Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1701

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ وَخَبَرِ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعَبِيدَ إِذَا كَانُوا أَقْرَأَ مِنَ الْأَحْرَارِ كَانُوا أَحَقَّ بِالْإِمَامَةِ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَسْتَثْنِ فِي الْخَبَرِ حُرًّا دُونَ مَمْلُوكٍ.

’’حضرت ابو سعید خدری ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’جب تین افراد جمع ہو جائیں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کراۓ، اور ان میں امامت کا زیادہ حق دار ان میں سے بڑا قاری اور عالم دین ہے‘‘۔’’امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث میں اور قتادہ کی حضرت ابوسعید سے روایت اور حضرت اوس کی حضرت ابن مسعودؓ سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ غلام جب آزاد لوگوں سے زیادہ قرآن مجید جانتت ہوں تو وہ امامت کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس روایت میں آزاد شخص کو غلام سے مستثنٰی قرار نہیں دیا۔(بلکہ سب کا حکم ایک ہی ہے)۔‘‘

أَبِي سَعِيدٍ، وَخَبَرِ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ وَخَبَرِ قَتَادَةَ ← إِذَا اجْتَمَعَ ثَلاثَةٌ أَمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ أَقْرَؤُهُمْ. ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1701

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1702

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، نَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ.

’’حضرت حارثہ بن وہب خزاعی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منٰی ہیں دورکعات نماز باجماعت پڑھائی حالانکہ ہماری تعداد بھی بہت زیادہ تھی اور ہم خوب امن و امان کی حالت میں تھ(دشمن کا خوف بالکل نہ تھا)۔‘‘

صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ بِمِنًى أَكْثَرَ مَا كُنَّا وَآمَنَهُ رَكْعَتَيْنِ. ← حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1702

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1703

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- وَعُثْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ- قَالَا: ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ بِهَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى كُفِينَا، وَذَلِكَ قَوْلُهُ: (وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا) [الأحزاب: 25] فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرَ، كَأَحْسَنِ مَا كَانَ يُصَلِّيهَا، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ كَذَلِكَ، قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ صَلَاةُ الْخَوْفِ (فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا) [البقرة: 239]. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ إِمَامَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لَيْلَةَ نَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فِيمَا مَضَى مِنْ هَذَا الْكِتَابِ، وَهُوَ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا.

’’حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ ٔ خندق والے دن ہمیں نماز سے روک دیا گیاحتٰی کہ جب مغرب کے بعد رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو ہماری کفایت کی گئی جیساکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد :’’اور(اس) لڑائی میں اللہ مومنوں کو کافی ہو گیا اور اللہ طاقتور اور غلبے والا ہے۔‘‘چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو بلایا تو انہوں اقامت کہی اور رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر ادا فرمائی، اپنے بہترین طریقے کے مطابق جیسا کہ آپ ادا کیا کرتے تھے۔پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہ تو آپ نے اسی انداز سے عصر کی نماز اد کی،پھر انہوں نے اقامت پڑھی تو آُ ﷺ نے نماز مغرب بھی اسی طریقے سے اد کی۔پھر اقامت کہ تو آپ ﷺ نے اسی طرح نماز عشاء اد کی اور یہ واقعہ نماز خوف کے متعلق حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے یعنی ’’پیدل چلتے ہوئے یا سورا ہو کر نماز ادا کر لو۔‘‘ اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے۔امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں۔ ’’میں اسی کتاب کے گزشتہ اوراق میں نبی کریم ﷺ کی سورج طلوع ہونے کے بعد نماز فجر کی امامت کروانے کے بار میں روایت بیان کر چکا ہوں، جس رات(دورانِ سفر آپ سمیت) تمام صحابہ کرام طلوع آفتاب تک سوۓ رہ گئے تھے ۔ اس حدیث کا تعلق بھی اس باب سے بھی ہے۔‘‘

حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعْدٍ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- وَعُثْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1703

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1704

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّهُمْ، خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، قَالَ: فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

سفر میں دو نمازوں کو جمع کر کے با جماعت ادا کرنا

ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1704

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1705

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، نَا حَجَّاجُ [179 - ب] بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ مَعَ مُعَاوِيَةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ أُصَلِّي، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: "إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِذَلِكَ. وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَمَرَ بِذَلِكَ أَلَّا تُوصِلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ هَذَا ثِقَةٌ، وَالْآخَرُ هُوَ عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ تَكَلَّمَ أَصْحَابُنَا فِي حَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ، قَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْهُمَا جَمِيعًا.

’’جناب عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ مجھے نافع بن جبیر نے حضرت سائب بن یزید کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا۔میں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:’’ہاں میں نے حضرت معاویہ ؓ کے ساتھ محراب میں جمعہ ادا کیا جب انہوں نے سلام پھیر اتو میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھنی شروع کر دی، انہوں نے مجھے بلانے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔لہٰذا میں ان کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:’’جب تم نماز جمعہ پڑھ لو تو گفتگو کرنے یا وہاں سے نکلنے سے پہلے اس کے ساتھ کوئی دوسری نماز نہ ملاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات کا حکم دیا ہے۔جناب ابن رافع اور عبدالرحمان کی روایت میں الفاظ یہ ہیں:’’اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملایا جائے حتٰی کہ تم گفتگو لر کو یا وہاں سے نکل جاؤ۔امام ابوبکر فرماتے ہیں:’’عمر بن عطاء بن أبی الخوار ثقہ راوی ہے۔جبکہ دوسرے عمر بن عطاء کے بارے میں ہمارے اصحاب محدثین نے اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کی احادیث میں جرح کی ہے اور جناب ابن جریج نے ان دونوں سے روایات بیان کی ہیں۔‘‘

أَرْسَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَسْأَلُهُ، فَسَأَلْتُهُ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِیْدُ ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوار ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1705

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1706

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، نَا عَمْرٌو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالتَّكْبِيرِ.

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے اختتام کو اللہ اکبر کی آواز سے پہچانتا تھا۔‘‘

كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ بالتكبير2. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو مَعْبَدٍ، ← عَمْرٍو -وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ- ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1706

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1707

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ (1)، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يُنْصَرَفُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ.

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فرض نماز ہونے پر بلند آواز سے ذکر کرنا رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھا۔حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :’’جب لوگ نماز سے فارغ ہو کر بلند آواز سے ذکر کرتے تو میں اس سے (نماز کی تکمیل اور اختتام کو) پہچان لیتا۔‘‘

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ: ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1707

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1708

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَارَ أَحَدُنَا إِلَى أَخِيهِ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَفْعَلُ هَذَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟! إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ [أ] (2) أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَنْ يَقُولَ هَكَذَا -وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ- ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَنِ يَمِينِهِ، وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ.

’’حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم سے ایک شخص اپنی دائیں اور بائیں جانب(سلام پھیرتے وقت) اپنے بھائی کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا۔پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھا لی تو فرمایا:’’کیا بات ہے کہ تم میں سے ایک شخص اس طرح اشارہ کرتا ہے گویا کہ وہ سرکش گھوڑے کی دمیں ہوں؟ یقیناً تم میں سے کسی شخص کو صرف اتنا ہی کافی ہے، یا (کہا کہ) کیا تم میں سے کسی شخص کو اتنا کافی نہیں ہے کہ و ہ اس طرح کرے اور آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنی دائیں ران پر رکھا اور انگلی کے ساتھ اشارہ کیا پھر وہ اپنی دائیں اور بائیں جانب والے کو سلام کہے۔‘‘

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1708

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1709

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ عَقِلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَعَقِلَ مَجَّةً مَجَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ دَلْوٍ مِنْ بِئْرٍ كَانَتْ فِي دَارِهِمْ فِي وَجْهِهِ، فَزَعَمَ مَحْمُودٌ أَنَّهُ سَمِعَ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ -وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -- يَقُولُ: كُنْتُ أُصَلِّي لِقَوْمِي (1) بَنِي سَالِمٍ، فَكَانَ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ وَادٍ إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ. قَالَ: فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَجْتَازَهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مِنْ بَصَرِي، وَإِنَّ الْوَادِيَ الَّذِي يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ قَوْمِي يَسِيلُ إِذَا جَاءَتِ الْأَمْطَارُ، فَيَشُقُّ عَلَيَّ أَنْ أَجْتَازَهُ، فَوَدِدْتُ أَنَّكَ تَأْتِيَنِي، فَتُصَلِّي مِنْ بَيْتِي مُصَلًّى أَتَّخِذُهُ مُصَلًّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَأَفْعَلُ". فَغَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ بَعْدَ مَا امْتَدَّ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ: "أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ لَكَ فِي بَيْتِكَ؟ "، فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ [180 - أ] فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ.

’’امام ابن شہاب ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت محمود بن ربیع انصاری ؓ نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خوب یا درکھا ہے اور انہیں وہ کلی بھی یاد ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے گھر کے کنویں سے ڈول میں پانی لے کر ان کے منہ پر کی تھی۔لہٰذا حضرت محمود ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عتبان بن مالک انصاری ؓ کو فرماتے ہوۓ سنا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ بد میں شریک ہوۓ تھے۔’’میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھاتا تھا اور جب بارشیں نازل ہوتیں تو میرے اور میری قوم کے درمیان ایک وادی (سیلابی پانی کی وجہ سے)حائل ہوجاتی۔اس لیے میرے لیے بڑا مشکل ہو جاتا کہ میں اسے عبور کرکے ان کی مسجد میں پہنچتا۔اس لیے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی:’’بلاشبہ میری نظر کمزور ہو چکی ہے اور جب بارش آتی ہے تومیرے اور میری قوم کے درمیان وادی بہنے لگتی ہے اور میرے لیے اسے عبور کرنا مشکل ہو جاتا ہے لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ ﷺ تشریف لائیں اور میرے گھر میں میری نماز گاہ میں نماز ادا کریں جسے میں نماز گاہ بنا سکوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’عنقریب میں تمہاری خواہش پوری کر دوں گا۔‘‘چنانچہ اگلے دن سورج بلند ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ تشریف لاۓ۔پس رسول اللہﷺ نے (گھر میں داخلے کی) مجھ سے اجازت چاہی تو میں نے اجازت دے دی۔آپﷺ نے بیٹھے بغیر فرمایا:’’تم اپنے گھر میں کس جگہ پر مجھ سے نماز پڑھا نا پسند کرتے ہو؟ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں آپ ﷺ سے نماز پڑھانا پسند کرتا تھا۔اس پر رسول اللہﷺ کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہ تو ہم نے بھی آپﷺ کے پیچھے صف بندی کی۔لہٰذا آپ ﷺ نے دو رکعتیں ادا کیں، پھر سلام پھیر دیا اور ہم نے بھی آپﷺ کے سلام کے بعد سلام پھیر دیا۔‘‘

مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1709

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1710

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْبَصْرِيُّ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو بِشْرٍ صَاحِبُ اللُّؤْلُؤِ؛ ح ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَسْفَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ الْقَاسِمِ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَيْمَانِنَا وَأَنْ يَرُدَّ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. زَادَ إِبْرَاهِيمُ، قَالَ هَمَّامٌ: يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ.

’’حضرت سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنی دائیں جانب والوں کو سلام کریں اور ہم ایک دوسرے کے سلام کا جواب دیں۔‘‘جناب محمد بن یزید کی روایت میں ہے:’’ہم ایک دوسرے کو سلام کہیں۔‘‘جناب ابراہیم کی روایت میں اضافہ ہے:’’جناب ہمام کہتے ہیں:یعنی نماز میں(سلام پھیرتے وقت سلام کہیں)۔‘‘

هَمَّامٌ: يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ. ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. زَادَ إِبْرَاهِيمُ، ← أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَيْمَانِنَا وَأَنْ يَرُدَّ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَسْفَاطِيُّ الْبَصْرِيُّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو بِشْرٍ صَاحِبُ اللُّؤْلُؤِ؛ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1710

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1711

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَرُدَّ عَلَى أَئِمَّتِنَا السَّلَامَ، وَأَنْ نَتَحَابَّ، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: (وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا) [النساء: 86] وَفِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَلَى مَنْ عَنْ شِمَالِهِ، دِلَالَةً عَلَى أَنَّ الْإِمَامَ يُسَلِّمُ مِنَ الصَّلَاةِ عِنْدَ انْقِضَائِهَا عَلَى مَنْ عَنِ يَمِينِهِ مِنَ النَّاسِ إِذَا سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَلَى مَنْ عَنْ شِمَالِهِ إِذَا سَلَّمَ عَنْ شِمَالِهِ. وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَمَرَ بِرَدِّ السَّلَامِ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي قَوْلِهِ: (وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا)، فَوَاجِبٌ عَلَى الْمَأْمُومِ رَدُّ السَّلَامِ عَلَى الْإِمَامِ، إِذَا الْإِمَامُ سَلَّمَ عَلَى الْمَأْمُومِ عِنْدَ انْقِضَاءِ الصَّلَاةِ.

’’حضرت سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں:’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کے سلام کا جواب دیں، باہمی محبت والفت کریں اور ایک دوسرے کو سلام کریں۔‘‘امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:’’اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور جب تمہیں سلام کہا جاۓ تو تم اس سے اچھا جواب دو یا وہی لوٹا دو۔‘‘ اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ کی روایت میں ہے:’’پھر اپنی دائیں جانب والوں اور اپنی بائیں جانب والوں کو سلام کہے۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام جب نماز کے اختتام پر جب اپنی دائیں طرف سلام پھیرے گا تو اپنی بائیں جانب والے لوگوں کو سلام کہے گا اور جب اپنی دائیں جانب سلام پھیرے گا تو اپنی بائیں جانب والے لوگوں کو سلام کہے گا۔‘‘ اوراللہ تعالیٰ نے مسلمان شخص کے سلام کا جواب دینے کا حکم دیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اور جب تمہیں سلام کہاے جاۓ تو تم اس سے اچھا جواب دو ئا وہی لوٹا دو۔‘‘چنانچہ مقتدی کو امام کے سلام کو جواب دینا واجب ہے کیونکہ امام نے نماز کے اختتام پر سلام پھیرتے وقت مقتدیوں ہی کو سلام کہاہے۔‘‘

أمرنا رسول الله ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1711

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1712

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنَا مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ. فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: لَمْ يُسْمَعْ هَذَا مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَكُلُّ حَدِيثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَالنِّصْفَ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: فَهَذَا فِي النِّصْفِ الَّذِي لَمْ تَسْمَعْ.

’’حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوۓ دیکھا حتٰی کے آپ ﷺ کے رخسار مبارک سفیدی دکھائی دہنے لگتی۔ تو جناب زہری ؒ فرماتے ہیں:’’یہ بات رسول اللہ ﷺ کے حدیث کی صورت میں نہیں سنی گئی۔‘‘تو جناب اسماعیل بن محمد کہتے ہیں:’’کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کی تمام احادیث سنی ہیں؟ انہوں نے کہا:نہیں۔پوچھا:دوتہائی سنی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا:نہیں تو پوچھا:آدھی سن لی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا :نہیں۔اس پر جناب اسماعیل نے فرمایا:’’تو یہ حدیث اس آدھی تعداد میں سے ہے جو نہیں سنی گئی۔‘‘

فَهَذَا فِي النِّصْفِ الَّذِي لَمْ تَسْمَعْ. ← لَا۔ ← فَالنِّصْفَ؟ ← لَا۔ ← فَالثُّلُثَیْنِ؟ ← لَا۔ ← إِسْمَاعِيلُ: أَكُلَّ حَدِيثِ النَّبِيِّ ← الزُّهْرِيُّ: لَمْ يُسْمَعْ هَذَا مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ ← يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ ← یَّمِیْنِہٖ ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ يُسَلِّمُ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1712

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals