Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1174

ثنا سلم بن جنادة ثنا وكيع عن سفيان عن عبدة بن أبي لبابة عن زر بن حبيش أو عن سويد بن غفلة - شك عبدة - عن أبي الدرداء أو عن أبي ذر قال : ما من رجل تكون له ساعة من الليل يقومها فينام عنها إلا كتب الله له أجرا صلاته وكان نومه عليه صدقة تصدق بها عليه و عبدة رحمه الله قد بين العلة التي شك في هذا الإسناد أسمعه من زر أو من سويد فذكر أنهما كانا اجتمعا في موضع فحدث أحدهما بهذا الحديث فشك من المحدث منهما ومن المحدث منهما ومن المحدث عنه

عبدۃبن ابی لبابہ جناب زر بن حبیش یا سوید بن غفلہ سے حضرت ابو دردا یا حضرت ابو ذر ؓکی حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :جو شخص رات کے کسی حصے میں نماز باقاعدگی سے پڑھتا ہو ،پھر اس سے سو یا رہ گیا تو اللہ تعلیٰ اس کے لیے اس نماز کا اجر لکھ دیتے ہیں،اور اس کی نینداللہ تعالی کا اس پر صدقہ ہو گا ۔جناب عبدہؒ نے اس حدیث کی سند کی علت بیان کر دی ہے جس پر انہیں شک ہے کہ یہ حدیث انہوں نے ذر سے سنی ہے یا سوید سے ؟انہوں نے بتایا ہے کہ یہ دونوں اساتذہ کرام ایک جگہ اکھٹے تھے تو ان میں سے کسی ایک نے یہ حدیث بیان کی،پھر انہیں حدیث بیان کرنے والے اور حدیث سننے والے میں شک ہو گیا (کہ وہ کون ہے)۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أبي الدرداء أو ← سويد بن غفلة شك عبدة ← زر بن حبيش أو ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Hadith 1174

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1175

ثنا بهذا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفيان قال : حفظته من عبدة بن أبي لبابة قال : ذهبت مع زر بن حبيش إلى سويد بن غفلة نعوده فحدث سويد أو حدث زر و أكبر ظني أنه سويد عن أبي الدرداء أو عن أبي ذر و أكبر ظني أنه عن أبي الدرداء أنه قال : ليس عبد يريد صلاة - وقال مرة : من الليل - ثم ينسى فينام إلا كان نومه صدقة عليه من الله وكتب له ما نوى قال أبو بكر : فإن كان زائدة حفظ الإسناد الذي ذكره و سليمان سمعه من حبيب و حبيب من عبدة - فإنهما مدلسان - فجائز أن يكون عبدة حدث بالخبر مرة قديما عن سويد بن غفلة عن أبي الدرداء بلا شك ثم شك بعد أسمعه من زر بن حبيش أو من سويد ؟ وهو عن أبي الدرداء أو عن أبي ذر لأن بين حبيب بن أبي ثابت وبين الثوري و ابن عيينة من السن ما قد ينسى الرجل كثيرا مما كان يحفظه فإن كان حبيب بن أبي ثابت سمع هذا الخبر من عبدة فيشبه أن يكون سمعه قبل تولد ابن عيينة لأن حبيب بن أبي ثابت لعله أكبر من عبدة بن أبي لبابة قد سمع حبيب بن أبي ثابت من ابن عمر و الله أعلم بالمحفوظ من هذه الأسانيد

امام سیفان ؒ فرماتے ہیں :میں نے یہ بات جناب عہدہ بن ابی لبابہ سے یاد رکھی ہے ، وہ فرماتے ہیں : میں جناب زر بن حبیش کے ساتھ سوید بن غفلہ کی تیمارداری کے لیے گیا ، تو سوید یا زر نے حدیث بیان کی ،میرا غاکب گمان ہے کہ جناب سوید نے بیان کی ۔انہوں نے حضرت ابو دردا یا حضرت ابو ذر سے روایت بیان کی اور میرا غالب گمان یہ ہے کی حضرت ابو دردا سے بیان کی کہ انہوں نے فرمایا : جو آدمی بھی رات کو نماز (تہجد) پڑھنے کا ارداہ کرتا ہے پھر بھول سویا رہتا ہے تو اس کی نیند اللہ تعالی کی طرف سے اس پر صدقہ ہو جائے گی اور اس کے لیے اس کی نیت کے مطابق اجر و ثواب لکھ دیا جائے گا ۔امام ابو بکرؒفرماتے ہیں کہ ،اگر زائدہ نے اپنی بیان کردہ سند یاد رکھی ہے اور سیلمان نے حیبب سے سنا ہے اور حیبب نے عہدہ سے سنا ہے تو وہ دونوںمد لس ہیں ،یہ ممکن ہے کہ عہبدہ نے ایک مرتبہ یہ حدیث بہت پہلے بیان کی ہو اور اسے سوید بن غفلہ کے واسطے سے حضرت ابودردا ؓسے بیان کیا ہو بغیر کسی شک کے پھر بعد میں انہیں شک لاحق ہو گیا ہو کہ انہوں نے یہ روایت حضرت ابو دردا سے بیان کی ہے یا ابو ذر سے ؟کیونکہ حیبب بن ابی ثابت اور امام سیفان ثوری اور ابن عینیہ کے درمیان عمر کا اس قدر تفاوت ہے کہ اس عرصے میں آدمی اپنی حفظ کی ہوئی بہت ساری چیزیں بھول جاتا ہے۔اگر حبیب بن ابی ثابت نے یہ روایت عبدہ سے سنی ہے تو پھر یہ بات اس کے مشابہ ہے کہ انہوں نے یہ روایت ابن عینیہ ولادت سے پہلے سنی ہو گی ۔ کیونکہ شاید حبیب بن ابی ثابت نے حضرت ابن عمرؓسے سماں کیا ہے ، اور ان اسانید میں سے محفوط کے بارے میں اللہ تعالی ہی بخوبی جانتے ہیں۔

حفظته من عبدة بن أبي لبابة ← سُفْيَانَ، ← بهذا عبد الجبار بن العلاء

Hadith 1175

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1176

ثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، وَلَا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي".

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :باقی دنوں کو چھوڑ کر صرف جمعتہ المبارک کے دن کو (نفلی)روزے کے لیے خاص مت کرو ۔ اور دیگر راتوں کو چھوڑ کر صرف جمعتہ المبارک کی رات کو نماز تہجد کے لیے خاص نہ کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ

Hadith 1176

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1177

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا، وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا قَامَ حَتَّى الصَّبَّاحِ، وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ. أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي بِهِ مُشَافَهَةً.

جناب سعد بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب کوئی نفل نماز پڑھتے تو اس کو باقاعدگی سے پڑھنا پسند فرماتے۔اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبیﷺنے ایک رات میں پورا قرآن مجید تلاوت کیا ہو اور نہ آپ نے صبح تک تہجد ادا کی ہے ۔ اور نہ آپ نے رمضان المبارک کے سوا کسی مہینہےکے پورے روزے رکھے ہیں۔پھر میں ابن عباس ؓکے پاس حاضر ہوا ، اور انہیں حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بیان کی ،تو انہوں نے فرمایا :انہوں نے سچ فرمایا ہے ، خبر دار ! اگر میں ان کی خدمت میں حاضری دیتا ہوتا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے براہ راست یہ حدیث سنتا۔

عَائِشَةَ ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1177

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1178

ثنا علي بن خشرم أخبرنا عيسى بن يونس عن شعبة عن قتادة بهذا الإسناد قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا عمل عملا أثبته قالت : وما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قام ليلة حتى الصباح ولا صام شهرا متتابعا إلا رمضان

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی عمل کرے تو اسے ہمیشہ کرتے ، وہ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے پوری رات صبح تک تہجد پڑھی ہو ،اور نہ آپ نے کسی مہینہے کے مسلسل روزے رکھے ہیں ، سوائے رمضان المبارک کے۔

كان رسول الله إذا عمل عملا أثبته ← قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Hadith 1178

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1179

ثنا يعقوب الدورقي ثنا ابن علية ح و ثنا مؤمل بن هشام نا إسماعيل - يعني ابن علية - عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه قال قال بريدة : خرجت ذات يوم أمشي لحاجة فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي فظننته يريد حاجة فجعلت أكف عنه فلم أزل أفعل ذلك حتى رآني فأشار إلي فأتيته فأخذ بيدي فانطلقنا نمشي جميعا فإذا نحن برجل بين أيدينا يصلي يكثر الركوع و السجود فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أترى يرائي ؟ فقلت : الله ورسوله أعلم قال : فأرسل يده و طق بين يديه ثلاث مرار يرفع يده و يصوبهما و يقول : عليكم هديا قاصدا عليكم هديا قاصدا عليكم هديا قاصدا فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه هذا لفظ حديث مؤمل لم يقل الدورقي : فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه

حضرت بریدہ ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں گھر سے نکل کر قضائے حاجت کے لیے جا رہا تھا ، تو اچانک میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ بھی جارہے ہیں ،میں نے گمان کیا کہ آپ قضائے حاجت کے لیےجارہے ہیں تو میں نے آپ سے دور ہٹنا شروع کر دیا ، میں اسی طرح کر رہا تھا کہ آپ نے مجھے دیکھ لیا اور پھر اشارہ کر کے مجھے (اپنے پاس)بلا لیا۔میں آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر ہم اکھٹے چلنے لگے ، پھر اچانک ہم نے اپنے سامنے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا اور بکثرت رکوع و سجود کر رہا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، کیا یہ دکھلاوا کر ہا ہے؟میں نے عرض کی :اللہ اور اس کے رسول بخوبی جانتے ہیں ۔ کہتے ہیں آپ نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ اور اپنے سامنے اپنے دونوں ہاتھوں سے تین بار اشارہ کیا ،آپ اپنے ہاتھ بلند کرتے اور پھر انہیں نیچے کرتے اور فرمایا :درمیانی راہ اختیار کرو ، اعتدال والی راہ اپنائو،تمہیں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ جس شخص نے بھی اس دین کے ساتھ سختی کرنے کی کوشش کی تو یہ دین اس پر غالب آجاتا ہے (اسے پچھاڑ دیتا ہے)یہ مومل کے حدیث کے الفاظ ہیں جناب دورقی نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے ۔ بے شک جس شخص نے بھی اس دین کے معاملے میں سختی کی تو دین اس پر غالب آ جاتا ہے ۔

بريدة خرجت ذات يوم أمشي لحاجة فإذا ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← و، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 1179

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1180

حدثنا يعقوب بن إبراهيم نا ابن علية أخبرنا عبد العزيز بن صهيب عن أنس بن مالك قال : دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد وحبل ممدود بين ساريتين فقال : ما هذا ؟ قالوا : لزينب تصلي فإذا كسلت أو فترت أمسكت به فقال : حلوه ثم قال : ليصلي أحدكم نشاطه فإذا كسل أو فتر فليقعد

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ ایک رسی دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا :یہ کیا ہے؟حاضرین نے عرض کی : یہ حضرت زینب ؓ کی رسی ہے ، وہ نماز پڑھتی ہے پھر جب تھک جاتی ہیں یا سست ہو جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں ، آپ نے حکم دیا : اسے کھول دو ۔ پھر فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ نشاط کے ساتھ اور چست ہو کر نماز ادا کرے ، اور جب تھک جائے یا سست ہو جائے (تو نماز چھوڑ کر)بیٹھ جائے (اور آرام کرے)۔

ليصلي أحدكم نشاطه فإذا كسل أو فتر فليقعد ← لزينب تصلي فإذا كسلت أو فترت أمسكت به فقال حلوه ثم ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ وَحَبَلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 1180

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1181

ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْتَمِرٍّ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو حَبِيبِ مُسْلِمِ بْنُ يَحْيَى مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ. غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالُوا: لِمَيْمُونَةَ بِنْتِ [129 - أ] الْحَارِثِ، قَالَ: "ذِي مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ " قَالُوا: تُصَلِّي قَائِمَةً، فَإِذَا أَعْيَتِ اعْتَمَدَتْ عَلَيْهِ، فَحَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "يُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا أَعْيَى فَلْيَجْلِسْ" (1).

حضرت انس بن مالک ؓسے مذکورہ بالا روایت کی طرح مروی ہے۔صرف ان الفاظ کا فرق ہے کہ حاضرین نے عرض کی :(یہ رسی)میمونہ بن حارث ؓ کی ہے ۔ آپ نے پوچھا :وہ اس رسی کے ساتھ کیا کرتی ہیں ؟انہوں نے جواب دیا : وہ (اس کے ساتھ)کھڑی ہو کے نماز پڑھتی ہیں ، پھر جب تھک جاتی ہیں تو اس سے سہارا لیتی ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے اسے کھول دیا اور فرمایا :تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے ، پھر جب تھک جائے تو اس کو بیٹھ جانا چاہیے۔

"يُصَلِّي أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا أَعْيَى فَلْيَجْلِسْ" ← تُصَلِّي قَائِمَةً، فَإِذَا أَعْيَتِ اعْتَمَدَتْ عَلَيْهِ، فَحَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ← "ذِي مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ ← لِمَيْمُونَةَ بِنْتِ أ] الْحَارِثِ، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ. غَيْرَ أَنَّهُ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو حَبِيبِ مُسْلِمِ بْنُ يَحْيَى مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ بَنِي رِفَاعَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْتَمِرٍّ الْبَصْرِيُّ،

Hadith 1181

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1182

قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَحْمَدَ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: تَكَلَّفُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ غُفِرَ لَكَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".

حضرت مغیرہ بن شبعہ ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (اتنی زیادہ نفل)نماز پڑھی کہ آپ کے قدم مبارک سوجھ گئے آپ سے عرض کی گئ :اے اللہ کے رسول آپ یہ مشقت و تکلیف برداشت کر رہے ہیں حالا نکہ آپ کی بخشش کر دی گئ ہے؟ آپ نے فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

صلى الْنَّبِيّ حتى انتفخت قدماه فقيل له تكلف هذا ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن الفضل بن محمد بن إسحاق بن خزيمة ← أَبُو طَاهِرٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بن أحمد الصَّابُونِيُّ

Hadith 1182

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1183

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا".

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے (بکثرت نفل)نماز پڑھی حتی کے آپ کے قدم مبارک ورم آلود ہو گئے ۔ آپ سے عرض کی گئ : تحقیق اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فر ما دیے ہیں (پھر اس قدر مشقت کس لیے فرما رہے ہیں ؟)آپ نے فرمایا :کیا میں (اپنے رب کا)شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔

عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Hadith 1183

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1184

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ (1)، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ؛ ح وَثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا". هَذَا لَفْظُ الْمُحَارِبِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الخبر دِلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الشُّكْرَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ يَكُونُ بِالْعَمَلِ لَهُ، لِأَنَّ الشُّكْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ، [وَ] قَدْ يَكُونُ بِاللِّسَانِ، قَالَ اللَّهُ: (اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا) [سبأ: 13]. فَأَمَرَهُمْ جَلَّ وَعَلَا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ شُكْرًا فَالشُّكْرُ قَدْ يَكُونُ بِالْقَوْلِ وَالْعَمَلِ جَمِيعًا، لَا عَلَى مَا يَتَوَهَّمُ الْعَامَّةُ أَنَّ الشُّكْرَ إِنَّمَا يَكُونُ بِاللِّسَانِ فَقَطْ. وَقَوْلُهُ: غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ: إِنَّهُ جَائِزٌ فِي اللُّغَةِ أَنْ يُقَالَ: يَكُونُ فِي مَعْنَى كَانَ، لِأَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا (1)) [الفتح]. وَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ)، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَائِلِ، وَلَمْ يَقُلْ أَيْضًا وَعَدَنِي أَنْ يَغْفِرَ؛ لِأَنَّهُ قَدْ غَفَرَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ قَبْلَ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ وَبَعْدَهُنَّ

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (اس قدر طویل)قیام کیا کرتے تھے کہ آپ کے قدم مبارک پھول گئے ، آپ سے عرض کی گئ : اے اللہ کے رسول ! آپ یہ بہت مشقت والا کام کرتے ہیں جبکہ آپ کے پاس اللہ تعالی کی یہ وحی آ چکی ہے کہ اللہ نے آپ کی اگلی پچھلی تما م غلطیاں معاف فرما دی ہیں ؟آپ نے فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ یہ محاربی کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی کا شکر کبھی اس کے لیے عمل کے ذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ سارے کا سارا شکر اللہ ہی کے لیے ہیں ۔اور کبھی شکر زبان سے ادا ہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے: (اعْمَلُوْا اٰلَ دَاوْدَشْکْرًا)(سباء:13)اے آل داود !شکرانے کے طور پر (نیک ) عمل کرو ۔ لہذا اللہ تعالی نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ اس کے شکرانے کے طور پر نیک اعمال کریں ۔ چنانچہ شکر کبھی قول اور عمل دونوں کے ساتھ ادا ہوتا ہے ۔ اس طرح نہیں عام لوگوں کا خیال ہے کہ شکر صرف زبان سے ادا ہوتا ہے ۔ حدیث کے یہ الفاظ ، اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں ۔ یہ اس قسم سے ہے جس کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ لغوی طور پر جائز ہے کہ کہا جائے :ہو گا (ہو چکا)معنی میں بھی آتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے نبی سے فرمایا ہے : (إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا)(الفتح:1)بلاشبہ ہم نے آپ کو فتح مبین عطا کی ہے۔ اور نبی ﷺ سے یہ کہا گیا : تحقیق اللہ تعالی نے آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں تو نبی اکرم ﷺنے قائل کا رد نہیں کیا اور نہ اسے یہ فرمایا ہے کہ میرے رب نے میرے گناہ معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔ کیونکہ وہ تو معاف کر چکا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، جَمِيعًا ← أَبُو عَمَّارٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ،

Hadith 1184

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals