صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2542
ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ [256 - أ] إِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيرِهِ خَارِجًا إِلَى سَفَرٍ، كَبَّرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ (13) وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ) [الزخرف: 13 - 14]، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ". فَإِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ، وَزَادَ فِيهِنَّ: "آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ". حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجِ، ثَنَا أَبُو الزُّبَيْرٍ؛ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
جناب علی الا زدی بیان کرے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ نے انہیں تعلیم دی کہ رسول اللہ ﷺ جب سواری پر سیدھے ہوکر بیٹھ جاتے اور سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ تین با ر"اَللہُ اَکْبَرُ"پڑھتے پھر یہ دعا پڑھتے ((سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا ۔۔۔۔وَسُوْءِ الْمَنْظَرِ فِی الْأَھْلِ وَالْمَالِ))" پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے فرماں بردار بنا دیا اور ہم میں اسے مطیع بنانے کی طاقت نہیں تھی اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کاسوال کرتے ہیں ۔ اور ایسے عمل کی تو فیق مانگتے ہیں جو تجھے پسند ہو۔ اے اللہ ! ہمارے لیے ہمارے سفر کو آسان بنادے اور اس کی طوالت کو لپیٹ دے ۔ اے اللہ تو ہی اس سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور ہمارے گھر والوں میں ہمارا خلیفہ ہے ۔ اے اللہ! میں سفر کی مشکلات اور مصائب سے ، واپسی پر رنج و غم میں مبتلا ہونے سے اور اپنے گھر والوں اور مال و دولت میں برے منظر دیکھنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔"پھر جب آ پ واپس تشریف لاتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ فرماتے: "اٰ یِبُوْن تَائبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَا مِدُوْنَ ۔""ہم واپس آنے والے ہیں ، اپنے گناہوں کی توجہ کرنے والے ہیں ،اپنے رب کے عبادت گزار اور اس کی حمدو ثنا بیان کرنے والے ہیں۔"
أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عَلَّمَهُمْ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2542
