صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1809
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ تَلَا آيَةً، فَقَالَ رَجُلٌ -وَهُوَ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ- مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ؟ فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا السَّاعَةَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ! فَسَكَتَ الرَّجُلُ. ثُمَّ تَلَا آيَةً أُخْرَى، فَقَالَ الرَّجُلُ لِعَبْدِ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لِلرَّجُلِ: إِنَّكَ لَمْ تَجْمَعْ مَعَنَا. قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! قَالَ: فَذَهَبَ [إِلَى] النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صَدَقَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، صَدَقَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ".
"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے جب ایک آیت تلاوت کی تو ایک شخص جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کےپہلو میں بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا : یہ آیت کب اتری ہے ؟ کیونکہ میں نے تو یہ آیت ابھی ابھی سنی ہے ۔حضرت عبداللہﷺ نے کہا: سبحان اللہ۔ تو ہر شخص خاموش ہوگیا ۔ پھر آپ نے ایک اور آیت تلاوت کی تو اس شخص نے حضرت عبداللہ سے اسی طرح سوال کیا۔ تو حضرت عبداللہ نے پھر سبحان اللہ کہہ کر اسے خاموش کر ادیا ۔ پھر جب رسول اللہﷺ نے نماز مکمل کر لی تو حضرت ابن مسعود ؓ نے اس شخص سے کہا: تم نے ہمارے ساتھ جمعہ اد ا نہیں کیا۔"تو اس شخص نے حیرت سے سبحان اللہ کہا پھر وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارا واقعہ بتایا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابن ام عبد نے درست کہا ہے ۔ ابن ام عبد نے صیح کہا ہے ۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الْحَنَفِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1809
