Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1095

حدثناه محمد بن رافع نا يحيى - يعني ابن آدم - نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات علمنيهن أقولهن عند القنوت ثناه يوسف بن موسى و زياد بن أيوب قالا : ثنا وكيع ثنا يونس بن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال : علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات أقولهن في قنوت الوتر : اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت هذا لفظ حديث وكيع غير أن يوسف قال : إنه لا يذل من واليت لم يذكر الواو وقال ابن رافع : إنك تقضي ولم يذكر الفاء وقال : إنه لا يذل ولم يذكر الواو ثنا يوسف بن موسى ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي فذكر الحديث بمثله وهذا الخبر رواه شعبة بن الحجاج عن بريد بن أبي مريم في قصة الدعاء ولم يذكر القنوت ولا الوتر

حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے چند دعائیہ کلمات سیکھے جنہیں میں قنوت ( وتر ) میں پڑھتا ہوں ۔ ( امام صاحب ایک اور روایت سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں ) حضرت حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے چند دعائیہ کلمات سکھائے جنہیں میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں۔ ( وہ کلمات یہ ہیں ) اللھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافِیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَباَرِکْ لِیْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِّیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَإِنَّکَ تَقْضِیْ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ ( اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں ہدایت نصیب فرماجنہیں تو نے ہدایت نصیب فرمائی ہے۔ اور مجھے ان لوگوں مین عنایت و سلامتی عطا فرما جن کو تو نے عنایت و سلامتی عطا فرمائی ہے ۔ اور مجھے ان لوگوں میں دوست بنا لے جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا ہے ۔ اور مجھے خیرو برکت عطا فرما اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا ہے ، اور مجھے اس فیصلے کے شر سے بچا لےجو تو نے کیا ہے بلاشبہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اور بے شک جسے تو دوست بنا لے اسے ذلیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اے ہمارے رب ! تو بہت با برکت اور بلند و بالا ذات ہے۔"یہ وکیع کی روایت ہے ۔ مگر یوسف نے داؤ کے إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَروایت کیا ہے اور ابن رافع فاء نے بغیر یہ جملہ (إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ)اور داؤ کے بغیر یہ جملہ (إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مِنْ وَّالَیْتَ)۔ اسی حدیث کو امام شعبہ نے برید بن ابی مریم سے دعا کے قصے میں روایت کیا ہے مگر قنوت اور وتر کا تذکرہ نہیں کیا ۔"

الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ آدَمَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1095

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1096

نا بندار نا محمد بن جعفر نا شعبة قال : سمعت ابن أبي مريم وثنا محمد بن عبد الأعلى الصنعاني نا يزيد بن زريع نا شعبة ح وثنا أبو موسى نا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء قال : سألت الحسن بن علي علام تذكر من رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ فقال : كان يعلمنا هذا الدعاء : اللهم اهدني فيمن هديت بمثل حديث وكيع في الدعاء ولم يذكر القنوت ولا الوتر و شعبة أحفظ من عدد مثل يونس بن أبي إسحاق و أبو إسحاق لا يعلم أسمع هذا الخبر من بريد أو دلسه عنه اللهم إلا أن يكون كما يدعي بعض علمائنا أن كل ما رواه يونس عن من روى عنه أبوه أبو إسحاق هو مما سمعه يونس مع أبيه ممن روى عنه ولو ثبت الخبر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه أمر بالقنوت في الوتر أو قنت في الوتر لم يجز عندي مخالفة خبر النبي ولست أعلمه ثابتا

" امام شعبہ نرید بن ابی مریم سے اور وہ ابو حوار سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت علی بن حسن ؓ سے پوچھا : آپ نے رسو ل اللہ ﷺ سے کون سے دعا یاد کی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: آپ ہمیں یہ دعا سکھایا کرتے تھے : اَللَّھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ دعا کے بارے میں وکیع کی حدیث کی طرح بیان کیا ، اور وتر اور قنوت کے بارے میں تذکرہ نہیں کیا ( یعنی یہ نہیں کہا کہ یہ دعا ہم قنوت وتر میں پڑھتے تھے ) اور امام شعبہ ، یونس بن ابی اسحاق جیسے بے شمار راویوں سےحفظ میں پختہ اور مضبوط ہیں ۔ جبکہ ابو اسحاق کے بارے میں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس نے یہ روایت برید سے سنی ہے یا اس سے تدلیس کی ہے ۔البتہ یہ ممکن ہے کہ جس طرح ہمارے بعض علماء کرام کا دعویٰ ہے کہ ہر وہ روایت جو یونس اپنے والد گرامی کے مشائک سے بیان کرتا ہے وہ روایت یونس نے اپنے والد اسحاق کے ساتھ اس کے مشائخ سے سنی ہے اور اگر نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت ثابت ہو جائے کہ نبی اکرم ﷺ نے قنوت وتر کا حکم دیا ہے یا آپ نے وتروں میں دعائے قنوت پڑھی ہے تو میرے نزدیک نبی مکرم ﷺ کی حدیث کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے ۔ لیکن اس حدیث سے ثابت ہونے کا مجھے علم نہیں ہے۔"

سألت الحسن بن علي علام تذكر من رسول الله ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1096

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1097

وقد روى الزهري عن سعيد بن المسيب و أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يقنت إلا أن يدعوا لقوم على قوم فإذا أراد أن يدعو على قوم أو يدعو لقوم قنت حين يرفع رأسه من الركعة الثانية من صلاة الفجر ثناه عمرو بن علي و محمد بن يحيى قالا ثنا أبو داود نا إبراهيم بن سعد عن الزهري : وقد روى العلاء بن صالح - شيخ من أهل الكوفة - صلاته عن زبيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى : أنه سأله عن القنوت في الوتر فقال : حدثنا البراء بن عازب قال : سنة ماضية ثناه محمد بن العلاء بن كريب نا محمد بن بشر نا العلاء بن صالح وهذا الشيخ العلاء بن صالح وهم في هذه اللفظة في قوله : في الوتر وإنما هو في الفجر لا في الوتر فلعله انمحى من كتابه ما بين الفاء والجيم فصارت الفاء شبه الواو والجيم ربما كانت صغيرة تشبه التاء فلعله لما رأى أهل بلده يقنتون في الوتر وعلماؤهم لا يقنتون في الفجر توهم أن خبر البراء إنما هو من القنوت في الوتر نا سلم بن جنادة نا وكيع عن سفيان عن زبيد اليمامي قال : سألت عبد الرحمن بن أبي ليلى عن القنوت في الفجر فقال سنة ماضية فسفيان الثوري أحفظ من مائتين مثل العلاء بن صالح فخبر أن سؤال زبيد بن أبي ليلى إنما كان عن القنوت في الفجر لا في الوتر فأعلمه أنه سنة ماضية ولم يذكر أيضا البراء وقد روى الثوري و شعبة - هما إماما أهل زمانهما في الحديث - عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن البراء أن النبي قنت في الفجر

" امام زھری نے حضرت سعید بن مسیب اور ابو سلمہی بن عبد الرحمان کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی مکرم ﷺ کسی قوم کے حق میں دعا یا کسی قوم کے حق میں بد دعا کرنے کے علاوہ قنوت نہیں کیا کرتے تھے۔ چنانچہ جب آپ کسی قوم کے حق میں دعا کرنا چاہتے یا کسی قوم کے خلاف بد دعا کرنا چاہتے تو آپ نماز فجر کی دوسری رکعت ( کے رکوع) سے سر اٹھانے کے بعد قنوت کرتے۔" اہل قوفہ کے بزرگ علا بن صالح نے زبید کے واسطے سے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ کی سند سے نبی علیہ السلام کی نماز کے متعلق روایت بیان کی ہے ۔ جناب زید کہتے ہیں کہ انہوں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیی سے قنوت وتر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمیں حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان فرمایا کہ یہ جاری اور ثابت سنت ہے۔ یہ بزرگ علا بن صالح کو اس لفظ " فی الفجر " ( نماز فجر میں قنوت ) ہے۔ " فی الوتر" ( وتروں میں قنوت ) نہیں ہے۔ شاید کہ ان کی کتاب سے فاء اور جیم کے درمیان حرف کچھ مٹ گیا ہو۔ اور فاء واو بن گئی ہو ۔ اور جیم چھوٹی سی لکھی تھی تو وہ تاء کے مشابہ ہو گئی، ( اور لفظ فجر سے وتر بن گیا ) اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے شہر والوں کو وتروں میں قنوت کرتے دیکھا ہو اور ان کے علما نماز فجر میں قنوت نہیں کرتے تھے تو انہیں یہ وہم ہو گیا ہو کہ حضرت برا بن عازب کی روایت قنوت وتر کے بارے میں ہے ۔ ( حالانکہ وہ قنوت فجر کے بارے میں ہے ) امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے زبید الیمامی سے روایت کی کہ وہ کہتے ہیں : " میں نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے نماز فجر میں قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : یہ جاری اور ثابت سنت ہے۔" لہٰذا امام سفیان ثوری رحمہ اللہ جو علا بن صالح جیسے دو سو راویوں سے برھ کر حفظ و اتقان والے ہیں ۔ انہوں نے یہ خبر دی ہے کہ زبید بن عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے نماز فجر میں قنوت کے بارے میں سوال کیا تھا ، وتروں میں قنوت کے بارے میں نہیں کیا تھا ۔ تو انہوں نے زبید کو بتایا کہ ( نماز فجر میں قنوت ) جاری اور ثابت سنت ہے ۔ اور انہون نے اپنی روایت میں حضرت براءؓ کا تذکرہ بھی نہیں کیا ۔ امام سفیان ثوری اور امام شعبہ رحمہ اللہ نے ، جو اپنے وقت کے حدیث کے دو امام ہیں ، انہوں نے عمرو بن مرہ کے واسطے سے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور وہ حضرت براء ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نماز فجر میں قنوت کیا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سعيد بن المسيب و أبي سلمة بن عبد الرحمن ← وقد روى الزهري

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1097

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1098

ثناه سلم بن جنادة ثنا وكيع عن سفيان و شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن البراء : أن النبي صلى الله عليه وسلم قنت في الفجر

"حضرت براء سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نماز فجر میں قنوت کیا۔"

الْبَرَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← سفيان و شعبة ← وَكِيعٌ، ← ثناه سلم بن جنادة

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1098

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1099

ثنا بندار ثنا محمد بن جعفر نا شعبة عن عمرو بن مرة قال : سمعت ابن أبي ليلى حدثني البراء بن عازب : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقنت في المغرب والصبح نا أحمد بن عبدة ثنا أبو داود نا شعبة عن عمرو بن مرة أنبأه قال : سمعت ابن أبي ليلى يحدث عن البراء بن عازب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقنت في الصبح والمغرب فهذا هو الصحيح عن البراء بن عازب عن النبي صلى الله عليه وسلم لا على ما رواه العلاء بن صالح وأعلى خبر يحفظ في القنوت في الوتر عن أبي بن كعب في عهد عمر بن الخطاب موقوفا أنهم كانوا يقنتون بعد النصف يعني من رمضان

" حضرت برا ء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز مغرب اور نماز صبح میں قنوت کرتے تھے ۔ امام شعبہ ، عمرو بن مرہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں : میں نے ابن ابی لیلیٰ کو حضرت براء بن عازب سے بیان کرتے سنا کہ نبی کریم ﷺ صبح اور مغرب میں دعائے قنوت کرتے تھے ، لہٰذا حضرت براء بن عازب کی نبی اکرم ﷺ سے مروی روایت کے یہ الفاظ صحیح ہیں۔ علاء بن صالح کی روایت کے الفاظ درست نہیں ہیں اور قنوت وتر کے متعلق اعلیٰ ترین روایات جو محفوظ و ثابت ہیں وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور میں حضرت ابی بن کعب ؓ کے موقوف بیان کی گئی ہے کہ وہ (صحابہ کرام ) نصف رمضان المبارک کے بعد قنوت وتر کیا کرتے تھے۔"

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1099

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1100

نا الربيع بن سليمان المرادي نا عبد الله بن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب أخبرني عروة بن الزبير : أن عبد الرحمن بن عبد القاري - وكان في عهد عمر بن الخطاب مع عبد الله بن الأرقم على بيت المال - أن عمر خرج ليلة في رمضان فخرج معه عبد الرحمن بن عبد القاري فطاف بالمسجد وأهل المسجد أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر : والله إني أظن لو جمعنا هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم عمر على ذلك وأمر أبي بن كعب أن يقوم لهم في رمضان فخرج عمر عليهم والناس يصلون بصلاة قارئهم فقال عمر : نعم البدعة هي والتي تنامون عنها أفضل من التي تقومون - يريد آخر الليل - فكان الناس يقومون أوله وكانوا يلعنون الكفرة في النصف : اللهم قاتل الكفرة الذين يصدون عن سبيلك ويكذبون رسلك ولا يؤمنون بوعدك وخالف بين كلمتهم وألق في قلوبهم الرعب وألق عليهم رجزك وعذابك إله الحق ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم ويدعو للمسلمين بما استطاع من خير ثم يستغفر للمؤمنين قال : وكان يقول إذا فرغ من لعنة الكفرة وصلاته على النبي واستغفاره للمؤمنين والمؤمنات ومسألته : اللهم إياك نعبد ولك نصلي ونسجد وإليك نسعى ونحفد ونرجو رحمتك ربنا ونخاف عذابك الجد إن عذابك لمن عاديت ملحق ثم يكبر ويهوى ساجدا

حضرت عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے دور خلافت میں عبد الرحمان بن عبد قاری، عبد اللہ بن ارقم کے ساتھ بیت المال کے گورنر تھے۔ ( وہ بیان کرتے ہیں کہ ) حضرت عمر بن خطاب ؓ رمضان المبارک کی ایک رات گھر سے باہر تشریف لائےتو عبد الرحمان بن عبد قاری بھی ان کے ساتھ چل دیے۔ انہوإ نے مسجد کا ایک چکر لگایا جبکہ اہل مسجد مختلف گروہون کی شکل میں نماز پڑھ رہے تھے، کوئی شخص اکیلا ہی نماز پڑھ رہا تھا ، اور کسی شخص کے ساتھ کچھ لوگ مل کر نماز پڑھ رہے تھے، چنانچہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: " اللہ کی قسم ! بے شک میرا خیال ہے کہ اگر ہم ان سب کو ایک ہی قاری کے ساتھ جمع کر دیں تو یہ بہت اچھا ہو گا، پھر حضرت عمر ؓ اس بات کا پختہ ارادہ فرمایا۔ اور حضرت ابی بن کعب ؓ کو حکم دیا کہ وہ انہیں رمضان المبارک میں نفل نماز پڑھایا کریں ۔ پھر ایک روز حضرت عمر ؓ ان کے پاس تشریف لائےجبکہ وہ اپنے قاری کے ساتھ ( نفل ) نماز پڑھ رہے تھے، تو حضرت عمر نے فرمایا: یہ نیا کام کتنا اچھا ہے ، رات کے جس حصے سے تم سو جاو گےوہ اس حصے سے افضل ہے جس میں تم نماز پڑھ رہے ہو ۔ آپ کی مراد رات کا آخری حصہ تھا۔ تو لوگ ابتدائی رات میں قیام کرتے تھے، اور نصف رمضان المبارک کے بعد کفار پر ان الفاظ میں لعنت بھیجتے تھے۔( دعائے قنوت پڑھتے تھے )اللھُمَّ قَاتِلِ الْکَرَۃَ الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِکَ ، وَیُکَذَّبُوْنَ رُسُلَکَ ، وَلاَ یُؤْمِنُوْنَ بِوَعْدِکَ ، وَخَالِفْ بَیْنَ کَلِمَتِھِمْ ، وَأَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھَمُ الرُّعْبَ، وَأَلْقِ عَلَیْھِمْ رِجْزَکَ وَعَذَابَکَ إِلٰہَ الْحَقَّ۔" اے اللہ ! ان کافروں کو تباہ و برباد کر دے ، جو تیرے راستے سے روکتے ہیں ، اور تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں ، اور تیرے وعدے پر ایمان نہیں لاتے، اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے ، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے ، اے معبود برحق! ان پر اپنا عذاب مسلط کر دے ۔" پھر ( قاری اور امام) نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتا اور مسلمانوں کے لیے حسب استطاعت خیرو بھلائی کی دعائیں مانگتاپھر مومنوں کے لیے بخشش کی دعائیں کرتا ۔ راوی کا بیان ہے کہ امام جب کفار پر لعنت بھیجنے سے، نبی ﷺ پر درود پڑھنے اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بخشش کی دعا کرنے سے فارغ ہوتا تو یہ دعا بھی مانگتا: اللھُمَّ إِیَّاکَ نَعْبُدُ ، وَلَکَ نُصَلَّیْ وَنَسْجُدُ وَإِلَیْکَ نَسْعٰی وَنَحْفِدُ ، وَنَرْجُوْ رَحْمَتَکَ رَبَّنَا ، وَنَخَافُ عَذَابَکَ الْجِدَّ، إِنَّ عَذَابَکَ لِمَنْ عَادَیْتَ مُلْحِقٌ" اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری طرف ہی جستجو اور جدو جہد کرتے ہیں ، اے ہمارے رب ہم تیری رحمت کی امید کرتے ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب تیرے دشمنوں پر مسلط ہو کر رہے گا ، پھر امام " اللہ اکبر " کہہ کر سجدے کے لیے جھک جاتا۔"

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1100

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1101

نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، نَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ قَالَ: زَارَنَا أَبِي فِي يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَمْسَى عِنْدَنَا وَأَفْطَرَ، وَقَامَ بِنَا تِلْكَ اللَّيْلَةِ وَأَوْتَرَ بِنَا، ثُمَّ انْحَدَرَ إِلَى مَسْجِدِهِ فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ، حَتَّى بَقِيَ الْوِتْرُ، ثُمَّ قَدَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَوْتِرْ بِأَصْحَابِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ".

" حضرت قیس بن طلق بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں ایک دن میرے والد محترم ہمیں ملنے کے لیے تشریف لائے ، انہوں نے شام ہمارے پاس کی اور روزہ افطار کیا، اور اس رات ہمیں قیام کرایا اور ہمیں وتر بھی پڑھائے، پھر وہ اپنی مسجد میں تشریف لے گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، حتی کہ وتر باقی رہ گیا ، پھر اپنے ساتھیوں میں سے ایک کو آگے کر کر فرمایا: " تم اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھا دو" کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : " ایک رات میں دو مرتبہ وتر پڑھنا درست نہیں ہے ۔"

قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1101

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1102

نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، نَا هِشَامٌ، ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، فَإِذَا سَلَّمَ كَبَّرَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَالِسًا، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ مِنَ الْفَجْرِ.

" حضرت ابو سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: " آپ تیرہ رکعات پڑھتے تھے، پھر آٹھ رکعات نفل پڑھتے پھر وتر ادا کرتے ، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے، پھر آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، اور دو رکعات( صبح کی نماز کی ) اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔" یہ ابو موسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جناب الدورقی نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے: " اور آپ ایک رکعت وتر پڑھتے پھر جب آپ سلام پھیرتے ، تو اللہ اکبر کہہ کر بیٹھے بیٹھے دو رکعات ادا کرتے،اور دو رکعات نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان ادا کرتے۔"

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← هِشَامٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1102

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1103

نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- نَا أَبُو مسَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: زُرْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَوَافَقْتُ لَيْلَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَحَرٍ طَوِيلٍ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ، فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَلَمَّا عَلِمَ أَنِّي أُرِيدُ الصَّلَاةَ مَعَهُ أَخَذَ بِيَدِي فَحَوَّلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَأَوْتَرَ بِتِسْعٍ أَوْ سَبْعٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَوَضَعَ جَنْبَهُ حَتَّى سَمِعْتُ ضَفِيزَهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَانْطَلَقَ فَصَلَّى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ اللَّتَانِ ذَكَرَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْوِتْرِ كَمَا أَخْبَرَتْ عَائِشَةُ. وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِمَا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ.

" حضرت ابن عباس ؓ باین کرتے ہیں کہ میں اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ سے ملنے گیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کی رات کی موافقت کی۔ ( اس رات آپ بھی حضرت میمونہ کے گھر تشریف فرما تھے)۔ تو رسول اللہ ﷺ سھری سے کافی دیر پہلے اٹھ گئے، آپ نے اچھی طرح وضو کیا پھر کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی ، میں نے بھی اٹھ کر وضو کیا اور پھر میں آ کر آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا ، جب آپ کو معلوم ہو اکہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہون تو آپ نے مجھے میرے ہاتھ سے پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ، پھر آپ نے نو یا سات رکعت وتر ادا کیے، پھر آپ نے دو رکعتیں ادا کیں اور لیٹ کر سو گئے حتی کہ میں نے آپ کے خراٹے سنے۔ پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ تشریف لےگئے اور نماز پڑھائی۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : "یہ دو رکعات جو حضرت ابن عباس ؓ نے اس ھدیث میں ذکر کی ہیں ، ممکن ہے آپ کی مراد وہ دو رکعات ہون ۔ جو نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد پٹرھتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ نے خبر دی ہے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی مراد وہ دو رکعات ہوں جو آپ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت ادا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو مَسْلَمَةَ، ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1103

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1104

نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو دَاوُدَ، نَا أَبُو حَرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ تَجَوَّزَ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَنَامُ وَعِنْدَ رَأْسِهِ طَهُورُهُ وَسِوَاكُهُ، فَيَقُومُ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي وَيَتَجَوَّزُ بِرَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ، وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ، جَعَلَ الثَّمَانِ سِتًّا وَيُوتِرُ بِالسَّابِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) وَ (إِذَا زُلْزِلَتِ).

جناب سعد بن ہشام انصاری سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا:"رسول اللہ ﷺ جب عشا کی نماز پڑھ لیتے تو دو ہلکی سی رکعات ادا کرت ، پھر آپ سو جاتے اور آپ کے سر ہانے آپ کو وجو کا پانی اور آپ کی مسواک رکھی ہوتی تھی، آپ بیدار ہوتے تو آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے اور نماز پڑھتے، دو مختصر سی رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ اٹھ رکعات قیام کرتے، ان میں برابر قراءت فرماتے، اور نویں رکعت وتر ادا کرتے ، اور دو رکعات ادا کرتے ، اس حال میں کہ آپ بیتھے ہوتے ، پھر جب رسول اللہ عمر رسیدہ ہو گئے اور فربہ ہو گئے ، تو آپ نے آٹھ رکعات کو چھ کر دیا اور ساتویں رکعت وتر پڑھتے۔ اور آپ دو رکعات بیٹھے بیٹھے ادا کرتے، ان میں (قُلْ یَا اَیُّھا الکٰفِرُوْنَ)اور (إِذَ ا زُلْزِلَتِ) کی تلاوت فرماتے۔"

صَلَاةِ النَّبِيِّ بِاللَّيْلِ، ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1104

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1105

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، نَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [122 - أ] يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَثَقُلَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ فِيهَا (1) بِالرَّحْمَنِ وَالْوَاقِعَةِ. قَالَ أَنَسٌ: وَنَحْنُ نَقْرَأُ بِالسُّوَرِ الْقِصَارِ، (إِذَا زُلْزِلَتِ)، وَ (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ) وَنَحْوِهِمَا.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنو رکعات وتر پڑھتے تھے۔ پھر جب آپ کا جسم مبارک بھاری ہو گیا تو آپ سات رکعات وتر پڑھنے لگے، اور آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے، ان میں سورہ رحمٰن اور سورہ واقعہ کی تلاوت کرتے ۔" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : " اور ہم چھوتی چھوٹی سورتیں ، جیسے (إِ ذَ زُلْزِلَتِ) اور ( قُلْ یَااَیُّھَا الْکٰفَرُوْنَ) اوران جیسی سورتیں پرھتے تھے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1105

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1106

نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، نَا عَمِّي، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ -وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ- عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ. فَقَالَ: "إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جَهْدٌ وَثِقَلٌ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَمَا فِيهِمَا مِنَ السُّنَنِ

" رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ۔ تو آپ نے فرمایا : بے شک یہ سفر مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہے، لہذا جب تم میں سے کوئی شخص وتر پڑھےتو دو رکعتیں ( مزید ) پڑھ لے ۔ پھر اگر وہ تہجد کے لیے بیدار ہو گیا تو بہتر ورنہ وہی دو رکعات اسے کافی ہو گی۔"

كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ، ← ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ← مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1106

chevron_left Previous
1…179180181…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals