Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2328

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ؛ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُوجَدُ فِي الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ أَوْ فِي الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟ قَالَ: "عَرِّفْهُ سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ؛ وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهِ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ؛ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، وَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ؛ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ مزینہ قبیلے کا ایک شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : آپ اس چیز کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو آباد راستے یا آباد بستی میں مل جائے ؟ آپ نے فرمایا: " ایک سال تک اس کا اعلان کرو، پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کرو وگرنہ تم اپنے استعمال میں لے آؤ۔ پھر اگر زندگی میں کبھی اس کا طالب آجائے تو اسے دے دو اور جو مال ویران راستے یا غیر آباد بستی میں ملے تو اس مال میں اور کان میں پانچواں حصہ زکوٰۃ ادا کرو۔"

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2328

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2329

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: -سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ.

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مزنی شخص کو سنا جبکہ وہ رسول اللہﷺ سے پوچھ رہا تھا ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَرِيرٌ ← يُونُسُ بْنُ مُوسَى، ← رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2329

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2330

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو بعض طعنہ زن کہنے لگے : ابن جمیل ، خالد بن ولید اور حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2330

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2331

حدثناه محمد بن يحيى و علي بن عبد الرحمن بن المغيرة المصري قالا حدثنا سعيد بن منصور حدثنا إسماعيل بن زكريا الأسدي عن الحجاج بن دينار : غير أن علي بن عبد الرحمن لم يقل : قبل أن تحل

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے بھیجا ۔ حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تو آپ سے عرض کی گئی : ابن جمیل ، خالد بن ولید اور حضر ت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے زکوٰۃ ادا نہیں کی۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابن جمیل تو صرف اس لیے ( زکوٰۃ ادا کرنا ) ناپسند کرتا ہے کہ وہ فقیر تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا اور خالد بن ولید پر تم ظلم کرتے ہو ( کہ اس سے زکوٰۃ طلب کرتے ہو) حالانکہ اس نے اپنی زر ہیں اور غلام اللہ کے راستے میں وقف کر رکھے ہیں جبکہ عباس ابوبکرؒ فرماتے ہیں : جناب ورقاء کی روایت میں ہے ۔ رہے عباس ؓ جو رسول اللہﷺ کے چچا ہیں تو ان کی زکوٰۃ دوگنا میرے ذمے ہے ۔ اور جناب موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں ہے : رہے عباس بن عبدالمطلب ؓ تو ان کی زکوٰۃ ان کےلےی ہے اور اس کی مثل مزید بھی ۔" جناب شعیب بن ابی حمزہ کی روایت میں ہے : رہے عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ کے چچا تو ان کی زکوٰۃ ان پر صدقہ پر صدقہ ہے اور اس کے ساتھ اتنی مقدار اور بھی صدقہ ہے ۔ چنانچہ جناب موسیٰ بن عقبہ کی یہ روایت : تو ان کی زکوٰۃ انہی کےلے ہے اور اس کی مثل اور بھی ۔ تو ممکن ہے اس کا معنی وہی ہو جو ورقاء کی روایت یں ہے کہ ان کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے جبکہ جناب شعیب بن ابی حمزہ کی یہ روایت کہ ان کی زکوٰۃ ان پر صدقہ ہے تو اس کا معنی بھی یہی ہوسکتا ہے کہ ان کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے ۔ جیسا کہ میں نے اپنی کتابوں میں متعدد جگہوں پر بیان کیا ہے کہ عرب کہتے ہیں :عَلَیْہِ(اس کے ذمے ہے ) یعنیلَہٌ( اس کےلیے ہے ) اور عرب لوگ کہتے ہیں:وَلَہُ( اس کےلیے ہے ) یعنی عَلَیْہ( اس کے ذمے ہے ) (یعنیعَلٰیاورلَہُایک دوسرے کے معنوں میں مستعمل ہیں) جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :(اُوْلٓئِکَ لَہُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَھُمْ سَوٓءُ الدَّارِ)(سورہ الرعد:۲۵)اس کے معنی ہے کہ ان پر لعنت ہے (لَھُمْکا معنی عَلَیْھِمْہے) یہ بات ناممکن ہے کہ نبی کریمﷺ حضرت عباسؓ کو ان کے مال میں واجب ہونے والی زکوٰۃ معاف کر دیں اور پھر دوبارہ واجب زکوٰۃ ان سے وصول نہ کریں ۔ حالانکہ حضرت عباس بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں جبن پر دیگر لوگوں کی زکوٰۃ حرام ہے تو پھر ان پر اپنی ہی زکوٰۃ استعمال کرنا کیسے حلال ہوسکتا ہے ؟ جبکہ نبی کریمﷺ بیان فرما چکے ہیں کہ تنگی اور خوشحالی میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے شخص کو قیامت کے دن پچاس سال والے دن میں طرح طرح کے عذاب ہوں گے ۔ یہ بات ہم اسی کتاب میں بیان کر چکے ہیں۔ لہٰذا نبی کریمﷺ کے بارے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے چچا جو کہ باپ کی طرح ہوتا ہے ، انہیں ان پر واجب زکوٰۃ معاف کر دیں گے حالانکہ وہ زکوٰۃ کے مستحقین کا حصہ ہے یا آپ کیسے ان کےلیے زکوٰۃ ادا نہ کرنا حلال قرار دں گے ۔ میرے خیال میں کوئی بھی عالم دین اس کا گمان بھی نہیں کر سکتا۔ اس لیے روایت کے صحیح الفاظ یہ ہوں گے کہ "زکوٰۃ ان کےلیے ہے "یا" ان کی زکوٰۃ دگنی میرے ذمے ہے" کا معنی یہ ہے کہ میں نے عباس سے دو سال کی پیشگی زکوٰۃ وصول کرلی تھی اس لیے اب جو زکوٰۃ لوگوں کے مالوں میں واجب قرار دی گئی ہے وہ عباس کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور دوسری بار بھی میرے ذمے ہے ۔ جیسا کہ حجاج بن دینار کی روایت میں ہے اگرچہ مجھے اس کی روایت میں تردد ہے ۔ وہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے رسول اللہﷺسے وقت سے پہلے زکوٰۃ ادا کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انہیں رخصت دے دی ۔"

إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا الْأَسَدِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن يحيى و علي بن عبد الرحمن بن المغيرة المصري

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2331

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2332

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْجَارُودِ بْنِ مِرْدَاسِ بْنِ هُرْمُزَانَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَالَ: "إِذَا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ قَضَيْنَا". فَلَمَّا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ، قَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: "أَعْطِ الرَّجُلَ بَكْرَهُ". فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ إِلَّا رَبَاعًا أَوْ صَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً". جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ

امام صاحب گزشتہ حدیث ایک اور سند سے بیان کی ہے لیکن اس میں علی بن عبالرحمان نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے : وقت سے پہلے ادا کرنے کی رخصت دی ۔

أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2332

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2332

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ (1): "فَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْبُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَجَازَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنْ يَحْتَسِبَ مَا قَدْ حَبَسَ مِنَ الْأَدْرَاعِ وَالْأَعْبُدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنَ الصَّدَقَةِ الَّتِي أَمَرَ بِقَبْضِهَا.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ہے :" رہا خالد تو تم خالد پر ( زکوٰۃ طلب کر کے ) ظلم کر رہے ہو حالانکہ اس نے اپنی تمام زرہیں اور غلام اللہ کی راہ میں وقف کر رکھے ہیں اور نبی کریمﷺ نے حضرت خالد ؓ کو اجازت دی تھی کہ وہ زرہیں اور غلام جو اللہ کی راہ میں وقف شدہ تھے انہیں اس زکوٰۃ میں شمار کر لیں جس کی وصولی کا آپ نے حکم دیا تھا ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2332

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2333

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ الْجَارُودِ بْنِ مِرْدَاسِ بْنِ هُرْمُزَانَ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا، فَقَالَ: "إِذَا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ قَضَيْنَا". فَلَمَّا جَاءَتِ الصَّدَقَةُ، قَالَ لِأَبِي رَافِعٍ: "أَعْطِ الرَّجُلَ بَكْرَهُ". فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ إِلَّا رَبَاعًا أَوْ صَاعِدًا، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "أَعْطِهِ فَإِنَّ خَيْرَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً". جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ

رسول اللہﷺ کے آزاد کر دہ غلام رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص سے جوان اونٹ قرض لیا اور فرمایا: "جب زکوٰۃ کا مال آئے گا تو ہم تمہیں ادا کر دیں گے ۔"پھر جب زکوٰۃ کا مال آیا تو آپ نے حضرت ابو رافع سے کہا: " اس آدمی کو جوان اونٹ دے دو۔"تو میں نے اونٹ دیکھے تو ان میں چار دانتوں والے یا اس سے زائد عمر کےاونٹ تھے ۔ میں نے یہ بات نبی کریمﷺ کو بتائی ( کہ مطلقبہ عمر کا اونٹ موجود نہیں سب اس سے بڑی عمر کے اونٹ ہیں ) تو آپ نے فرمایا: "اسے وہی دے دو کیونکہ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جو ان میں قرض کی ادائیگی کے لحاظ سے بہتر ہے ۔"

أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی النَّبِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2333

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2334

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ". قَالَ يَزِيدُ: -يَعْنِي- الْعُشَارَ. لَمْ يَنْسِبْ عَلِيٌّ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ، وَلَمْ يَقُلِ: الْجُهَنِيَّ.

حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئے سنا: "چونگی وصول کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"جناب یزید فرماتے ہیں: "صاحب مکس سے "(شہروں میں داخلے کا ) ٹیکس وصول کرنے والا مراد ہے ۔ "

"لَا يَدْخُلُ صَاحِبُ مَكْسٍ الْجَنَّةَ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شِمَاسَۃَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2334

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2335

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعَامِلُ [238 - أ] عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ".

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: "عدل وانصاف کے ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے والا ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی طرح ہے حتیٰ کہ وہ اپنے گھر لوٹ آئے۔"

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2335

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2336

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَة لَهُ، وَالْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا".

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "اس شخص کا ایمان درست نہیں جو امانت دار نہیں، اور زکوٰۃ کی وصولی میں ظلم وزیادتی کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2336

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2337

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَعَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ جَمِيعًا، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الْبَكْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ يَوْمٌ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "كَذَا وَكَذَا". قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ فَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا فَازْدَادَ صَاعًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟ " فَخَاضَ النَّاسُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ كَانَ رَجُلًا غَائِبًا عِنْدَ إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتَعَدَّي عَلَيْهِ الْحَقَّ، فَكَيْفَ يَصْنَعُ وَهُوَ غَائِبٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةِ لَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقَّ، فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ، فَقُتِلَ؛ فَهُوَ شَهِيدٌ".

حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں اس اثناء میں کہ رسول اللہﷺ ان کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس آپ کے کچھ صحابہ کرام بھی موجود تھے اور باہمی گفتگو کر رہے تھے جب ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر کھجوروں کی اتنی اتنی مقدار ہو تو ان میں کتنی زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا: "اتنی مقدار زکوٰۃ فرض ہے ۔"اس شخص نے کہا: بے شک فلاں عامل نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور اس نے مجھ سے اتنی زکوٰۃ وصول کی ہے اور ایک صاع زائد لے لیا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارا تحصیل دار تم پر اس سے بھی زیادہ ظلم کرے گا؟"پھر لوگ باتوں میں مشغول ہوگئے اور انہیں اس بات نے حیران وپریشان کر دیا کہ حتیٰ کہ ایک شخص نے عرض کی : اے اللہ کے رسولﷺ! اگر کوئی شخص ( بستی سے دور) اپنے اونٹوں ، جانوروں اور کھیتی کے پاس ہو اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دے پھر تحصیل دار اس پر ظلم کرے تو وہ کیا کرے جبکہ وہ آپ سے بہت دور رہتا ہو؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے بخوشی زکوٰۃ ادا کی اور اپنے مال میں سے کوئی چیز ( تحصیل دار سے ) غائب نہ کی ، اور نماز قائم کی ، پھر اس نے زکوٰۃ ادا کر دی اور تحصیل دار نے اس پر ظلم کیا تو اس نے اپنے ہتھیار اٹھا کر لڑائی لڑی اور مارا گیا تو وہ شہید ہے ۔"

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ: ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الْبَكْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَعَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ جَمِيعًا، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2337

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2338

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْبُوذٍ، رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، أَخْبَرَهُ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَتَحَدَّثَ عِنْدَهُمْ حَتَّى يَتَحَدَّثَ لِلْمَغْرِبِ. قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْرِعًا إِلَى الْمَغْرِبِ مَرَرْنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ: "أُفٍّ لَكَ، أُفٍّ لَكَ" (1). فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي فَاسْتَأْخَرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي، فَقَالَ: "مَا لَكَ؟ امْشِ". فَقُلْتُ: أَحْدَثْتَ حَدَثًا؟ قَالَ: "وَمَا لَكَ؟ " قُلْتُ: أَفَّفْتَ لِي. قَالَ: "لَا. وَلَكِنَّ هَذَا فُلَانٌ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلَانٍ، فَغَلَّ نَمِرَةً، فَدُرِّعَ عَلَى مِثْلِهَا مِنَ النَّارِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْغُلُولُ الَّذِي يَأْخُذُ مِنَ الْغَنِيمَةِ عَلَى مَعْنَى السَّرِقَةِ.

2337حضرت ابو رافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺجب عصر کی نماز ادا کر لیتے تو بنی عبالاشہل قبیلے میں تشریف لے جاتے اور ان کے پاس مغرب تک بات چیت کرتے ۔ حضرت ابو رافع ؓ بیان کرتے ہیں ۔ پھر اس دوران میں کہ نبی کریمﷺ نماز مغرب کےلیے جلدی جلدی آرہے تھے تو ہم بقیع کے پاس سے گزر ے تو آپ نے فرمایا: "تجھ پر افسوس گزرے اور میں پیچھے ہٹ گیا ۔ میں نے خیال کیا کہ آپ نے یہ کلمات میرے بارے میں فرمائے ہیں تو آپ نے فرمایا:"تمہیں کیا ہوا ہے؟ چلو ۔ " میں نے عرض کی : میرے دل میں ایک نئی بات آئی ہے ۔ آپ نے فرمایا:" تمہیں کیا ہوا ہے ؟ " میں نے عرض کی: آپ نے مجھے اف اف کہا ہے ۔ آپ نے فرمایا:"نہیں ، لیکن ( میں نے تو ) اس فلاں شخص پر افسوس کیا ہے ، میں نے اسے فلاں قبیلے کی زکوٰۃ وصول کرنے کےلیے بھیجا تھا تو اس اس نے ایک چادر خیانت کر لی تھی تو وہ جہنم کی آگ بن کر اس پر لپیٹ دی گئی ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : غلول کا معنی : غنیمت کے مال میں سے کوئی چیز چرا لینا۔

أَبِي رَافِعٍ ← الفضل بن عبيد الله ← مَنْبُوذٌ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2338

chevron_left Previous
1…789…22
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals