Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2077

حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ -وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ- أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَة تَقُولُ: كَانَ ..... وَحَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي قَيْسٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَة تَقُولُ: كَانَ أَحَبَّ الشُّهُورِ إِلَى رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَصُومَهُ شَعْبَانُ ثُمَّ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ.

''حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو تمام مہینوں میں سے ماہ شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا پھر آپ اسے رمضان کے ساتھ رمضان کے ساتھ ملا دیتے۔''

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عَائِشَة تَقُولُ: كَانَ ← أَنَّهُ ← مُعَاوِيَةُ -وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ- أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ أَبِي قَيْسٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2077

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2078

أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، حَدَّثَتْنِي عَائِشَة قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ مِنْ أَشْهُرِ السَّنَةِ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ.

''حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ :''رسول اللہ ﷺ سال کے مہینوں میں سے ماہ شعبان سے زیادہ کسی مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے، آپ اس ماہ کے سارے روزے رکھتے تھے۔''

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، حَدَّثَتْنِي عَائِشَة ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَقِیلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2078

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2079

حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، وَذَكَرَ أَبَا سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَة حَدَّثَتْهُ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَنِيرٍ (1)، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَة؛ بِمِثْلِهِ. وَزَادَ، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ: "خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّه لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا"، وَكَانَ أَحَبَّ الصَّلَاةِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهَا مِنْهَا وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا.

''حضرت عائشہ ؓ سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نےفرمایا: ''اتنا عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہوکیونکہ اللہ تعالی (اجروثواب دیتے ہوئے )نہیں تھکتے حتی کہ تم ہی (عمل کرکے) تھک جاتے ہو اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب (نفلی)نماز وہ تھی جس پر ہمیشگی کی جاتی،ا گرچہ وہ تھوڑی سی ہواور آپ کا عمل مبارک یہ تھا کہ آپ جب کوئی نماز پڑھتے تو اسےہمیشہ ادا کرتے۔''

وَكَانَ ← عَائِشَة؛ بِمِثْلِهِ. وَزَادَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامُ بْنُ سَنِيرٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبَا سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَة حَدَّثَتْهُ؛ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ ← خَالِدٌ، ← الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2079

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2080

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَة؛ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُهُ، فَلَمَّا قَدِمَ -يَعْنِي الْمَدِينَةَ- صَامَهُ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، فَكَانَ رَمَضَانُ هُوَ الْفَرِيضَةَ، وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ، فَكَانَ [214 - أ] مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ.

''حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ عاشوراء کے ن قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھےاور رسول اللہ ﷺ بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ پھر رمضان المبارک کے روزےفرض ہوگئے تو پھر فرض روزے رمضان المبارک ہی کے ہوتے تھے اور عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔لہذا جو شخص چاہتا اس دن کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔''

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2080

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2081

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ؛ وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْد اللَّه يَوْمَ عَاشُورَاءَ -وَهُوَ يَتَغَدَّى (1) - قَالَ لَهُ عَبْد اللَّه: ادْنُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَاطْعَمْ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. قَالَ عَبْد اللَّه: هَلْ تَدْرُونَ مَا كَانَ عَاشُورَاءُ؟ قَالَ: وَمَا كَانَ؟ قَالَ: كَانَ يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ثُمَّ تَرَكَهُ. وَقَالَ عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ وَيُوسُفُ: فَلَمَّا نَزَلَ (2) رَمَضَانُ، تَرَكَهُ. قَالَ يُوسُفُ: عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ.

''جناب عبدالرحمان بن یزید بیان کرتے ہیں کہ اشعت بن قیس حضرت عبداللہؓ کی خدمت میں عاشوراء کے دن حاضر ہوئے جبکہ وہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔حضرت عبداللہ ؓ نے کہا :اے ابو محمد! قریب ہو جاؤاور کھانا کھاؤ۔''انہوں نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں۔ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: ''کیا تمہیں معلوم ہے کہ عاشوراء کیا تھا؟انہوں نےپوچھا :عاشوراءکیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ''رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت نازل ہونے سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے پھرآپ نے اسے چھوڑا دیا۔جناب علی بن خشرم اور یوسف کی روایت میں ہے: ''پھر جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو آپ نے عاشورا کا روزہ چھوڑ دیا۔''

عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← يُوسُفُ، ← عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ وَيُوسُفُ: فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، تَرَكَهُ. ← كَانَ يَصُومُهُ رَسُولُ اللَّه قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ ثُمَّ تَرَكَهُ. ← وَمَا كَانَ؟ ← عَبْد اللَّه: هَلْ تَدْرُونَ مَا كَانَ عَاشُورَاءُ؟ ← «إِنِّي صَائِمٌ» ← لَهُ عَبْد اللَّه: ادْنُ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ فَاطْعَمْ. ← دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْد اللَّه يَوْمَ عَاشُورَاءَ -وَهُوَ يَتَغَدَّى ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، جَمِيعًا ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2081

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2082

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه (1)، أَخْبَرَني نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ، فَقَالَ: "يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّه، فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".

''حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کے عاشوراء کے دن اہل جاہلیت روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھرجب رمضان المبارک کی فرضیت ناز ل ہوتی تو رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سےایک دن ہے لہذا جو شخص روزہ رکھنا چاہے وہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔''

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2082

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2083

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن النَّحْوِيُّ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحُثُّنَا عَلَيْهِ، وَيَتَعَهَّدُنَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا افْتُرِضَ رَمَضَانُ لَمْ يَحُثَّنَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَمْ يَتَعَهَّدْنَا عَلَيْهِ، وَكُنَّا نَفْعَلُهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَر جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَبْنِيٌّ بِخَبَر (2) عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ بَعْدَ نُزُولِ فَرْضِ رَمَضَانَ كَخَبَر ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَة: فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَصُمْهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَأَلَنِي مُسَدَّدٌ -وَهُوَ بَعْضُ أَصْحَابنَا- عَنْ مَعْنَى خَبَر عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَقُلْتُ لَهُ مُجِيبًا لَهُ: إِنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَمَرَ أُمَّتَهُ بِأَمْرٍ مَرَّةً وَاحِدَةً، لَمْ يَجِبْ أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ بِذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ، وَلَا فِي كُلِّ وَقْتٍ ثَانٍ. وَكَانَ مَا أَمَرَ بِهِ فِي وَقْتٍ مِنَ الْأَوْقَاتِ، فَعَلَى أُمَّتِهِ فِعْلُ ذَلِكَ الشَّيْءِ إِنْ كَانَ الْأَمْرُ أَمْرَ فَرْضٍ، فَالْفَرْضُ وَاجِبٌ عَلَيْهِمْ أَبَدًا حَتَّى يُخْبِرَ فِي وَقْتٍ ثَانٍ أَنَّ ذَلِكَ الْفَرْضَ سَاقِطٌ عَنْهُمْ، وَإِنْ كَانَ الْأَمْرُ أَمْرَ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ وَفَضِيلَةٍ، كَانَ ذَلِكَ الْفِعْلُ فَضِيلَةً أَبَدًا حَتَّى يَزْجُرَهُمْ عَنْ ذَلِكَ الْفِعْلِ فِي وَقْتٍ ثَانٍ، وَلَيْسَ سَكْتُهُ فِي الْوَقْتِ الثَّانِي بَعْدَ الْأَمْرِ بِهِ فِي الْوَقْتِ الْأَوَّلِ يُسْقِطُ فَرْضًا إِنْ كَانَ أَمَرَهُمْ فِي الِابْتِدَاءِ أَمْرَ فَرْضٍ (1)، وَلَا كَانَ سُكُوتُهُ فِي الْوَقْتِ الثَّانِي عَنِ الْأَمْرِ بِأَمْرِ الْفَضِيلَةِ مَا يُبْطِلُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ الْفِعْلُ فِي الْوَقْتِ الثَّانِي فِعْلَ فَضِيلَةٍ، لِأَنَّهُ إِذَا أَمَرَ بِالشَّيْءِ مَرَّةً، كَفَى ذَلِكَ الْأَمْرُ إِلَى الْأَبَدِ إِلَّا أَنْ يَأْمُرَ بِضِدِّهِ. وَالسَّكْتُ لَا يَفْسَخُ الْأَمْرَ هَذَا مَعْنَى مَا أَجَبْتُ السَّائِلَ (2) عَنْ هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَلَعَلِي زِدْتُ فِي الشَّرْحِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ عَلَى مَا أَجَبْتُ السَّائِلَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ.

''حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رمضان المبارک کی فرضیت سے پہلے ہم عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ ہمیں اس روزے کی ترغیب دلاتےتھے اور اس بارے میں ہماری نگرانی کرتے تھے۔ پھر جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے تو پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ا س کی ترغیب نہیں دلائی اور نہ اس پر ہماری نگرانی کی ، اور ہم یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ''حضرت جاب بن سمرہؓ کی حدیث کی بنیاد حضرت عمار بن یاسر ؓ کی حدیث ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام ؓ رمضان المبارک کی فرضیت کے نازل ہونے کے بعد بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جیسا کہ حضرت ابن عمر اور عائشہ ؓ کی روایات میں ہے: ''جو شخص چاہتا وہ اس دن کا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہنہ رکھتا ۔''امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: ''ہمارے ساتھی مسدد نے مجھے حضرت عمار بن یاسرؓ کی حدیث کا معنی پوچھا تومیں نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا: ''نبی کریم ﷺ نے جب اپنی امت کو کوئی ایک حکم ایک ہی بار دیا تو وہ حکم ہر سال اور ہر دوسرے وقت میں دینا واجب نہیں ہوتا۔آپ نے جب کبھی کوئی حکم دیا تو آپ کی امت پر لازمی ہے کہ وہ اس پر عمل کرے اگروہ حکم فرضی تھا تو وہ فرض ہمیشہ ہمیشہ فرض رہے گا حتی کہ آپ کسی دوسرے موقع پر بتا دیں کہ وہ فرض ان سے ساقط ہوگیا ہے اور اگر وہ حکم استحباب ، ارشاد یا فضیلت و ثواب کے حصول کےلیے تھا تو وہ کام ہمیشہ فضیلت کا باعث ہوگا حتی کہ آپ کسی دوسرے وقت پر اس فعل سے منع فرمادیں اور آپ کا دوسرے موقع پر خاموش رہنا، جبکہ آپ پہلے اس کا حکم دے چکے ہوں ، اس فرض کے ساقط ہونے کی دلیل نہیں اگر ابتداء میں انہیں فرض حکم دیا گیا ہو اور آپ کا دوسرے موقع پر خاموش رہنا کسی فضیلت والے کام کے باطل ہونے کی دلیل نہیں۔جبکہ آپ اس کا مستحب حکم دے چکے ہوں ۔ کیونکہ جب آپ کسی چیز کا ایک بار حکم دے دیں ۔ تو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے کافی ہوتا ہےالاّیہ کہ آپ اس حکم کے متضاد حکم دے دیں۔ جبکہ آپ کا خاموش رہناا س حکم کو منسوخ نہیں کرتا۔''اس مسئلہ میں میں نے سائل کو یہی معنی بتایا تھا اور شاید کہ میں نے اس وقت اس مسئلے کے متعلق زیادہ شرح بھی کی ہے اور سائل کو اس وقت مختصر جواب دیا تھا۔''

كُنَّا نَصُومُ عَاشُورَاءَ قَبْلَ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2083

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2084

حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ، فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّه فِيهِ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى فِرْعَوْنَ، وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ". وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ. حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا نَحْوَهُ. قَالَ: فَصَامَهُ، وَأَمَرَ بِصَوْمِهِ. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ كَانَ سَأَلَنِي عَنْ هَذَا؟.

''حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے پایا ۔ ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا:''اس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ اور فتح دی تھی لہذا اس دن کی تعظیم کےلیے روزی رکھتے ہیں۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہم تمہاری نسبت موسیٰؑ کے زیادہ قریبی اور حقدار ہیں۔''اورآپ نے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جناب ابوبشر سے اسے طرح روایت مروی ہے۔ اس میں یہ ہے:آپ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ''امام مسلم بن حجاج نے مجھ سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔''

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2084

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2085

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ مُعَاوِيَةَ؛ خَطَبَ بِالْمَدِينَةِ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا يَكُونُ "لَمْ" إِلَّا مَاضِي (1)

''جناب حمید بن عبدالرحمان سے روایت ہےکہ حضرت معاویہ ؓ عاشورا کے دن مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا: اے اہل مدینہ ! تمہارے علماءکرام کہاں ہیں؟میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:''یہ عاشوراء کا دن ہے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا گیا۔ جبکہ میں نے روز ہ رکھا ہےتو جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے ، وہ روزہ رکھ لے۔''امام ابو بکر فرماتے ہیں:لَمْ(نہیں) صرف ماضی کے لیے آتا ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: لَا يَكُونُ "لَمْ" إِلَّا مَاضِي ← صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ". ← "هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أين علماؤكم يا أهل المدينة ← مُعَاوِيَةَ؛ خَطَبَ بِالْمَدِينَةِ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2085

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2086

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه -وَهُوَ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَأَتْقَنْتُهُ مِنْهُ-: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَامَ يَوْمًا يَتَحَرَّى فَضْلَهُ إِلَّا عَاشُورَاءَ، وَهَذَا الشَّهْرُ شَهْرُ رَمَضَانَ.

''جناب عبید اللہ بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ سے عاشوراء کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نےفرمایا:''میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے روزے کے سوا کسی روزے کی فضیلت کا اہتمام کرتے ہوئے اس کا روزہ رکھا ہو اور اس ماہ رمضان کے روزوں کا۔''

صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، ← عُبَيْدُ اللَّه -وَهُوَ ابْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَأَتْقَنْتُهُ مِنْهُ-: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2086

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2087

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، أَخْبَرَنا حَمَّادُ بْنُ زَيْد، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ -وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ- حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ -هُوَ الزِّمَّانِيُّ- عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي لَأَحْسَبُ عَلَى اللَّه أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ فَإِنِّي لَأَحْسَبُ عَلَى اللَّه أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِنَّ (1) النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعْلَمَ صِيَامَ يَوْمِ عَرَفَةَ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ، فَدَلَّ أَنَّ الْعَمَلَ الصَّالِحَ قَدْ يَتَقَدَّمُ الْفِعْلَ، فَيَكُونُ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الْمُتَقَدِّمُ [يُكَفَّرُ] السَّنَةَ الَّتِي تَكُونُ بَعْدَهُ.

''حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''عاشوراء کے دن کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنے گا اور عرفہ کے دن کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہوں کی مغفرت کاسبب بنے گا۔''امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : ''نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کاکفارہ بنتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نیک عمل کبھی فعل سے متقدم بھی ہوتا ہے۔ اس طرح سابقہ نیک عمل آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔''

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ -هُوَ الزِّمَّانِيُّ- ← غَيْلَانُ -وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ- ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2087

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2088

عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ، مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا، فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ. فَكُنَّا بَعْدُ نَصُومُهُ [215 - أ] وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ، وَنَذْهَبُ بِهِمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ، أَعْطَيْنَاهُ إِيَّاهُ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ.

''حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد کی انصاری بستیوں میں پیغام بھیجا کہ جس شخص نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے تووہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس نے بغیر روزہ رکھے صبح کی ہے تو وہ باقی دن (روزے دار کی حثیت سے) مکمل کرےتو ہم اس کے بعد اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے۔ ہم انہیں مسجد میں لے جاتے اور انہیں روئی سے کھلونے بنا دیتے۔ جب ان میں سے کوئی ایک (بھوک کی وجہ سےروتا تو ہم اسے وہی کھلونا دے دیتے حتی کہ افطاری کاوقت ہوتا (تو اسے دودھ دیتے)۔''

الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2088

chevron_left Previous
1…143144145…258
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals