Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2417

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: صَدَقَةُ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ، مَنْ جَاءَ بِبُرٍّ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِشَعِيرٍ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِتَمْرٍ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِسُلْتٍ قُبِلَ مِنْهُ، وَمَنْ جَاءَ بِزَبِيبٍ قُبِلَ مِنْهُ، وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَمَنْ جَاءَ بِسَوِيقٍ أَوْ دَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

حضرت ابن عباسؓ بیان کیا کرتے ہیں کہ صدقہ رمضان ایک صاع اناج ہے ، جو شخص گندم ادا کرے گا ۔ اس سے قبول کی جائے گی ۔ جس نے جو جو ادا کیے ، اس سے لے لیے جائیں گے ، جس نے کھجوریں دیں اس سے قبول کی جائیں گی۔ اور جس نے حجازی جو ادا کیے اس سے قبول کر لیے جائیں گے، اور جس نے کشمش سے ادائیگی کی اس سے وصول کر لی جائے گا۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ بھی فرمایا: اور جس شخص نے آٹا یا ستو ادا کیے تو اس سے لے لیے جائیں گے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 2417

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2418

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ [فِينَا] (1) رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، وَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ إِلَى الْمَدِينَةِ قَدْمَةً وَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ: مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلَّا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذِهِ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَدًا، أَوْ مَا عِشْتُ.

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں صدقہ فطر اناج کا ایک صاع ، یا کھجوروں کا ایک صاع یا جَو کا ایک صاع یا کشمش کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع اد اکیا کرتے تھے ۔ ہم اسی معمول کے مطابق صدقہ فطر ادا کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت معاویہ ؓ شام سے مدینہ منورہ تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب کیا تو فرمایا: میر ے خیال میں شام کی گندم کے دو مد ان چیزوں کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا ۔ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں : میں تو ہمیشہ اسی طرح صدقہ فطر اد اکرتا رہوں گا جس طرح میں رسول اللہﷺ کے زمانہ مبارک میں ادا کیا کرتا تھا۔ یا فرمایا: جب تک میں زندہ ہوں ( اسی طرح عمل پیرا رہوں گا ۔)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ

Hadith 2418

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2419

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَذَكَرُوا عِنْدَهُ صَدَقَةَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: لَا أُخْرِجُ إِلَّا مَا كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، صَاعَ تَمْرٍ، أَوْ صَاعَ حِنْطَةٍ، أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعَ أَقِطٍ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: لَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ؟ فَقَالَ: لَا. تِلْكَ قِيمَةُ مُعَاوِيَةَ، لَا أَقْبَلُهَا، وَلَا أَعْمَلُ بِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ذِكْرُ الْحِنْطَةِ فِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَلَا أَدْرِي مِمَّنِ الْوَهْمَ، قَوْلُهُ: وَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ إِلَى آخِرِ الْخَبَرِ دَالٌ عَلَى أَنَّ ذِكْرَ الْحِنْطَةِ فِي أَوَّلِ الْقِصَّةِ خَطَأٌ [وْ] وَهْمٌ. إِذْ لَوْ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ قَدْ أَعْلَمَهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَاعَ حِنْطَةٍ لَمَا كَانَ لِقَوْلِ الرَّجُلِ: أَوْ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ مَعْنًى.

جناب عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابوسعیدؓ کی موجودگی میں صدقہ فطر کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا: میں تو وہ چیز ہی صدقہ فطر دوں گا جو میں رسول اللہﷺ کے زمانے میں دیا کرتا تھا یعنی ایک صاع کھجوریں یا ایک صاع گندم یا ایک صاع جَو یا ایک صاع پنیر ۔ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے انھیں کہا اگر گندم کے دومد ( نصف صا ع) ادا کیے جائیں تو؟ انھوں نے فرمایا: نہیں ، یہ تو حضرت معاویہ ؓ کی (مقرر کی ہوئی) قیمت ہے میں اسے نہ قبول کر تا ہوں اور نہ ہی اس پر عمل کروں گا ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابوسعید ؓ کی اس روایت میں گندم کا ذکر محفوظ نہیں ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ یہ کسی راوی کا وہم ہے ۔ ( جس نے اس روایت میں اس کا اضافہ کر دیا ہے ) اس روایت میں موجود یہ الفاظ : تو ایک شخص نے حضرت ابوسعید سے کہا: اگر گندم کے دو مد ادا کر دیے جائیں تو کیا حکم ہے ؟ حدیث کے آخر تک کے یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ اس قصے کی ابتداء میں گندم کا ذکر خطا اور راوی کا وہم ہے کیونکہ اگر حضرت ابوسعید ؓ نے انھیں بتایا ہوتا کہ وہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں ایک صاع گندم صدقہ فطر اد اکیا کرتے تھے ، تو اس شخص کا کہنا: " یا گندم کا نصف صاع دے دیا جائے بے معنی ہو جاتا ہے ۔"

عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 2419

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2420

حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مُسْلِمُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمِ بْنِ وَهْبٍ الْأَسْلَمِيِّ الْمَدِينِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، غَرِيبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى) [الأعلى: 14 - 15] فَقَالَ: أُنْزِلَتْ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ".

حضرت عمرو بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے اس آیت مبارک کا معنی وتفسیر پوچھی گئی( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَکَّی وَذَکَرَ اسْمَ رَبَہِ فَصَلّٰی)(سورہ الاعلی:۱۴۔۱۵) "یقیناً فلاح پاگیا وہ شخص جو پاک ہوا ۔ اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔ "تو آپ نے فرمایا: "یہ صدقہ فطر ( اد ا کرنے والوں ) بارے میں نازل ہوئی ہے ۔"

أُنْزِلَتْ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ". ← اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى) ← هَذِهِ الْآيَةِ (قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ

Hadith 2420

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2421

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُؤَدِّي قَبْلَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ وَيَوْمَيْنِ.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے لوگوں کے نماز کےلیے جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور حضرت عبداللہ ؓ عیدالفطر سے ایک دو دن پہلے ادا کر دیتے تھے ۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ

Hadith 2421

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2422

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ.

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے عید الفطر والے دن لوگوں کے نماز کےلیے جانے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 2422

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2423

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ [246 - ب] أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الْمُصَلَّى.

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ،

Hadith 2423

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2424

حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، -مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الْجَامِعِ- حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَحْفَظَ زَكَاةَ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آتٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: دَعْنِي، فَإِنِّي مُحْتَاجٌ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ مَا صَلَّى الْغَدَاةَ: "يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ اللَّيْلَةَ -أَوْ قَالَ: الْبَارِحَةَ-؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! شَكَا حَاجَةً فَخَلَّيْتُهُ وَزَعَمَ أَنَّهُ لَا يَعُودُ. فَقَالَ: "أَمَا أَنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ، وَسَيَعُودُ". قَالَ: فَرَصَدْتُهُ، وَعَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَجَاءَ، فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ. فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَشَكَا حَاجَةً فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ اللَّيْلَةَ -أَوِ الْبَارِحَةَ-؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! شَكَا حَاجَةً فَخَلَّيْتُهُ وَزَعَمَ أَنَّهُ لَا يَعُودُ. فَقَالَ: "أَمَا أَنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ". فَرَصَدْتُهُ وَعَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَجَاءَ، فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: دَعْنِي حَتَّى أُعَلِّمَكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ -قَالَ: وَكَانُوا أَحْرَصَ شَيْءٍ عَلَى الْخَيْرِ- قَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ) [البقرة: 255]، فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظًا. وَلَا يَقْرَبُكَ الشَّيْطَانُ حَتَّى تُصْبِحَ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: "صَدَقَكَ، وَإِنَّهُ لَكَاذِبٌ، تَدْرِي مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثِ لَيَالٍ، ذَاكَ الشَّيْطَانُ".

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہﷺ نے صدقہ رمضان کی حفاظت کرنے کا حکم دیا ۔ تو آدھی رات کے وقت میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے اناج لینا شرو ع کر دیا ۔ تو میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے کہا: میں تمھیں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ تو اس نے عرض کی : مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں حاجت مند ہوں ۔ تو میں نے ( اس پر ترس کھا کر ) چھوڑ دیا ۔(صبح ہوئی) تو رسول اللہﷺ نے نماز فجر کے بعد فرمایا: "ابوہریرہ! آج رات یا گزشتہ رات تمھارے قیدی کا کیا بنا ؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ!اس نے اپنی حاجت مندی کا ذکر کیا اور آئندہ چوری نہ کرنے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے آزاد کر دیا ۔ اس پر آپ نےفرمایا: خبردار!اس نے تمھارے ساتھ جھوٹ بولا ہے اور وہ دوبارہ آئے گا ۔ " حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: تو ( اگلی رات) میں نے اس کی گھات میں بیٹھ گیا کیونکہ رسول اللہﷺ کے فرمان کی وجہ سے مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور آئے گا چنانچہ وہ آیا اور اس نے غلہ اٹھانا شروع کر دیا ۔ ( میں نے اسے گرفتار کیا ) اور اسے کہا: میں تمھیں ضرور رسو ل اللہﷺ کے سامنے پیش کروں گا ۔ تو اس نے پھر اپنی تنگ دستی اور حاجت مندی کا رونا رویا تو میں نے ( ترس کھا کر ) اسے چھوڑ دیا ۔ صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ نے مجھے پوچھا : "تمہارے رات کے قیدی کا کیا بنا ؟ " میں نے کہا اللہ کے رسول ! اس نے اپنے فقر وفاقہ کا ذکر کیا اور آئندہ چوری نہ کر نے کا وعدہ کیا تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ تو آپ نے فرمایا: "خبر دار ! اس نے تمھارے ساتھ جھوٹ بولا ہے اور وہ دوبارہ آئے گا ۔"رسول اللہﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا ۔ لہٰذا وہ آیا اور اس نے اناج اٹھانا شروع کر دیا ، اور میں نے اسے گرفتار کر لیا میں نے اسے کہا: اب تو میں ضرور تجھے رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ تو اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں تمھیں چند ایسے کلمات سکھا دیتا ہوں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمھیں بہت نفع دیں گے ۔ اور صحابہ کرام تو خیر و بھلائی کے بڑے ہی حریص تھے ۔ ( لہٰذا سے چھوڑ دیا ) تو اس نے کہا: جب تم اپنے بستر پر لیٹو تو آیۃ الکرسی(اَللہُ لَآ إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ)پڑھ لیا کرو تو اللہ کی طر ف سے ایک فرشتہ ساری رات تمھاری حفاظت کرتا رہے گا اور صبح تک شیطان تمھارے قریب نہیں آئے گا ۔ تو میں نے اسے آزاد کر دیا ۔ تو رسول اللہﷺ نے انھیں کہا:"اے ابوہریرہ! "تمھارے قیدی کا کیا بنا ؟ "تو انھوں نے نبی کریمﷺ کو ساراواقعہ بتایا ۔ تو آپ نے فرمایا: "اس نے تمھیں سچ بتایا ہے حالانکہ وہ خود جھوٹا ہے کیا تمھیں معلوم ہے کہ تم تین راتوں سے کس کے ساتھ ہم کلام رہے ہو؟ وہ شیطان تھا۔"

أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَوْفٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ الْجَامِعِ ← هِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ

Hadith 2424

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals