Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1754

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ [185 - أ] ثَنَا عَمِّي قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو -وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ- عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ [أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ] (2) حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ مِنَ الْعَوَالِي، فَيَأْتُونَ فِي الْعَبَاءِ، وَيُصِيبَهُمُ الْغُبَارُ وَالْعَرَقُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ الرِّيحُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنْسَانٌ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا".

"حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :"لوگ عوالی مقام سے اپنے گھروں سے جمعہ کےلیے آتے تھے ۔ وہ چوغے بہن کر آتے تھے ۔ ( راستے میں ) ان پر گردوغبار پڑتا اور انہیں پسینہ آجاتا تو ان کے جسموں سے بو نکلنے لگتی ۔ تو رسول اللہﷺ کے پاس ان میں اے ایک شخص آیا جبکہ آپ ﷺ میرے پاس تشریف فرما تھے ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اگر تم اپنے اس دن ( جمعہ ) کےلیے غسل کر لیا کرو تو بہت بہتر ہوگا۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Hadith 1754

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1755

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- عَنْ عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ- عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ، فَسَأَلَاهُ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَحْسَنُ وَأَطْهَرُ، وَسَأُخْبِرُكُمْ لِمَاذَا بَدَأَ الْغُسْلُ، كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُحْتَاجِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ، وَيَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ ضَيِّقًا (1) مُقَارِبَ السَّقْفِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ شَدِيدِ الْحَرِّ وَمِنْبَرُهُ قَصِيرٌ (2)، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَعَرِقَ النَّاسُ في الصُّوفِ، فَثَارَتْ أَرْوَاحُهُمْ رِيحَ الْعَرَقِ وَالصُّوفِ حَتَّى كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَطْيَبَ مَا يَجِدُ مِنْ طِيبِهِ أَوْ دُهْنِهِ".

"حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس دو عراقی شخص آئے اور انہوں نے آپ ؓ سے جمعہ کے دن غسل کرنے کے متعلق پوچھا ، کیا وہ واجب ہے ؟ تو حضرت ابن عباسؓ نے انہیں جواب دیا کہ جس شخص نے غسل کیا تو وہ زیادہ بہتر اور زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ۔ اور میں عنقریب تمہیں بتاؤں گا کہ ( جمعہ کے روز) غسل کرنے کا حکم کیسے شروع ہوا۔ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں لوگ ضرورت مند اور غریب تھے ۔ وہ اونی کپڑے پہنتے تھے اور اپنی کھجوروں کو اپنی کمر پر پانی اٹھا اٹھا کر سیراب کرتے تھے اور مسجد نبوی تنگ تھی اور چھت بھی بلند نہ تھی تو رسول اللہﷺ موسم گرم کے ایک شدید گرم دن میں جمعہ کے روز گھر سے تشریف گرما کے ایک شدید گرم دن میں جمعہ کے روز گھر سے تشریف لائے اور آپ ﷺ کا منبر بھی چھوٹا سا تھا، صرف تین سیڑھیاں تھیں ۔ آپ ﷺ نے لوگوں سے خطاب فرمایا تو لوگوں کو اونی لباس میں پسینہ آگیا ، تو اون اور پسینہ کی ملی جلی ان کی بو پھیل گئی ۔ حتیٰ کہ وہ ایک دوسرے کےلیے اذیت کا باعث بن گئے ۔ یہاں تک کہ ان کی بو رسول اللہﷺ تک بھی پہنچ گئی جبکہ آپ ﷺ منبر پر کھڑے تھے تو آپﷺ نے فرمایا:"اے لوگو! جب یہ دن ہو تو غسل کیا کرو اور تم میں کسی شخص کو جو اچھی خوشبو یا تیل مہیا ہو تو وہ اسے لگا لے ۔"

الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ. أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ، فَسَأَلَاهُ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ- ← سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Hadith 1755

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1756

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ يَعْقُوبُ: ثَنَا الْأَعْمَشُ، وَقَالَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جس شخص نے جمعہ کے دن وضو کیا اور خوب اچھا وضو کیا ، پھر جمعہ کےلیے آیا ( تو امام کے ) قریب ہو کر بیٹھا ، خاموش رہا اور اس نے بڑے غور سے خطبہ سنا تو اس کے اس جمعہ کے اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور جس شخص نے کنکریوں کو چھوا تو اس نےلغو کام کیا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← الْأَعْمَشُ، وَقَالَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: ← يَعْقُوبُ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ،

Hadith 1756

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1757

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ تَوَضَّأَ؛ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ؛ فَذَاكَ أَفْضَلُ".

"حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جس شخص نے وضو کیا تو وہ بہت اچھا اور عمدہ ہے ۔ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل واعلیٰ ہے ۔"

"مَنْ تَوَضَّأَ؛ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ؛ فَذَاكَ أَفْضَلُ". ← النَّبِيِّ ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِ،

Hadith 1757

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1758

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَابْنُ الضُّرَيْسِ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، وَقَالَ عَبْدَةُ: أَنْبَأَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ (1)، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: وَذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: "مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، فَدَنَا وَأَنْصَتَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا". لَمْ يَقُلْ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ: وَذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. وَقَالَ: مَنْ غَسَلَ بِالتَّخْفِيفِ. وَقَالَ ابْنُ الضُّرَيْسِ: كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ قَالَ فِي الْخَبَرِ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ فَمَعْنَاهُ: جَامَعَ، فَأَوْجَبَ الْغُسْلَ عَلَى زَوْجَتِهِ أَوْ أَمَتِهِ، وَاغْتَسَلَ. وَمَنْ قَالَ: غَسَلَ وَاغْتَسَلَ أَرَاد، غَسَلَ رَأْسَهُ وَاغْتَسَلَ فَغَسَلَ سَائِرَ الْجَسَدِ، كَخَبَرِ طَاوُوسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

"حضرت اوس بن اوس ؓ بیان کرتےہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا اور آپ نے جمعہ کا ذکر کیا:"جس شخص نے غسل کرایا اور خود غسل کیا اور صبح سویرے پہلے گھڑی میں ( جمعہ کےلیے ) آیا ۔ امام کے قریب ہو کر بیٹھا اور خاموش رہا اور اس نے کوئی لغو کام نہ کیا تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام اللیل کا اجر ملے گا۔" جناب محمد بن علاء کی رویات میں "اور جمعہ کا ذکر کیا"کے الفاظ نہیں ہیں اور ان کی روایت میں "غَسَلَ"( سر دھویا ) کے الفاظ ہیں ۔ لفظ غسل تشدید کے بغیر ہے ۔ جناب ابن الضریس کی روایت میں ہے :"اس کےلیے ہر قدم کے بدلے اجر لکھا جاتا ہے ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :"جس راوی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ"تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنی بیوی یا لونڈی پر غسل واجب کر دیا ، اور خود بھی غسل کیا ۔ اور جس کی روایت میں غَسَلَ وَاغْتَسَلَ(بغیر شد کے ) الفاظ ہیں تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنا سر دھویا اوراپنا سارا جسم بھی دھویا ۔ جیسا کہ طاؤس کی حضرت ابن عباسؓ سے مروی روایت میں ہے ۔"

اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← عَبْدَةُ ← حُسَيْنٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ وَابْنُ الضُّرَيْسِ: ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الضُّرَيْسِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Hadith 1758

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1759

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ طَاوُوسٍ الْيَمَانِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: زَعَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اغْتَسِلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْسِلُوا رُءُوسَكُمْ، وَإِنْ لَمْ تَكُونُوا جُنُبًا، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ فَلَا أَدْرِي، وَأَمَّا [185 - ب] الْغُسْلُ، فَنَعَمْ.

"جناب طاؤس الیمانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا: لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :"جمعہ کے دن نہایا کرو اور اپنے سر دھویا کرو ، اگرچہ تم جنبی نہ بھی ہو اور خوشبو لگایا کرو تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: "خوشبو کے بارے میں میں نہیں جانتا مگر غسل کے بارے میں ان کی بات ٹھیک ہے ۔"

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: زَعَمُوا ← طَاوُوسٍ الْيَمَانِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1759

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الغُسلِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1760

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ الْحِنَّاءِ أَبُو الْحُسَيْنِ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَأَنَا أَغْتَسِلُ. قَالَ: غُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ، فَأَعِدْ غُسْلًا آخَرَ. إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَمْ يَزَلْ طَاهِرًا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ هَارُونَ. جِمَاعُ أَبْوَابِ الطِّيبِ وَالتَّسَوُّكِ، وَاللُّبْسِ لِلْجُمُعَةِ

جناب عبداللہ بن ابی قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوقتادہ ؓ جمعہ کے دن میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں غسل کر رہا تھا۔ تو انہوں نے پوچھا : کیا جنابت کی وجہ سے غسل کر رہے ہو؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں! تو انہوں نے فرمایا: تو پھر ایک غسل اور کرو ۔ بے شک میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : "جس شخص نے جمعہ والے دن غسل کیا تو وہ اگلے جمعہ تک پاک صاف رہتا ہے ۔"اما م ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسے ہارون کے سوا کسی دوسرے راوی نے بیان نہیں کیا۔"

"مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَمْ يَزَلْ طَاهِرًا إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" ← رَسُولِ اللَّهِ ← فَأَعِدْ غُسْلًا آخَرَ. إِنِّي ← غُسْلُكَ هَذَا مِنْ جَنَابَةٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. ← أَغْتَسِلُ. ← دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو قَتَادَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ الْحِنَّاءِ أَبُو الْحُسَيْنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1760

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals