صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1705
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، نَا حَجَّاجُ [179 - ب] بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ أُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: "إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِذَلِكَ. وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَمَرَ بِذَلِكَ أَلَّا تُوصِلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ هَذَا ثِقَةٌ، وَالْآخَرُ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ تَكَلَّمَ أَصْحَابُنَا فِي حَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ، قَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْهُمَا جَمِيعًا.
’’جناب عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر نے حضرت سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا۔میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:’’ہاں میں نے حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ محراب میں جمعہ ادا کیا جب انہوں نے سلام پھیر اتو میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کر دی، انہوں نے مجھے بلانے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔لہٰذا میں ان کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:’’جب تم نماز جمعہ پڑھ لو تو گفتگو کرنے یا وہاں سے نکلنے سے پہلے اس کے ساتھ کوئی دوسری نماز نہ ملاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔جناب ابن رافع اور عبدالرحمان کی روایت میں الفاظ یہ ہیں:’’اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملایا جائے حتٰی کہ تم گفتگو لر کو یا وہاں سے نکل جاؤ۔امام ابوبکر فرماتے ہیں:’’عمر بن عطاء بن أبی الخوار ثقہ راوی ہے۔جبکہ دوسرے عمر بن عطاء کے بارے میں ہمارے اصحاب محدثین نے اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کی احادیث میں جرح کی ہے اور جناب ابن جریج نے ان دونوں سے روایات بیان کی ہیں۔‘‘
أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِیْدُ ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوار ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation · Hadith 1705
