صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1867
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا سَلَّمْتُ، قُمْتُ أُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ لِي: إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِذَلِكَ.
"جناب عمر بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس مسئل پوچھنے کےلے بھیجا تو میں نے ان سے مسئلہ پوچھا ۔ تو انہوں نے جواب دیا : "ہاں میں نے حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ جمعہ کی نماز محراب میں ادا کی ۔ پھر جب میں نے سلام پھیرا تو میں نے کھڑے ہو کر ( نفل ) نماز شروع کر دی تو انہوں نے مجھے بلانے کےلیے آدمی بھیجا ۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کہا: جب تم جمعہ کی نماز پڑھ لو تو وہاں سے نکلے بغیر یا کلام کرنے سے پہلے جمعہ کی نماز کے ساتھ کوئی اور نماز مت ملاؤ۔ کیونکہ رسول اللہﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔"
أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1867
