Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1689

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَمَّتِهِ، امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُحِبُّ الصَّلَاةَ مَعَكَ. فَقَالَ: "قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكِ تُحِبِّينَ الصَّلَاةَ مَعِي، وَصَلَاتُكِ فِي بَيْتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي حُجْرَتِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي حُجْرَتِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي دَارِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي دَارِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ، وَصَلَاتُكِ فِي مَسْجِدِ قَوْمِكِ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِكِ فِي مَسْجِدِي". فَأَمَرَتْ، فَبُنِيَ لَهَا مَسْجِدٌ فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنْ بَيْتِهَا وَأَظْلَمِهِ، فَكَانَتْ تُصَلِّي فِيهِ حَتَّى لَقِيَتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.

"حضرت عبداللہ بن سوید انصاری اپنی پھوپھی جو کہ حضرت ابوحمید الساعدیؓ کی زوجہ محترمہ ہیں، ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کی: اے اللہ کے رسول !میں آپ کے ساتھ نماز (با جماعت ) ادا کرنا پسند کرتی ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:"مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز (با جماعت ) ادا کرنا پسند کرتی ہو، حالانکہ تمہاری اپنے چھوٹھے کمرے میں نماز ، تمہاری اپنے بڑے کمرے (یا باہر والے کمرے ) میں اد ا کی گئی نماز سے بہتر ہے ۔ اور تمہاری اپنے بڑے کمرے میں نماز تمہاری اپنے صحن میں نماز سے بہتر ہے اور تمہاری اپنے صحن میں نماز تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے اور تمہاری اپنی قوم کی مسجد میں نماز کی ادئیگی میری مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے لہٰذا ان کے حکم پر ان کےلیے ان کے گھر کے آخری اور اندھیرے حصے میں مسجد بنادی گئی تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھتی تھیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جاملیں ۔(فوت ہوگئیں)۔"

عَمَّتِهِ، امْرَأَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ فَقَالَتْ: ← عبد الله بن سويد الأنصاري، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1689

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1690

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "صَلَاةُ الْمَرْأَةِ فِي مَخْدَعِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي بَيْتِهَا، وَصَلَاتُهَا فِي بَيْتِهَا أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهَا فِي حُجْرَتِهَا".

"حضرت عبداللہ ، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"عورت کا اپنی کوٹھری میں نماز ادا کرنا ، اس کے اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل وبہتر ہے ۔ اور اس کا اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اس کے اپنے بیرونی کمرے ( یا برآمدے ) میں نماز پڑھنے سے افضل ہے ۔"

النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← مُوَرِّقٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1690

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1691

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ أَحَبَّ صَلَاةٍ تُصَلِّيهَا الْمَرْأَةُ إِلَى اللَّهِ فِي أَشَدِّ مَكَانٍ فِي بَيْتِهَا ظُلْمَةً".

"حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کے نزدیک عورت کی محبوب ترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر کے شدید اندھیرے دالے حصے میں پڑھتی ہے ۔"

النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1691

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1692

وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ -وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ رَحِمَهُ اللَّهُ-. قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْروِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ أَحَبَّ صَلَاةٍ تُصَلِّيهَا الْمَرْأَةُ إِلَى اللَّهِ أَنْ تُصَلِّيَ فِي أَشَدِّ مَكَانٍ مِنْ بَيْتِهَا ظُلْمَةً". حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ کو عورت کی وہ نماز سب سے زیادہ محبوب ہے جو وہ اپنے گھر کے سخت اندھیرے والے حصے میں ادا کرتی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ -وَفِي الْقَلْبِ مِنْهُ

Hadith 1692

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1693

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"مردون کی بہترین صفیں اگلی ہیں اور ان کی بدترین صفیں پچھلی ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں پچھلی ہیں اور ن کی بدترین صفیں اگلی ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1693

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1694

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ [178 - ب] أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ! إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاحْفَظُوا أَبْصَارَكُنَّ". قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: مِمَّ ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ. أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ: بِمِثْلِهِ. وَقَالَ: "فَاحْفَظُوا أَبْصَارَكُمْ مِنْ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"اے عورتوں کی جماعت !جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نظروں کی حفاظت کرو۔ "امام ابو سفیان کہتے ہیں :"میں نے عبداللہ بن ابی بکر سے پوچھا:(آپ نے) یہ حکم کس لیے دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ تہ بند اور چادروں کے تنگ اور چھوٹے ہونے کی وجہ سے ۔" امام صاحب اپنے استا د ابویحیٰی محمد بن عبدالرحیم کی سند سے مذکورہ بالا روایت کی مثل بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"تم مردوں کے ستر سے اپنی نظروں کی حفاظت کرو۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ب] ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1694

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1695

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ- عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كُنَّ النِّسَاءُ يُؤْمَرْنَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا يَرْفَعْنَ رُءُوسَهُنَّ حَتَّى يَأْخُذَ الرِّجَالُ مَقَاعِدَهُمْ مِنْ قَبَاحَةِ (1) الثِّيَابِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ" فِي أَبْوَابِ اللِّبَاسِ فِي الصَّلَاةِ.

"حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں( مردوں کے ) کپڑوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو نماز میں حکم دیا جاتا تھا کہ وہ مردوں کے ٹھیک طرح سے بیٹھنے تک اپنے سر (سجدے سے ) نہ اٹھائیں ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:"ثوری ؒ کی ابوحازم سے روایت کو میں نے کتاب الکبیر میں "نماز میں لباس کے ابواب "میں بیان کر چکا ہوں۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ- ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1695

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1696

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا نُوحٌ -يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْحُدَّانِيَّ- ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَتْ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخِّرِ، فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ- فِي شَأْنِهَا: (وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ) [الحجر: 24].

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے پیچھے خوبصورت ترین لوگوں میں سے ایک حسین وجمیل عورت نماز پڑھا کرتی تھی تو کچھ لوگ اگلی صفوں میں نماز پڑھتے تاکہ اس پر نظر نہ پڑے اور کچھ لوگ پیچھے رہتے تاکہ پچھلی صفوں میں کھڑے ہوں ۔ پھر جب وہ رکوع کرتے تو اپنی بغل کے نیچے سے دیکھ لیتے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت ناز ل فرمائی: ( وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِیْنَ) "اور یقیناً ہمیں ان کا علم پے جو تم میں آگے بڑھنے والے ہیں اور ان کا بھی علم ہے جو پیچھے رہنے والے ہیں۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← نُوحٌ -يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْحُدَّانِيَّ- ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1696

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1697

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى. وَأَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، نَا نُوحٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، بِنَحْوِهِ.

"امام صاحب اپنے استاد ابو موسیٰ کی سند سے مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔"

عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، بِنَحْوِهِ. ← نُوحٌ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← نُوحُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى. وَأَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1697

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1698

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ-؛ ح وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ: لَوْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ بَعْدَهُ لَمَنَعَهُنَّ الْمَسَاجِدَ، كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ أَوَ مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْجَبَّارِ. وَقَالَ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَمْرَةَ: وَمُنِعَ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟.

"حضرت عمرہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا:"اگر رسول اللہﷺ وہ چیزیں دیکھ لیتے جو عورتوں نے آپ ﷺ کے بعد زیب و زینت اور بناؤ سنگھار اختیار کر لیا ہے تو آپ ﷺ انہیں مسجدوں میں آنے سے منع کر دیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ حضرت عمرہ کہتی ہیں: میں نے کہا : یہ کیا بات ہے ؟ کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں ۔ یہ جناب عبدالجبار کی حدیث ہے اور جناب احمد کی رویات میں ہے :"میں نے حضرت عمرہ سے پوچھا :"کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا؟"

عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← يَحْيَى ← سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1698

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1699

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الْإِيَادِيُّ، ثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الدُّنْيَا، فَقَالَ: "إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ". ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ، وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لَا تُعْرَفُ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ، وَجَعَلَتْ لَهُ غُلْفًا، فَإِذَا مَرَّتِ بِالْمَسْجِدَ أَوْ بِالْمَلَأِ [179 - أ] قَالَتْ بِهِ، فَفَتَحَتْهُ، فَفَاحَ رِيحُهُ. قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى، فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا؛ وَقَبَضَ الثَّلَاثَ.

"حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے دنیا کا تذکرہ کیا تو فرمایا: بلاشبہ دنیا سر سبز و دلکش اور شیریں ولذیذ ہے لہٰذا اس (کے فتنوں ) سے بچو اور عورتوں ( کے فتنے ) سے بچ کر رہنا ۔"پھر آپ نے بنی ارائیل کی تین عورتوں کا ذکر کیا ، دو عورتیں دراز قد تھیں ( اس لیے ) مشہور ومعروف تھیں اور ایک عورت پست قد تھی جو معروف نہ تھی تو اس نے ( شہرت حاصل کرنے کےلیے ) لکڑی کی دو ( اونچی ایڑھی والی ) جوتیان بنوائیں اور ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے بہترین خوشبو کستوری سے بھر دیا اور اس کا ایک غلاف بھی بنوایا ۔ لہٰذا جب وہ مسجد میں جاتی یا کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو اس غلاف کو ہٹا دیتی جس سے خوشبو کھل جاتی اور ہر طرف اس کی مہک پھیل جاتی۔"جناب مستمر فرماتے ہیں:"وہ اپنی چھنگلی انگلی کے ساتھ خوشبو بکھیرتی تھی ۔ انہوں نے تین انگلیوں کو بند کر کے چھنگلی انگلی کو تھوڑا سا جھکا کر دکھایا کہ اس طرح کرتی تھی۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ، ← الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الْإِيَادِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1699

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1700

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ -وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ [كَانَ] إِذَا رَأَى النِّسَاءَ، قَالَ: أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ جَعَلَهُنَّ اللَّهُ. وَقَالَ: إِنَّهُنَّ مَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَصْفُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ، كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْبَسُ الْقَالِبَ، فَتَطَالُ لِخَلِيلِهَا فَسُلِّطَتْ عَلَيْهِنَّ الْحَيْضَةُ، وَحُرِّمَتْ عَلَيْهِنَّ الْمَسَاجِدُ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا رَآهُنَّ قَالَ: أَخِّرُوهُنَّ حَيْثُ جَعَلَهُنَّ اللَّهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْخَبَرُ مَوْقُوفٌ غَيْرُ مُسْنَدٍ.

’’جناب عبدالرحمٰن بن یزید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللی بن مسعود ؓ جب عورتوں کو دیکھتے تو فرماتے:’’انہیں پیچھے رکھو جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا مقام و مرتبہ رکھا ہے اور فرماتے: یہ عورتیں بنی اسرائیل کے مردوں کے ساتھ (نماز میں ) صفیں بناتی تھیں۔ایک عورت (لمبی ہونے کے لیے)سانچہ پہن لیتی تا کہ اپنے آشنا کے لیے اونچی ہو سکے،(اس جرم کی سزا میں)ان پر حیض مسلط کر دیا گیا اور ان پر مساجد میں آنا حرام قرار دے دیا گیا ۔اورحضرت عبد اللہ جب انہیں دیکھتے تو فرماتے:’’انہیں اسی جگہ مؤخر رکھو جہاں انہیں اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔‘‘امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:’’یہ روایت موقوف ہے مسند نہیں ہے۔‘‘

عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1700

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals