Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2316

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: -وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ-: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التمَرِ [قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ، ثُمَّ يُخَيِّرُ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ] أَمْ يَدْفَعُونَهُ الْيَهُودُ بِذَلِكَ. وَإِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ التمَرَةُ وَتُفَرَّقَ.

حضرت عائشہ ؓ خبیر ( کے باغات ) کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ حضرت ابن رواحہ ؓ کو کھجوروں کے پکتے ہی ( خبیر ) بھیجتے اور وہ کھجوریں کھائی جانے سے پہلے ان کی مقدار کا تخمینہ لگا لیتے۔ پھر وہ یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ اس تخمینے کے مطابق ( اپنا حصہ ) وصول کر لیں یا یہودی ( مسلمانوں کو ) اس اندازے کے مطابق ( ان کا حصہ) ادا کردیں اور بلاشبہ رسول اللہﷺ نے تخمینہ لگانے کا حکم اس لیے دیا تھا تاکہ کھجوریں کھانے اور انہیں تقسیم کرنے سے پہلے ان کی زکوٰۃ کا اندازہ معلوم ہوسکے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2316

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2317

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ: "تُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا".

حضرت عتاب بن اسید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے انگور کی زکوٰۃ کے متعلق فرمایا: " انگور کا تخمینہ لگایا جائے جیسا کہ کھجور کا تخمینہ لگایا جاتا ہے پھر اس کی زکوٰۃ کشمش سے وصول کر لی جائے جیسا کہ زیادہ تر کھجوروں کی زکوٰۃ خشک کھجوروں سے وصول کر لی جاتی ہے ۔"

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2317

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2318

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ عَتَّابَ بْنَ أَسِيدٍ أَنْ يَخْرُصَ الْعِنَبَ كَمَا يَخْرُصُ النَّخْلَ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ [زَبِيبًا] كَمَا تُؤَدَّى تَمْرًا، قَالَ: فَتِلْكَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّخْلِ وَالْعِنَبِ. حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَسْنَدَ هَذَا الْخَبَرَ جَمَاعَةٌ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ.

جناب سعید بن مسیّب ؒ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عتاب بن اسید ؓ کو حکم دیا کہ وہ کھجور کی طرح انگور کا بھی تخمینہ لگالیں پھر انگور کی زکوٰۃ کشمش سے ادا کردیں جیساکہ تازہ کھجوروں کی زکوٰۃ خشک کھجوروں سے ادا کی جاتی ہے ۔ فرماتے ہیں : کھجور اور انگور ( کی زکوٰۃ کی وصولی) میں رسول اللہﷺ کا طریقہ مبارک یہی تھا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2318

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2319

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ. دُونَ قَوْلِهِ: فَتِلْكَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّخْلِ وَالْعِنَبِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَبَّادٌ هُوَ لَقَبُهُ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ.

جناب سعید بن مسیّب عتاب بن اسید ؓ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں مگر اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: کھجوروں اور انگور میں رسول اللہﷺ کی سنت وطریقہ یہی ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں:(عباد بن اسحاق) کا نام عبدالرحمان ہے اور عبادان کا لقب ہے ۔

أَبُو بَكْرٍ: عَبَّادٌ هُوَ لَقَبُهُ، وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ. ← عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ. دُونَ قَوْلِهِ: فَتِلْكَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ السَّرِيِّ ← مُحَمَّدٍ ← عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2319

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2320

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَمُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ [236 - أ]، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا، وَدَعُوا، فَإِنْ لَمْ تَأْخُذُوا أَوْ تَدَعُوا الثُّلُثَ -شَكَّ شُعْبَةُ فِي الثُّلُثِ- فَدَعُوا الرُّبُعَ".

جناب عبالرحمٰن بن مسعود سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن ابی حثمہؓ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں تھے تو انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے : "جب تم تخمینہ لگا کر زکوٰۃ وصول کر و تو ( مالک کو) ایک تہائی معاف کر دو اور اگر تم ایک تہائی اسے نہ چھوڑ و تو ایک چوتھائی حصہ معاف کر دو۔"

أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أ]، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى وَمُحَمَّدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2320

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2321

حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبُعَ".

حضر ت سہل بن ابی حثمہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: " جب تم پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو ( اس کے مطابق زکوٰۃ ) وصول کر لو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اور اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی چھوڑ دیا کرو۔"

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2321

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2322

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مَنْجُوفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَخْبَطُهُ بِقَوَائِمِهَا وَتَطَؤُهُ عِقَافُهَا كُلَّمَا تَصَرَّمَ آخِرُهَا رُدَّ أَوَّلُهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْخَلَائِقِ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ وَأَكْثَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا تَصَرَّمَ أُخْرَاهَا كَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْخَلَائِقِ، ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا مِنْ نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا إِلَّا جِيءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْفَرَ مَا كَانَتْ وَأَكْثَرَ مَا كَانَتْ فَيُبْطَحُ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا كُلَّمَا تَصَرَّمَ آخِرُهَا كَرَّ عَلَيْهِ أَوَّلُهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْخَلَائِقِ ثُمَّ يُرَى سَبِيلَهُ. أَوْ سَبِيلُهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا أَدْرِي بِالرَّفْعِ أَوْ بِالنَّصْبِ.

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جو شخص بھی اونٹوں کا مالک ہواور تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو تو اسے قیامت کے دن ایک ہموار میدان میں اوندھے منہ لٹا دیاجائے گا پھر وہ اونٹ خوب موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے قدموں اور کھروں کے ساتھ روندیں گے ۔ جب آخری اونٹ روندتا ہوا گزر جائے گا تو پہلا دوبارہ واپس آجائے گا ( اسے یہ عذاب مسلسل ہوتا رہے گا ) حتیٰ کہ( اللہ تعالیٰ ) مخلوق کے درمیان فیصلہ فرما دیں گے پھر وہ اپنا راستہ ( جنت یا جہنم کی طر ف) دیکھ لے گا اور جو شخص بھی گایوں کامالک ہو اور تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن ان گایوں کو خوب فربہ حالت میں لایا جائے گا۔ پھر اس کو ایک وسیع میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا ۔ اور وہ گایاں اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گی اور اپنے کھروں تلے روندیں گی ۔ جب آخری گائے روند کر گزر جائے گی تو پہلی گائے لوٹ آئے گی ۔ یہاں تک مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا پھر وہ اپنا راستہ ( جنت یا جہنم کی طر ف) دیکھ لے گا ، اور جو شخص بھی بکریوں کا مالک ہو اور تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن ان بکریوں کو خوب فربہ حالت میں لایا جائے گا ۔ پھر اس شخص کو ایک وسیع میدان میں اوندھا لٹا دیا جائے گا اور وہ بکریاں اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی ۔ جب آخری بکری روند کر گزر جائے گی تو پہلی بکری لوٹ آئے گی ۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا پھر وہ اپنا راستہ ( جنت یا جہنم کی طرف ) دیکھ لے گا ۔"امام ابوبکر فرماتے ہیں کہ : مجھے معلوم نہیں کہ لفظ سبیل ( لام کی) پیش کے ساتھ ہے یا زبر کے ساتھ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسٍ، ← عَوْفٌ، ← رَوْحٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ مَنْجُوفٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2322

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2323

حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ (1)؛ أَنَّهُ مَرَّ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقِيلَ: هَذَا مِنْ أَكْثَرِ النَّاسِ مَالًا، فَدَعَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكِ، فَقَالَ: نَعَمْ. لِي مِائَةٌ حُمْرًا، وَلِي مِائَةٌ أُدْمًا وَلِي كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِيَّاكَ وَأَخْفَافَ الْإِبِلِ (1)، وَإِيَّاكَ وَأَظْلَافَ الْغَنَمِ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ لَهُ إِبِلٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا، -وَقَالَ (2) رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَنَجْدُهَا وَرِسْلُهَا- عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا، إِلَّا بَرَزَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ فَجَاءَتْهُ كَأَغَذِّ مَا يَكُونُ وَأَشَدِّهِ، مَا أَسْمَنَهُ أَوْ أَعْظَمَهُ -شَكَّ شُعْبَةُ- فَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا جَازَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيُرَى سَبِيلَهُ. وَمَا مِنْ عَبْدٍ يَكُونُ لَهُ غَنَمٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا فِي نَجْدَتِهَا وَرِسْلِهَا -قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَنَجْدَتُهَا وَرِسْلُهَا- عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا، [إِلَّا بَرَزَ لَهَا] بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَغَذِّ مَا يَكُونُ وَأَشَدِّهِ وَأَسْمَنِهِ وَأَعْظَمِهِ -شَكَّ شُعْبَةُ- فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا جَازَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيُرَى سَبِيلَهُ. وَمَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ بَقَرٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا وَنَجْدَتَهَا وَرِسْلَهَا، -وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَنَجْدُهَا وَرِسْلُهَا- عُسْرُهَا وَيُسْرُهَا، إِلَّا بَرَزَ لَهُ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَغَذِّ مَا يَكُونُ وَأَشَدِّهِ وَأَسْمَنِهِ -أَوْ أَعْظَمِهِ- شَكَّ شُعْبَةُ - فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا جَازَتْ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فَيُرَى سَبِيلَهُ". فَقَالَ لَهُ الْعَامِرِيُّ: وَمَا حَقُّ الْإِبِلِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: تُعْطِي [236 - ب] الْكَرِيمَةَ، وَتَمْنَحُ الْعَزِيزَةَ، وَتُفْقِرُ الظُّهْرَ، وَتُطْرِقُ الْفَحْلَ، وَتَسْقِي اللَّبَنَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ.

جناب ابوعمر الغدانی ؒ سے روایت ہے کہ بنی عامر کا ایک شخص ان کے پاس سے گزرا تو کہا گیا : یہ سب سے زیادہ مال دار شخص ہے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے اسے بلایا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں، میرے پاس سو بہترین سرخ اونٹ ہیں یا میرے پاس سو خاکستری اونٹ ہیں اور میرے پاس اتنی اتنی بکریاں ہیں ۔ اس پر حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا:خبردار ! اونٹوں کے پاؤں اور اور بکریوں کے کھروں ( تلے روندیں جانے ) سے بچنا ۔ بے ش میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "جس شخص کے پاس اونٹ ہوں اور وہ تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو انہیں ایک چٹیل میدان میں لایا جائے گا ۔ وہ خوب موٹے تازہ اور فربہ ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو اپنے قدموں تلے روندیں گے ۔ جب بھی آخری اونٹ گزر جائے گا تو پہلا اونٹ اس پر واپس آئے گا ۔ ( یہ عذاب مسلسل ) پچاس ہزار سال والے دن میں ہوتا رہے گا حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا تو یہ شخص بھی اپنا راستہ دیکھ لے گا ۔ اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں اور وہ تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:نَجُدَتِھَا وَرِسُلِھَا(تنگی اور خوشحالی میں) تو انہیں ایک ہموار میدان میں جمع کیا جائے گا وہ بہت زیادہ فربہ حالت میں آئیں گی تو اس شخص کو اپنے کھروں کے ساتھ روندیں گی اور سینگوں کے ساتھ ٹکریں ماریں گی ۔ جب بھی آخری بکری گزر جائے گی تو پہلی بکری اس پر لوٹ آئے گی۔ ( اسے یہ عذاب مسلسل ہوتا رہے گا) اس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے تو یہ شخص بھی اپنا راستہ ( جنت یا جہنم کی طر ف ) دیکھ لے گا ۔ اور جو شخص بھی گائیوں کا مالک ہو اور وہ تنگی اور خوشحالی میں ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو اور رسول اللہﷺ نے فرمایا: "نَجُدَتِھَا وَرِسُلِھَا" اس سے مرادتنگی اور خوشحالی ہے ، تو انہیں ایک بالکل ہموار میدان میں جمع کیا جائے گا وہ خوب موٹی تازی ،چاک چوبند اور فربہ حالت میں آئیں گی تو اسے اپنے قدموں تلے روندیں گی اور اسے اپنے سینگوں سے ٹکریں ماریں گی ۔ جب بھی آخری گائے گزر جائے گی تو پہلی گائے اس پر لوٹ آئے گی ۔ ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی ۔ یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا تو یہ شخص اپنا راستہ ( جنت یا جہنم ) کی طرف دیکھ لے گا ۔" تو بنی عامر کے شخص نے عرض کی: اے ابوہریرہؓ ! اونٹوں کا حق کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا: تو اپنی بہترین اونٹنی دے دے اور اپنی دودھ والی اونٹنی دودھ پینے کےلیے دے دے اور کسی ( ضرورت مند کو ) سواری کےلیے اونٹ دے دے ، جفتی کےلیے نر اونٹ دے دے اور ( غرباء کو ) دودھ پلا دے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں:یہ حدیث امام شعبہ سے صرف یزید بن ہارون ہی بیان کرتے ہیں ۔

أَبِي عُمَرَ الْغُدَانِيِّ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2323

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2324

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ- عَنْ رَبِيعَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ- عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَذَ مِنْ مَعَادِنِ الْقَبِيلَةِ الصَّدَقَةَ، وَأَنَّهُ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْعَقِيقَ أَجْمَعَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ قَالَ لِبِلَالٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُقْطِعْكَ لِتَحْجِزَهُ عَنِ النَّاسِ، لَمْ يُقْطِعْكَ إِلَّا لِتَعْمَلَ. قَالَ: فَقَطَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِلنَّاسِ الْعَقِيقَ.

جناب بلال بن حارث سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے قبیلہ مقام پر واقع معدنیات میں سے زکوٰۃ وصول کی اور آپ نے بلال بن حارث کےلیے پوری وادی عقیق الاٹ کی تھی ۔ پھر جب حضرت عمرؓ کا دور آیا تو انہوں نے بلال سے کہا: بے شک رسول اللہﷺ نے تمہیں یہ علاقہ اس لیے الاٹ نہیں کیا تھا کہ تم لوگوں کو اس سے روکو بلکہ تمہیں یہ علاقہ صرف اس لیے دیا تھا کہ تم اس میں کام کرو ( اس میں سے معدنیات نکالو) پھر حضرت عمر ؓ نے وادی عقیق کا علاقہ تمام لوگوں کےلے الاٹ کر دیا ( کہ سب لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں)۔ "

أَبِيهِ ← الْحَارِثِ بْنِ بِلَالٍ، ← رَبِيعَةَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ- ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ- ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2324

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2325

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ-؛ ح وَحَدَّثَنَاهُ مَرَّةً، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ بَنِي شَبَابَةَ -بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ- كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَسَلٍ لَهُمُ الْعُشْرَ، مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةً، وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ. فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ فَأَبَوْا أَنْ يُؤَدُّوا إِلَيْهِ شَيْئًا، وَقَالُوا: إِنَّمَا ذَاكَ شَيْءٌ كُنَّا نُؤَدِّيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَكَتَبَ سُفْيَانُ إِلَى عُمَرَ بِذَلِكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِي اللَّهُ عَنْهُ -: إِنَّمَا النَّحْلُ ذُبَابُ غَيْثٍ يَسُوقُهُ اللَّهُ رِزْقًا إِلَى مَنْ يَشَاءُ، فَإِنْ أَدَّوا إِلَيْكَ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاحْمِ لَهُمْ وَادِيَيْهُمْ؛ وَإِلَّا فَخَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُمَا، فَأَدَّوْا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ.

حضرت عمر و بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ فہم قبیلے کی ایک شاخ بنی شبابہ کے لوگ رسول اللہﷺ کو اپنی شہدا کی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرتے تھے ۔ ہر دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ ادا کرتے تھے اور آپ نے انہیں دو وادیاں الاٹ کی ہوئی تھیں۔ پھر جب حضرت عمر بن خطابؓ کا دور حکومت آیا تو انہوں نے سفیان بن عبداللہ ثقفی کو ان کا امیر مقرر کیا تو انہوں نے سفیان کو زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم اس کی زکوٰۃ صرف رسول اللہﷺ ہی کو ادا کیا کرتے تھے تو جناب سفیان نےیہ بات حضرت عمرؓ کو لکھ کر بھیج دی تو حضرت عمرؓ نے انہیں خط لکھا کہ بے شک شہد کی مکھیاں تو بارش کی مکھیاں ہیں ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ رزق بنا کر جس کی طر ف چاہتا ہے چلاتا ہے ۔ لہٰذا اگر یہ لوگ تمہیں وہی زکوٰۃ ادا کریں جو وہ رسول اللہﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو تم انہیں ان کی دو وادیاں ٹھیکے پر دے دینا وگرنہ ان کے ساتھ دیگر لوگوں کو بھی اجازت دے دینا( کہ وہ ان دو وادیوں کی گھاس اور شہد سے مستفید ہوں) چنانچہ انہوں نے سفیان کو وہ مقدار ادا کردی جو وہ رسول اللہﷺ کو ادا کیا کرتے تھے اور سفیان نے ان کی دو وادیاں ان کو الاٹ کر دیں ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُرَّۃُ ← الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2325

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2326

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازُ الْخُمُسِ". غَيْرَ أَنَّ عَمْرًا لَمْ يَذْكُرِ الْمَعْدِنَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الدِّيَاتِ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: الْجُبَارُ: الْهَدْرُ. حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْجُبَارُ: الَّذِي لَا دِيَةَ لَهُ. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَحْكِي عَنِ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: الْجُبَارُ: الَّذِي لَا دِيَةَ لَهُ.

امام صاحب نے ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اگر یہ روایت صحیح ثابت ہو جائے تو اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ بنی شبابہ کے لوگ شہد کا دسواں حصہ بطور صدقہ کسی سبب کی بنا پر ادا کرتے تھے اس لیے نہیں کہ ان پر شہد کی زکوٰۃ واجب تھی بلکہ وہ نفلی طور پر یہ صدقہ ادا کرتے تھے کیونکہ انہیں خصوصی طور پر دو وادیاں ٹھیکے پر دی گئی تھیں۔ کیا آپ نے سفیان بن عبداللہ کے خلاف ان کی دلیل اور حضرت عمرؓ کے جوابی خط کو نہیں دیکھا کہ اگر وہ شہد کی اتنی ہی مقدار ادا کر دیں جو وہ رسول اللہﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو ٹھیک ہے وگرنہ ان کی خصوصی الاٹ منٹ ختم کر دی جائے اور عام لوگوں کو بھی ان دو وادیوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دے دی جائے او ر یہ بات ناممکن ہے کہ مالدار شخص اپنے مال کی واجب زکوٰۃ دینے سے صرف اس لیے انکار کر دے کہ اس کے جانوروں کےلیے چراگاہ مختص نہیں خی گئی اور امام وحکمران کےلیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ مخصوص لوگوں کے جانوروں کےلیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ مخصوص لوگوں کے جانوروں کےلیے چراگاہ مختص کرے تاکہ وہ اپنے جانوروں کی زکوٰۃ ادا کریں اور اگر وہ ان کےلیے چراگاہ مختص نہ کرے ( تو وہ زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے ) اور فاروق اللہ ان پر رحمت نازل کرے کو یہ بات معلوم تھی کہ بنی شبابہ نبی کریمﷺ کو اپنی زکوٰۃ کا عشر ادا کرتے تھے اور نبی کریمﷺ نے ان کےلیے دو وادیاں مختص کی ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے گورنر سفیان بن عبداللہ کو یہ حکم دیا کہ اگر وہ لوگ اپنے شہد میں سے اتنی مقدار ادا کردیں جو وہ رسول اللہﷺ کو ادا کیا کرتے تھے تو ان کےلیے دونوں وادیاں مخصوص رکھی جائیں وگرنہ عام لوگوں کو بھی ان سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی جائے اور اگر حضرت عمر فاروق اللہ ان پر رحمت نازل کرے کےنزدیک نبی کریمﷺ کا ان سے زکوٰۃ وصول کرنا واجب حکم ہوتا جیسے کہ دیگر اموال کی واجب زکوٰۃ ہے تو فاروق ؓ ان کے زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر خاموش نہ رہتے بلکہ وہ فرض زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر ان کے ساتھ جنگ کرتے کیونکہ ابوبکر صدیق اللہ ان پر رحمت نازل کرے نے صحابہ کرام کی معیت میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے ساتھ جنگ کی تھی اور ابوبکر ؓ نے یہ قسم اٹھائی تھی کہ اگر وہ ایک رسی جسے وہ رسول اللہﷺ کے دو رمیں ادا کرتے تھے ، اب ادا نہ کریں گے تو وہ ان کے ساتھ جنگ کریں گے اور فاروق ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی اس رائے میں موافقت کی تھی ۔ لہٰذا اگر حضرت عمرؓ کے نزدیک نبی کریمﷺ کا بنی شبابہ سے شہد کا دسواں حصہ بطور قرض زکوٰۃ وصول کرنا ہوتا تو ان لوگوں کا حکم حضرت عمر کے نزدیک وہی ہوتا جو حکم ان لوگوں کا تھا جنہوں نے نبی کریمﷺکی وفات کے بعد ابوبکرؓ کو زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا ۔ واللہ اعلم۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَابْنُ جُرَيْجٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2326

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2327

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازُ الْخُمُسِ". غَيْرَ أَنَّ عَمْرًا لَمْ يَذْكُرِ الْمَعْدِنَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ فِي كِتَابِ الدِّيَاتِ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: الْجُبَارُ: الْهَدْرُ. حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: الْجُبَارُ: الَّذِي لَا دِيَةَ لَهُ. سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَحْكِي عَنِ إِسْحَاقَ بْنِ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: الْجُبَارُ: الَّذِي لَا دِيَةَ لَهُ.

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جانور زخمی کر دے تو اس کا بدلہ نہیں ہے ، کنویں میں گر کر مر نے والے کا خون رائیگاں ہے اور معدن کی کھدائی میں دب کر مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور رکاز ( مدفون خزانے ) میں پانچواں حصہ زکوٰۃ ہے ۔" جناب عمرو نے معدن کا ذکر نہیں کیا ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : میں نے اس روایت کے تمام طرق کتاب الدیات میں بیان کیے ہیں ۔ جناب مکحول فرماتے ہیں : جبار کا معنی ھدرہے یعنی اس کے خون کا کوئی بدلہ نہیں ۔ امام ابن شہاب فرماتے ہیں : الجبار سے مراد ہے کہ اس کے قتل پر دیت نہیں ہوگی ۔ امام مالک نے بھی اس کا یہی معنی کیا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَعَنِ ابْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَابْنُ جُرَيْجٍ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2327

chevron_left Previous
1…678…22
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals