Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1059

نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ كَانَ أَرَادَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِقَوْلِهِ: بَعْدَ الْكَلَامِ، قَوْلَهُ: لَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقَالَ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟ " فَهَذَا الْكَلَامُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْنَى كَلَامِهِ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ. وَإِنْ كَانَ أَرَادَ الْكَلَامَ الَّذِي فِي الْخَبَرِ الْآخَرِ لَمَّا صَلَّى فَزَادَ أَوْ نَقَصَ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ". فَإِنَّ هَذِهِ لَفْظَةٌ قَدِ اخْتَلَفَ الرُّوَاةُ فِي الْوَقْتِ الَّذِي تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَأَمَّا الْأَعْمَشُ فِي خَبَرِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ فِي خَبَرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ذَكَرَ أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ كَانَ مِنْهُ قَبْلَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. وَأَمَّا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَإِنَّهُمَا ذَكَرَا فِي خَبَرِهِمَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ هَذَا الْكَلَامَ كَانَ مِنْهُ بَعْدَ فَرَاغِهِ مِنْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. فَلَمْ يَثْبُتْ بِخَبَرٍ لَا مُخَالِفَ لَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ وَهُوَ عَالِمٌ ذَاكِرٌ بِأَنَّ عَلَيْهِ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ. وَقَدْ ثَبَتَ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ سَاهِيًا بَعْدَ السَّلَامِ، وَهُوَ لَا يَعْلَمُ أَنَّهُ قَدْ سَهَا سَهْوًا يَجِبُ عَلَيْهِ سَجْدَتَا السَّهْوِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ كَلَامِهِ سَاهِيًا.

" حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بات چیت کر لینے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں: اگر حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فرمان آپ نے کلام کر لینے کے بعد سہو کے سجدے کیے، سے مراد وہ کلام ہے جب آپ نے ظہر کی پانچ رکعات پڑھا دی تھیں اور آپ سے ایک آدمی نے عرض کی: کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: وہ (اضافہ) کیا ہے؟ تو نبی کریم ﷺ کی یہ گفتگو ذوالیدین کے واقعے میں مذکور گفتگو کے ہم معنی ہے۔ (یعنی آپ اصل صورت حال کی تحقیق فرمارہے ہیں) اور اگر حضرت ابن مسعود کی مراد وہ کلام ہے جو دوسری روایت میں آئی ہے جب آپ نے نماز پڑھائی اور اس میں اضافہ کر دیا یا کمی کر دی تھی، جس پر آپ سے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا: " بے شک میں بھی ایک انسان ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جس طرح تم بھول جاتے ہو" تو ان الفاظ کے بارے میں راویوں کا اختلاف ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ گفتگو کب فرمائی۔ ابو بکر نہشلی اپنی سند سے حضرت عبد اللہ سےروایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ گفتگو سہو کے دو سجدے کرنے سے پہلے فرمائی۔ جبکہ منصور بن معتمر اور حسن بن عبید اللہ دونوں اپنی سند سے حضرت عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے یہ کلام سہو کے دو سجدے کرنے کے بعد فرمائی۔ چنانچہ کسی ایسی روایت سے جس روایت کی مخالف روایت موجود نہ ہو، یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ نبی کریم ﷺ نے یہ کلام اس حال میں فرمائی کہ آپ کو بخوبی علم تھا اور آپ کو یاد تھا کہ آپ پر سہو کےدو سجدے واجب ہیں۔ جبکہ یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد بھول کر گفتگو فرمائی، اس حال میں آپ کو معلوم نہیں تھا کہ آپ بھول چکے ہیں اور آپ پر سہو کے دو سجدے واجب ہیں، پھر آپ نے بھول کر کلام کر لینے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1059

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1060

نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَجْدَتَيِ الْوَهْمِ (1).

" امام صاحب نے اپنے استاد محمد بن ہشام کی سند سے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سہو کے دو سجدے کیے۔ (تفصیلی روایت: 1054 کے تحت گزر چکی ہے۔)"

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1060

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1061

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلْقَمَةُ الظُّهْرَ فَصَلَّى خَمْسًا، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ الْقَوْمُ: يَا أَبَا شِبْلٍ! قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ: كَلَّا، مَا فَعَلْتُ، قَالُوا: بَلَى! قَالَ: فَكُنْتُ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ، وَأَنَا غُلَامٌ، فَقُلْتُ: بَلَى! قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ لِي: وَأَنْتَ أَيْضًا يَا أَعْوَرُ تَقُولُ ذَلِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ! فَأَقْبَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ. ثُمَّ قَالَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، فَلَمَّا انْفَتَلَ تَوَسْوَسَ الْقَوْمُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: "مَا شَأْنُكُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: "لَا"، قَالُوا: فَإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".

" جناب ابراہیم بن سوید بیان کرتے ہیں کہ حضرت علقمہ ؒ نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعات پڑھا دیں، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں نے کہا اے ابو شبل ! آپ نے پانچ رکعات پڑھا دی ہیں۔ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں، میں نے ایسے نہیں کیا، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (آپ نے پانچ رکعات ہی پڑھائی ہیں) میں (ابراہیم بن سوید) لوگوں کے ایک طرف بیٹھا تھا اور ابھی کم عمر بچہ تھا۔ میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا: اے اعور (کانے) تو بھی یہی بات کہہ رہا ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں! تو وہ قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیر دیا۔ پھر فرمایا: حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ہمیں رسول اللہ ﷺ نے پانچ رکعات پڑھادیں، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کرنی شروع کردیں۔ آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا نماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ تو انہوں نے عرض کی: بے شک آپ نے پانچ رکعات پڑھائی ہیں تو آپ نے (قبلہ رخ) مڑ کر دو سجدے کیے پھر سلام پھیر دیا، پھر فرمایا: بے شک میں ایک انسان ہوں میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں۔"

إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1061

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1062

نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ (1) الْبَصْرِيُّ وَالْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، قَالُوا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ وَسَلَّمَ. وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بِهِ بِالْبَصْرَةِ. وَثَنَا بِهِ بِبَغْدَادَ مَرَّةً، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ، فَسَهَا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ وَالْكَلَامِ. فَأَمَّا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، فَإِنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فِي صَلَاتِهِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ [117 - ب]، ثُمَّ سَلَّمَ. وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أُخَرِّجْ لَفْظَ غَيْرِ الْعَبَّاسِ.

سہو کے دو سجدوں کے بعد تشہد کا بیان جبکہ نمازی نے یہ دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کیے ہوں

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَشْعَثَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ الْحُصْرِيُّ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1062

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1063

أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّى سَجْدَتَيِ السَّهْوِ: "الْمُرْغِمَتَيْنِ".

سہو کے دو سجدوں کو مُرْ غِمَتَیْن (دو ذلیل ور سوا کرنے والے) کا نام دینے کا بیان، کیونکہ یہ دو سجدےشیطان کو ذلیل ور سوا کرتے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1063

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1064

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، نَا أَيُّوبُ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَسُئِلَ هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَا: ثُمَّ رَكِبْنَا، فَأَدْرَكْنَا النَّاسَ قَدْ تَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَهُوَ فِي الثَّانِيَةِ، فَذَهَبْتُ أُوذِنُهُ فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا الرَّكْعَةَ الَّتِي أَدْرَكْنَا أو قضينا الذي سَبَقَتْنَا. وَقَالَ مُؤَمَّلٌ: وَقَضَيْنَا الَّتِي سَبَقَنَا.

" جناب عمر و بن وہب بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو ان سے پوچھا گیا: کیا اس امت میں سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ بھی کسی شخص نے نبی کریم ﷺ کی امامت کرائی ہے۔ انہوں نے فرمایا: ہاں ، ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، پھر مکمل حدیث بیان کی۔ امام صاحب کے دونوں اساتذہ کرام یہ بیان کرتےہیں: " پھر ہم سوار ہوئے (اور واپس آئے) تو ہم نے دیکھا کہ حضرت عبدالرحمان بن عوف لوگوں کو امامت کرا رہے تھے، ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت پڑھا رہے تھے میں نے انہیں (نبی کریم کی آمد کی) اطلاع دینی چاہی تو آپ نے مجھے منع کر دیا۔ تو ہم نے جو رکعت ( ان کے ساتھ ) پالی وہ ادا کر لی اور جو فوت ہوگئی تھی وہ مکمل کرلی۔ جناب مؤمل کی روایت میں ہے: "جو رکعت رہ گئی تھی ہم نے وہ مکمل کرلی۔"

عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1064

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1065

نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ، نَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ يَعْمَدُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَهُوَ فِي صَلَاةٍ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْوِتْرِ وَمَا فِيهِ مِنَ السُّنَنِ (1)

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو تم نماز کے لیے دوڑتے ہوئے مت آؤ، بلکہ سکون و اطمینان کے ساتھ نماز کے لیے آؤ، جو نماز تمہیں مل جائے وہ پڑھ لو اور جوتم سے فوت ہوجائے اسے مکمل کرلو، کیونکہ تم میں سے کوئی شخص جب نماز کا ارادہ کر تا ہے تو وہ نماز کی حالت میں ہو جاتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1065

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1066

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ أَمْلَيْتُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ خَبَرَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فِي مَسْأَلَةِ الْأَعْرَابِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِسْلَامِ، وَجَوَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ؛ فَقَالَ: "خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: "لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ". فَأَعْلَمَ النَّبِيُّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَا زَادَ مِنَ الصَّلَاةِ عَلَى الْخَمْسِ فَهُوَ تَطَوُّعٌ.

" امام ابو بکر فرماتے ہیں: میں کتاب کے شروع میں، نبی اکرم ﷺ سے ایک اعرابی کا اسلام کے متعلق سوال اور نبی کریم ﷺ کا اسے جواب، حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی روایت املا کر ا چکا ہوں، آپ نے فرمایا: "دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے دریافت کیا: ان کے علاوۃ بھی مجھ پر کوئی نماز فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ تم نفل نماز پڑھو۔ تو نبی مصطفیٰ ﷺ نے اسے بتا دیا کہ پانچ نمازوں سے جو زائد ہوگی وہ نفل ہوگی۔"

هل عليّ غيرها؟ ← «خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ». ← الْإِسْلَامِ، وَجَوَابِ النَّبِيِّ إِيَّاهُ؛

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1066

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1067

نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ

" حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: " بے شک وتر واجب نہیں ہے۔ اور نہ تمہاری فرض نمازوں کی طرح ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے وتر ادا کیا ہے۔ پھر فرمایا: اے اہل قرآن! وتر ادا کیا کرو، پس بے شک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر (عدع) کو پسند کرتا ہے۔ جناب عبد اللہ بن سعید الاشج نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے: "اے اہل قرآن! وتر ادا کیا کرو۔ " جناب سعید بن عبدالرحمان نے سفیان کے واسطے سے ابو اسحاق سے سند و متن کے لحاظ سے الدورقی کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔"

مُحَمَّدُ بن ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1067

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1068

ثنا بندار نا عبد الله بن حمران نا عبد الحميد بن جعفر بن عبد الله حدثني أبي - جعفر بن عبد الله - عن عبد الرحمن بن أبي عمرة النجاري : أنه سأل عبادة بن الصامت عن الوتر قال : أمر حسن جميل عمل به النبي صلى الله عليه وسلم والمسلمون من بعده وليس بواجب قال أبو بكر : قد خرجت في كتاب الكبير أخبار النبي صلى الله عليه وسلم في إعلامه أن الله فرض عليه وعلى أمته خمس صلوات في اليوم والليلة فدلت تلك الأخبار على أن الموجب للوتر فرضا على العباد موجب عليهم ست صلوات في اليوم والليلة وهذه المقالة خلاف أخبار النبي صلى الله عليه وسلم وخلاف ما يفهمه المسلمون عالمهم وجاهلهم وخلاف ما تفهمه النساء في الخدور والصبيان في الكتاتيب والعبيد والإماء إذ جميعهم يعلمون أن الفرض من الصلاة خمس لا ست

" جناب عبدا لرحمان بن ابی عمرہ النجاری سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وتر کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: بہت عمدہ اور اچھا کام ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد مسلمانوں نے اس پر عمل کیا ہے، اور یہ واجب نہیں ہے۔ امام ابو بکر کہتے ہیں: میں نے کتاب الکبیر میں نبی کریم ﷺ کے وہ فرامین بیان کیے ہیں جن میں آپ نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر اور آپ کی امت پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ تو ان روایات نے اس بات پر دلالت کی ہے کہ بندوں پر وتر کو واجب قرار دینےوالا شخص، ان پر دن اور رات میں چھ نمازیں واجب قرار دیتا ہے۔ اور یہ بات نبی کریم ﷺ کے فرامین کے خلاف ہے۔ مسلمانوں کے عالم اور جاہل جو سمجھتے ہیں، اس کے بھی خلاف ہے۔ پردہ نشین خواتین نے پردہ میں جو سمجھا، بچوں نے مکتب و مدرسہ میں جو سمجھا اور جو غلاموں اور لونڈیوں نے سمجھا اس کے خلاف ہے۔ کیونکہ یہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ فرض نمازیں پانچ ہیں، چھ نہیں۔"

أمر حسن جميل عمل به النبي والمسلمون من بعده وليس بواجب ← الْوَتْرِ ← عبد الرحمن بن أبي عمرة النجاري أنه سأل عبادة بن الصامت ← أَبِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عبد الحميد بن جعفر بن عبد الله ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1068

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1069

ثنا أيوب بن إسحاق نا أبو معمر عن عبد الوارث بن سعيد قال : سألت أبا حنيفة أو سئل أبو حنيفة عن الوتر فقال : فريضة فقلت - أو فقيل له - : فكم الفرض ؟ قال خمس صلوات فقيل له : فما تقول في الوتر ؟ قال : فريضة فقلت - أو فقيل - له : أنت لا تحسن الحساب

" جناب عبد الوارث بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے پوچھا یا امام ابو حنیفہ سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: وتر فرض ہے۔ تو میں نے کہا یا ان سے کہا گیا: فرض نمازوں کی تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: پانچ نمازیں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: فرض ہے۔ تو میں نے کہا یا ان سے کہا گیا: آپ کو حساب کرنا نہیں آتا۔"

فريضة فقلت أو فقيل له أنت لا تحسن الحساب ← خمس صلوات فقيل له فما تقول في الوتر ← الوتر فقال فريضة فقلت أو فقيل له فكم الفرض ← سألت أبا حنيفة أو سئل أبو حنيفة ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← أيوب بن إسحاق

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1069

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1070

نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا مَالِكٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ- نَا يَعْقُوبُ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- نَا يَعْقُوبُ -وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ- عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَالْوِتْرَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْنَا فَتُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ: "كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ" (1).

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رمضان المبارک میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھایا۔ پھر آئندہ رات بھی ہم مسجد میں جمع ہوگئے اور امید کی کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے (اور نماز پڑھائیں گے) تو ہم مسجد ہی میں رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ سےعرض کی: اے اللہ کے رسول ! ہمیں امید تھی کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے۔ آپ نے فرمایا: "میں نے یہ نا پسند کیا کہ تم پر وتر فرض کر دیے جائیں۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، ← يَعْقُوبُ -وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ- ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← يَعْقُوبُ، ← مَالِكٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs · Hadith 1070

chevron_left Previous
1…176177178…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals