Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2375

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، ح؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ سَهْلُ بْنُ عَسْكَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ -يَعْنِي- إِلَّا لِخَمْسَةٍ: الْعَامِلِ عَلَيْهَا، وَرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ غَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى مِنْهَا لَغَنِيٍّ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَجِدْ فِي كِتَابِي عَنِ ابْنِ عَسْكَرٍ: أَوْ غَارِمٍ.

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "زکوٰۃ کا مال صرف پانچ قسم کے لوگوں کےلیے حلال ہے ۔ زکوٰۃ وصول کرنے والا عامل ، دوسرا وہ شخص جو زکوٰۃ کا مال اپنے مال سے خرید لے ، تیسرا وہ آدمی جو مقروض ہو ، چوتھا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے او ر پانچواں وہ مسکین جسے زکوٰۃ دی گئی تو اس نے اس میں سے کسی غنی شخص کو ہدیہ دے دیا۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : میری کتاب میں ابن عسکر سے یہ الفاظ موجود نہیں : "یا مقروض شخص۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ سَهْلُ بْنُ عَسْكَرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2375

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2376

حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَالْحسينُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ: تَحَمَّلْتُ بحَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ فِيهَا، فَقَالَ: "نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ" ثُمَّ قَالَ: "يَا قَبِيصَةُ! إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حَرُمَتْ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ؛ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ؛ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ أَوْ يَشْهَدَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ [فَمَا سِوَى ذَلِكَ] (1) فَهُوَ سُحْتٌ". قَالَ الْبِسْطَامِيُّ: وَنُخْرِجُهَا مِنَ الصَّدَقَةِ.

حضرت قبیصہ بن مخارق ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خون بہا ، یا تاوان اپنے ذمے لیا تو میں نبی کریمﷺ کے پاس اس سلسلے میں تعاون لینے کےلیے حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا: " ہم تمہاری طرف سے یہ رقم ادا کر دیں گے اور اس کی ادائیگی زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے کریں گے ۔"پھر فرمایا: " اے قبیصہ! سوال کرنا حرام ہے سوائے تین اشخاص کے ۔ ایک وہ شخص جس نے کوئی قرض یا تاوان اپنے ذمے لے لیا ہو تو اس کےلیے مانگنا درست ہے حتیٰ کہ اس کی ادائیگی ہو جائے پھر مانگنے سے رک جائے ۔ دوسرا وہ شخص جسے کسی آفت نے آلیا ہو اور اس کا مال برباد ہو گیا ہو تو اس کےلیے سوال کرنا حلال ہے حتیٰ کہ اس کی گزران سیدھی ہو جائے پھر مانگنا ترک کر دے ۔ تیسرا وہ شخص جسے آفت وفاقہ نے لاچار کر دیا ہو ، حتیٰ کہ اس کی قوم کے تین افراد اس کے بارے میں بتائیں یا گواہی دیں کہ اس کےلیے سوال کرنا حلال ہوچکا ہے ۔ ( پھر وہ مانگ سکتا ہے ) حتیٰ کہ وہ گزارے کےلیے مال حاصل کر لے پھر مانگنے سے باز آجائے ، اس کے سوا مانگنا حرام ہے ۔"

"يَا قَبِيصَةُ! ← "نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ" ثُمَّ ← تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْأَلُهُ فِيهَا ← قبيصة بن مخارق ← کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← سُفْيَانَ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2376

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2377

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ -أَسَدِ خُزَيْمَةَ- عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: تَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَجِّ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَجَهَّزُوا مَعَهُ، قَالَتْ: وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ جِئْتُهُ. فَقَالَ: "مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا فِي وَجْهِنَا هَذَا يَا أُمِّ مَعْقِلٍ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ تَجَهَّزْتُ فَأَصَابَتْنَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ، فَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ، وَأَصَابَنِي مِنْهَا سَقَمٌ، وَكَانَ لَنَا جمْلٌ نُرِيدُ أَنْ نَخْرُجَ عَلَيْهِ فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. قَالَ: "فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ".

حضرت ام معقل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حج کی تیاری کی اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ حج کی تیاری کر نے کا حکم دیا ۔ حضرت ام معقل ؓ فرماتی ہیں : رسول اللہﷺ حج کےلیے روانہ ہوگئے اور صحابہ کرام بھی آپ کے ساتھ حج کےلیے چلے گئے ۔ پھر جب آپ واپس تشریف لائے تو میں آپ کے پاس حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا: "اے ام معقل! تم ہمارے ساتھ ہمارے اس حج میں کیوں نہیں گئی ؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ!میں نے تیاری کر لی تھی پھر ہمیں بیماری نے دبوچ لیا جس میں ابو معقل ؓ فوت ہو گئے اور میں بھی بیمار ہوگئی ۔ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا ہم اس پر حج کرنے کےلیے جانا چاہتے تھے مگر ابومعقل ؓ نے اسے اللہ کی راہ میں وقف کرنے کی وصیت کر دی ۔ آپ نے فرمایا:"توتم اس اونٹ پر سوا ر ہو کر کیوں نہیں گئی ، کیونکہ حج بھی تو فی سبیل اللہ میں شامل ہے ۔"

وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ جِئْتُهُ. ← تَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ لِلْحَجِّ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَجَهَّزُوا مَعَهُ، ← جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدُ خُزَيْمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ الْأَحْمَسِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2377

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2378

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا نَرَى أَنْ تَحْمِلَنَا هَذِهِ. فَقَالَ: "مَا مِنْ بَعِيرِ إِلَّا عَلَى ذُرْوَتِهِ شَيْطَانٌ. فَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِذَا رَكَبْتُموهَا كَمَا أَمَرَكُمْ، ثُمَّ امْتَهِنُوهَا لِأَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّمَا يَحْمِلُ اللَّهُ".

حضرت ابولاس خزائی ؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہﷺ نے ہمیں حج کےلیے زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے چند کمزور اونٹ سواری کےلیے دیئے تو ہم نے عرضی کی : اے اللہ کے رسول! ہمارے خیال میں یہ اونٹ سواری کے قابل نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: "ہر اونٹ کو کوہان پر ایک شیطان ہوتا ہے لہٰذا جب تم سوار ہونے لگو تو بسم اللہ پڑھ لو جیسا کہ اس نے تمہیں حکم دیا ہے ۔ پھر تم ان سے اپنی خوب خدمت لو ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰؒ ہی سواری عطا کرتا ہے ( اور ان جانوروں کو تمہارا مطیع کرتا ہے ۔)"

حَمَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ عَلَى إِبِلٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ضِعَافٍ لِلْحَجِّ، فَقُلْنَا: ← أَبِي لَاسٍ الْخُزَاعِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2378

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2379

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ [243 - أ] وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي مَخَافَةَ أَنْ أُصِيبَ مِنْهَا شَيْئًا فِي بَعْضِ اللَّيْلِ؛ فَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ، فَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْزِعَ حَتَّى يُدْرِكَنِي الصُّبْحُ، فَبَيْنَا هِيَ ذَاتُ لَيْلَةٍ تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي، فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، فَقُلْتُ: انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَأُخْبِرُهُ. قَالُوا: لَا وَاللَّهِ! لَا نَذْهَبُ مَعَكَ، نَخَافُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولُ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا، فَاذْهَبْ أَنْتَ وَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ. فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي، قَالَ: "أَنْتَ بِذَاكَ؟ " قَالَ: أَنَا بِذَاكَ. وَهَا أَنا ذي، فَامْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ فَإِنِّي صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ. قَالَ: "اعْتِقْ رَقَبَةً". فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي بِيَدِي، فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا. قَالَ: "صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ. قَالَ: "أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشًا (1) مَا نَجِدُ عَشَاءً. قَالَ: "فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ الصَّدَقَةِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَمُرْهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، فَأَطْعِمْ مِنْهَا وَسْقًا سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَاسْتَعِنْ بِسَائِرِهَا عَلَى عِيَالِكَ". فَأَتَيْتُ قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَفْهَمْ عَنِ الدَّوْرَقِيِّ مَا بَعْدَهَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ، وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ، قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ، فَادْفَعُوهَا إِلَيَّ. قَالَ: فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: حَسَاءً.

حضرت سلمہ بن صخر انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عورتوں سے جماع کرنے کی جتنی قوت ملی تھی ۔ کسی اور کو حاصل نہ تھی ۔ جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا ۔ اس ڈر سے کہیں رمضان المبارک کی کسی رات اس سے ہمبستری نہ کرنے لگ جاؤں، پھر اس کام میں مسلسل لگا رہوں حتیٰ کہ صبح ہو جائے اور میں فارغ ہی نہ ہو سکوں ۔ پھر اس دوران کہ ایک رات وہ میری خدمت کر رہی تھی جب اس کے جسم کا کوئی حصہ میرے سامنے کھل گیا ( تو میں خود پر قابو نہ پاسکا ، اس لیے) کو د کر اس پر سوار ہوگیا ۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور اپنی کار گزار ی انہیں بتائی ۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ تم میرے ہمراہ رسول اللہﷺ کے پاس چلو تا کہ میں آپ کو اپنی خبر بتا سکوں ۔ انہوں نے جواب دیا : نہیں ، اللہ کی قسم! ہم تمہارے ساتھ نہیں جائیں گے ہم تو اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ہمارے بارے میں قرآن نہ نازل ہو جائے یا رسول اللہﷺ ہمارے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جس کی عار وشرمندگی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے ۔ اس لیے تم خود ہی جاؤ اور جو تمہارے جی میں آئے کر گزرو ۔ چنانچہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی کار گزاری بتا دی ۔ آپ نے فرمایا: " کیا واقعی تم نے ایسا ہی کیا ہے ؟"میں نے عرض کی : جی ہاں ! ایسے ہی کیا ہے اور میں اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں آپ مجھ پر اللہ کا حکم نافذ کر یں، میں بڑے صبر کے ساتھ ثواب کی نیت سے سزا برداشت کروں گا ۔ آپ نے فرمایا: "ایک غلام آذاد کرو۔"میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: جس ذات نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے ، میں اس گردن کے سوا کسی کا مالک نہیں ہوں ۔ آپ نے فرمایا: "دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔"میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! میں نے اس غلطی کا ارتکاب رمضان ہی میں تو کیا ہے ۔( مزید روزے کیسے رکھ سکوں گا ) ۔ آپ نے فرمایا: "ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو ۔" میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! ہم نے آپ رات بھوکے گزاری ہے ہمارے پاس رات کا کھانا بھی نہیں تھا ۔ آپ نے فرمایا: "جاؤ بنی زریق کی زکوٰۃ کے تحصیل دار کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ وہ بنی زریق کی زکوٰۃ تمہیں دے دے ۔ اس میں سے ایک وسق ساٹھ مساکین کو کھلا دو اور باقی سارا مال اپنے گھر والوں پر خرچ کر لو۔ "پھر میں اپنی قوم کے پاس آیا تو میں نے کہا: میں نے تمہارے اندر تنگ دلی اور تنگ نظری پائی ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس کے بعد دور قی کی روایت کو میں سمجھ نہیں سکا ۔ دیگر راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : میں نے تمہارے پاس تنگ دلی اور بری رائے کو پایا ہے جبکہ میں نے رسول اللہﷺ کے پاس فراخی اور برکت پائی ہے ۔ آپ نے مجھے تمہاری زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا تم وہ میرے حوالے کر دو ۔ فرماتے ہیں : تو انہوں نے اپنی زکوٰۃ میرے حوالے کر دی۔ بعض راویوں نے عشاء ( رات کا کھا نا) کی بجائے حساء ( شوربہ) کا لفظ روایت کیا ہے ۔"

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2379

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2380

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ فَيَقْسِمُهُ عَلَى الْفُقَرَاءِ، فَأَمَرَ لِي بِقَلُوصٍ.

حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور اسے حکم دیا کہ وہ دولت مندوں سے زکوٰۃ لے کر ( اس علاقے کے) فقرا ء میں تقسیم کر دے ، تو اس نے مجھے بھی ایک جوان اونٹنی دینے کا حکم دیا ( کیونکہ یہ بھی مستحقین میں شامل تھے)۔ "

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2380

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2381

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْجُرَيْرِيُّ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَدَقَاتٍ -يُرِيدُ- جُهَيْنَةَ، فَكَانَ آخِرُ مَنْ أَتَيْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَجَمَعَ لِي مَالَهُ -فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى قَوْلِهِ: وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ. وَقَالَ: قَالَ عُمَارَةُ: فَبَعَثَنِي ابْنُ عُقْبَةَ، قَالَ يَحْيَى: يَعْنِي ابْنَ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ مُصَدِّقًا فَصَدَّقَه مَالَهُ ثَلَاثِينَ حِقَّةً مَعَهَا فَحْلُهَا فَبَلَغَ مَالُهُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ.

حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : رسول اللہﷺنے مجھے قبیلے کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ۔ میں سب سے آخر میں جس شخص کے پاس آیا وہ مدینہ منورہ کے بہت قریب رہتا تھا ۔ اس نے اپنے جانور کی حدیث کی طرح بیان کی ۔ ان الفاظ تک : اور نبی کریمﷺنے اس شخص کےلیے برکت کی دعا کی ۔ جناب عمارہ کہتے ہیں : مجھے ابن عقبہ نے بھیجا ۔ جناب یحییٰ کہتے ہیں : یعنی ابن الولید بن عقبہ نے حضرت معاویہ ؓ کے دو ر حکومت میں ( اسی قبیلے کی ) زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے بھیجا تو اس شخص کے مال کی زکوٰۃ تیس حقے بنی جن کے ساتھ نر اونٹ بھی شامل تھا۔ اس کے مجموعی جانور پندرہ سو اونٹ ہوئے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← عبد الله بن أبي نجيح ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْجُرَيْرِيُّ الْحَرَّانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2381

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2382

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-[243 - ب] عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ عَلَى زَكَاتِهَا فَجَاءَ بِسَوَادٍ كَثِيرٍ فَإِذَا أَرْسَلْتُ إِلَيْهِ مَنْ يَتَوَفَّاهُ مِنْهُ (1). قَالَ: "هَذَا لِي وَهَذَا لَكُمْ. فَإِنْ سُئِلَ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: أُهْدِيَ لِي. فَهَلَّا إِنْ كَانَ صَادِقًا أُهْدِيَ لَهُ وَهُوَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ أُمِّهِ". ثُمَّ قَالَ: "لَا أَبْعَثُ رَجُلًا عَلَى عَمَلٍ فَيَغْتَلُّ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَةِ بَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٍ تَخُورُ، أَوْ شَاةٍ تَيْعَرُ"، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ! ". فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِأَبِي حُمَيْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ.

حضرت ابوحمید الساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک یمنی شخص کو اہل یمن کی زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے روانہ کیا تو وہ بہت سارا مال لے کرا ٓیا ۔ پھر جب آپ نے اس سے حساب لینے کےلیے ایک آدمی بھیجا تو وہ کہنے لگا : یہ میرا مال ہے اور یہ تمہارا ہے ۔ پھر اگر اس سے پوچھا جائے ۔ تمہیں یہ مال کہاں سے ملا ہے تو وہ کہتا ہے : مجھےہدیہ دیا گیا ہے ۔ اگر وہ سچا ہے تو وہ اسے اس وقت ہدیہ کیوں نہیں دے دیا جاتا جبکہ وہ اپنے والد یا والدہ کے گھر بیٹھا ہو ۔ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا: " میں نے جس شخص کو بھی کسی کام کے لیے بھیجا ، پھر وہ اس میں خیانت کر ے تو وہ اس خیانت شدہ مال کو اپنی گردن پر اٹھائے قیامت کے دن حاضر ہو گا، اگر وہ اونٹ ہوا تو وہ بلبلا رہا ہوگا یا گائے ہوئی تو وہ ڈکار رہی ہو گی ، یا بکری ہوئی تو وہ ممیا رہی ہو گی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ میں نے یہ پیغام پہنچا دیا ہے ۔"یہ سن کر حضرت ابن زبیر نے حضرت ابوحمید سے کہا: کیا آپ نے یہ فرمان خود رسول اللہﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ ← الشَّيْبَانِيِّ ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2382

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2383

- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزَوَانَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُوسَى بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ [رَجُلٌ] (1) إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا غُلَامَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. قَالَ: "وَعَلَيْكَ". قَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ (2) الَّذِي مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ وَأَنَا رَسُولُ قَوْمِي إِلَيْكَ وَوَافِدُهُمْ، وَإِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتِي إِيَّاكَ، وَمُنَاشِدُكَ فَمُشَدِّدٌ مُنَاشَدَتِي إِيَّاكَ. قَالَ: "خُذْ عَنْكَ يَا أَخَا ابْنِ سَعْدٍ". قَالَ: مَنْ خَلَقَكَ، وَمَنْ خَلَقَ مَنْ قَبْلَكَ، وَمَنْ هُوَ خَالِقُ مَنْ بَعْدَكَ؟ قَالَ: "اللَّهُ". قَالَ فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ، هُوَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، قَالَ: فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا فِي كِتَابِكَ وَأَمَّرْتَنَا رُسُلًا أَنْ تَأْخُذَ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِنَا فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِنَا، فَنَشَدْتُكَ بِذَلِكَ أَهُوَ أَمَرَكَ بِذَلِكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: (إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ) مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

امیر وگورنر کو زکوٰۃ ادا کرنے کی بجائے آدمی بذات خود بھی مستحقین میں تقسیم کر سکتا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ۔۔۔۔۔)(البقرہ:۲۷۱) "اگر تم علانیہ صدقات دو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر تم اسے چھپا کر فقیروں کو دو تو وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ۔۔۔۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَأَبُو جَعْفَرٍ مُوسَى بْنُ السَّائِبِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْمَرْوَزِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2383

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2384

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ -يَعْنِي ابْنَ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرٍ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُطَلَّ دَمُهُ، فَفَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.

جناب بشیر بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے ایک فرد جسے ابن ابی حثمہ کہا جاتا ہے اس نے انھیں خبر دی کہ ان کے چند افراد خیبر گئے اور وہاں ( اپنے اپنے کام کے سلسلے میں) منتشر ہو گئے ۔ پھر انھوں نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ تو انھوں نے ان لوگوں سے کہا جن کے علاقے سے وہ ملا تھا: تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے ۔ ( ان کے انکار پر ) ان لوگوں نے اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا: ہم خیبر گئے تھے ۔ پھر باقی حدیث ذکر کی اس حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں : تو نبی کریمﷺ نے اس کا خون رائیگاں قرار دینا پسند نہ کیا ، لہٰذا زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سواونٹ اس کی دیت ادا کر دی ۔

لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا. ← أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرٍ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، ← بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ← مَالِكٌ -يَعْنِي ابْنَ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ- ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2384

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2385

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، كِلَاهُمَا عَنِ ابْنِ عَوْنٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، كِلَاهُمَا عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ الرَّايِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي رَحِمٍ اثْنَتَانِ، إِنَّهَا صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الصَّنْعَانِيِّ. وَقَالَ عَلِيٌّ: فِي خَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَعِيسَى: عَنِ الرَّبَابِ، وَلَمْ يُكَنِّهَا، وَالرَّبَابُ هِيَ: أُمُّ الرَّايِحِ.

حضرت سلمان بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک مسکین آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہی ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیزیں ہیں : وہ صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی ۔"جناب ابن عیینہ اور عیسی کی روایت میں حدیث کی راویہ الرباب کا ذکر ہے اور اس کی کنیت کا ذکر نہیں ہے ۔ جبکہ الرباب ہی ام الرایح ہے ۔"

سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ← اُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَیْعٍ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، كِلَاهُمَا ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا ابْنُ خَشْرَمٍ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، كِلَاهُمَا ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ، ← عِيسَى؛ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2385

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2386

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ [244 - أ] أَخْبَرَنَا أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ، -قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِبْلَتَيْنِ- قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ".

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ ؓ سے روایت ہے امام سفیان فرماتے ہیں : حضرت ام کلثوم ؓ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ دونوں قبلوں کی طر منہ کر کے نماز پڑھی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں : رسول اللہﷺ نے فرمایا: " سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو بغض وعداوت رکھنے والے رشتہ دار کو دیا جائے ۔"

سفيان وكانت قد صلت مع رسول الله القبلتين ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عُقْبَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو الطَّاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن أحمد الصَّابُونِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2386

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals