صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1179
ثنا يعقوب الدورقي ثنا ابن علية ح و ثنا مؤمل بن هشام نا إسماعيل - يعني ابن علية - عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه قال قال بريدة : خرجت ذات يوم أمشي لحاجة فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي فظننته يريد حاجة فجعلت أكف عنه فلم أزل أفعل ذلك حتى رآني فأشار إلي فأتيته فأخذ بيدي فانطلقنا نمشي جميعا فإذا نحن برجل بين أيدينا يصلي يكثر الركوع و السجود فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أترى يرائي ؟ فقلت : الله ورسوله أعلم قال : فأرسل يده و طق بين يديه ثلاث مرار يرفع يده و يصوبهما و يقول : عليكم هديا قاصدا عليكم هديا قاصدا عليكم هديا قاصدا فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه هذا لفظ حديث مؤمل لم يقل الدورقي : فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه
حضرت بریدہ ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں گھر سے نکل کر قضائے حاجت کے لیے جا رہا تھا ، تو اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ بھی جارہے ہیں ،میں نے گمان کیا کہ آپ قضائے حاجت کے لیےجارہے ہیں تو میں نے آپ سے دور ہٹنا شروع کر دیا ، میں اسی طرح کر رہا تھا کہ آپ نے مجھے دیکھ لیا اور پھر اشارہ کر کے مجھے (اپنے پاس)بلا لیا۔میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر ہم اکھٹے چلنے لگے ، پھر اچانک ہم نے اپنے سامنے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، کیا یہ دکھلاوا کر ہا ہے؟میں نے عرض کی :اللہ اور اس کے رسول بخوبی جانتے ہیں ۔ کہتے ہیں آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ اور اپنے سامنے اپنے دونوں ہاتھوں سے تین بار اشارہ کیا ،آپ اپنے ہاتھ بلند کرتے اور پھر انہیں نیچے کرتے اور فرمایا :درمیانی راہ اختیار کرو ، اعتدال والی راہ اپنائو،تمہیں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ جس شخص نے بھی اس دین کے ساتھ سختی کرنے کی کوشش کی تو یہ دین اس پر غالب آجاتا ہے (اسے پچھاڑ دیتا ہے)یہ مومل کے حدیث کے الفاظ ہیں جناب دورقی نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے ۔ بے شک جس شخص نے بھی اس دین کے معاملے میں سختی کی تو دین اس پر غالب آ جاتا ہے ۔
بريدة خرجت ذات يوم أمشي لحاجة فإذا ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← و، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1179
