صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2292
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ عَبْدٍ لَهِ مَالٌ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا جُمِعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُحْمَى عَلَيْهِ صَفَائِحُ فِي جَهَنَّمَ وَكُوِيَ بِهَا جَنْبُهُ وَظَهْرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ، ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ. قَالَ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْخَيْلُ؟ قَالَ: "الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. وَالْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ: هِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ. فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ وَالَّذِي يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ، لَا يَغِيبُ فِي بُطُونِهَا شَيْئًا إِلَّا كَتَبَ لَهُ بِهَا أَجْرٌ [234 - أ] وَلَوْ عَرْضَ مَرْجًا أَوْ مَرْجَيْنِ فَرَعَاهَا صَاحِبُهَا فِيهِ كُتِبَ لَهُ بِمَّا غَيَّبَتْ فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ نَهَرٌ فَسَقَاهَا بِهِ كَانَتْ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ غُيِّبَتْ فِي بُطُونِهَا مِنْهُ أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا. وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا تَعَفُّفًا وَتَجَمُّلًا وَتَسَتُّرًا، وَلَا يَحْبِسُ حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي يُسْرِهَا وَعُسْرِهَا. وَأَمَّا الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا عَلَيْهِمْ". قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ: (فَمَنْ يَعْمَلْ (1) مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ (7) وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ) [الزلزلة: 7 - 8]).
حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن اس کا مال جمع کر کے ان کی تختیاں بنا کر جہنم کی آگ میں گرم کی جائیں گی اور ان کے ساتھ اس شخص کے پہلو اور اس کی پشت کو داغا جائے گا حتیٰ کہ تمہارے حساب کے مطابق پچاس ہزار سال والے دن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دیں ۔ پھر وہ جنت یا جہنم کی طرف اپنا راستہ دیکھے گا ۔"اور پھر اونٹوں اور بکریوں کے قصے کے متعلق مکمل حدیث بیان کی ۔ رسول اللہﷺ سے عرض کی گئی : اور گھوڑوں کی زکوٰۃ کے متعلق آپ کا حکم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "گھوڑوں کی پیشانی میں تاقیامت خیروبرکت بندھی ہوئی ہے اور گھوڑے تین قسم کے افراد کےلیے ہیں ۔ ایک شخص کےلیے یہ اجر کا باعث ہیں اور ایک شخص کےلیے ( پردہ پوشی) برابر برابر ہیں ( نہ ثواب نہ گناہ ) اور تیسرے شخص کےلیے یہ گناہ کا باعث ہیں ۔ جس شخص کےلیے یہ اجرو ثواب کا باعث ہیں وہ وہ شخص ہے جس نے انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کےلیے پالا اور اس کےلیے انہیں تیار رکھتا ہے ۔ ان کے پیٹ میں جو کچھ جاتا ہے وہ اس کےلیے اجر لکھا جاتا ہے اور اگر وہ اسے کسی چراگاہ یا دو سبزہ زاروں میں چراتا ہے تو جو کچھ ان کےپیٹ میں جائے گا اس کے بدلے ان کے مالک کو اجر ملے گا اور اگر وہ ایک یا دو زقند بھرتا ہے تو مالک کو اس کے ہر قدم پر اجر ملے گا۔ اور اگر اس نے کسی نہر سے اسے پانی پلایا تو گھوڑے کے پیٹ میں جانے والے ہر قطرے کے بدلے اسے اجر ملے گا ۔ حتیٰ کہ آپ نے ان کی لید اور پیشابوں میں بھی اجر کا ذکر کیا۔ اور وہ گھوڑا جو اس کےلیے برابر برابر ہے تو وہ وہ ہے جسے وہ سوال کرنے سے بچنے کےلیے ، خوبصورتی اور اپنی پردہ پوشی کےلیے رکھتا ہے اور مالک تنگ دستی اور خوشحالی میں ان پر سواری کرنے اور ان کی خوراک کے حقوق کو نہیں روکتا اور وہ گھوڑا جو اس کےلیے گناہ کا باعث ہے تو وہ وہ جسے وہ اترانے ، فخر وغرور اور تکبر کے اظہار کےلیے پالتا ہے ۔" صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! گدھوں کے بارے میں میں کیا ارشاد ہے ؟ آپ نے فرمایا:" ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں فرمایا سوائے اس جامع اور منفرد آیت کریم کے ( فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْراً یَرَہْ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرّاًیَرَہُ)" جس شخص نے ذرہ بھر بھلائی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ بھی اسے دیکھ لے گا ۔"(سورۂ الزلزال:۶۔۷)
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← ابْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2292
