صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1645
أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و أبو بشر الواسطي قالا : ثنا هشيم قال الدورقي أخبرنا يونس و قال أبو بشر عن يونس عن ابن سيرين أخبرني عمرو بن وهب قال : سمعت المغيرة بن شعبة قال : خصلتان لا أسأل عنهما أحد بعد ما قد شهدت من رسول الله صلى الله عليه و سلم إنا كنا معه في سفر فبرز لحاجته ثم جاء فتوضأ و مسح بناصيته و جانبي عمامته و مسح على خفيه قال : و صلاة الإمام خلف الرجل مع رعيته و شهدت من رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان في سفر فحضرت الصلاة فاحتبس عليهم النبي صلى الله عليه و سلم فأقاموا الصلاة و قدموا ابن عوف فصلى بهم بعض الصلاة و جاء النبي صلى الله عليه و سلم فصلى خلف ابن عوف ما بقي من الصلاة فلما سلم ابن عوف قام النبي صلى الله عليه و سلم فقضى ما سبق به هذا حديث الدورقي و قال أبو بشر عن عمرو بن وهب الثقفي عن المغيرة و قال : فبرز لحاجة فدعا بماء فأتيته بإداوة أو سطيحة و عليه جبة شامية ضيقة الكمين فأخرج يده من أسفل الجبة فتوصأ و مسح على خفيه و مسح بناصيته و جانبي العمامة ثم أبطأ على القوم فأقاموا الصلاة قال أبو بكر : إن صح هذا الخبر يعني قوله حدثني عمرو بن وهب فإن حماد بن زيد رواه عن أيوب عن ابن سيرين قال : حدثني رجل يكنى أبا عبد الله عن عمرو بن وهب
’’حضرت میغرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے دو چیزوں کو دیکھنے کے بعد ان کے بارے میں کسی سے سوال نہیں کروں گا ۔ہم ایک سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ قضائے حاجت کےلیے تشریف لے گئے ۔ پھر آپ ﷺ واپس آئے تو وضو کیا ، اور اپنی پیشانی اور اپنے عمامہ کے دونوں اطراف کا مسح کیا اور اپنے دونوں موزوں کا بھی مسح کیا۔ (دوسری بات یہ ہے کہ ) امام کا اپنی رعایا کے ساتھ کسی آدمی کے پیچھے نماز ادا کرنا (جائز ہے ) ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک سفر میں تھے تو نماز کا وقت ہو گیا اور نبی کریم ﷺ (قضائے حاجت اسے فار غ ہوکر ) ان تک نہ پہنچ سکے ۔صحابہ کرام ؓ نےنماز کھڑی کی اور حضرت عبد الرحمان بن عوف ؓ کو آگے بڑھا دیا ۔لہذا انہوں نے ابھی کچھ نماز ہی پڑھائی تھی کہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے ۔آپ ﷺ نے حضرت عبد الرحمان بن عوف ؓ کے پیچھے بقیہ نماز ادا کی ،پھر جب حضرت ابن عو ف ؓ سلام پھیر لیا تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہوکر فوت شدہ نماز ادا کرلی ۔‘‘یہ جناب الد ور قی کی روایت ہے ۔ جبکہ جناب ابو بشر کی روایت میں ہے :’’تو نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کےلیے تشریف کے گئے اور آپﷺ نے پانی منگوایا تومیں ایک برتن یامشکیزے میں پانی لے کرحاضرہوا ۔آپ ﷺ نےتنگ آستینو ں والا ایک جبہ زیب تن کیا ہوا تھا ۔لہذا آپ ﷺ نے جبے کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکال کر وضو کیا اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا اور اپنی پیشانی اور عمامہ کے دونوں جانب مسح کیا ، پھر آپ ﷺ لوگوں کے پا س دیر سے تشریف لائے تو انہوں نے نماز کھڑی کر دی ۔‘‘امام ابو بکر فرماتے ہیں اگر یہ حدیث اس سند سے ثابت ہو یعنی ابو بشر کی سند میں ابن سیر ین کہتے ہیں :حدثنی عمرو بن وھب ( کہ مجھے عمروبن وہب نے بیان کیا ۔اس طرح انہوں نے اپنے سماع کی صر احت کر دی ہے )لیکن حماد بن زید کی سند میں ہے ،ابن سیر ین کہتے ہیں :حدثنی رجل یکنی اباعبداللہ عن عمر وبن وھب ۔(یعنی اس سند میں ابن سیر ین اور عمروبن وہب کے درمیان ابو عبداللہ نامی مہجول شخص کاواسطہ ہے ۔)‘‘
الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يُونُسَ ← أَبُو بِشْرِ: ← يونس و ← الدَّوْرَقِيُّ، ← هُشَيْمٌ ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و أبو بشر الواسطي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1645
