صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1773
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا أَبُو عَامِرٍ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- قَالَ: كَانَ النِّدَاءُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ، فَكَثُرَ النَّاسُ، فَأَمَرَ بِالنِّدَاءِ الثَّالِثِ عَلَى الزَّوْرَاءِ (1)، فَثَبَتَ حَتَّى السَّاعَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ "وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ" يُرِيدُ النِّدَاءَ الثَّانِيَ: الْإِقَامَةَ. وَالْأَذَانُ وَالْإِقَامَةُ يُقَالُ لَهُمَا: أَذَانَانِ، أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ" وَإِنَّمَا أَرَادَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. وَالْعَرَبُ قَدْ تُسَمِّي الشَّيْئَيْنِ بِاسْمِ الْوَاحِدِ إِذَا قَرَنَتْ بَيْنَهُمَا. قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ) [النساء: 11] وَقَالَ: (وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ) [النساء: 11] وَإِنَّمَا هُمَا أَبٌ وَأُمٌّ، فَسَمَّاهُمَا اللَّهُ أَبَوَيْنِ. وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ خَبَرُ عَائِشَةَ: كَانَ طَعَامُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَسْوَدَيْنِ، التَّمْرَ وَالْمَاءَ. وَإِنَّمَا السَّوَادُ لِلتَّمْرِ خَاصَّةً دُونَ الْمَاءِ، فَسَمَّتْهُمَا عَائِشَةُ الْأَسْوَدَيْنِ لَمَّا قَرَنَتْ بَيْنَهُمَا. وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ قِيلَ: سُنَّةُ الْعُمَرَيْنِ. وَإِنَّمَا أُرِيدَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، لَا كَمَا تَوَهَّمَ مَنْ ظَنَّ أَنَّهُ أُرِيدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ النِّدَاءَ الثَّانِيَ الْمُسَمَّى إِقَامَةً.
"حضرت سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جمعہ کے دن جس اذان کا ذکر کیا ہے وہ اس وقت دی جاتی تھی جب امام ( خطبہ جمعہ کےلیے ) تشریف لے آتا اور ( دوسری اذان یعنی اقامت ) نبی کریمﷺ ، حضرت ابوبکر اور عمرؓ کے عہد میں اس وقت کہی جاتی جب نماز کھڑی ہوتی ۔ حتیٰ کہ جب حضرت عثمان ؓ کا عہد آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے ، لہٰذا انہوں نے تیسری اذان زوراء مقام پر کہنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ وہ اذان آج تک باقی ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "حدیث کے ان الفاظ "اور جب نماز کھڑی ہوتی "سے مراد دوسری اذان یعنی اقامت مراد ہے ۔ اور اذان واقامت کو اذانان ( دو اذانیں ) کہا جاتا ہے ۔ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا آپ فرماتے ہیں :"ہر دو اذانوں کے درمیان ( نفل ) نماز ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کی مراد ہر اذان اور اقامت کے درمیان ہے ۔ اور عرب دو ملی ہوئی چیزوں کو ایک ہی نام دے دیتے ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَلَاِ بَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّھْھُمَا السُّدُسُ) "والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ۔ "اورارشاد باری تعالیٰ ہے (وَوَرِثَۃُ اَبَوَاہْ فَلأمِّہِ الثُّلُثُ) "اور اس کے وارث اس کے والدین ہوں تو اس کی والدہ کو تیسرا حصہ ملے گا ۔ "جبکہ والدین سے مراد ماں اور باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کےلیے "أبوین"(دو باپ ) کا لفظ بولا ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔ "رسول اللہو کے عہد میں ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی ۔" جبکہ سیاہ رنگ صرف کھجور کا ہوتا ہے پانی کا نہیں ۔ اس کے باوجود عائشہ ؓ نے دونوں کو اسودین ( دو سیاہ چیزیں) کا نام دیا ہے ۔ جبکہ ان دونوں کو ملا دیا گیا تھا۔ اسی قسم کی ایک مثال "سُنَّۃُ الْعُمَرَیْنِ" عمرین کا طریقہ اور سنت "اور اس سے مراد حضرت ابوبکر اور عمر کا طریقہ ہوتا ہے ، اور اس سے مراد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا طریقہ نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں کو اس سے غلط فہمی اور وہم ہوا ہے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ حدیث کے ان الفاظ "اور جب نما زکھڑی ہوتی " سے مراد دوسری اذان ہے جسے اقامت کہتے ہیں ۔ ( درج ذیل حدیث ہے ) ۔
السَّائِبِ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1773
