرنہ بیس درہم وصول کر لیے جائیں ۔ جناب بندار کی روایت ہے: "اس کمی کی جگہ دو بکریاں لی جائیں گی۔""اور جس کی زکوٰۃ ایک حقہ ہو اور اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ موجود ہو تو اس سے جذعہ لے لیا جائے گا اور تحصیل دار اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ حقہ ( تین سالہ اونٹ) ہو اور اس کے پاس بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) ہو تو اس سے دو سالہ اونٹنی قبول کر لی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ بنت لبون ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لے کر تحصیل دار اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ ایک بنت لبون ہو مگر وہ اس کے پاس موجود نہ ہو اور اس کے پاس بنت مخاض ( ایک سالہ اونٹنی ) ہو تو اس سے یہی قبول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ بنت مخاض ( ایک سالہ اونٹنی ) ہو لیکن اس کے پاس یہ موجود نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون ( دو سالہ اونٹنی ) ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائے گی اور تحصیل دار اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا اور جس شخص کے پاس بنت مخاض ( ایک سالہ اونٹنی) نہ ہو اور اس کے پاس ان لبون ( دو سالہ اونٹ) موجود ہو تو اس سے وہ قبول کر لیا جائے گا اور ساتھ کوئی چیز ادا نہیں کی جائے گی۔"
أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2282
