صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1785
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا أَنَسٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ". ثُمَّ يَقُولُ: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ". وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَتْكُمُ السَّاعَةُ مَسّأَتْكُمْ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ. وَلَفْظُ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ مُخَالِفٌ لِهَذَا اللَّفْظِ.
"حضر ت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :" رسول اللہﷺ اپنے خطبے میں اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق حمد وثنا ء بیان کرتے تھے پھر فرماتے : "جسے اللہ راہ راست پر ڈال دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے ، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ یقیناً سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ( قرآن مجید ) ہے اور بہترین سیر ت و طریقہ محمد ﷺ کی سیرت وطریقہ ہے اور بدترین کام دین میں نئے کام ایجا د کرنا ہے ۔ اور نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں ( جانے کا سبب) ہوگی ۔" پھر آپ فرماتے " میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب بھیجے گئے ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ کے رخسار سر خ ہوجاتے آپ کی آواز بلند ہوجاتی اور آپ شدید غصے میں آجاتے ،گویا کہ آپ لشکر جرار سے ڈرنے والے ہوں ۔ صبح کو قیامت بر پا ہونے والی ہے ، رات کو قیامت آنے والی ہے ۔ "پھر آپ فرماتے :"جو شخص مال چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض یا بچے چھوڑ ے تو وہ میرے ذمے ہیں اور میں ان کی پرورش کروں گا اور میں مومنوں کا ولی اور دوست ہوں ۔ یہ ابن مبارک کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ اور انس بن عیاض کی حدیث کے الفاظ اس سے مختلف ہیں ۔"
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1785
