Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2280

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَّا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي (1) أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ، فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَقَالُوا: لَا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے میرے لیے یہ تحریر لکھوائی :بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِیہ زکوٰۃ کی فرضیت کے وہ احکام ہیں جو رسول اللہﷺ نے مسلمانوں پر واجب کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حکم دیا ہے پھر راویوں نے مکمل حدیث بیان کی ہے اور یہ الفاظ بھی روایت کیے: زکوٰۃ کے ڈر سے الگ الگ جانوروں کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے جانوروں کو الگ الگ کیا جائے اور دونوں شریک زکوٰۃ کی وصولی میں برابر برابر شریک ہوں گے ۔"

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَّا اسْتُخْلِفَ ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← بُنْدَارٌ، وَأَبُو مُوسَى، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2280

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2281

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ يَقُولُ: "أَيُّهَا النَّاسُ! مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلَّا شِدَّةً، وَلَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ، الْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ وَيُرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ. يُرُدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعْدِهِمْ، لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ. دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ، لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ". فَبِهَذَا الْإِسْنَادِ سَوَاءٌ (1). قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكْتُبُ عَنْكَ مَا سَمِعْتُ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قُلْتُ: فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا؟ قَالَ: "نَعَمْ. فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَقُولَ فِي ذَلِكَ إِلَّا حَقًّا".

حضرت عمر و بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو فتح مکہ والے سال فرماتے ہوئے سنا: "اے لوگو! باہمی تعاون وحمایت کے جو معاہدے جاہلیت میں ہوئے تھے تو اسلام ان کو مزید تقویت دے گا اور اب اسلام میں ( دوسروں پر ظلم وستم کرنے کے لیے ) باہمی حمایت ونصرت کے معاہدے نہیں ہوں گے ۔ تمام مسلمان کافروں کے مقابلے میں متحد ومتفق ہوں گے ۔ ایک ادنیٰ اور کمزور مسلمان بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور ان کا دور دراز کا مسلمان بھی ان کی دی ہوئی پناہ کی پاسداری کر ے گا ( یا ان کے آگے جانے والا لشکر پچھلے مجاہدین کو غنیمت میں شریک کرے گا ) اور ان کے حملہ آور مجاہدین ( معسکر میں) بیٹھنے والوں کو غنیمت میں شریک کریں گے ۔ مؤمن شخص کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا ۔ کافر کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہے ۔ زکوٰۃ کےلیے جانور اکٹھے کر کے تحصیل دار کے ٹھکانے پر نہیں لائے جائیں گے اور نہ ان کا ٹھکانوں سے دور لے جایا جائے گا اور جانوروں کی زکوٰۃ مالکوں کے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے گی ۔ "اسی سند سے روایت ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں : "میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! میں آپ کے فرامین لکھ لیا کروں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کی: آپ کے غصے اور خوشی دونوں حالتوں میں؟ آپ نے فرمایا: " ہاں کیونکہ میرے لائق نہیں کہ میں دین کے بارے میں حق کے سوا کچھ کہوں ۔"

النَّبِيَّ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2281

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2282

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُ: "بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ. فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ [233 - أ] وَقَالُوا فِي الْحَدِيثِ: مِنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِذَا اسْتَيْسَرَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. قَالَ بُنْدَارٌ: وَيَجْعَلُ مَكَانَهَا شَاتَيْنِ. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ، وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ. وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَيُعْطَى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيُعْطِيهِ مَعَهَا الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ (1) مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطَى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں یہ تحریر لکھوائی :بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِیہ زکوٰۃ کے وہ فرض احکام ہیں جنہیں رسول اللہﷺ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حکم دیا ہے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں :"جس شخص کی زکوٰۃ جذعہ (چار سالہ اونٹ ) ہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو اور اس کے پاس حقہ ہو ( تین سالہ اونٹ ) تو اس شخص سے یہ تین سالہ اونٹ قبول کر لیا جائے اور ساتھ دو بکریاں لے لی جائیں اگر وہ میسر ہوں ، وگرنہ بیس درہم وصول کر لیے جائیں ۔ جناب بندار کی روایت ہے: "اس کمی کی جگہ دو بکریاں لی جائیں گی۔""اور جس کی زکوٰۃ ایک حقہ ہو اور اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ موجود ہو تو اس سے جذعہ لے لیا جائے گا اور تحصیل دار اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ حقہ ( تین سالہ اونٹ) ہو اور اس کے پاس بنت لبون (دو سالہ اونٹنی) ہو تو اس سے دو سالہ اونٹنی قبول کر لی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم ادا کرے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ بنت لبون ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لے کر تحصیل دار اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کر دے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ ایک بنت لبون ہو مگر وہ اس کے پاس موجود نہ ہو اور اس کے پاس بنت مخاض ( ایک سالہ اونٹنی ) ہو تو اس سے یہی قبول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں دے گا اور جس شخص کی زکوٰۃ بنت مخاض ( ایک سالہ اونٹنی ) ہو لیکن اس کے پاس یہ موجود نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون ( دو سالہ اونٹنی ) ہو تو اس سے یہی قبول کر لی جائے گی اور تحصیل دار اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا اور جس شخص کے پاس بنت مخاض ( ایک سالہ اونٹنی) نہ ہو اور اس کے پاس ان لبون ( دو سالہ اونٹ) موجود ہو تو اس سے وہ قبول کر لیا جائے گا اور ساتھ کوئی چیز ادا نہیں کی جائے گی۔"

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ← ثُمَامَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2282

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2283

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ: بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ بِإِبِلٍ كَأَنَّهَا عُذُوقُ الْأَرْطَأِ، فَقَالَ: "مَنِ الرَّجُلِ؟ " فَقُلْتُ: عِكْرَاشُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: "ارْفَعْ فِي النَّسَبِ" قُلْتُ: ابْنُ حَرْقُوصِ بْنِ خَوْرَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ النَّزَّالِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ. وَهَذِهِ صَدَقَاتُ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ. قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: "هَذِهِ إِبِلُ قَوْمِي، هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِي" ثُمَّ أَمَرَ بِهَا أَنْ تُوسَمَ بِمَيْسَمِ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، وَتُضَمَّ إِلَيْهَا، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"جناب عکراش بن ذؤیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے مجھے اپنے مال کی زکوٰۃ دے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھیجا تو میں مدینہ منورہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا ۔ میں نے آپ کو مہاجرین اور انصاری صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما پایا۔ میں آپ کے پاس ایسے اونٹ لایا تھا گویا کہ وہ ارطی درخت کے سرخ سرخ پھل ( یا جڑیں ) ہوں ۔ آپ نے پوچھا :"تم کون ہو ؟"میں نے عرض کیا: عکراش بن ذؤیب ۔ آپ نے فرمایا:"اپنا اعلیٰ نسب بیان کرو ۔" میں نے کہا: ابن حرقوس ابن خورہ بن عمرو بن النزال بن مرہ بن عبید اور یہ بنی مرہ بن عبید کی زکوٰۃ ہے تو رسول اللہﷺ مسکرائے ، پھر فرمایا:"یہ میری قوم کے اونٹ ہیں ۔ یہ میری قوم کی زکوٰۃ ہے ۔ " پھر آپ نے حکم دیا کہ ان اونٹوں کو زکوٰۃ کے اونٹوں والی نشانی لگا دو اور زکوٰۃ کے اونٹوں میں شامل کر دو ، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر کی طر ف تشریف لے گئے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی ۔"

أَبِيه عكراش بن ذُؤَيْب، ← عبيد الله بن عكراش، ← الْعَلَاءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2283

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2284

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: حِينَ وَلَدَتْ أُمِّي انْطَلَقْتُ بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُحَنِّكَهُ؛ فَإِذَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مِرْبَدٍ لَهُ (1) يَسِمُ غَنَمًا. قَالَ شُعْبَةُ: أَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ جب میری والدہ نے بچے کو جنم دیا تو میں بچے کو لے کر نبی کریمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تاکہ آپ کھجور چبا کر اس کے تالو کو لگائیں ۔ اس وقت نبی کریمﷺ اونٹوں کے باڑے میں بکریوں کو نشان لگا رہے تھے۔ امام شعبہ کہتے ہیں ۔ میرے خیال میں جناب ہشام نے یہ کہا تھا کہ آپ بکریوں کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2284

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2285

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَأَدُّوا زَكَاةَ الْأَمْوَالِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا"، قَالَ، وَقَالَ عَلِيٌّ: "فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا، وَفِي كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا نِصْفُ دِينَارٍ".

حضرت علی ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "میں نے تمہیں گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ معاف کر دی ہے ، لہٰذا تم اپنے مالوں میں سے ہر چالیس درہم پر ایک درہم زکوٰۃ ادا کرو ۔ " حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : "ہر چالیس دینار میں ایک دینار اور ہر بیس دینار میں نصف دینا زکوۃ ہے ۔"

وَقَالَ عَلِيٌّ: "فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا، وَفِي كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا نِصْفُ دِينَارٍ". ← الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، فَأَدُّوا زَكَاةَ الْأَمْوَالِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا"، ← "قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ ← النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2285

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2286

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، -أَوَّلًا- عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ".

حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ "مسلمان شخص کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ". ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مَكْحُولٌ ← أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، -أَوَّلًا- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2286

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2287

ثُمَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ".

حضرت ابوہریرہؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ " مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ". ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عبد الله بن دينار ← ثُمَّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2287

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2288

ثُمَّ حَدَّثَنَا آخِرُهُمْ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ -وَلَمْ يَرْفَعْهُ يَزِيدُ- قَالَ: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ".

حضرت ابوہریرۃؓ بیان کرتے ہیں کہ "مسلمان آدمی کے گھوڑے اور غلام زکوٰۃ نہیں ہے ۔"

"لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ ولا عبده صدقة" ← أَبَا هُرَيْرَةَ -وَلَمْ يَرْفَعْهُ يَزِيدُ- ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← آخِرُهُمْ يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← ثُمَّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2288

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2289

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ، وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ".

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "مسلمان شخص پر اس کے غلام اور گھوڑے میں کوئی صدقہ واجب نہیں ہے سوائے صدقہ فطر کے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2289

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2290

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنا عَمِّي، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ".

حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: "غلام میں سوائے صدقہ فطر کے کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔"

"لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ". ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةَ، ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2290

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2291

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا، خَيْلًا وَرَقِيقًا، نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورًا. فَقَالَ: مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِيهِمْ عَلِيٌّ. فَقَالَ عَلِيٌّ: هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ تَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا رَاتِبَةً. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَسُنَّةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَنْ لَيْسَ فِي أَرْبَعٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَقَوْلُهُ فِي الْغَنَمِ: فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ (1) شَاةً شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ صَاحِبَ الْمَالِ إِنْ أَعْطَى صَدَقَةً مِنْ مَالِهِ وَإِنْ كَانَتِ الصَّدَقَةُ غَيْرَ وَاجِبَةٍ فِي مَالِهِ فَجَائِزٌ لِلْإِمَامِ أَخْذُهَا إِذَا طَابَتْ نَفْسُ الْمُعْطِي. وَكَذَلِكَ الْفَارُوقُ لَمَّا أَعْلَمَ الْقَوْمَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالصِّدِّيقَ قَبْلَهُ لَمْ يَأْخُذَا صَدَقَةَ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَطَابَتْ أَنْفُسُهُمْ بِإِعْطَاءِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ مُتَطَوِّعِينَ جَازَ لِلْفَارُوقُ أَخْذَ الصَّدَقَةِ مِنْهُمْ، كَمَا أَبَاحَ الْمُصْطَفَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْذَ الصَّدَقَةِ مِمَّا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ، وَدُونَ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ، وَدُونَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ مِنَ الْوَرِقِ.

جناب حارثہ بن مضر ب بیان کرتے ہیں کہ کچھ شامی لوگ حضرت عمر ؓ کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کی : بے شک ہمارے پاس گھوڑے اور غلام موجود ہیں اور ہم پسند کرتے ہیں کہ ہمارے ان اموال میں زکوٰۃ وصول کی جائے ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا: یہ کام مجھ سے پہلے میرے دونوں ساتھیوں نے نہیں کیا تو میں کیسے کروں؟ پھر انہوں نے نبی مکرم کے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ ان میں حضرت علیؓ بھی تھے تو حضرت علیؓ نے فرمایا: "یہ بڑی اچھی بات ہے بشرطیکہ یہ مسلسل وصول ہونے والا جزیہ نہ بن جائے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں کہ سنت نبوی یہ ہے کہ چار اونٹوں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے الّا یہ کہ ان کا مالک خود اپنی خوشی سے ادا کرنا چاہے تو لے لی جائے گی۔ بکریوں کے بارے میں آپ کا ارشاد گرامی ہے :"جب کسی شخص کی چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو اس میں زکوٰۃ نہیں ہے الّا یہ کہ ان کا مالک اپنی مرضی سے ادا کرنا چاہے اور چاندی مین چالیسواں حصہ زکوٰۃ ہے ۔ پھر اگر چاندی صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں زکوٰۃ نہیں ۃے مگر یہ کہ اس کا مالک بخوشی ادا کرنا چاہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب صاحب مال اپنے مال کی زکوٰۃ بخوشی ادا کرے جبکہ اس میں زکوٰۃ فرض نہ بنتی ہو تو امام ان کی زکوٰۃ وصول کر سکتا ہے ۔ اسی طرح جب حضرت عمر فاروق ؓ نے شامی لوگوں کو آگاہ کر دیا کہ ان سے پہلے نبی کریمﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوٰۃ وصول نہیں کی ۔ پھر انہوں نے اپنی خوشی سے ان کی نفلی زکوٰۃ ادا کرنی چاہی تو حضرت عمر فاروقؓ کے لیے ان کے مالوں کی زکوٰۃ وصول کرنا جائز ہوگیا ۔ جیسا کہ نبی مصطفیٰ ﷺ نے پانچ سے کم اونٹوں ، چالیس سے کم بکریوں اور دو سے درہم چاندی سے کم چاندی میں زکوٰۃ وصول کرنا جائز قرار دیا ہے ۔

عَلِيٌّ: هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ تَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا رَاتِبَةً. ← مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ. ← قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا، خَيْلًا وَرَقِيقًا، نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورًا. ← جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2291

chevron_left Previous
12345…22
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals