صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1059
نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ كَانَ أَرَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِقَوْلِهِ: بَعْدَ الْكَلَامِ، قَوْلَهُ: لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالَ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟ " فَهَذَا الْكَلَامُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْنَى كَلَامِهِ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ. وَإِنْ كَانَ أَرَادَ الْكَلَامَ الَّذِي فِي الْخَبَرِ الْآخَرِ لَمَّا صَلَّى فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ". فَإِنَّ هَذِهِ لَفْظَةٌ قَدِ اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمَّا الْأَعْمَشُ فِي خَبَرِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ فِي خَبَرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ذَكَرَ أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ كَانَ مِنْهُ قَبْلَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. وَأَمَّا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَإِنَّهُمَا ذَكَرَا فِي خَبَرِهِمَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ كَانَ مِنْهُ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. فَلَمْ يَثْبُتْ بِخَبَرٍ لَا مُخَالِفَ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ وَهُوَ عَالِمٌ ذَاكِرٌ بِأَنَّ عَلَيْهِ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. وَقَدْ ثَبَتَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ سَاهِيًا بَعْدَ السَّلَامِ، وَهُوَ لَا يَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ سَهَا سَهْوًا يَجِبُ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ كَلَامِهِ سَاهِيًا.
" حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بات چیت کر لینے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں: اگر حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فرمان آپ نے کلام کر لینے کے بعد سہو کے سجدے کیے، سے مراد وہ کلام ہے جب آپ نے ظہر کی پانچ رکعات پڑھا دی تھیں اور آپ سے ایک آدمی نے عرض کی: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ (اضافہ) کیا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ کی یہ گفتگو ذوالیدین کے واقعے میں مذکور گفتگو کے ہم معنی ہے۔ (یعنی آپ اصل صورت حال کی تحقیق فرمارہے ہیں) اور اگر حضرت ابن مسعود کی مراد وہ کلام ہے جو دوسری روایت میں آئی ہے جب آپ نے نماز پڑھائی اور اس میں اضافہ کر دیا یا کمی کر دی تھی، جس پر آپ سے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا: " بے شک میں بھی ایک انسان ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو" تو ان الفاظ کے بارے میں راویوں کا اختلاف ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ گفتگو کب فرمائی۔ ابو بکر نہشلی اپنی سند سے حضرت عبد اللہ سےروایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ گفتگو سہو کے دو سجدے کرنے سے پہلے فرمائی۔ جبکہ منصور بن معتمر اور حسن بن عبید اللہ دونوں اپنی سند سے حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ کلام سہو کے دو سجدے کرنے کے بعد فرمائی۔ چنانچہ کسی ایسی روایت سے جس روایت کی مخالف روایت موجود نہ ہو، یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کلام اس حال میں فرمائی کہ آپ کو بخوبی علم تھا اور آپ کو یاد تھا کہ آپ پر سہو کےدو سجدے واجب ہیں۔ جبکہ یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد بھول کر گفتگو فرمائی، اس حال میں آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ بھول چکے ہیں اور آپ پر سہو کے دو سجدے واجب ہیں، پھر آپ نے بھول کر کلام کر لینے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔"
عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1059
