صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1701
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ وَخَبَرِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعَبِيدَ إِذَا كَانُوا أَقْرَأَ مِنَ الْأَحْرَارِ كَانُوا أَحَقَّ بِالْإِمَامَةِ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَسْتَثْنِ فِي الْخَبَرِ حُرًّا دُونَ مَمْلُوكٍ.
’’حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’جب تین افراد جمع ہو جائیں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کراۓ، اور ان میں امامت کا زیادہ حق دار ان میں سے بڑا قاری اور عالم دین ہے‘‘۔’’امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث میں اور قتادہ کی حضرت ابوسعید سے روایت اور حضرت اوس کی حضرت ابن مسعودؓ سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ غلام جب آزاد لوگوں سے زیادہ قرآن مجید جانتت ہوں تو وہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس روایت میں آزاد شخص کو غلام سے مستثنٰی قرار نہیں دیا۔(بلکہ سب کا حکم ایک ہی ہے)۔‘‘
أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ وَخَبَرِ قَتَادَةَ ← إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ. ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1701
