Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2363

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَجَعَلَهَا فِي فُقَرَائِنَا، وَكُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا فَأَعْطَانِي مِنْهُ قَلُوصًا.

حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم کا زکوٰۃ وصول کرنے والا عامل آیا تو اس نے ہمارے مالدار لوگوں سے زکوٰۃ وصول کر کے ہمارے فقراء میں تقسیم کر دی اور میں ایک یتیم لڑکا تھا تو انہوں نے مجھے بھی اس مال سے ایک جوان اونٹنی دی۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَشْعَثَ، ← حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2363

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2364

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافِ، وَلَا بِالَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ، وَلَا التَّمْرَةُ وَلَا التَّمْرَتَانِ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ".

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:(اصلی ) مسکین وہ نہیں جو سوال کرتا پھرتا ہے اور نہ وہ ہے جسے ایک یا دو لقمے ، ایک یا دو کھجوریں در بدر پھراتی ہین ۔ لیکن حقیقی مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرنے سے بچتا ہے اور نہ لوگ اس کے حال سے باخبر ہوتے ہیں کہ اس پر صدقہ کر دیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2364

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2365

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ (1)، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ (2) قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ. فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، وَأَجْرِي عَلَى اللَّهِ. قَالَ: خُذْ مَا أَعْطَيْتُكَ، فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَمَّلَنِي. فَقُلْتُ: مِثْلَ قَوْلِكَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَكُلْ وَتَصَدَّقَ". قَالَ أَبُو بَكْرِ: ابْنُ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيُّ أَحْسِبُهُ: عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ.

جناب ابن الساعدی المالکی ؓ فرماتے ہیں : حضرت عمر ؓ نے مجھے زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کیا ۔ جب میں زکوٰۃ کی وصولی سے فارغ ہوگیا اور میں نے مال ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے مجھے اجرت دینے کا حکم دیا تو میں نے عرض کی: بے شک میں نے یہ کام اللہ کی رضا کےلیے کیا ہے اور میری اجرت اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے ہے ۔ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں تمہیں جو مال دے رہا ہوں ، وہ لے لو کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں یہی کام انجام دیا تھا تو آپ نے مجھے مزدوری دی تھی تو میں نے بھی تمہاری با ت کی طرح اظہار کیا تھا ۔ اس پر رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا تھا : " جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے مل جائے تو کھاؤ اور صدقہ کر دو ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : میرے خیال میں ابن الساعدی المالکی سے مراد عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ہے ۔

ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِكِيِّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرٍ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2365

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2366

قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَامَةَ بْنِ رَوْحٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدِّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ عَمَلًا فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا؟ فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ عُمَرُ: فَمَا أَنْزَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: لِي أَفْرَاسٌ وَأَعْبُدٌ وَأَنَا بِخَيْرٍ، فَأُرِيدُ أَنْ يَكُونَ عَمَلِي صَدَقَةٌ عَلَى الْمُسْلِمِينَ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: فَلَا تَفْعَلْ. فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ الَّذِي أَرَدْتَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْطِينِي الْعَطَاءَ، فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَأَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خُذْ فَتَقَوَّ بِهِ أَوْ تَصَدَّقْ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ".

جناب عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بیان کرتے ہیں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے دور خلافت میں حضرت عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے انہیں کہا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم عوامی خدمت کے کام سر انجام دیتے ہو، پھر جب تمہیں مزدوری دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے؟ تو میں نے جواب دیا : کیوں نہیں ( میں ایسے ہی کرتا ہوں ) حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آخر تم مزدوری کیوں نہیں لیتے؟ میں نے عرض کی: میرے پاس گھوڑے ہیں اور غلام بھی موجود ہیں اور میں خیرو برکت سے مالا مال ہوں اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرا یہ عمل مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا: تم ایسے مت کیا کرو کیونکہ میں نے بھی ایسے ہی کرنا چاہا تھا جیسے تم چاہتے ہو تو رسول اللہﷺ مجھے مال عطا کر دیتے تھے ۔ میں عرض کرتا کہ آپ مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو دے دیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "لے لو، اس سے قوت حاصل کرو یا صدقہ کر دو اور جو مال تجھے بغیر حرص اور سوال کے مل جائے اسے لے لو اور جو مال تمہیں نہ ملے اس طرف اپنا دل مت لگاؤ ( اس کا لالچ نہ کرو )۔"

أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي خِلَافَتِهِ، ← أن عبد الله بن سعد بن أبي سرح ← السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← ابْنُ سَلَامَةَ بْنِ رَوْحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2366

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2367

وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُعْطِي ابْنَ الْخَطَّابِ فَيَقُولُ عُمَرُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَقَالَ: "خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ حُوَيْطِبِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺابن خطاب ؓ کو مال عطا فرماتے تو حضرت عمر ؓ عرض کرتے : آپ یہ مال مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو دے دیں ۔ توا ٓپ نے فرمایا: " لے لو اور اسے اپنے لیے مالداری کا سبب بنا لو یا صدقہ کر دو"پھر بقیہ حدیث بیان کی۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2367

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2368

حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ- حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَطِيَّةَ (1) -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ- عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَسْلَمَ. أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الرَّمَدَاتِ وَأَجْدَبَتْ بِبِلَادٍ الْأَرْضُ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ عُمَرَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى الْعَاصِ بْنِ قَدْ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ.

"جناب زید بن اسلم اپنے والد گرامی جناب اسلمؒ سے روایت کرتے ہیں کہ جب قحط سالی سے جزیرہ عر ب کی زمین خشک ہوگئی تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اپنے ( مصری ) گورنر حضرت عمرو بن عاص ؓ کو خط لکھا ( جس کا مضمون یہ تھا) : اللہ کے بندے عمر امیر المومنین کی طرف سے عاص بن عاص کی طرف ، میری عمر کی قسم! تمہیں کیا پروا ہے جب کہ تم اور تمہارے علاقے کے لوگ تو خوب موٹے تازے ہیں اور میں اور میرے علاقے کے لوگ (خشک سالی کی وجہ سے ) دبلے پتلے ہوگئے ہیں ۔ اے اللہ ہماری مدد فرما ۔"حضرت عمر و بن عا ص ؓ نے اس خط کا یہ جواب لکھا: " السلام علیکم ، بعد ازاں عرض ہے کہ میں آپ کی خدمت کےلیے حاضر ہوں ، آپ کے حکم کی تعمیل کےلیے حاضر ہوں ۔ آپ کے پاس ایک ایسا قافلہ آرہا ہے جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس اور آخری میرے پاس ہوگا ۔ اس کے ساتھ مجھے یہ بھی امید ہے کہ میں سمندری راستے سے مال بھیج دوں گا ۔ پھر جب پہلا قافلہ ( مدینہ منورہ) پہنچا تو حضرت عمر ؓ نے حضرت زبیر ؓ کو بلایا اور فرمایا: اس پہلے قافلے کی ذمہ واری سنبھال لو اور اسے نجد لے جاؤ اور ہر گھر میں اتنا مال بھیج دو جتنا تم بھیج سکو اور جو مال اٹھا کر نہ لے جاسکے تو ہر گھر والوں کےلے ایک اونٹ سامان سمیت دے دو اور انہیں حکم دو کہ گندم کے تھیلوں کا لباس بنالیں ، اونٹوں کو ذبح کر کے ان کی چربی پگھلالیں ، اس کے گوشت کو دھوپ میں خشک کر کے محفوظ کر لیں ، اور اس کی کھال بھی استعمال کر لیں ۔ پھر خشک گوشت ، گھی اور آٹے کی کچھ مقدار کو ملا کر پکائیں اور سب لوگ کھائیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ انہیں روزی عطا فرمائے ۔ ( بارشیں ہو جائیں اور فصلیں اگنا شروع ہو جائیں ) تو حضرت زبیر ؓ نے یہ ذمہ داری سنبھالنے سے معذرت کر لی ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ساری زندگی اس جیسی نعمت نہیں پاؤ گے ۔ پھر ایک اور آدمی کو بلایا ، میرے خیال میں وہ حضرت طلحہ تھے مگر انہوں نے بھی معذرت کر لی ۔ پھر حجرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بلایا تو وہ یہ ذمہ داری نبھانے کےلیے روانہ ہو گئے پھر جب وہ اس ذمہ داری کو ادا کر نے کے بعد واپس آئے تو حضرت عمرؓ نے انہیں ایک ہزار دینا دیئے تو حضرت ابوعبیدہ ؓ نے عرض کی: اے ابن خطاب! میں نے یہ کام تمہاری رضا کےلیے نہیں کیا بلکہ میں نے یہ کام اللہ کی خوشنودی کے حصول کےلیے کیا ہے اور میں اس کام کی کوئی اجرت نہیں لوں گا ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ ہمیں اس قسم کی ذمہ داریوں کےلیے بھیجا کرتے تھے اور ہمیں مزدوری دیتے تو ہم مزدوری لینا پسند نہ کرتے مگر رسول اللہﷺ ہماری اس ناپسندیدگی کو قبول نہیں کرتے تھے( بلکہ زبردستی مزدوری دے دیتے تھے ) اس لیے اے ابوعبیدہ ! تم بھی اس مزدوری کو قبول کر لو اور اسے اپنی دینی ضروریات اور دنیوی حاجات میں استعمال کرو ۔ چنانچہ حضرت ابوعبیدہ ؓ نے وہ مال قبول کر لیا ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :" میرے دل میں عطیہ بن سعد کے بارے میں عدم اطمینان ہے ۔ لیکن یہ روایت زید بن اسلم نے بھی عطاء بن یسار کے واسطے سے حضرت ابوسعید ؓ سے بیان کی ہے ۔ جسے میں ایک دوسری جگہ پر بیان کر چکا ہوں ۔ ( امام صاحب کے اس تبصرے کا تعلق اگلی حدیث سے ہے ۔)

أَبِيهِ أَسْلَمَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَطِيَّةَ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ- ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى التُّجِيبِيَّ- ← أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2368

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2369

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ -هُوَ الْبَارِقِيُّ- عَنْ عَطِيَّةَ -مَعَ بَرَاءَتِي مِنْ عُهْدَتِهِ- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: الْعَامِلِ عَلَيْهَا، أَوْ غَارِمٍ، أَوْ مُشْتَرِيهَا، أَوْ عَامِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ جَارٍ فَقِيرٍ يَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ، أَوْ أَهْدَى إِلَيْهِ" (1).

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا: "مالدار شخص کےلیے زکوٰۃ کا مال لینا حلال نہیں ہے سوائے پانچ قسم کے مالدار اشخاص کے ۔ وہ زکوٰۃ کا تحصیل دار ہو ( تو مزدوری لے سکتا ہے ) یا مقروض ہو یا وہ زکوٰۃ کا مال خرید لے یا اللہ کے راستے میں جہاد کر نے والا ہو یا جس کا پڑوسی فقیر ہو جسے زکوٰۃ دی گئی ہو اور وہ فقیر ( مال دار ہمسائے کو اس زکوٰۃ کے مال میں سے ) ہدیہ کر دے ( تو اس کا لینا جائز ہے "

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ -مَعَ بَرَاءَتِي مِنْ عُهْدَتِهِ- ← عِمْرَانَ -هُوَ الْبَارِقِيُّ- ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2369

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2370

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ".

حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: " ہم نے جس شخص کو کسی کام کی ذمہ داری سونپی اور اسے اس کی تنخواہ بھی دے دی تو اس کے بعد وہ جو مال لے گا وہ خیانت ہوگی ۔"

"مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ عَلَى عَمَلٍ فَرَزَقْنَاهُ رِزْقًا فَمَا أَخَذَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ غُلُولٌ". ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2370

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2371

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْمُفْتِي، حَدَّثَنَا مُعَافَى -هُوَ ابْنُ عِمْرَانَ الْمَوْصِلِيُّ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا حَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْمُعَافَى- أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: (مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ).

حضرت مستور د بن شداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : "جو شخص ہمارا عامل ہو تو وہ ( اس مال زکوٰۃ سے ) نکاح کر لے اور اگر اس کے پاس خادم لے لے ، اور جس کے پاس گھر نہ ہو تو وہ گھر لے لے ۔"جناب معافی کہتے ہیں : مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ان چیزوں کے سوا کوئی چیز لی تو وہ خائن ہے یا چور ہے ۔"

الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَارِثُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُعَافَى -هُوَ ابْنُ عِمْرَانَ الْمَوْصِلِيُّ- ← يَحْيَى بْنُ مَخْلَدِ بْنِ الْمُفْتِي،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2371

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2372

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُسْأَلْ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ إِلَّا أَعْطَاهُ. قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِشِيَاهٍ كَثِيرَةٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شِيَاهِ الصَّدَقَةِ. قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ.

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے اسلام کےلیے جو کچھ مانگا جاتا آپ عطا کر دیتے تھے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے مال مانگا تو آپ نے اسے زکوٰۃ کی بکریوں میں سے دو پہاڑوں کے درمیان چرنے والی بہت ساری بکریاں عطا کیں تو وہ شخص ( بکریاں سمیٹ کر ) اپنی قوم کے پاس پہنچا تو کہنے لگا : اے میری قوم کے لوگو! مسلمان ہو جاؤ کیونکہ محمد ﷺایسی عطا دیتے ہیں کہ انہیں فقر وفاقہ کا ڈر ہی نہیں ہوتا ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2372

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2373

حَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا قَالَ: أَخْبَرَنَا أَنَسٌ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ لَهُ بِشِيَاهٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ: أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءَ رَجُلٍ لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور کچھ عطا کرنے کا سوال کیا ) تو آپ نے اسے دو پہاڑیوں کے درمیان موجود ( تمام ) بکریاں دینے کا حکم فرمایا وہ شخص اپنی قوم کے پاس واپس پہنچا تو کہنے لگا: ( لوگو) مسلمان ہوجاؤ کیونکہ محمد ﷺتو اس شخص کی طرح ( دل کھول کر ) عطا کرتے ہیں جیسے فقر وفاقہ کا ڈر نہیں ہوتا ۔"

حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ، ← الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2373

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2374

حَدَّثَنَا أَبُو هاشمٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْقَعْقَاعِ- عَنْ ابن أَبِي نُعمٍ -وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعَمٍ (1) - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَهَبٍ لَمْ يُخْلَصْ مِنْ تُرَابِهَا [242 - ب] فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيِّ (1)، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْجَعْفَرِيِّ، أَوْ عَامِرِ بْنِ الطُّفَيْلِ -هُوَ شَكٌّ- وَزِيدٍ الطَّائِيِّ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ قَوْمٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنَ الْأَنْصَارِ وَغَيْرِهِمْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: "أَلَا تَأْتَمِنُونِي، وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ! يَأْتِينِي خَبَرُ مَنْ فِي السَّمَاءِ صَبَاحَ مَسَاءَ".

حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے یمن سے نبی کریمﷺکی خدمت میں کچھ سونا بھیجا جسے ابھی تک مٹی سے الگ بھی نہیں کیا گیا تھا ( کان سے جیسے ملا تھا ویسے ہی تھا ) تو نبی مکرم ﷺ نے وہ سونا چار افراد میں تقسیم کر دیا ( وہ افراد یہ ہیں) : اقر ع بن حابس الحنظلی ، عیینہ بن حصن المرادی ، علقمہ بن علاثہ الجعفری اور عامر بن طفیل یا زید الطائی ۔ ( راوی کو ان دو میں شک ہے کہ چوتھا کون تھا ) ۔ یہ بات آپ کے بعض انصاری اور دیگر صحابہ کرام کو ناگوار گزری۔ آپ کو اس کی اطلا ع ملی تو آپ نے فرمایا: "کیا تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے حالانکہ میں آسمان والے رب کا بھی امین ہوں ۔ میرے پاس آسمان والے کی وحی صبح و شام آتی ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ابن أَبِي نُعمٍ -وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعَمٍ ← عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ الْقَعْقَاعِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أبو هاشم الرفاعي

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2374

chevron_left Previous
1…10111213
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals