Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1179

ثنا يعقوب الدورقي ثنا ابن علية ح و ثنا مؤمل بن هشام نا إسماعيل - يعني ابن علية - عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه قال قال بريدة : خرجت ذات يوم أمشي لحاجة فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي فظننته يريد حاجة فجعلت أكف عنه فلم أزل أفعل ذلك حتى رآني فأشار إلي فأتيته فأخذ بيدي فانطلقنا نمشي جميعا فإذا نحن برجل بين أيدينا يصلي يكثر الركوع و السجود فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أترى يرائي ؟ فقلت : الله ورسوله أعلم قال : فأرسل يده و طق بين يديه ثلاث مرار يرفع يده و يصوبهما و يقول : عليكم هديا قاصدا عليكم هديا قاصدا عليكم هديا قاصدا فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه هذا لفظ حديث مؤمل لم يقل الدورقي : فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه

حضرت بریدہ ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں گھر سے نکل کر قضائے حاجت کے لیے جا رہا تھا ، تو اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ بھی جارہے ہیں ،میں نے گمان کیا کہ آپ قضائے حاجت کے لیےجارہے ہیں تو میں نے آپ سے دور ہٹنا شروع کر دیا ، میں اسی طرح کر رہا تھا کہ آپ نے مجھے دیکھ لیا اور پھر اشارہ کر کے مجھے (اپنے پاس)بلا لیا۔میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر ہم اکھٹے چلنے لگے ، پھر اچانک ہم نے اپنے سامنے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، کیا یہ دکھلاوا کر ہا ہے؟میں نے عرض کی :اللہ اور اس کے رسول بخوبی جانتے ہیں ۔ کہتے ہیں آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ اور اپنے سامنے اپنے دونوں ہاتھوں سے تین بار اشارہ کیا ،آپ اپنے ہاتھ بلند کرتے اور پھر انہیں نیچے کرتے اور فرمایا :درمیانی راہ اختیار کرو ، اعتدال والی راہ اپنائو،تمہیں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ جس شخص نے بھی اس دین کے ساتھ سختی کرنے کی کوشش کی تو یہ دین اس پر غالب آجاتا ہے (اسے پچھاڑ دیتا ہے)یہ مومل کے حدیث کے الفاظ ہیں جناب دورقی نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے ۔ بے شک جس شخص نے بھی اس دین کے معاملے میں سختی کی تو دین اس پر غالب آ جاتا ہے ۔

بريدة خرجت ذات يوم أمشي لحاجة فإذا ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← و، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1179

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1180

حدثنا يعقوب بن إبراهيم نا ابن علية أخبرنا عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال : دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد وحبل ممدود بين ساريتين فقال : ما هذا ؟ قالوا : لزينب تصلي فإذا كسلت أو فترت أمسكت به فقال : حلوه ثم قال : ليصلي أحدكم نشاطه فإذا كسل أو فتر فليقعد

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا :یہ کیا ہے؟حاضرین نے عرض کی : یہ حضرت زینب ؓ کی رسی ہے ، وہ نماز پڑھتی ہے پھر جب تھک جاتی ہیں یا سست ہو جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں ، آپ نے حکم دیا : اسے کھول دو ۔ پھر فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ نشاط کے ساتھ اور چست ہو کر نماز ادا کرے ، اور جب تھک جائے یا سست ہو جائے (تو نماز چھوڑ کر)بیٹھ جائے (اور آرام کرے)۔

ليصلي أحدكم نشاطه فإذا كسل أو فتر فليقعد ← لزينب تصلي فإذا كسلت أو فترت أمسكت به فقال حلوه ثم ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ وَحَبَلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1180

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1181

ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْتَمِرٍّ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو حَبِيبِ مُسْلِمِ بْنُ يَحْيَى مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا: لِمَيْمُونَةَ بِنْتِ [129 - أ] الْحَارِثِ، قَالَ: "ذِي مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ " قَالُوا: تُصَلِّي قَائِمَةً، فَإِذَا أَعْيَتِ اعْتَمَدَتْ عَلَيْهِ، فَحَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "يُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا أَعْيَى فَلْيَجْلِسْ" (1).

حضرت انس بن مالک ؓسے مذکورہ بالا روایت کی طرح مروی ہے۔صرف ان الفاظ کا فرق ہے کہ حاضرین نے عرض کی :(یہ رسی)میمونہ بن حارث ؓ کی ہے ۔ آپ نے پوچھا :وہ اس رسی کے ساتھ کیا کرتی ہیں ؟انہوں نے جواب دیا : وہ (اس کے ساتھ)کھڑی ہو کے نماز پڑھتی ہیں ، پھر جب تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لیتی ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے اسے کھول دیا اور فرمایا :تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے ، پھر جب تھک جائے تو اس کو بیٹھ جانا چاہیے۔

"يُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا أَعْيَى فَلْيَجْلِسْ" ← تُصَلِّي قَائِمَةً، فَإِذَا أَعْيَتِ اعْتَمَدَتْ عَلَيْهِ، فَحَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ← "ذِي مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ ← لِمَيْمُونَةَ بِنْتِ أ] الْحَارِثِ، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ. غَيْرَ أَنَّهُ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو حَبِيبِ مُسْلِمِ بْنُ يَحْيَى مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْتَمِرٍّ الْبَصْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1181

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1182

قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَكَلَّفُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غُفِرَ لَكَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".

حضرت مغیرہ بن شبعہ ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (اتنی زیادہ نفل)نماز پڑھی کہ آپ کے قدم مبارک سوجھ گئے آپ سے عرض کی گئ :اے اللہ کے رسول آپ یہ مشقت و تکلیف برداشت کر رہے ہیں حالا نکہ آپ کی بخشش کر دی گئ ہے؟ آپ نے فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

صلى الْنَّبِيّ حتى انتفخت قدماه فقيل له تكلف هذا ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن الفضل بن محمد بن إسحاق بن خزيمة ← أَبُو طَاهِرٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن أحمد الصَّابُونِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1182

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1183

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (بکثرت نفل)نماز پڑھی حتی کے آپ کے قدم مبارک ورم آلود ہو گئے ۔ آپ سے عرض کی گئ : تحقیق اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فر ما دیے ہیں (پھر اس قدر مشقت کس لیے فرما رہے ہیں ؟)آپ نے فرمایا :کیا میں (اپنے رب کا)شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔

عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1183

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1184

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ (1)، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ؛ ح وَثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا". هَذَا لَفْظُ الْمُحَارِبِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الخبر دِلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الشُّكْرَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ يَكُونُ بِالْعَمَلِ لَهُ، لِأَنَّ الشُّكْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ، [وَ] قَدْ يَكُونُ بِاللِّسَانِ، قَالَ اللَّهُ: (اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا) [سبأ: 13]. فَأَمَرَهُمْ جَلَّ وَعَلَا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ شُكْرًا فَالشُّكْرُ قَدْ يَكُونُ بِالْقَوْلِ وَالْعَمَلِ جَمِيعًا، لَا عَلَى مَا يَتَوَهَّمُ الْعَامَّةُ أَنَّ الشُّكْرَ إِنَّمَا يَكُونُ بِاللِّسَانِ فَقَطْ. وَقَوْلُهُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ: إِنَّهُ جَائِزٌ فِي اللُّغَةِ أَنْ يُقَالَ: يَكُونُ فِي مَعْنَى كَانَ، لِأَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1)) [الفتح]. وَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ)، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَائِلِ، وَلَمْ يَقُلْ أَيْضًا وَعَدَنِي أَنْ يَغْفِرَ؛ لِأَنَّهُ قَدْ غَفَرَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ قَبْلَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ وَبَعْدَهُنَّ

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اس قدر طویل)قیام کیا کرتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پھول گئے ، آپ سے عرض کی گئ : اے اللہ کے رسول ! آپ یہ بہت مشقت والا کام کرتے ہیں جبکہ آپ کے پاس اللہ تعالی کی یہ وحی آ چکی ہے کہ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی تما م غلطیاں معاف فرما دی ہیں ؟آپ نے فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ یہ محاربی کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کا شکر کبھی اس کے لیے عمل کے ذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ سارے کا سارا شکر اللہ ہی کے لیے ہیں ۔اور کبھی شکر زبان سے ادا ہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: (اعْمَلُوْا اٰلَ دَاوْدَشْکْرًا)(سباء:13)اے آل داود !شکرانے کے طور پر (نیک ) عمل کرو ۔ لہذا اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اس کے شکرانے کے طور پر نیک اعمال کریں ۔ چنانچہ شکر کبھی قول اور عمل دونوں کے ساتھ ادا ہوتا ہے ۔ اس طرح نہیں عام لوگوں کا خیال ہے کہ شکر صرف زبان سے ادا ہوتا ہے ۔ حدیث کے یہ الفاظ ، اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں ۔ یہ اس قسم سے ہے جس کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ لغوی طور پر جائز ہے کہ کہا جائے :ہو گا (ہو چکا)معنی میں بھی آتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی سے فرمایا ہے : (إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا)(الفتح:1)بلاشبہ ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی ہے۔ اور نبی ﷺ سے یہ کہا گیا : تحقیق اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں تو نبی اکرم ﷺنے قائل کا رد نہیں کیا اور نہ اسے یہ فرمایا ہے کہ میرے رب نے میرے گناہ معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ کیونکہ وہ تو معاف کر چکا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، جَمِيعًا ← أَبُو عَمَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1184

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ قَبلَ الصَّلَواتِ المَکتُوبَاتِ وَبَعدَھُنَّ · حديث 1185

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا

حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جس شخص نے ایک دن میں فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعات نفل نماز ادا کی ، اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے۔

هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers · Hadith 1185

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ قَبلَ الصَّلَواتِ المَکتُوبَاتِ وَبَعدَھُنَّ · حديث 1186

حدثنا يحيى بن حكيم ثنا محبوب بن الحسن ثنا داود بن أبي هند عن رجل من أهل الطائف يقال له : النعمان بن سالم عن عمرو بن أوس عن عنبسة بن أبي سفيان عن أم حبيبة قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : من صلى لله في كل يوم فذكر نحوه

حضرت ام حبیبہ ؓبیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جس شخص نے اللہ کے لیے ہر روز نماز پڑھی ، پھر مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کیا۔

من صلى لله في كل يوم فذكر نحوه ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ حَبِيبَةَ، ← عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ← رجل من أهل الطائف يقال له النعمان بن سالم ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← محبوب بن الحسن ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers · Hadith 1186

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ قَبلَ الصَّلَواتِ المَکتُوبَاتِ وَبَعدَھُنَّ · حديث 1187

نا يعقوب الدورقي ثنا ابن علية أخبرنا داود بن أبي هند حدثني النعمان بن سالم عن عمرو بن أوس قال قال عنبسة ابن أبي سفيان : ألا أحدثك حديثا حدثتناه أم حبيبة ؟ قلت : بلى قال : وما رأيته قال ذاك إلا لتسار إليه قال : حدثتنا : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من صلى في يوم ثنتي عشرة سجدة تطوعا بنى له بيت في الجنة قال عنبسة : ما تركتهن منذ سمعتهن من أم حبيبة قال عمرو بن أوس : ما تركتهن منذ سمعتهن من عنبسة قال النعمان : ما تركتهن منذ سمعتهن من عمرو قال داود : أما نحن فإنا نصلي ونترك قال ابن علية : هذا أو نحوه قال أبو بكر : أسقط هشيم من الإسناد عمرو بن أوس والصحيح حديث ابن علية - وهو في الباب الثاني - وما رواه محبوب ابن الحسن

حضرت عنبسہ بن ابو سفیان نے عمرو بن اوس سے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سنائو ں جو مجھے حضرت ام حبیبہ ؓنے بیان کی ہیں ؟ میں نے کہا ضرور سنائیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات انہوں نے حدیث کی طرح رغبت کرنے اور اس میں خوشی محسوس کرنے کے لیے کہی ، وہ فرماتے ہیں : ہمیں حضرت ام حبیبہ ؓ بیان کیا : بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ایک دن میں بارہ رکعات نفل ادا کیے، اس کے لیے جنت میں گھر بنادیا جاتا ہے ۔حضرت عنبسہ کہتے ہیں کہ:جب سے میں ان کے بارے میں حضرت ام حبیبہ سے سنا ہے میں نے یہ رکعات کبھی نہیں چھوڑیں ۔ جناب عمرو بن اوس کہتے ہیں : میں نے یہ رکعات کبھی ترک نہیں کیں جب سے میں نے حضرت عنبسہ سے ان کے بارے میں حدیث سنی ہے ۔ جناب نعمان کہتے ہیں : جب سے میں نے عمرو سے ان کے متعلق سنا ہے ، میں نے کبھی انہیں نہیں چھوڑا ۔ جناب داود کہتے ہیں : مگر ہم تو کبھی انہیں ادا کر لیتے ہیں اور کبھی چھوڑ بھی دیتے ہیں ۔ جناب ابن علیہ نے بھی یہی کلمات کہے ہیں ۔ام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : جناب ہشیم نے اس سند سے عمرو بن اوس کا واسطہ گرا دیا ہے ۔ جبکہ صحیح حدیث ابن علیہ کی ہے۔ جو دوسرے باب میں مذکورہ ہے اور اسے محبوب بن حسن نے بیان کیا ہے۔

حدثتنا ← ذاك إلا لتسار إليه ← وما رأيته ← عنبسة ابن أبي سفيان ألا أحدثك حديثا حدثتناه أم حبيبة قلت بلى ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers · Hadith 1187

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ قَبلَ الصَّلَواتِ المَکتُوبَاتِ وَبَعدَھُنَّ · حديث 1188

نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ المرادي، نَا شُعَيْبٌ، نَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ".

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ ؓرسول اللہﷺ سے روایت کر تی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جس شخص نے ایک دن میں بارہ رکعات نفل نماز ادا کی ، اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ چار رکعات ظہر سے پہلے ، اور دو رکعات ظہر کے بعد ، نماز عصر سے پہلے دو رکعات ، مغرب کی نماز کے بعد دو رکعات اور دو رکعات صبح کی نماز سے پہلے ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أُخْتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers · Hadith 1188

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ قَبلَ الصَّلَواتِ المَکتُوبَاتِ وَبَعدَھُنَّ · حديث 1189

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ الْبَغْدَادِيُّ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ -وَهُوَ ابْنُ رَافِعٍ- عَنْ عَنْبَسَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ- عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، وَاثْنَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ".

حضرت ام حبیبہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس شخص نے بارہ رکعات (نفل نماز)ادا کیں، اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتے ہیں ۔چار رکعات ظہر سے پہلے،اور دو رکعات ظہر کے بعد،دو رکعات عصر سے پہلے،اور دو رکعات مغرب کے بعد، اور دو رکعات فجر سے پہلے ہیں۔

أُمِّ حَبِيبَةَ، ← عَنْبَسَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُفْيَانَ- ← الْمُسَيَّبِ -وَهُوَ ابْنُ رَافِعٍ- ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ الْبَغْدَادِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers · Hadith 1189

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوُّعِ قَبلَ الصَّلَواتِ المَکتُوبَاتِ وَبَعدَھُنَّ · حديث 1190

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى يُحَدِّثُ؛ ح وَثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ أَصَابَتْهُ شِدَّةٌ، قَالَ: أَخْبَرْتِنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، وَقَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ: مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ".

جناب محمد بن ابی سفیان پر جب موت طاری ہوئی تو انہیں بڑی سختی کا سامنا کرنا پڑا ،(اس وقت)انہوں نے فرمایا : مجھے میری بہن ام حبیبہ بنت ابی سفیان نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس نے چار رکعات کو اہتمام اور باقاعدگی سے ادا کیا ۔ابن معمر کے الفاظ ہیں : جس نے ظہر سے پہلے چار رکعات اور اس کے بعد چار رکعات ادا کیں تو اللہ تعالی اسے جہنم پر حرام قرار دیں گے۔

أَخْبَرْتِنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ← لَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ أَصَابَتْهُ شِدَّةٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو عَامِرٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers · Hadith 1190

chevron_left Previous
1…186187188…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals