صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1689
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمَّتِهِ، امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ. فَقَالَ: "قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي". فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ، فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
"حضرت عبداللہ بن سوید انصاری اپنی پھوپھی جو کہ حضرت ابوحمید الساعدیؓ کی زوجہ محترمہ ہیں، ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کی: اے اللہ کے رسول !میں آپ کے ساتھ نماز (با جماعت ) ادا کرنا پسند کرتی ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:"مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز (با جماعت ) ادا کرنا پسند کرتی ہو، حالانکہ تمہاری اپنے چھوٹھے کمرے میں نماز ، تمہاری اپنے بڑے کمرے (یا باہر والے کمرے ) میں اد ا کی گئی نماز سے بہتر ہے ۔ اور تمہاری اپنے بڑے کمرے میں نماز تمہاری اپنے صحن میں نماز سے بہتر ہے اور تمہاری اپنے صحن میں نماز تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے اور تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز کی ادئیگی میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے لہٰذا ان کے حکم پر ان کےلیے ان کے گھر کے آخری اور اندھیرے حصے میں مسجد بنادی گئی تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھتی تھیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں ۔(فوت ہوگئیں)۔"
عَمَّتِهِ، امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← عبد الله بن سويد الأنصاري، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1689
