صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ المَسحِ عَلَی الخُفَّینِ · حديث 193
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: جِئْتُ أَنْبِطُ الْعِلْمَ. قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمَ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضَاءً بِمَا يَصْنَعُ". قَالَ: قَدْ جِئْتُكَ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي الْجَيْشِ الَّذِي بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهُورٍ، ثَلَاثًا إِذَا سَافَرْنَا، وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا. وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ، وَلَا نَخْلَعَهُمَا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ. وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ بِالْمَغْرِبِ (1) بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً، لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا -نَحْوَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ذَكَرْتُ لِلْمُزَنِيِّ خَبَرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، فَقَالَ: حَدَّثَ بِهَذَا أَصْحَابُنَا؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّافِعِيِّ حُجَّةٌ أَقْوَى مِنْ هَذَا.
’’حضرت زربن حبیش ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت صفواب بن عسال مراوی ؓ کے پاس آیا ،توانہوں نے پو چھا کیسے آئے ہو ؟میں نے عرض کی : علم حاصل کرنے کےلیے حاضر ہوا ہوں ۔انہوں نے فرمایا :بےشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :جو شخص بھی حصول علم کےلیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کی طلب و جستجو پر رضا مندی اور پسند یدگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں ۔‘‘ میں نےعرض کی : میں آپ سے موزوں پرمسح کے متعلق پوچھنے کےلیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ انہوں نے فرمایا :ہاں ،ہم اس لشکر میں شامل تھے جسے رسول اللہ ﷺ نے (غزوے کےلیے ) بھیجا تھا ،آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کر لیں ، جبکہ انہیں طہارت کی حالت میں پہنا ہو ،تین ( دن رات ) جب ہم سفر میں ہوں اور ایک رات (دن )جب ہم مقیم ہوں ۔ اور ہم انہیں پیشاب پاخانے کی وجہ سے نہ اتاریں ،صرف(غسل ) جنابت کی وجہ سے انہیں اتاریں ،اور فرمایا :’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئےسنا :بےشک مغرب کی جانب توبہ کےلیےایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی مسافت ستر سال ہے وہ ( دروازہ (بند نہیں ہو گا ،حتی کہ سورج مغرب کی جانب سے ،دروازے کی جہت میں طلوع ہو جائے گا ۔‘‘امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :’’میں نے عبدالرزاق کی حدیث امام مزنی کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا :’’ہمارے اصحاب نے یہ حدیث روایت کی ہے کیونکہ امام شافعی ؒ کی اس سے قوی دلیل اور کوئی نہیں ہے۔‘‘
زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The sack gate intercourse on the socks · Hadith 193
