Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2234

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِي، أَخْبَرَني عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا جَاءَتِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ لِتَنْقَلِبَ، وَقَامَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - معها لِيَقْلِبَهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَاب الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَاب أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ بِهَا رَجُلانِ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

''حضرت صفیہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رمضان المبارک کےآخری عشر ے میں مسجد میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں جبکہ آپ اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے تھوڑی دیر آپ سے بات چیت کی پھر وہ واپس جانے کےلیے اٹھ کھڑی ہوئیں اور نبی کریم ﷺ بھی انہیں رخصت کرنے کےلیے اٹھے۔حتی کہ جب وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو ان کے پاس سے دو انصاری صحابی گزرے۔پھر مکمل حدیث بیان کی۔''

أَبِي الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2234

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2235

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْوَاسِطِيُّ [227 - ب]. حَدَّثَنَا عَبْد الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمُرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، وَرُبَّمَا قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ أَسْهَرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَر لَيْسَ لَهُ مِنَ الْقَلْبِ مَوْقِعٌ، وَهُوَ خَبَر مُنْكَرٌ لَوْلَا مَا اسْتَدْلَلْتُ مِنْ خَبَر صَفِيَّةَ عَلَى إِبَاحَةِ السَّمَرِ لِلْمُعْتَكِفِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُجْعَلَ لِهَذَا الْخَبَر بَاب عَلَى أَصْلِنَا، فَإِنَّ هَذَا الْخَبَر لَيْسَ مِنَ الْأَخْبَارِ الَّتِي يَجُوز الِاحْتِجَاجُ بِهَا إِلَّا أَنَّ فِي خَبَر صَفِيَّةَ غُنْيَةً فِي هَذَا. فَأَمَّا خَبَر صَفِيَّةَ ثَابِتٌ صَحِيحٌ، وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ مُحَادَثَةَ الزَّوْجَةِ زَوْجَهَا فِي اعْتِكَافِهِ لَيْلًا جَائِزٌ وَهُوَ السَّمَرُ نَفْسُهُ.

''حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کو گفتگو کیا کرتی تھی جبکہ آپ اعتکاف بیٹھے ہوتے تھے اور بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں:''وہ فرماتی ہیں: میں شب بیداری کرتی تھی۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت کا میرے دل میں کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہےاور یہ منکر روایت ہےاور اگر میں نےمعتکف شخص کےلیے رات کی گفتگو کے جواز کےلیے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے استدلال نہ کیا ہوتا تو اس روایت کےلیے اپنی شرط کےمطابق باب نہ باندھتا ۔کیونکہ یہ روایت ان روایات میں سے نہیں ہے کہ جن سے دلیل لینا جائز ہے مگر یہ کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس سے کفالت ہے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح ثابت ہے اور اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ بیوی اپنے خاوند سے رات کے وقت اس کے اعتکاف میں گفتگو کر سکتی ہے اور یہی سمر (شب گوئی)ہے۔''

كُنْتُ أَسْهَرُ. ← كُنْتُ أَسْمُرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، وَرُبَّمَا ← عَائِشَةَ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْمُعَلَّى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْوَاسِطِيُّ ب]. ← الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2235

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ، أَوْ وُضِعَ لَهُ سَرِيرُهُ وَرَاءَ أُسْطُوَانَةِ التَّوْبَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْطُوَانَةُ التَّوْبَةِ هِيَ الَّتِي شُدَّ أَبُو لُبَابةَ بْنُ عَبْد الْمُنْذِرِ عَلَيْهَا، وَهِيَ عَلَى غَيْر الْقِبْلَةِ.

''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اعتکاف کرنا چاہتے تو آپ کا بستر یا آپ کی چار پائی توبہ کے ستون کے پیچھے بچھا دی جاتی ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''توبہ کا ستون وہ ہے جس کے ساتھ حضرت ابوالبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے خود کو باند ھ لیا تھا اور وہ قبلہ شریف کی مخالف سمت میں ہے۔''

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2236

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2237

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صَدَقَةَ -وَهُوَ ابْنُ يَسَارٍ- عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عُمَرَ قَالَ: بُنِيَ لِنَبِيّ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ اعْتَكَفَ فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةً أَخْرَجَ رَأْسَهُ فَسَمِعَهُمْ يَقْرَؤُونَ. فَقَالَ: "إِنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَعْلَمْ أَحَدُكُمْ مَا يُنَاجِيهِ، يَجْهَرُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ؟ ". يُرِيدُ إِنْكَارَ الْجَهْرِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ.

''حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کےلیے کھجور کی ٹہنوں اور پتوں سے جھونپڑی بنائی گئی جس میں آپ نے رمضان المبارک میں اعتکاف کیا ۔ حتی کہ جب ایک رات ہوئی تو آپ نے اپنا سر مبارک باہر نکالا اور صحابہ کرام کو (بلند آواز سے) قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا :''بے شک نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے تو تم میں سے کسی شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا رسر گوشیاںکر رہا ہے، کیا تم میں سے بعض لوگ دوسروں پر بلند آواز سے (ان کی قراءت و ذکر میں) خلل ڈالتے ہیں ۔آپ نے ایک دوسرے پر بلند آواز سے قراءت کرنے کو نا پسند کیا تھا اور اس سے روکنا چاہتے تھے۔''

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← صَدَقَةَ وَهُوَ ابْنُ يَسَارٍ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2237

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2238

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ؛ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ: اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ ذَهَبْنَا نَنْقِلُ مَتَاعَنَا، فَقَالَ لَنَا: "مَنْ كَانَ مِنْكُمُ اعْتَكَفَ، فَلْيَرْجِعْ إِلَى مُعْتَكَفِهِ، فَإِنِّي أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَنُسِّيتُهَا، وَأُرِيتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ".

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک کے درمیانی عشرے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اعتکاف کیا پھر جب بیسویں رات کی صبح ہوئی تو ہم اپنا سامان منتقل کرنا شروع کر دیا تو آپ نےہمیں حکم دیا : ''جس شخص نے بھی تم میں سے اعتکاف یا تھا وہ اپنے معتکف میں واپس آجائے ، بے شک مجھے یہ رات دکھائی گئی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی ہے اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ میں کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں ۔''

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ؛ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2238

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2239

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه بْنُ عُمَرَ (1)، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ النَبِيّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَوْفِ بِنَذْرِكَ".

''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے سوال پوچھتے ہوئےعرض کیا: ''میں نے جاہلیت میں ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔''تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :''تم اپنی نذر پوری کرو۔''

النَبِيّ "أَوْفِ بِنَذْرِكَ". ← إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ← ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ النَبِيّ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2239

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2240

فِي خَبَر عَائِشَة: فَاسْتَأْذَنَتْهُ عَائِشَة لِتَعْتَكِفَ مَعَهُ فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ اسْتَأْذَنَتْ لِحَفْصَةَ. قَدْ أَمْلَيْتُ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ.

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے ،آپ کے ساتھ اعتکاف کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی، پھر انہوں نے آپ سےحضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کےلیے بھی اجازت طلب کی۔''میں یہ مکمل حدیث لکھوا چکا ہوں۔''

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2240

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2241

أَخْبَرَني الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: "وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ قَائِمًا، أَوْ يَصْمُتَ فَلَا يُكَلِّمُ أَحَدًا، وَلَا يَأْكُلُ لَحْمًا وَلَا يَضْطَجِعُ عَلَى فِرَاشٍ، عَلَى مَعْنَى التَّقَرُّبِ بِلَا يَمِينٍ، جَلَسَ وَتَكَلَّمَ وَأَكَلَ وَافْتَرَشَ بِلَا كَفَّارَةٍ، وَإِنَّمَا يُوَفَّى مِنَ النَّذْرِ بِمَا كَانَتْ لِلَّهِ فِيهِ طَاعَةٌ، فَأَمَّا مَنْ نَذَرَ مَا لَيْسَ لِلَّهِ فِيهِ طَاعَةٌ فَلَا يَفِي بِهِ، وَلَا يُكَفِّرْ. أَخْبَرَنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْد الْمَلِكِ (1) الْأَيْلِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَة؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّه فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّه فَلَا يَعْصِيهِ".

''امام شافعی ؒ فرماتے ہیں : جو شخص تقریب الہیٰ کے حصول کےلیے بغیر قسم کھا ئے یہ نذر مانے کہ وہ کھڑا ہو کر اعتکاف کرے گا،کسی شخص سے بات چیت نہیں کر گا، وہ نہ کھانا کھائے گا اور نہ بستر پر لیٹے گا۔ تو وہ کفا رہ دئیے بغیر بیٹھ جائے بات چیت کر لے اور کھانا کھا لے اور بستر پر آرام کر ے۔ بلا شبہ صرف وہ نذر پوری کی جائے گی جس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری ہو۔ رہا وہ شخص جس نےایسی نذر مانی جس میں اللہ کی اطاعت نہیں ہے تووہ نہ نذر پوری کرے اور نہ کفارہ دے۔''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص نے نذر مانی کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور جس شخص نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔''

"وَمَنْ نَذَرَ ← الشَّافِعِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2241

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2242

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى أَبَا إِسْرَائِيلَ قَائِمًا فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: "مَا لَهُ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ؟ " قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَصُومَ، وَأَنْ لَا يَجْلِسَ، [228 - أ] وَلَا يَسْتَظِلَّ. قَالَ: "مُرُوهُ فَلْيَجْلِسْ، وَلْيَسْتَظِلَّ، وَلْيَصُمْ". فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْوَفَاءِ بِالصَّوْمِ الَّذِي هُوَ طَاعَةٌ، وَتَرْكِ الْقِيَامِ فِي الشَّمْسِ، إِذْ لَا طَاعَةَ فِي الْقِيَامِ فِي الشَّمْسِ. وَإِنْ كَانَ الْقِيَامُ فِي الشَّمْسِ، لَيْسَ بِمَعْصِيَةٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِيهِ تَعْذِيبٌ فَيَكُونُ حِينَئِذٍ مَعْصِيَةً. قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْجِنْسَ عَلَى الِاسْتِقْصَاءِ فِي كِتَابِ النُّذُورِ.

''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابواسرائیل کو دھوپ میں کھڑے دیکھا تو پوچھا:''اسے کیا ہو ہے کہ دھوپ میں کھڑا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی:انہوں نے نذر مانی ہے کہ وہ روزہ رکھیں گے اور بیٹھیں گے نہیں ، اور نہ سایہ حاصل کریں گے۔''آپ نے فرمایا: اس کو کہو کہ وہ بیٹھ جائے اور سایہ میں رہے اور روزہ رکھ لے ۔''لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے انہیں روزے کی نذر پوری کرنے کا حکم دیا کیونکہ روزہ اللہ کیااطاعت وفرمانبردار ہے اور دھوپ میں کھڑے ہونے سے روکا کیونکہ دھوپ میں کھڑے ہونا اللہ کی اطاعت و فرمانبردار ی کا کام نہیں ہے ۔ اگر چہ دھوپ میں کھڑے ہونا معصیت نہیں ہے لیکن اگر اس میں جسمانی اذیت ہوتو پھر یہ معصیت ہوگا۔ میں نے یہ قسم مکمل طور پر کتاب النذور میں بیان کی ہے۔''

أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2242

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2243

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، أَخْبَرَنا عَبْد اللَّه بْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْوَسَطِ مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْ صَبِيحَتِهَا مِنِ اعْتِكَافِهِ، قَالَ: "مَنِ اعْتَكَفَ مَعَنَا (2) فَلْيَعْتَكِفْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. آخِرُ كِتَابِ الصَّوْمِ

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے تو آپ نے ایک سال اعتکاف کیا ، حتی کی جب اکیسویں رات ہوئی ، جس رات کی صبح کو آپ اپنے اعتکاف سے نکلتے تھے،آپ نے فرمایا:''جس شخص نے ہمارے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرہ بھی اعتکاف کرے۔''اور مکمل حدیث بیان کی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← عبد الله بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2243

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2244

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَيَّانَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّه وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: "أَنْ تَعْبُدَ اللَّه لَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: "الْإِحْسَانُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّه كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنِ أَشْرَاطِهَا، إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا - يَعْنِي السَّرَارِيَّ - فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رِعَاءُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ أَشْرَاطُهَا، وَإِذَا صَارَ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ رُؤوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّه، ثُمَّ تَلَا: (إِنَّ اللَّه عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ) إِلَى آخِرِ السُّورَةِ [لقمان:34]. ثُمَّ أَدْبَرَ الرَجُل، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِينَهُمْ" هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبُو حَيَّانَ هَذَا اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، تَيْمَ الرَّبَاب (1).

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ رسول اللہﷺ (گھر سے باہر ) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب ایک شخص چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو آخرت کے دن اٹھنے پر یقین رکھے ۔" اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ، اور نماز قائم کرے اور توفرض زکاۃ ادا کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔" اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو بلاشبہ وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے ۔ "اس نے پوچھا : اے ا للہ کے رسول! قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا: "جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں ۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے گی تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب بکریوں کے چرواہے بلند وبالا عمارات بنانے میں فخر وغرور کا اظہار کریں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب ننگے بدن ، ننگے پاؤں چلنے والے( فقراء) لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اِنَّ اللہَ عِنْدَہْ عَلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَاتَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ)(لقمان:۳۴)"بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کا پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا پوری طرح باخبر ہے ۔"پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا : "یہ جبرائیلؑ ہیں ، لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے"یہ روایت جناب محمد بن بشر کی ہے ۔"

بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّه يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ إِذْ أَتَاهُ رَجُل يَمْشِي، فَقَالَ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← وحدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← جَرِيرٌ ← وحدثنا يوسف بن موسى ← أَبُو حَيَّانَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2244

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2245

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا حَمَّادُ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد - عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ- قَالَ: سَمِعَتُهُ يَقُولُ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْد الْقَيْسِ عَلَى الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنَّ (2) هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كُفَّارُ مُضَرَ وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَّا فِي شَهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُهُ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا. قَالَ: "آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّه وَشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ".

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ ربیعہ قبیلے کے لوگ ہیں او رہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں ہی آسکتے ہیں تو آپ ہمیں کوئی ایسی چیز بتاد یں جس پر ہم خود عمل پیرا ہوں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے افراد کو اس کی دعوت دیں ۔ آپ نے فرمایا: "میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ۔ میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے اور اس بات کی گواہی دینے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور تمہیں جو غنیمت حاصل ہو اس میں سے خمس ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں کدو کے برتن ، سبز رنگ گھڑے ، لکڑی کرید کر بنائے گئے برتن اور تار کول لگے ہوئے برتن سے منع کرتا ہوں۔"

قَدِمَ وَفْدُ عَبْد الْقَيْسِ عَلَى الرَّسُولِ فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2245

chevron_left Previous
1…213214215…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals