Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2351

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَبِي رَافِعٍ: بَعَثَ النَّبِيُّ [240 - أ]- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بني مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ. قَالَ: اصْحَبْنِي. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا بَعَثْتُ الْمَخْزُومِيَّ عَلَى أَخْذِ الصَّدَقَةِ الْفَرِيضَةِ"، فَقَوْلُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي رَافِعٍ: "إِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ"، كَانَ جَوَابًا عَلَى الصَّدَقَةِ الَّتِي كَانَ الْجَوَابُ مِنْ أَجْلِهَا.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت ابو رافع کی حدیث میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ کی وصولی کےلیے بھیجا تو اس نے ( مجھے ) کہا: میرے ساتھ چلو ( تاکہ تم بھی مال حاصل کر سکو) تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: "میں نے مخزومی شخص کو فرض زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے بھیجا ہے ۔"لہٰذا نبی کریمﷺ کا حضرت ابو رافع ؓ سے یہ کہنا: "بے شک ہمارے لیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے ۔"یہ آپ کا جواب اس صدقے کے بارے میں تھا جس فرضی صدقے کے بارے میں حضرت ابو رافع نے ( وصول کنندہ کی ) معاونت کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔

اصْحَبْنِي.

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2351

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2352

وَفِي خَبَرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ التَّمْرُ مِنَ الْعُشْرِ أَوْ مِنْ نِصْفِ الْعُشْرِ، الصَّدَقَةُ الَّتِي يَجِبُ فِي التَّمْرِ.

حضرت حسن بن علی ؓ کی روایت میں ہے: میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھالی اور یہ کھجور ، کھجوروں کی فرض زکوٰۃ دسویں یا بیسیویں حصے میں سے تھی۔

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2352

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2353

وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَمَصِيرِهِ مَعَ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَسْأَلَتِهِمَا إِيَّاهُ اسْتِعْمَالَهُمَا عَلَى الصَّدَقَةِ، وَإِعْلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُمَا أَنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ. وَإِنَّمَا كَانَتْ مَسْأَلَتُهُمَا اسْتِعْمَالَهُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ الْمَفْرُوضَاتِ، فَقَوْلُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي إِجَابَتِهِ إِيَّاهُمَا: إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةَ أَيِ الَّتِي سَأَلْتُمَانِيَ أَسْتَعْمِلُكُمَا عَلَيْهَا، إِنَّمَا هِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَلَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ.

اور حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی روایت میں بھی ( فرضی زکوٰۃ کی وضاحت ہے ) جب وہ حضرت فضل بن عباسؓ کے ساتھ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا اور نبی کریمﷺ نے ان دونوں کو بتایا تھا کہ یہ زکوٰۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد ﷺ اور آپ کی آل کےلیے حلال نہیں ہے اور بلاشبہ انہوں نے فرضی زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا ۔ لہٰذا نبی کریمﷺ کا ان دونوں کو یہ جواب دینا کہ یہ صدقہ جس پر تم نے عامل مقرر کیے جانے کا مجھ سے سوال کیا ہے یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد اور آپ کی آل کےلے حلال نہیں ہے ۔ "

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2353

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2354

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:

امام ابوکبرؒ فرماتے ہیں :حضرت عروہ کی عائشہ ؓ سے روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ہماری میراث تقسیم نہیں کی جائے گی ، جو مال ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا ۔ بلا شبہ آل محمد اس مال میں سے کھائیں گے ۔ اس طرح نبی کریمﷺ نے خبر دی ہے کہ آپ کی آل آپ کے صدقہ میں کھائے گی کیونکہ آپ کا صدقہ فرض صدقہ ( زکوٰۃ ) نہیں ہے ۔ "

عَائِشَةَ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عُرْوَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2354

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2355

حدثنا الحسين بن الحسن أخبرنا الثقفي عبد الوهاب حدثنا أيوب عن عمرو بن سعيد عن حميد بن عبد الرحمن الحميري قال حدثني ثلاثة من بني سعد بن أبي و قاص كلهم يحدثه عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على سعد يعوده بمكة قال فبكى سعد فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ما يبكيك ؟ قال خشيت أن أموت بأرضي التي هاجرت منها كما مات سعد بن خولة فقال النبي صلى الله عليه وسلم : اللهم اشف سعدا اللهم اشف سعدا فقال : يا رسول الله إن لي مالا كثيرا و إنما ترثني بنت أفأوضي بمالي كله ؟ قال : لا قال : فالثلثين ؟ قال : لا قال : فالنصف قال لا قال : فالثلث قال : الثلث و الثلث كثير إن صدقتك من مالك صدقة و إن نفقتك على عيالك لك صدقة و إن ما تأكل امرأتك من طعامك لك صدقة و إنك إن تدع أهلك بخير أو قال بعيش خير لك من أن تدعهم عالة يتكففون و قال بيده

حضرت حذیفہ ، حضرت جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن یزید الخطمی ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ہر نیکی اور بھلائی کا کام صدقہ ہے ۔ لہٰذا اگر نبی مصطفیٰ ﷺ کے اس فرمان " ہم آل محمد کےلیے صدقہ حلال نہیں ہے "سے آپ کی مراد ہر نفلی اور فرض صدقہ ہوتا تو پھر آپ محمد ﷺ کے کسی فرد کے ساتھ احسان ونیکی کرنا حلال نہ ہوتا کیونکہ آپ کے حکم کے مطابق ہر طرح کا احسان ونیکی صدقہ ہے۔اور اگر نفلی صدقہ آل محمد کےلیے جائز نہ ہوتا جیسا کہ بعض جہلاء کا خیال ہے تو پھر کسی شخص کےلیے یہ حلال نہ ہوتا کہ وہ اپنے برتن سے آل محمد کے کسی شخص کے برتن میں پانی ڈال دیتا ۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ آدمی کا اپنے برتن سے پیاسے اور ضرورت مند شخص کے برتن میں پانی ڈال دینا بھی صدقہ ہے اور آل محمدﷺ کے کسی شخص کےلیے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی حلال نہ ہوتا کیونکہ وہ بھی آل محمدﷺ میں سے ہیں اور نبی مکرمﷺ بتا چکے ہیں کہ آدمی کا اپنے گھرو الوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے ۔ "

أَبِيهِ ← ثلاثة من بني سعد بن أبي و قاص كلهم يحدثه ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← أَيُّوبَ، ← الثقفي عبد الوهاب ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2355

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2356

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ آلَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَحْرُمُ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ كَتَحْرِيمِهَا عَلَى غَيْرِهِمْ مِنْ وَلَدِ هَاشِمٍ [240 - ب] كَمَا زَعَمَ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: أَنَّ آلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عُقَيْلٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ الْمُطَّلِبِ. وَكَانَ الْمُطَّلِبِيُّ يَقُولُ: إِنَّ آلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ الَّذِينَ عَوَّضَهُمُ اللَّهُ مِنَ الصَّدَقَةِ سَهْمَ الْقَرَابَةِ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَسْمِهِ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، إنَّ اللَّهَ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: ذَوِي الْقُرْبَى، بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، دُونَ غَيْرِهِمْ مِنْ أَقَارِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مکہ مکرمہ میں حضرت سعد کی عیادت کےلیے تشریف لائے تو حجرت سعد ؓ رونے لگ گئے تو نبی کریمﷺ نے پوچھا : " کس لیے روتے ہو ؟ " فرماتے ہیں : میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری وفات اسی شہر میں نہ ہوجائے جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی ( اور میرا اجر ضائع ہو جائے) جیسا کہ حضرت سعد بن خولہ ؓ ( مکہ مکرمہ ہی میں) فوت ہو گئے تھے تو نبی کریمﷺ نے دعا فرمائی : "اے اللہ ! سعد کو شفا عطا فرما ۔ اے اللہ! سعد کو صحت دے دے ۔"پھر سعد ؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس مال و دولت کافی زیادہ ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے ، کیا میں اپنے سارے مال کی( کسی کے حق میں) وصیت کر دو؟ آپ نے فرمایا: "نہیں ۔"انہوں نے عرض کی: اچھا تو پھر دو تہائی کی وصیت کر دیتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا: "نہیں ۔" انہوں نے عرض کی: آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے جواب دیا : نہیں۔ انہوں نے پھر پوچھا : کیا ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ نے فرمایا: "تہائی مال ( کی کر دو) اور تہارئی مال بھی بہت زیادہ ہے ۔ بے شک تمہارا اپنے مال سے صدقہ کرنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا بھی صدقہ ہے اور بے شک تمہاری بیوی جو کچھ تمہارے اناج میں سے کھاتی ہے وہ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے اور بے شک اگر تم اپنے اہل وعیال کو مالدار یا فرمایا: ان کے زندگی گزارنے کےلیے مال چھوڑ کر جاؤ تو یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرتے پھریں۔" اور ہاتھ سے اشارہ کیا۔

أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ دَلَالَةٌ عَلَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2356

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2357

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ آلَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَحْرُمُ عَلَيْهِمُ الصَّدَقَةُ كَتَحْرِيمِهَا عَلَى غَيْرِهِمْ مِنْ وَلَدِ هَاشِمٍ [240 - ب] كَمَا زَعَمَ أَبُو حَيَّانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: أَنَّ آلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ حُرِمُوا الصَّدَقَةَ آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عُقَيْلٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِ وَآلُ الْمُطَّلِبِ. وَكَانَ الْمُطَّلِبِيُّ يَقُولُ: إِنَّ آلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ الَّذِينَ عَوَّضَهُمُ اللَّهُ مِنَ الصَّدَقَةِ سَهْمَ الْقَرَابَةِ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَسْمِهِ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، إنَّ اللَّهَ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: ذَوِي الْقُرْبَى، بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، دُونَ غَيْرِهِمْ مِنْ أَقَارِبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آل عبدالمطلب ہر زکوٰۃ اسی طرح حرام ہے جس طرح کہ ان کے علاوہ ہاشم کی اولا د پر حرام ہے ۔ جیسا کہ حضرت زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ آل نبی ﷺ جب پر زکوٰۃ حرام ہے ، وہ آل علی ، آل عقیل ، آل عباس اور آل مطلب ہیں۔ اور جناب المطلبی فرماتے تھے : بے شک آل نبویﷺ سے مراد بنو ہاشم اور بنو المطلب ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے بدلے میں غنیمت کے صدقے میں سے ایک حصہ عطا کیا ہے ۔ پھر نبی کریمﷺ نے ذوی القربی ( قرابت داروں) کا حصہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کے درمیان تقسیم کر کے وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ( ذوی القربیٰ) " قرابت داروں کو دو "سے مراد بنو ہاشم اور بنو مطلب ہیں اور نبی کریمﷺ کے دیگر قرابت دار اس میں شامل نہیں ہیں۔

أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ دَلَالَةٌ عَلَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2357

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2358

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، -وَهُوَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ الرَّبَابُ-، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَمُرَةَ وَعَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ حَصِينٌ: يَا زَيْدُ! رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ، وَسَمِعْتَ حَدِيثَهُ، وَغَزَوْتَ مَعَهُ، لَقَدْ أَصَبْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيرًا. حَدَّثَنَا يَا زَيْدُ حَدِيثًا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا شَهِدْتَ مَعَهُ. قَالَ: بَلَى، ابْنَ أَخِي، لَقَدْ قَدِمَ عَهْدِي، وَكَبُرَتْ سِنِي وَنَسِيتُ بَعْضَ الَّذِي كُنْتُ أَعِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوهُ، وَمَا لَمْ أُحَدِّثْكُمُوهُ فَلَا تُكَلِّفُونِي. قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا خَطِيبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمٍّ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَوَعَظَ وَذَكَّرَ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ! فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَنِي رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ. وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ أَوَّلُهُمَا: كِتَابُ اللَّهِ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، مَنِ اسْتَمْسَكَ بِهِ وَأَخَذَ بِهِ كَانَ عَلَى الْهُدَى، وَمَنْ تَرَكَهُ وَأَخْطَأَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ، وَأَهْلُ بَيْتِي أُذَكِّرْكُمُ اللَّهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ حَصِينٌ: فَمَنْ أَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُ؟ أَلَيْسَتْ نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ: بَلَى! نِسَاؤُهُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَلَكِنَّ أَهْلَ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ. قَالَ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: آلُ عَلِيٍّ، وَآلُ عُقَيْلٍ، وَآلُ جَعْفَرٍ، وَآلُ الْعَبَّاسِ. قَالَ حَصِينٌ: وَكُلُّ هَؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ.

جناب یزید بن حیان بیان کرتے ہیں: میں حصین بن سمرہ اور عمرو بن مسلم حضرت زید بن ارقم ؓ کے پاس گئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ، جناب حصین نے انہیں کہا: اے زید ؓ ! آپ نے رسول اللہﷺ کی زیارت کی سعادت حاصل کی ہوئی ہے اور آپ کے پیچھے نمازیں بھی ادا کی ہیں۔ آپ کے فرامین سنے ہیں اور آپ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی ہے ۔ اے زید! یقیناً آ پ نے بہت ساری خیرو برکت پائی ہے ۔ اے زید ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہو اور آپ نبی کریمﷺ کے ساتھ اس وقت موجود بھی ہو ں۔ انہوں نے کہا: ضرور ، اے بھتیجے !(رسول اللہﷺ سے) میری ملاقات بہت پرانی ہوچکی ہے اور میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور رسول اللہﷺ کے یاد کیے ہوئے بعض فرامین بھی ہو بھول چکا ہوں ۔ لہٰذا جو چیز میں تمہیں بیان کرد وں وہ قبول کر لو اور جو میں بیان نہ کر سکوں تو تم مجھے اس کا مکلّف نہ بناؤ۔ پھر فرمایا: ایک دن رسول اللہﷺ پانی کے ایک مقام جسے خإ کہا جاتا ہے وہاں پر ہمیں خطبہ دینے کےلیے کھڑے ہوئے ۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ آپ نے ہمیں وعظ ونصیحت فرمائی۔ پھر فرمایا: "اما بعد! اے لوگو! بلاشبہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں ۔ قریب ہے کہ میرے پاس میرے رب کا قاصد آئے تو میں اس کی بات مان لوں اور بے شک میں تمہارے درمیان دو نہایت اہم اور قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں : ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے ۔ اس میں ہدایت اور نور ہے جس شخص نے اسے تھام لیا اور اس پر عمل پیرا رہا تو وہ ہدایت یافتہ ہوگا اور جس نے اسے ترک کر دیا اور اس پر عمل نہ کیا تو وہ گمراہ ہو جائے گا ۔ دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں ۔ میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈراتا ہوں ( ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور بدسلوکی سے بچنا ) آپ نے یہ بات تین بار فرمائی ۔" جناب حصین کہتےہیں: اے زید ! آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں سے نہیں؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں ، آپ کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں شامل ہیں ۔ لیکن آپ کے اہل بیت وہ لوگ ہین جن پر زکوٰۃ کا مال حرام کیا گیا ہے ۔ اس نے عرض کی: وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: وہ آل علی ، آل عقیل ، آل جعفر او رآل عباس ہیں۔ جناب حصین نے پوچھا : کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے؟ حضرت زید ؓ نے فرمایا: ہاں ۔

يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ الرَّبَابُ، ← جَرِيرٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2358

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2359

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَيَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ الْكِنَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قَالَ: فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الرَّجُلُ الْمُتَّكِئُ. فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ! فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدْ أَجَبْتُكَ". قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ مَسْأَلَتَكَ فَلَا تَأْخُذَنَّ فِي نَفْسِكَ عَلَيَّ. قَالَ: "سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ". قَالَ: أَنْشُدُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اللَّهُمَّ نَعَمْ". قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ: "اللَّهُمَّ نَعَمْ". قَالَ: فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمُهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اللَّهُمَّ نَعَمْ" قَالَ الرَّجُلُ: قَدْ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي [241 - أ] وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو سَعْدِ بْنِ الْحَكَمِ. أَلْفَاظُهُمْ قَرِيبَةٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، وَهَذَا حَدِيثُ ابْنُ وَهْبٍ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ. فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الصَّدَقَةَ الْمَفْرُوضَةَ غَيْرُ جَائِزٍ دَفْعَهَا إِلَى غَيْرِ الْمُسْلِمِينَ وَإِنْ كَانُوا فُقَرَاءَ أَوْ مَسَاكِينَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَيَقْسِمُهَا (1) عَلَى فُقَرَائِهِمْ، لَا عَلَى فُقَرَاءِ غَيْرِهِمْ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے جب ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر مسجد میں داخل ہوا ۔ اس نے اونٹ کو مسجد میں بٹھایا پھر اس کا گھٹنا رسی سے باندھ دیا پھر سوال کیا: تم میں سے محمد کون ہیں؟ جبکہ رسول اللہﷺ صحابہ کرام کے درمیان ٹیک لگا کر تشریف فرما تھے تو ہم نے اسے بتایا کہ محمد ﷺ یہ سرخ وسفید رنگ کے شخص ہیں جو ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا: "(کہو کیا کہنا چاہتے ہو) میں تمہاری بات سن رہا ہوں۔"اس شخص نے آپ سے عرض کی: بے شک میں آپ سے چند سوالات کروں گا اور سوال میں کچھ سختی ہوگی مگر آپ برا نہ منائیے گا ۔ آپ نے فرمایا: " تم جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو ۔ "اس نے کہا : میں آپ کو آپ کے رب اور آپ سے پہلے تمام لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں کیا آپ کو اللہ نے تمام لوگوں کا رسول بنایا ہے ؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جی ہاں "اس نے پوچھا : میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : "جی ہاں۔"اس نے پھر کہا: تو میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کر کے ہمارے فقراء میں تقسیم کر دیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "ہاں"تو اس شخص نے کہا : آپ جو دین لائے ہیں میں اس پر ایمان لاتا ہوں اور میں اپنے پیچھے اپنی قوم کا قاصد ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے ۔ میں سعد بن حکم کے خاندان سے ہوں ۔ یہ روایت جناب وہب کی ہے ۔ تمام راویوں کی روایات کے الفاظ قریب قریب ہیں ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس مسئلے کی دلیل ہے کہ زکوٰۃ کا مال کافروں کو دینا ہے اگرچہ وہ فقراء اور مساکین ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مالدار مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کر کے مسلمانوں ہی کے فقراء میں تقسیم کر نے کا حکم دیا ہے ۔ کافر فقراء کو دینے کا حکم نہیں دیا۔

اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2359

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2360

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَحَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَعِينُهُ فِي حَمَالَةٍ. فَقَالَ: "أَقِمْ عِنْدَنَا، فَإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا عَنْكَ، وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ فِيهَا. وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٌ يَحْمِلُ حَمَالَةً عَنْ قَوْمٍ فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ. وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ أَذَهَبَتْ بِمَالِهِ فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَشَهِدَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَوْ مِنْ ذِي الصَّلَاحِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَيُسْأَلُ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أو قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ -يَا قَبِيصَةُ- سُحْتًا". هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ.

حضرت قبیصہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آ پ تاوان کی ادائیگی میں میری مدد فرمائیں تو آپ نے فرمایا: "ہمارے پاس ٹھہرجاؤ یا تو ہم تمہارا سارا تاوان ادا کر دیں گے یا اس میں تمہارا تعاون کر یں گے اور خوب جان لو! مانگنا صرف تین قسم کے افراد کےلے جائز ہے ۔ ایک وہ شخص جو کسی قوم کا تاوان یا خون بہا اپنے ذمے لے لیتا ہے تو وہ اس میں مدد کا سوال کر سکتا ہے حتیٰ کہ وہ ادا ہوجائے تو مانگنا ترک کر دے ۔ دوسرا وہ شخص جس پر کوئی آفت آگئی ہو جس سے اس کا سار ا مال ضائع ہوگیا ہو تو وہ سوال کر سکتا ہے حتیٰ کہ وہ گزارنے کےلیے مال حاصل کر لے ۔ تیسرا وہ شخص جو فقر وفاقہ کا شکار ہوجائے اور اس کی قوم تین عقلمند یا قابل اعتماد شخص گواہی دیں کہ اسے فقرا وفاقہ کا سامنا ہے تو اس کےلیے مانگنا حلال ہے حتیٰ کہ گزران کےلیے مال حاصل کر لے پھر رک جائے اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے ۔ اے قبیصہ ، اس کے سوا مانگنے والا حرام ہی کھائے گا ۔" یہ روایت جناب الثقفی کی ہے ۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْتَعِينُهُ فِي حَمَالَةٍ. ← قَبِيصَةُ، ← کِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَحَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2360

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2361

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- قَالَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: حَدَّثَنِي هَارُونَ بْنُ رِئَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ. -هُوَ كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ- قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ جَالِسًا، فَأَتَاهُ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ يَسْأَلُونَهُ فِي نِكَاحِ صَاحِبِهِمْ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُمُ (1)، وَأَنْتَ سَيِّدُ قَوْمِكَ فَلِمَ [لَمْ] (2) تُعْطِهِمْ شَيْئًا؟ قَالَ: إِنَّهُمْ سَأَلُونِي فِي غَيْرِ حَقٍّ، لَوْ أَنَّ صَاحِبَهُمْ عَمَدَ إِلَى ذَكَرِهِ فَعَضَّهُ بِقَدٍّ حَتَّى يَيْبَسَ لَكَانَ خَيْرًا لَهُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ الَّتِي سَأَلُونِي. إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَا تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ: لِرَجُلٍ أَصَابَتْ مَالَهُ حَالِقَةٌ فَيَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سَوَادًا مِنْ مَعِيشَةٍ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ؛ وَرَجُلٌ حَمَلَ بَيْنَ قَوْمِهِ حَمَالَةً فَيَسْأَلُ حَتَّى يُؤَدِّيَ حَمَالَتَهُ ثُمَّ يُمْسِكُ عَنِ الْمَسْأَلَةِ؛ وَرَجُلٌ يُقْسِمُ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ بِاللَّهِ لَقَدْ حَلَّتْ لِفُلَانٍ الْمَسْأَلَةُ، فَمَا كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ سُحْتٌ لَا يَأْكُلُ إِلَّا سُحْتًا".

جناب ابوبکر کنانہ بن نعیم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت قبیصہ ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کی قوم کے لوگ ان کے پاس آئے اور انہوں نے اپنے ایک ساتھی کی شادی کےلیے تعاون کا سوال کیا تو انہوں نے ان لوگوں کو کچھ دینے سے انکار کر دیا تو میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں ، آپ نے ان کو کچھ مال کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ ان لوگوں نے مجھ سے ناحق مانگا ہے ۔ اگر ان کا ساتھی اپنی شرمگاہ کو مسل ڈالے حتیٰ کہ وہ خشک ہو جائے ( یعنی بے کار ہوجائے ) تو یہ اس کےلیے اس سوال سے بہتر ہے جو انہوں نے مجھ سے مانگا ہے ۔ بے شک میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : "بھیک مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کےلیے حلال ہے ۔ ایک وہ شخص جس کے مال کو کوئی مصیبت وآفت نے تباہ کر دیا تو وہ مانگ سکتا ہے حتی ٰ کہ گزارے کےلیے مال لے لے پھر بھیک مانگنے سے باز آجائے اور ایک وہ شخص جس نے اپنی قوم کے درمیان ( صلح کےلیے ) کوئی خون بہایا تاوان اپنے ذمے لے لیا تو وہ لوگوں سے تعاون کا سوال کر سکتا ہے حتیٰ کہ وہ پورا ہو جائے تو پھر مانگنے سے رک جائے اور تیسرا وہ شخص جس کی قوم کے تین عقل مند لوگ اللہ کی قسم اٹھا کر کہیں کہ فلاح شخص واقعی فقیر ومحتاج ہوگیا ہے ( تو وہ مانگ سکتا ہے ) ان کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگنے والا حرام ہی کھاتا ہے ۔"

أَبُو بَكْرٍ. -هُوَ كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ- ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2361

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2362

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، حَدَّثَنَا كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلَالِيِّ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ فِيهَا. فَقَالَ: "أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنِي الصَّدَقَةُ، فَآمُرُ لَكَ بِهَا". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ -أَوْ قَالَ: سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-؛ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ -أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ-؛ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الصَّدَقَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ. فَمَا سِوَى ذَلِكَ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا".

"حضرت قبیصہ بن مخارق الہلالی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک تاوان اپنے ذمے لیا تو میں رسول اللہﷺ سے اس میں تعاون کےلیے حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا:"اے قبیصہ! زکوٰۃ کا مال آنے تک ہمارے پاس ٹھہرے رہو۔ ( جب مال آئے گا ) تو میں تمہارے ساتھ تعاون کا حکم دے دوں گا ۔ "پھر رسول اللہﷺنے فرمایا:"بے شک زکوٰۃ کا مال صرف تین قسم کے افراد کےلے حلال ہے ۔ ایک وہ شخص جو کوئی تاوان اپنے ذمے لے لے تو اس کےلیے تعاون کا سوال کرنا حلال ہوجاتا ہے حتیٰ کہ بقدر گزارہ مال حاصل کر لے ۔ دوسرا وہ شخص جسے کوئی آفت پہنچے جس سے اس کا سارا مال ضائع ہوجائے تو اس کےلیے سوال کرنا حلال ہے حتیٰ کہ وہ بقدر ضرورت مال پالے ۔ تیسرا وہ شخص جسے فقرو فاقہ پہنچ جائے تو اس کےلیے زکوٰۃ کا مال حلال ہے حتیٰ کہ گزارے کےلیے مال حاصل کر لے ۔ اس کے علاوہ مانگنا اے قبیصہ حرام ہے، اور مانگنے والا حرام کھاتا ہے ۔"

تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ أَسْأَلُهُ فِيهَا. ← قبيصَة بن الْمخَارِق الْهِلَالِي، ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2362

chevron_left Previous
1…910111213
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals