Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2125

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَخْبَرَنا أَبِي، وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ مُطَرِّفًا -مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ- حَدَّثَهُ: أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ"، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "صِيَامٌ حَسَنٌ، صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ".

''بنی عامر بن صعصعہ کے فرد جناب مطرف بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ نے انہیں پلانےکے لیے دودھ منگوایا تو جناب مطرف عرض کی:''میں روزے سے ہوں ۔''تو انہوں نے فرمایا: ''میں نے نبی اکرم ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا: ''روزہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کی ایسی ڈھال ہے جیسی تم میں سے کسی شخص کی جنگ میں بچاؤ کی ڈھال ہوتی ہے۔ ''اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ''بہترین روزے ہر مہینے کے تین روزے ہیں۔''

صيام حسن صيام ثلاثة أيام من الشهر ← رَسُولِ اللَّهِ ← الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنْ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنْ الْقِتَالِ ← النَّبِيِّ ← مُطَرِّفٌ اِنِّی صَائِمٌ ← أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2125

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2126

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْد، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْد اللَّه بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ شُعْبَةَ. وَفِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْد: "صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَارُ أَبِي هُرَيْرَة وَعَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْمَعْنَى، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". قَالَ: وَفِي خَبَر أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عَمْرٍو: "فَإِنَّ كُلَّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذَاكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ". وَكَذَاكَ فِي خَبَر أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّه {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} [الأنعام: 160].

''حضرت ابو قتادہ انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:''ہر مہینے میں تین دن کے روزے عمر بھر کے روزوں کےبرابر ہیں۔''یہ الفاظ جناب شعبہ کی روایت کے ہیں ۔ اور جناب حماد بن زید کی روایت میں ہے: ''ہر مہینے کے تین روزے اور رمضان المبارک کے روزے اگلے رمضا ن المبار ک تک عمر بھر کے روزوں کے برابر ہو جاتے ہیں۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ''حضرت ابو ہریرہ اور عبداللہ بن عمروؓ کی اس معنی کی احادیث میں کتاب الکبیر میں بیان کر چکا ہوں ۔امام صاحب فرماتے ہیں : ''حضرت ابو سلمہ کی حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت میں یہ الفاظ ہیں: ''پس ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہے، پس اس طرح جناب ابو عثمان کی حضرت ابوذرؓ کی حدیث میں ہے: ''اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالی کی کتاب قرآن مجید میں بھی ہے(مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِھَا) ''جو ایک نیکی لائے گا اس دس گنا اجر ملے گا''

أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ؛ ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2126

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2127

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان. عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَنَا شَهِدْتُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِأَرْنَبٍ-، وَقَالَ مَرَّةً: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُهَا كَأَنَّهَا تَدْمَى، فَكَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْكُلُ مِنْهَا، فَقَالَ لَهُمْ: "كُلُوا". فَقَالَ رَجُل: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ: "وَمَا صَوْمُكَ؟ " فَأَخْبَرَهُ. قَالَ: "فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ؟ " قَالَ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: "صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ". وَحَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ: بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَاب بِتَمَامِهِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" وَبَيَّنْتُ أَنَّ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ قَدْ سَمِعَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ قِصَّةَ الصَّوْمِ، دُونَ قِصَّةِ الْأَرْنَبِ. وَرَوَى عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ الْقِصَّتَيْنِ جَمِيعًا.

''جناب ابو حوتکہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے پوچھا :''قاحہ والے دن ہمارے ساتھ کون حاضر تھا؟ حضرت ابوذر ؓ نے جواب دیا : میں نبی کریم ﷺ کے پاس خرگوش کا گوشت لایا گیا۔ا ور ایک مرتبہ کہا: ایک اعرابی گوشت لے کر آیا۔''تو جو شخص لے کر آیا تھا اس نے کہا : میں نے اسے دیکھا ہے گویا کہ اسے حیض کا خون آتا ہے۔تو نبی کرام ﷺ نے اس سے کھانا شروع کیا اور صحابہ کرام سے فرمایا : تم بھی کھالو''ایک شخص نے عرض کیا: میں نے روزہ رکھا ہو ا ہے۔آپ نے پوچھا : روزہ کیسے رکھتے ہو؟ تو اس نے بتایا (فلاں فلاں دن روزہ رکھتا ہوں) آپ نے کہا: تم چمکدار و خوبصورت دنوں کا روزی کیوں نہیں رکھتے؟ اس نے عرض کی: وہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ''ہر مہینے کےتین روزے ترہویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کا روزہ رکھنا ۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: میں نے یہ مکمل باب کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے اور میں نے بیان کیا ہے کہ موسی بن طلحہ نے حضرت ابوذرؓ سے روزوں کا قصہ سنا ہے اور خرگوش والا قصہ نہیں سنا ۔ جبکہ ابن حوتکیہ نے دونون قصے اکٹھے بیان کیے ہیں۔''

ابْنِ الْحَوْتَکِيَّةِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2127

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2128

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".

''جناب موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ربذہ مقام پر حضرت ابوذرؓ سے سنا: انہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم مہینے میں تین روزے رکھو توتیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھا لیا کرو۔''

أبا ذر بالربذة ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَحْيَى بْنِ سَامٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2128

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2129

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُودَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن النَّحْوِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ [زِرٍّ، عَنْ] عَبْد اللَّه، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ أَنَّهُ كَانَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ، وَيَكُونُ مِنْ صَوْمِهِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كَخَبَر أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ، وَأَوْصَى بِذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَة، وَبِصَوْمِ أَيْضًا أَيَّامَ الْبِيضِ، فَيُجْمَعُ صَوْمَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ مَعَ صَوْمِ أَيَّامِ الْبِيضِ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى فِعْلِهِ وَمَا أَوْصَى بِهِ أَبُو هُرَيْرَة مِنْ صَوْمِ الثَّلَاثَةِ [218 - أ] أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ مُبَادَرَةً بِهَذَا الْفِعْلِ بَدَلَ صَوْمِ ثلَاثَة أَيَّامٍ الْبِيضِ إِمَّا لِعِلَّةٍ مِنْ مَرَضٍ، أَوْ سَفْرَ، أَوْ خَوْفِ نُزُولِ الْمَنِيَّةِ.

''حضرت عبداللہ ﷺ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ہر مہینے کے شروع میں تین روزے رکھتے تھے اورآپ کے روزوں میں جمعہ کا دن بھی ہوتا تھا۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''ممکن ہے کہ یہ روایت حضرت ابو عثمان کی حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس روایت کی طرح ہو۔''مجھے میرے خلیل نے تین باتوں کی وصیت کی ہے: ''مہینے کے شروع میں تین روزے رکھنے کی وصیت کی ہے۔''آپ نے ابو ہریرہ ؓ کو اس کی وصیت فرمائی اور ایام بیض کی وصیت بھی کی۔لہذا ہر مہینے کے تین روزے ایام بیض کے روزوں کے ساتھ جمع لر لیے جائیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ﷺ کے اپنے فعل اور حضرت ابو ہریرہؓ آپ کی وصیت کا معنی یہ ہوا کہ بیماری کے ڈر ، سفر اور موت کے آجانے کے خوف کی وجہ سے ایام بیض کی بجائے مہینے کی ابتداء میں جلد تین روزے رکھ لیے جائیں ۔''

أَوْصَى بِذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَة، ← أَبِي هُرَيْرَة: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ، ← أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ كَخَبَر أَبِي عُثْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، ← أبو داوود ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2129

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2130

فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ -وَهُوَ الرِّشْكُ- عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَة: أَكَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ، أَوْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ: مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ.

''حضرت معاذ ؓ بیان کرتی ہیں :''میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : ''کیا رسول اللہ ﷺ ہرمہینے روزے رکھتے تھے۔ یا کیا آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں۔ انہوں نے پوچھا۔ کو سے دنوں میں رکھتے تھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ''آپ اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ کن دنوں کا روزہ رکھا ہے۔''

مُعَاذَةَ ← يَزِيدَ -وَهُوَ الرَشْكٌ-، ← شُعْبَةُ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2130

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2131

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ: "مَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ: "مَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالُ: "مَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا اجْتَمَعَتْ هَذِهِ الْخِصَالُ قَطُّ فِي رَجُل إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ فَلَوْ كَانَ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه دَخَلَ الْجَنَّةَ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْإِيمَانِ قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه لَكَانَ فِي هَذَا الْخَبَر دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْإِيمَانِ صَوْمُ يَوْمٍ، وَإِطْعَامُ مِسْكِينٍ، وَشُهُودُ جَنَازَةٍ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، لَكِنْ هَذِهِ فَضَائِلُ لِهَذِهِ الْأَعْمَالِ، لَا كَمَا يَدَّعِي مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا يُحْسِنُهُ.

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''تم میں سے کس نے آج صبح روزے کی حالت میں کی ہے۔؟ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا : میں نے ۔ آپ نے فرمایا: ''تم میں سے کس شخص نے آج کسی مسکین کو کھاناکھلایا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: میں نےکھلایاہے۔آپ نے پھر یوچھا: تم میں سے کس شخص نے آج جنازے میں شرکت کی؟ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی: میں نے شرکت کی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا: ''تم میں سے کسی نےمریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابو بکر ؓ نے جواب دیا: میں نے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص میں بھی یہ خوبیاں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔''اما م ابو بکرؒ فرماتے ہیں: ''یہ روایت اس قسم سے ہے جسے میں نے کتاب الا یمان مین بیان کیا ہے۔لہذا اگر آپ کے اس فرمان : ''جس شخص نے لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔''میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہی مکمل ایما ن ہے پھر اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ مکمل ایمان ایک روزہ روزہ کھنا ، مسکین کو کھانا کھلانا، جنازے میں شریک ہونا اور بیمار کی تیمارداری کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ان اعمال کے فضائل ہیں ۔ ان سے مقصود وہ نہیں ہے جیساکہ کم علم نا تجربہ کار لوگوں نے دعویٰ کیا ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2131

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2132

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَة: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، وَسَأَلْتُهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ شَهْرًا تَامًّا؟ قَالَتْ: لَا، وَاللَّه مَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا غَيْر رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، وَمَا مَضَى شَهْرٌ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ، وَمَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ، وَسَأَلْتُهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مَعَ السَّحَرِ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَا الْمُصَلِّينَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: تَعْنِي الَّذِينَ يُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ الْكَثِيرَ.

''جناب عبداللہ بن شفیق ؒ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا :نہیں مگر یہ کہ آپ کسی سفر سے واپس آئیں تو پھر ادا کرتے تھے۔ میں نے ان سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ کسی مہینے کے مکمل روزے بھی رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں ، اللہ کی قسم ! آپ نے اپنی وفات تک رمضان المبارک کے سوا کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے اور آپ ہر مہینے سے کچھ روزے رکھتے تھے اور کچھ دن روزے نہیں رکھتے تھےاور میں نے ان سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے سحری تک نماز تہجد پڑھی ہے؟انہوں نے کہا : نہیں ، اور نہ نماز پڑھنے والوں نے (اتنی طویل پڑھی ہے)۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''حضرت عائشہ ؓ کا مطلب یہ ہے کہ جو رات کو بکژت نماز پڑھتے ہیں ، (انہوں نے بھی ساری رات نماز نہیں پڑھی)۔ ''

لَا إِلَّا ← سألت عائشة هل كان رسول الله يصلي الضحى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2132

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2133

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْد اللَّيْثِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَة عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: "كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ.

''حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کی کیفیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:''آپ (اس قدر مسلسل) روزے رکھتے کہ ہم کہتے : آپ ناغہ نہیں کریں گےاور پھر روزے رکھناچھوڑ دیتے ، حتی کہ ہم کہنا شروع ہو جاتے کہ آ اب روزے نہیں رکھیں گے۔ آپ سارا ماہ شعبان یا اکثر شعبان روزے رکھتے تھے۔''

صِیَامِ رَسُوْلُ اللہِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَة ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْد اللَّيْثِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2133

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2134

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ صَوْمِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا [219 - ب] وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا. وَكُنْتَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ. هَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا.

''جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے نبی کریم ﷺ کے روزوں کےبارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ''آپ کسی مہینے روزے رکھتے رہتے حتی کی ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے میں کوئی ناغہ نہیں کرنا چاہتے اور پھر کسی مہینے روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتی کہ ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے میں کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ اور تم رات کے جس حصے میں آپ کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہوا وراگر تم آپ کو سویاہوا دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو۔''یہ روایت اسما عیل بن جعفری کی ہے۔ اور جناب خالد بن حارث کی روایت میں ہے: ''حضرت انسؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نفلی نماز اور روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔''

صَوْمِ النَّبِيِّ ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← أَبُو مُوسَى، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2134

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2135

أَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَني ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَة؛ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ حَتَّى أَعْرِفَ عَنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى أَقُولَ: مَا هُوَ بِصَائِمٍ، وَكَانَ أَكْثَرُ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ.

''حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے حتی ٰ کہ مجھے معلوم ہو جاتا ۔ اور آپ روزےرکھنا چھوڑ دیتے حتی کہ میں کہتی : آپ روزے نہیں رکھیں گے اور آپ اکثر روزے شعبان میں رکھتے تھے۔''

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2135

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2136

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَر عَبْد الرَّحْمَن بْنِ إِسْحَاقَ أَبِي شَيْبَةَ، فَإِنَّ ابْنَ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا". فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ: "هِيَ لِمَنْ قَالَ طَيِّبَ الْكَلَامِ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَقَامَ لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ".

''حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ ان کے بیرونی حصے کا نظارہ اند رسے کیا جا سکتا ے اور اندر سے بیرونی حصہ دکھائی دیتا ہے۔''تو ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: ''اے اللہ کے رسول !یہ بالا خانے کس کےلیے ہیں؟آپ نے فرمایا: ''یہ اس کےلیے ہیں جو پاکیزہ شیریں گفتگو کرتا ہے ، بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے، ہمیشہ روزے رکھتا ہےاوررات کو اس وقت اللہ کی رضا کےلیے نفل پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔''

عَلِيٍّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2136

chevron_left Previous
1…147148149…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals