صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1095
حدثناه محمد بن رافع نا يحيى - يعني ابن آدم - نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال : حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات علمنيهن أقولهن عند القنوت ثناه يوسف بن موسى و زياد بن أيوب قالا : ثنا وكيع ثنا يونس بن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي قال : علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات أقولهن في قنوت الوتر : اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت هذا لفظ حديث وكيع غير أن يوسف قال : إنه لا يذل من واليت لم يذكر الواو وقال ابن رافع : إنك تقضي ولم يذكر الفاء وقال : إنه لا يذل ولم يذكر الواو ثنا يوسف بن موسى ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن بريد بن أبي مريم عن أبي الحوراء عن الحسن بن علي فذكر الحديث بمثله وهذا الخبر رواه شعبة بن الحجاج عن بريد بن أبي مريم في قصة الدعاء ولم يذكر القنوت ولا الوتر
حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے چند دعائیہ کلمات سیکھے جنہیں میں قنوت ( وتر ) میں پڑھتا ہوں ۔ ( امام صاحب ایک اور روایت سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں ) حضرت حسن بن علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے چند دعائیہ کلمات سکھائے جنہیں میں قنوت وتر میں پڑھتا ہوں۔ ( وہ کلمات یہ ہیں ) اللھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ ، وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافِیْتَ ، وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ، وَباَرِکْ لِیْ فِیْمَا أَعْطَیْتَ، وَقِنِّیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَإِنَّکَ تَقْضِیْ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ۔ ( اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں ہدایت نصیب فرماجنہیں تو نے ہدایت نصیب فرمائی ہے۔ اور مجھے ان لوگوں مین عنایت و سلامتی عطا فرما جن کو تو نے عنایت و سلامتی عطا فرمائی ہے ۔ اور مجھے ان لوگوں میں دوست بنا لے جنہیں تو نے اپنا دوست بنایا ہے ۔ اور مجھے خیرو برکت عطا فرما اس میں جو تو نے مجھے عطا کیا ہے ، اور مجھے اس فیصلے کے شر سے بچا لےجو تو نے کیا ہے بلاشبہ تو ہی فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ اور بے شک جسے تو دوست بنا لے اسے ذلیل نہیں کیا جا سکتا ۔ اے ہمارے رب ! تو بہت با برکت اور بلند و بالا ذات ہے۔"یہ وکیع کی روایت ہے ۔ مگر یوسف نے داؤ کے إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَروایت کیا ہے اور ابن رافع فاء نے بغیر یہ جملہ (إِنَّکَ تَقْضِی وَلاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ)اور داؤ کے بغیر یہ جملہ (إِنَّہُ لاَ یَذِلُّ مِنْ وَّالَیْتَ)۔ اسی حدیث کو امام شعبہ نے برید بن ابی مریم سے دعا کے قصے میں روایت کیا ہے مگر قنوت اور وتر کا تذکرہ نہیں کیا ۔"
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ آدَمَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1095
