Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2256

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ جَامِعٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْد اللَّه، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ رَجُل لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا جُعِلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ طُوِّقَ فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّه: (سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) [آل عمران: 180].

حضرت عبداللہ ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جو شخص بھی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن اس کےلیے ایک سانپ بنایا جائے گا جو قیامت والے دن اس کی گردن میں طوق بن جائے گا ۔ پھر نبی کریمﷺ نے اس کی تصدیق میں قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت کی۔(سَیْطُوَّقُوْنَ مَابَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)(آل عمران:۱۸۰)"جس مال میں انہوں نے کنجوسی کی ، قیامت کے دن اسی کے انہیں طوق پہنائے جائیں گے ۔"

النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← جَامِعٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2256

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2257

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ؛ ح، وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا أَسَدٌ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- أَخْبَرَنا عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الَّذِي لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ يُمَثَّلُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ لَهُ زَبِيبَتَانِ فَيَلْزَمُهُ أَوْ يُطَوَّقُهُ، يَقُولُ: أَنَا كَنْزُكُ". هَذَا حَدِيثُ أَحْمَد بْنِ سِنَانٍ. وَقَالَ لَهُ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَني عَبْد اللَّه بْنُ دِينَارٍ. وَقَالَ: فَيُطَوَّقُهُ أَوْ يَلْزَمُهُ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بے شک وہ شخص جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس کےلیے ( اس کا مال ) گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا جس کی آنکھوں پر دو سیاہ نقطے ہوں گے ۔ وہ اسے چمٹ جائے گا یا اس کی گردن کا طوق بن جائے گا اور کہے گا : "میں تمہارا خزانہ ہوں ۔"یہ روایت جناب احمد بن سنان کی ہے اور جناب زعفرانی انہیں کہتے ہیں : مجھے عبداللہ بن دینار نے بتایا کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا:"تو وہ اس کی گردن کا طوق بن جائے گا یا اس پر لپٹ جائے گا ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ← أَسَدٌ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى-، ← وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2257

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2258

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه: عَلَيَّ غَيْرهَا؟ قَالَ: "لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" وَفِي خَبَر أَبِي هُرَيْرَة: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. قَالَ فِي الْخَبَر: "وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ" فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْخَبَر: "مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُل مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا" قَدْ أَمْلَيْتُ هَذَيْنِ الْخَبَريْنِ فِيمَا مَضَى مِنَ الْكِتَابِ. وَفِي خَبَر أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ".

امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبیدا للہ کی روایت میں ہے : "کیا زکوٰۃ کے علاوہ مجھ پر کوئی صدقہ واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا: "نہیں ۔ مگر یہ کہ تم نفلی صدقہ کرو۔" اور حضرت ابوہریرہؓ کی روایت میں ہے:"ایک بدوی نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں اس پر عمل پیرا ہوجاؤں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ تو اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: "تم فرض زکوٰۃ ادا کرنا ۔"اور نبی کریمﷺ نے اس روایت میں فرمایا: "جس شخص کو کوئی جنتی شخص دیکھنا پسند ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔"میں یہ دوروایات کتاب کے گزشتہ صفحات میں لکھوا چکا ہوں اور حضرت ابوامامہ ؓ کی نبی کریمﷺ سے روایت میں یہ الفاظ ہیں: "نماز پنجگانہ ادا کرو۔ اور اپنے مہینے (رمضان المبارک ) کے روزے رکھو اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو ، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔"

فِي الْخَبَر: "وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ" ← دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ. ← "لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" وَفِي خَبَر أَبِي هُرَيْرَة: أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَبِيّ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّه: عَلَيَّ غَيْرهَا؟

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2258

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2259

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ جَرِيحٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ أَذَهَبْتَ عَنْكَ شَرَّهُ".

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی تو تم نے اس کی برائی اپنے سے دو ر کر دی۔"

"إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ أَذَهَبْتَ عَنْكَ شَرَّهُ". ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنُ الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2259

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2260

حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ؛ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ -وَهُوَ ابْنُ نَدِيَّةَ- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

"حضرت جریر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر رسول اللہﷺ کے دست مبارک پر بیعت کی ۔"

«بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ» ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ ← الْحَسَنُ بْنُ حَبِيبٍ -وَهُوَ ابْنُ نَدِيَّةَ- ← وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُعْتَمِرٌ؛ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو الْأَشْعَثِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2260

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2261

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ -وَهُوَ ابْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَخْرَمَةَ-: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلْنَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ جَاوَرْنَا بِهَا حِينَ جَاءَ النَّجَاشِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَكَانَ الَّذِي كَلَّمَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ لَهُ: أَيُّهَا الْمَلِكُ كُنَّا قَوْمًا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ، نَعْبُدُ الْأَصْنَامَ، وَنَأْكُلُ الْمَيْتَةَ، وَنَأْتِي الْفَوَاحِشَ، وَنَقْطَعُ الْأَرْحَامَ، وَنُسِيءُ الْجِوَارَ، وَيَأْكُلُ الْقَوِيُّ مِنَّا الضَّعِيفَ، فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ، حَتَّى بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْنَا رَسُولًا مِنَّا نَعْرِفُ نَسَبَهُ وَصِدْقَهُ وَأَمَانَتَهُ وَعَفَافَهُ، فَدَعَانَا إِلَى اللَّهِ لِتَوْحِيدِهِ، وَلِنَعْبُدَهُ، وَنَخْلَعَ مَا كُنَّا نَعْبُدُ نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِنْ دُونِهِ مِنَ الْحِجَارَةِ وَالْأَوْثَانِ، وَأَمَرَنَا بِصِدْقِ الْحَدِيثِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَصِلَةِ الرَّحِمِ، وَحُسْنِ الْجِوَارِ، وَالْكَفِّ عَنِ الْمَحَارِمِ وَالدِّمَاءِ، وَنَهَانَا عَنِ الْفَوَاحِشِ، وَقَوْلِ الزُّورِ، وَأَكْلِ مَالِ الْيَتِيمِ، وَقَذْفِ الْمُحْصَنَةِ، وَأَنْ [230 - أ] نَعْبُدَ اللَّهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّيَامِ، قَالَتْ: فَعَدَّدَ عَلَيْهِ أُمُورَ الْإِسْلَامِ، فَصَدَّقْنَاهُ، وَآمَنَّا بِهِ، وَاتَّبَعْنَاهُ عَلَى مَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَعَبَدْنَا اللَّهَ وَحْدَهُ وَلَمْ نُشْرِكْ بِهِ، وَحَرَّمْنَا مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا، وَأَحْلَلْنَا مَا أَحَلَّ لَنَا. ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَدَقَةِ الْمَوَاشِي مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ

"حضرت ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ ؓ بیان کرتی ہیں جب ہم ( ہجرت کر کے ) سر زمین حبشہ پہنچے تو ہم نے اس کے نواح میں رہائش اختیار کی ۔ جب نجاشی آیا ۔۔۔۔۔۔ پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ حدیث میں یہ الفاظ ہیں کہ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں : حضرت جعفر بن ابی طالب ؓ نے نجاشی سے گفتگو کی تھی۔ انہوں نے نجاشی سے کہا: اے بادشاہ ! ہم ایک جاہل قوم تھے ، ہم بتوں کی پوجا کرتے اور مردار کھاتے تھے ۔ بے حیائی کے کام کرتے تھے ، رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات توڑتے تھے ۔ ہمسائیوں پر ظلم کرتے تھے ، اور ہم میں سے طاقتور شخص کمزور کو کھا جاتا تھا ہم انہی حالات میں جی رہے تھے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس ایسا رسول بھیجا جس کا نسب نامہ ، اس کی صداقت وامانت اور پاکدامنی وعفت کو ہم خوب جانتے تھے تو اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی کہ ہم اسی کی عبادت کریں، اور ہم ان پتھروں اور بتوں کی پوجا ترک کردیں جن کی ہم اور ہمارے آبا ء واجداد پوجا کیا کرتے تھے ۔ اس نے ہمیں سچ بولنے ، امانت اد اکرنے ، صلہ رحمی کرنے ، ہمسائے سے نیک سلوک کرنے ، حرام خوری اور قتل وغارت سے رکنے کا حکم دیا اور اس نے ہمیں بے حیائی کے کاموں ، جھوٹی باتوں ، یتیم کا مال کھانے ، پاکدامن عورت پر جھوٹی تہمت لگانے سے منع کیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریںاور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور اس نے ہمیں نماز ، زکوٰۃ اور روزوں کا حکم دیا۔ حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں : تو حضرت جعفر ؓ نے نجاشی کو اسلامی تعلیمات و ہدایت بتائیں تو ہم نے ان کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لے آئے اور ہم نے ان تعلیمات میں ان کی اتباع کی جو وہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے لائے تھے ۔ لہٰذا ہم نے ایک اللہ کی عبادت کی اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنایا اور ہم نے ان چیزوں کو اپنے لیے حرام کر لیا جو ہم پر حرام کی گئی تھیں اور جو چیزیں حلال کی گئیں انہیں اپنے لیے حلال کر لیا۔"پھر باقی حدیث بیان کی۔

سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2261

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2262

بَابُ فَرْضِ صَدَقَةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرَادَ بِقَوْلِهِ: (خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً) [التوبة: 103] بَعْضَ الْأَمْوَالِ لَا كُلَّهَا، إِذِ اسْمُ الْمَالِ قَدْ يَقَعُ عَلَى مَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ وَعَلَى مَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے مجھے بحرین کا گورنر بنا کر بھیجا اور میرے لیے یہ تحریر لکھوائی ۔"بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم،یہ زکوٰۃ کی فرضیت کے وہ احکام ہیں جو رسول اللہﷺنے مسلمانوں پر فرض کیے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان کا حکم دیا ہے ۔ لہٰذا جس مسلمان سے ان احکام کے مطابق زکوٰۃ طلب کی جائے تو وہ ادا کردے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے تو وہ ادا نہ کرے ۔ چوبیس اونٹوں یا چوبیس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری زکوٰۃ فرض ہے ۔ پھر جب پچیس اونٹ ہوجائیں تو پینتیس اونٹوں تک ایک سالہ اونٹنی زکوٰۃ ہے لیکن اگر ان میں ایک سالہ اونٹنی موجود نہ تو دو سال کا مذکر اونٹ دے دینا چاہیے ۔ پھر جب اونٹنوں کی تعداد چھتیس سے پینتالیس ہوجائے تو ان میں دو سالہ اونٹنی فرض ہے اور جب اونٹ چھیالیس سے ساٹھ تک ہوجائیں تو ان مین تین سال کی اونٹنی فرض ہے جو ( نر اونٹ کے ساتھ) جفتی کے قابل ہوچکی ہو اور جب اکسٹھ اونٹ ہوجائیں پچھتر اونٹو ں تک چار سالہ اونٹنی زکوٰۃ فرض ہے ۔ پھر جب تعداد چھہتر ہوجائے تو نوے اونٹوں تک دو دو سالہ اونٹنیاں فرض ہیں ۔ پھر جب اکیانوے اونٹ ہوجائیں تو ایک سو بیس اونٹوں تک دو تین سالہ اونٹنیاں فرض ہیں جو نر کی جفتی کے قابل ہوں ۔ پھر جب ایک سو بیس اونٹوں سے تعداد زیادہ ہو جائے تو پھر ہ چالیس اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی زکوٰۃ ہے اور ہر پچاس اونٹوں میں ایک تین سالہ اونٹنی فرض ہے اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکوٰۃ فرض نہیں ہے الّا یہ کہ مالک اپنی خوشی سے کچھ ادا کر دے ۔ جب پانچ اونٹ ہوجائیں تو ان میں ایک بکری زکوٰۃ ہے اور باہر چرنے والی بکریوں میں چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک ایک بکری زکوٰۃ فرض ہے اور جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو دو سو تک دو بکریاں فرض ہیں اور جب دو سے بڑھ جائیں تو تین سو تک تین بکریاں فرض ہیں اور جب تین سوسے تعداد بڑھ جائے تو پھر ہر سو میں ایک بکری زکوٰۃ فرض ہے اور جب کسی شخص کی باہر چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہو تو اس میں زکوٰۃ ہے الّا یہ کہ مالک خود ادا کردے ۔"پھر مکمل حدیث بیان کی۔ یہ جناب بندا ر کی حدیث ہے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "جب اونٹنی بچہ پیدا کر لیتی ہے اور اس کی عمر مکمل ایک سال ہوجاتی ہے اور بچہ دوسرے سال میں داخل ہوجاتا ہے تو اگر وہ مذکر ہو تو اسے ابن مخاض کہا جاتا ہے اور اگر مؤنث ہو تو اسے بنت مخاض کہتے ہیں کیونکہ اونٹنی بچے کو جنم دینے کے بعد ایک سال تک اونٹ کے ساتھ جفتی کےلیے اس کے قریب نہیں جاتی ۔ پھر ایک سال مکمل ہونےپر وہ نر اونٹ کے پاس جفتی کےلیے جاتی ہے اور جب اونٹ اس کے ساتھ تعلق قائم کر لیتا ہے تو اسے مخاض شمار کیا جاتا ہے ۔ ایسی اونٹینوں کو جو حاملہ ہوتی ہیں اور کسی بچے کی ماں بھی ہوتی ہیں انہیں مواخض کہا جاتا ہے ۔ ماخض اس اونٹنی کو کہتےہیں جس کے پیٹ میں بچہ حرکت کرے ۔ لہٰذا اس اونٹنی کے ( پہلے ) بچے کو ابن مخاض کہتے ہیں اور بچی کو بنت مخاض کہتےہیں ۔ اس طرح اونٹنی دوسرا سال حاملہ رہتی ہے ۔ پھر وہ بچہ جنتی ہے تو اسے لبون اور اس کے بیٹے کو ابن لبون اور اس کی بیٹی کو بنت لبون کہا جاتا ہے ۔ جبکہ دو سال کا ہوچکا ہوتا اور وہ تیسرے سال میں داخل ہوجاتا ہے ۔ پھر جب وہ بچہ تیسرا سال مکمل کر کے چھوتھے سال میں داخل ہو جاتا ہے تو اسے حِقہ کہا جاتا ہے اور اسے حِقہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اگر وہ مؤنث ہو تو وہ اس عمر میں نر کے ساتھ جفتی اور بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجاتی ہے اور نر ہو تو وہ بھی سواری اور بار برداری کے قابل ہوجاتا ہے ۔ جبکہ اس عمر سے پہلے اس کی نسبت اس کی ماں کی طرف کی جاتی ہے ۔ لہٰذا جب اونٹ ایک سال کا ہوجائے اور دوسرے سال میں داخل ہوجائے تو اس کو ابن مخاض کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ماں مخاض کہلاتی ہے اور جب اس کی عمر دو سال ہو اور وہ تیسرے سال میں داخل ہو جائے تو اسے ابن لبون کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ماں دوسرا حمل جننے کے بعد لبون ہوتی ہے ۔ ( یعنی اس کے تھنوں میں دودھ اتر آتا ہے)اور اسے حقہ مذکورہ بالا علت کی وجہ سے کہا جاتا ہے یعنی وہ بوجھ وغیرہ اٹھانے کے قابل ہوجاتا ہے اور جب وہ مکمل چار سال کا ہو جاتا ہے اور پانچویں سال میں داخل ہو جاتا ہے تو اسے جَذَعَۃ کہتے ہیں ۔ پھر جب اس کی عمر مکمل پانچ سال ہوجائے اور چھٹے سال میں داخل ہو جائے تو اسے ثَنِیُّکہا جاتا ہے ۔ اور جب چھٹا سال گزر جائے اور ساتویں سال میں داخل ہو جائے تو اسے رَبَاعکہتے ہیں اور مونث کو رَبَاعیہکہتے ہیں ۔ ساتویں سال میں اس کا نام یہی رہتا ہے ۔ پھر جب آٹھویں سال میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کے رباعی دانتوں کے بعد والے دانت گر جاتے ہیں اس وقت اسے سَدِیْسٌاورسُدُسٌکہا جاتا ہے ۔ اس عمر میں نر اور مادہ دونوں کا ایک ہی نام ہے ۔ آٹھواں سال مکمل ہونے تک اس کا یہی نام رہتا ہے ۔ پھر جب آٹھواں سال گزر جاتا ہے اور نواں سال شروع ہوتا ہے تو اس کے کچلی والے دانت نکل آتے ہیں ۔ اس وقت اسے بَازِلٌ(کچلی والا اونٹ) کہتے ہیں ۔ مؤنث کو بھی بازل ہی کہتے ہیں ۔ نویں سال کے گزرنے تک اسے بازل ہی کہتے ہیں اور جب دسویں سال میں داخل ہوجاتا ہے تو اسے مخلف کہتے ہیں مخلف کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ہوتا بلکہ اسے ایک سالہ بازل ، دو سالہ بازل یا ایک سالہ مخلف اور دو سالہمُخْلِفٌوغیرہ کہا جاتا ہے اور جب اونٹ بوڑھا ہوجائے تواسے عَوْدٌ کہا جاتا ہے اور مونث کو عَوْدَۃکہتے یں اور جب بالکل بوڑھا ہوجائے تو اسے قَحْرکہتے ہیں جبکہ مادہ کو ثَابٌاورشَارِفٌکہتے ہیں ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2262

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2263

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عَشْرٍ، فَإِذَا كَانَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى عِشْرِينَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. فَإِذَا كَثُرَتِ الْإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. وَلَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوْرَاءَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَيَعُدُّ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا. وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ أَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى الْمِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلَاثٌ إِلَى ثَلَاثِمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتِ الْغَنَمُ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا تُؤْخَذُ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَيَعُدُّ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا، وَلَا يَجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ".

"حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"پانچ سے کم اونٹوں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے اور جب پندرہ اونٹ ہوجائیں تو بیس اونٹ ہونے تک بکریاں زکوٰۃ ہے ۔ " پھر مکمل روایت بیان کی ۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں :"اور پانچ سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ نہیں ہے پھر جب پانچ اونٹ ہوجائیں تو دس ہونے تک ایک بکری زکوٰۃ ہے جب دس اونٹ ہوں تو ان میں دو بکریاں زکوٰۃ ہے حتی ٰ کہ تعداد پندرہ ہوجائے پھر جب پندرہ ہوجائیں گے تو پھر بیس ہونے تک تین بکریاں زکوٰۃ فرض ہے ۔"پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ "پھر جب اونٹ زیادہ ہوجائیں تو ہر پچاس اونٹوں میں ایک حقہ ( تین سالہ اونٹ ) زکوٰۃ ہے ۔ زکوٰۃ کی وصولی میں بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہیں کیا جائے گا الّا یہ کہ تحصیل دار چاہے تو وصول کر لے اور وہ چھوٹے بڑے تمام اونٹ شمار کرے گا اور چالیس سے کم بکریوں میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ پھر جب چالیس بکریاں ہوجائیں تو ایک سو بیس ہونے تک ایک بکری زکوٰۃ ہے اور جب ( اس تعداد سے) ایک بکری بھی زائد ہوجائے تو پھر دو سو ہونے تک دو بکریاں زکوٰۃ ہے ۔ پھر ایک بکری زائد ہوجائیں تو پھر ہر سو بکریوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے اور بوڑھی اور عیب دار بکری وصول نہیں کی جائے گی الّا یہ کہ وصول کنندہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے اور وہ چھوٹی بڑی تمام بکریاں شمار کرے گا اور زکوٰۃ کے ڈر سے اکٹھے جانور علیحدہ علیحدہ نہیں کیے جائیں گے اور نہ الگ الگ جانوروں کو یکجا کیا جائے گا۔"

عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2263

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2264

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ؛ ح حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَمَالِكٌ وَشُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ (1) أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ". مَعَانِي أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ. وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ. وَفِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ مِنَ الْغَنَمِ شَيْءٌ".

حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: " پانچ سے کم اونٹوں میں صدقہ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم اناج میں بھی صدقہ نہیں ہے ۔ "تمام راویوں کی احادیث کا معنی ایک ہی ہے اور یہ حدیث جناب محمد بن بشار کی ہے اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : چالیس سے کم بکریوں میں زکوٰۃ نہیں ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← سُفْيَانُ وَمَالِكٌ وَشُعْبَةُ، كُلُّ هَؤُلَاءِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ -هُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ- ← أَبُو مُوسَى، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ؛ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← وحدثنا أحمد بن عبدة ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ ← وحدثنا أحمد بن عبدة ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2264

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2265

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ، وَلَا بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا"، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ بِتَمَامِهِ.

امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :حضرت ابوذر ؓ کی نبی کریمﷺسے روایت میں ہے : "جو بھی اونٹوں کا مالک ، گائے اور بکریوں کا مالک زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔"میں یہ حدیث اس سے پہلے مکمل لکھوا چکا ہوں ۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2265

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2266

فِي خَبَرِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ:

"ابوبکر صدیقؓ کی حدیث میں ہے کہ چرنے والی بکریاں جب چالیس سے لے کر ایک سوبیس تک ہوں تو ان میں ایک بکری زکوٰۃ ہے ۔ یہ حدیث میں نے پہلے لکھوا دی ہے ۔"

فِي خَبَرِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ:

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2266

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2267

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزًا (1). وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ مِنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ. قَالَ الصَّنْعَانِيُّ: مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: وَمَنْ أَبَى فَإِنَّا آخِذُهَا وَشَطْرَ مَالِهِ، وَقَالَ: لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ مِنْ حِسَابِهَا.

"حضرت بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"باہر چرنے والے اونٹوں میں ہر چالیس اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی زکوٰۃ ہے ۔ حساب سے اونٹ الگ نہ کیے جائیں ۔ جس شخص نے اجرو ثواب کی نیت سے زکوٰۃ ادا کی تو اسے اس کا اجر ملے گا اور جس شخص نے زکوٰۃ روک لی تو ہم اس سے ( زبردستی ) وصول کر لیں گے اور اس کے آدھے اونٹ بھی ( بطور سزا) لے لیں گے ۔ یہ ہمارے رب کے فرائض میں سے ایک فرض ہے اور محمد ( ﷺ) کی آل کےلیے اس میں سے کچھ حلال نہیں ۔" صنعانی کہتے ہیں ہر چالیس میں ایک دو سالہ اونٹنی ہے ۔ اور جناب بندار کی روایت میں ہے "اور جس شخص نے انکار کیا تو میں اس سے ( زبردستی ) زکوٰۃ وصول کروں گا اور اس کا آدھا مال بھی ( بطور جرمانہ ) لے لوں گا اور فرمایا:اونٹوں کو حساب سے الگ نہ کیا جائے۔"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← جَدِّي، ← أَبِي ← بَهْزٌ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← بَهْزًا ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2267

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals