صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ التَّطَوُّعِ · حديث 2461
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ يَوْمًا فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ، فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ، فَقَالَ: "يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ قَطُّ وَدِينٍ أَذْهَبُ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ. وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ (2) أَنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ بِمَا اسْتَطَعْنَّ". وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَانْقَلَبَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ؟ قَالَتْ: أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: وَيْحَكَ، هَلُمِّي تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ. فَقَالَتْ: لَا. حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ. قَالَ: "أَيُّ الزَّيَانِبِ هِيَ؟ " قَالَ: امْرَأَةُ ابْنُ مَسْعُودٍ. قَالَ: "ايذَنُوا لَهَا". فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَحَدَّثْتُهُ وَأَخَذْتُ حُلِيًّا لِي أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ، رَجَاءً أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ: تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى بَنِيَّ، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ. فَقُلْتُ: حَتَّى أَسْتَأْذِنَ [249 - ب] رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ وَعَلَى بَنِيهِ، فَإِنَّهُمْ لَهُ (1) مَوْضِعٌ".
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہﷺ صبح کی نماز کے بعد فارغ ہوئے تو مسجد میں عورتوں کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! میں نے کم عقل اور ناقص دین والیوں میں تم سے بڑھ کر کسی کو عقلمند شخص کی عقل ختم کرنے والا نہیں دیکھا ۔ اور بے شک میں نے دیکھا ہے کہ تمہاری اکثریت قیامت کے دن جہنمی ہوگی لہٰذ ا حسب طاقت اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ "عورتوں میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی زوجہ محترمہ بھی تھیں ۔ وہ واپس حضرت عبدلالہ بن مسعود ؓ کے پاس گئیں تو انھوں نے نبی کریمﷺ کا فرمان انھیں سنایا اور اپنا زیور لے کر چل دیں۔حضرت ابن مسعود ؓ نے پوچھا : یہ زیور لے کر کہاں جارہی ہو؟ وہ کہتی ہیں : میں اس کو صدقہ کر کے اللہ اور اس کے رسول کا تقرب حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ انھوں نے کہا: تمہارا بھلا ہو، لاؤ مجھ پر میرے بچوں پر صدقہ کر دو ہم اس کے مستحق ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا : نہیں حتی کہ میں رسول اللہﷺسے جاکر پوچھ لوں۔ لہٰذا وہ گئیں اور سول اللہﷺکی خدمت میں حاضر وہنے کی اجازت طلب کی صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ!یہ زینب اجازت طلب کر رہی ہیں آپ نے پوچھا:"کونسی زینب اجازت مانگ رہی ہے؟ "جواب دیا کہ ابن مسعود کی زوجہ ہے ۔ آپ نے فرمایا: "انھیں اجازت دے دو۔"چنانچہ وہ نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے صدقے کے بارے میں آپ کا فرمان سنا تو میں نے واپس جا کر ابن مسعود کو وہ سنایا ، پھر میں نے اپنا زیور لیا اور اسے اللہ اور اس کے رسول کے تقرب کے حصول کے لیے صدقے کرنا چاہا اس امید پر کہ اہل جہنم سے نجات دے دے۔ تو ابن مسعود نےمجھے کہا: تم یہ زیور مجھے اور میرے بچوں کو صدقہ دے دو کیونہ ہم اس کے حقدار ہیں ۔ تو مین نے کہا: اچھا میں رسول اللہﷺ سے پوچھ لوں تو رسول اللہﷺ نےفرمایا:"تم اسے ابن مسعود اور اس کے بچوں پر صدقہ کر دو وہ اس کے مستحق ہیں ۔"
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The gates of the doors gave charity for volunteering · Hadith 2461
