Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1150

نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [126 - أ] قَالَ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :" جب تم میں سے کوئی شخص رات کے وقت نماز تہجد کے لیے اٹھے تو اس کو چا ہے کہ اپنی نماز کا آغازدو ہلکی اور مختصر رکعات سے کرے۔"

إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلاتَهُ بِرَکْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ← رَسُولِ اللَّهِ أ] ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ،

Hadith 1150

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1151

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ، قَالَ: "اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَوَعِيدُكَ حَقٌّ، وَعَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَالْقُبُورُ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، اللَّهُمَّ بِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ". وَزَادَ عَبْدُ الْكَرِيمِ (1): لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکر م ﷺ جب رات کے وقت تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے:اللھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ ۔۔۔۔۔۔وَلَآ إِلٰہَ غَیْرُکَ۔" اے اللہ! سب تعریفیں تیرےلیے ہیں ، تو آسمانوں ،زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے۔اور تیرے ہی لیے سب تعریفیں ہیں ، تو آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے، سب کا نگہبان اور قائم رکھنے والا ہے، سب تعریفیں تیرے ہی لائق ہے،تو آسمانوں ،زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے ، سب کا مالک ہے ، تمام تعر یفوں کا حق دار تو ہی ہے ، تو حق ہے، اور تیری ملاقات حق ہے،تیری عید وسزا حق ہے،اور عذاب قبر حق ہے۔جنت حق ہے، جہنم بھی حق ہے،قیامت سچ ہے، قبریں حق ہے،اور محمد حق اور سچ ہیں،اے اللہ ، میں تجھ پر ایمان لایا ، میں تیرا ہی فرمانبردار ہوا۔ میں نے تجھ پر ہی توکل کیا ، اور میں نے تیری طرف ہی رجوع کیا ، اور میں تیری توفیق اور براہین ہی کے ساتھ " تیرے مخالفین سے "جھگڑا کرتا ہوں اور میں تجھ ہی سے فیصلہ چاہتا ہوں۔لہٰذا تو میرے اگلے پچھلے گناہ اور میرے خفیہ اور علانیہ سارے گناہ معاف فرما ، تو ہی مقدم کرنے والا اور توہی موخر کرنے والا ہے ۔ تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، اور نہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے۔جناب عبدالکریم نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں۔:" تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور اللہ کی توفیق و مدد کے ساتھ ہی ساری قوت و طاقت ہے۔"

كان النبي إذا قام من الليل يتهجد ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 1151

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1152

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ثَنَا عِمْرَانُ -وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ- عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ قَالَ بَعْدَمَا يُكَبِّرُ: "اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَوَعْدُكَ حَقٌّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، وَإِلَيْكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ".

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہنے کے بعد یہ (حمد و ثنا ءاور دعا)پڑھتے: اللھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ ۔۔۔۔۔أَنْتَ إِلٰھِی لاَ إِلٰہَ إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ۔"اے اللہ !سب تعریفیں تیرےلیے ہیں ، تو آسمانوں اورزمین کا نور ہے۔اور تمام تعریفات کے لائق تو ہی ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے اور سنبھالنےوالا ہے ، اور سب تعریفیں تیرے لیے ہیں ، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے ، سب کا پرودگار ہے ، تو حق ہے، اور تیرا فرمان سچ ہے، اور تیرا وعدہ بر حق ہے،تیری ملاقات سچ ہے،اور جنت حق ہے،اور جہنم بھی برحق ہے،اور قیامت بھی سچ ہے، اے اللہ میں تیرا فرمانبردار ہوں، اور تجھ پر ایمان لایا ہوں ، میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اور تیری طرف لوٹتا ہوں ،اور میں تیری ہی عدالت سے فیصلہ چاہتا ہوں اور تیری ہی توفیق سے جھگڑتا ہوں ، اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔اے اللہ، میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما ، میرے پوشیدہ اور علانیہ گناہوں کو بخش دے تو میرا اللہ ہے ، تیرے سوا کوئی سچا اللہ نہیں ہے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← عِمْرَانُ -وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ- ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Hadith 1152

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1153

ثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ (2)، نَا عِكْرِمَةُ -وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ- نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ (1): كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ، قَالَ: "اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَئِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ، فَإِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ".

حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن عوف رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا :رسول اللہ ﷺجب رات کی نماز کے لیے اٹھتے تھے تو کس دعا کے ساتھ اپنی نماز شروع فرماتے تھے؟انہوں نے فرمایا :آپ جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تو اپنی نماز اس دعا کے ساتھ شروع کرتے :اللھُمَّ رَبَّ جَبْرَائِیْلَ ۔۔۔۔۔فَإِنَّکَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔اے اللہ! ،جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے پرودگار ، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، غیب اور ظاہر کو جاننے والے ، تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ، جن امور میں وہ اختلاف کرتے تھے ، مجھے حق کے اختلافی امور میں ہدایت و راہنمائی عطا کرتا ہے ۔"

أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عِكْرِمَةُ -وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ-، ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو مُوسَى،

Hadith 1153

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1154

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[وَ] فِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ذَاتَ لَيْلَةٍ- وَقَالُوا: فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ. قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ.

" حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے لمبا قیام کیا"اور طویل قراءت کی" حتی کہ میں نے ایک برے کام کا ارداہ کر لیا ۔ اور ان سے عرض کی گئی :آپ نے کیا ارداہ کیا تھا؟فرمایا میں نے ارداہ کیا کہ میں بیٹھ جاوں اور آپ کا ساتھ چھوڑ دوں ۔"

هَمَمْتُ ← فَأَطَالَ حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ. قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ؟ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، ذَاتَ لَيْلَةٍ- ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Hadith 1154

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1155

ثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ [126 - ب] وَيَعْلَى، قَالَا: ثَنَا الْأَعْمَشُ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "طُولُ الْقُنُوتِ".

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺسے پوچھا گیا : کونسی نماز افضل و اعلیٰ ہے؟آپ نے فرمایا "لمبے اور طویل قیام والی "۔

"طُولُ الْقُنُوتِ". ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← وَحَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، ← وَثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ب] وَيَعْلَى، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Hadith 1155

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1156

ثنا أبو موسى محمد بن المثنى ثنا أبو معاوية ثنا الأعمش وثنا سلم بن جنادة نا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال : جاء رجل إلى عمر وهو يعرفه فقال : يا أمير المؤمنين جئت من الكوفة وتركت بها رجلا يملي المصاحف عن ظهر قلبه قال : فغضب عمر وانتفخ حتى كاد يملأ ما بين شعبتي الرحل فقال : من هو ويحك ؟ قال : عبد الله بن مسعود قال : فما زال يسري عنه الغضب ويطفأ حتى عاد إلى حاله التي كان عليها ثم قال : ويحك ما أعلم بقي أحد أحق بذلك منه وسأحدثك عن ذلك كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يزال يسمر عند أبي بكر الليلة كذلك في الأمر من أمر المسلمين وإنه سمر عنده ذات ليلة وأنا معه فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي وخرجنا معه فإذا رجل قائم يصلي في المسجد فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع قراءته فلما كدنا أن نعرف الرجل قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد قال : ثم جلس الرجل يدعو فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : سل تعطه مرتين قال فقال عمر : فقلت : والله لأغدون إليه فلأبشرنه قال : فغدوت إليه لأبشره فوجدت أبا بكر قد سبقني إليه فبشره ولا والله ما سابقته إلى خير قط إلا سبقني هذا حديث أبي موسى غير أنه لم يقل وانتفخ وقال سلم بن جنادة : فما زال يسري عنه وقال : واقف بعرفة ولم يقل : لا يزال وقال : يستمع قراءته وقال : فقال عمر : والله لأغدون إليه

" حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جبکہ آپ اس کو جانتے تھے تو اس نے عرض کی:اے امیر المومنین ،میں کوفہ سے آیا ہوں اور کوفہ میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کے آیا ہوں جو قرآن مجید زبانی لکھواتا ہے ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آ گئےاور شدید غضبناک ہوئے حتی کہ قریب تھا کہ کجا وے کے دونوں پہلو غصے سے لبریز ہو جاتے " سخت غضبناک ہوئے"آپ نے فرمایا :تیری بربادی ہو،وہ کون ہے؟اس نے جواب دیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تو آپ کا غصہ آہستہ آہستہ دور ہونا شروع ہو گیا اور آپ کا غضب ٹھنڈا ہو گیا حتی کہ آپ پہلے کی طرح پر سکون ہو گئے پھر فرمایا :تیرا بھلا ہو،مجھے نہیں معلوم کہ ان کے علاوہ کوئی شخص موجود ہو جو اس کام کا ان سے زیادہ حق رکھتا ہو۔ اور میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں۔رسول اللہ ﷺحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر مسلمانوں کے معاملات میں ہر رات مشورہ کیا کرتے تھے ۔ ایک رات آپ ان کے گھر بات چیت کے لیے موجود تھے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا پھر رسول اللہ ﷺباہر تشریف لائے ،"پھر جب"واپس جانے کے لیے چلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ باہر آ گئے ۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں کھڑا نماز پڑھ رہا ہے ۔ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو اس کی قراءت سننے لگے ، ہم اس شخص کو پہچاننے ہی والے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جس شخص کو یہ خوشی ہو کہ وہ قرآن مجید کو اسی طرح تازہ پڑھے جیسے وہ نازل ہو ا تھا تو اسے ابن ام عبد کی قراءت کے مطابق پڑھنا چاہیے۔ پھر اس شخص نے بیٹھ کر دعا مانگنی شروع کر دی ، اور رسول اللہ ﷺ کہنے لگے : مانگو ، تمہیں وہ عطا کیا جائے گا ۔" آپ نے دو مرتبہ یہ بات فرمائی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں "دل میں" کہا :اللہ کی قسم ،میں صبح ضرور ان کے پاس جاکر انہیں خوش خبری دوں گا۔ چناچہ میں صبح کے وقت ان کی طرف گیا تاکہ انہیں خوش خبری دوں تو میں نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے ہی ان کے پاس پہنچ کر انہیں خوش خبری دےچکے تھے۔ اللہ کی قسم ، میں نے جس نیک کام میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقابلہ کیا تو وہ مجھ سے سبقت لے گئے ۔: یہ جناب ابو موسیٰ کی حدیث ہے مگر انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے : اور آپ کی رگیں پھول گئیں۔" جناب سلم بن جنادہ کے الفاظ یہ ہیں : تو آہستہ آہستہ ان کا غصہ اترنا شروع ہو گیا ۔ اور کہا : آپ عرفات کے میدان میں کھڑے تھے ۔ اور یہ لفظ بیان نہیں کیے ۔ مسلسل "نبی علیہ السلام رات کے وقت مشورہ کرتے تھے )اوریَسْمَعُ قِرَاءَ تَہُ کی بجائےیَسَمِعُ قِرَاءَ تَہُآپ غور سے ان کی قراءت سننے لگے اور حضرت عمر نے فرمایا : ""وَاللہُ لَاَ غْدُوَنَّ إِلَیْہِ""اللہ کی قسم،میں ضرور ان کے پاس جاوَں گا ۔"

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Hadith 1156

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1157

نا يونس بن عبد الأعلى نا يحيى بن عبيد الله بن بكير حدثني الليث ح وثنا سعيد بن عبد الله بن عبد الحكم ثنا أبي أخبرنا الليث عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن مخرمة بن سليمان أن كريبا مولى ابن عباس أخبره قال : سألت ابن عباس فقلت : ما صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل ؟ قال : كان يقرأ في بعض حجره فيسمع من كان خارجا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا :رسول اللہ ﷺکی رات کی نماز کیسے ہوتی تھی ؟تو انہوں نے فرمایا :"آپ اپنے کسی حجرہ مبارک میں "نماز میں"قراءت کرتے تو حجر ے کے باہر لوگ سن لیتے ۔"

«كَانَ يَقْرَأُ فِي بَعْضِ حُجَرِهِ، فَيَسْمَعُ مَنْ كَانَ خَارِجًا» ← سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: مَا صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ بِاللَّيْلِ؟ ← مخرمة بن سليمان أن كريبا مولى ابن عباس ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← أَبِي ← وثنا سعيد بن عبد الله بن عبد الحكم ← اللَّيْثُ ← يحيى بن عبيد الله بن بكير ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 1157

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1158

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا شُعَيْبٌ، نَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ: أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، كَانَ يُصَلِّي، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ. وَنَعَتَتْ لَهُ قِرَاءَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعِتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا.

"جناب یعلی بن مملک سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺکی قراءت اور آپ کی نماز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا :تمہیں رسول اللہ ﷺکی نماز سے کیا نسبت ۔"وہ تو بہت عظیم اور اعلیٰ تھی"آپ نماز تہجد پڑھتے نماز کی مقدار کے مطابق سو جاتے، پھر آپ سونے کے وقت کے برابر نماز پڑھتے ، پھر نماز کی مقدار کے مطا بق سو جاتے حتی کہ صبح ہو جاتی ، اور انہوں نے اس کے لیے رسول اللہ ﷺکی قراءت کی کیفیت بیان کی تو آپ نے قراءت الگ الگ ایک ایک حرف کے ساتھ بیان کی۔"

قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ وَصَلَاتِهِ، ← يَعَلَی بْنِ مَمْلَکٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ ← عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكه ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Hadith 1158

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1159

نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ح وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، جَمِيعًا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّهُ كَانَ [127 - أ] إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعَ صَوْتَهُ طَوْرًا وَخَفَضَهُ طَوْرًا، وَكَانَ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب نماز تہجد ادا کرتے تو کبھی آواز بلند کر لیتے کبھی آواز آہستہ کر لیتے۔ اور وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔"

أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، ← أَبِيهِ ← عِمْرَانَ بْنِ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ جَمِيعًا ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Hadith 1159

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1160

نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ- عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ؛ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ، حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، أَكَانَ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ. فَزَادَ بَحْرٌ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.

" جناب عبداللہ ابن قیس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد میں قراءت کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا کہ کیا آپ جہری قراءت کرتے تھے یا آہستہ ؟ انہوں نے فرمایا : آپ دونوں طریقوں سے قراءت کر لیا کرتے تھے ، بعض اوقات بلند آواز سے قراءت کرتے اور کبھی آہستہ آواز سے قراءت کرتے "جناب بحر بن نصر اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں : تو میں نے کہا :سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس اس کام میں وسعت و گنجائش رکھی ہے۔"

مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ،

Hadith 1160

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1161

نَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يُصَلِّي يَخْفِضُ مِنْ صَوْتِهِ، وَمَرَّ بِعُمَرَ يُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَهُ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: "يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ مِنْ صَوْتَكِ". قَالَ: "قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَيْتُ. وَمَرَرْتُ بِكَ يَا عُمَرُ: وَأَنْتَ تَرْفَعُ صَوْتَكَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! احْتَسَبْتُ بِهِ، أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَأَحْتَسِبُ بِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: "ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا". وَقَالَ لِعُمَرَ: "اخْفِضْ (1) مِنْ صَوْتِكَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ فِي كِتَابِ الْإِمَامَةِ ذِكْرَ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ: (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا) [الإسراء: 110].

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ پست آواز کے ساتھ نماز"تہجد " پڑھ رہے تھے اور آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قریب سے بھی گزرے تو وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ۔ پھر جب وہ دونوں نبی علیہ السلام کے پاس اکھٹے ہوئےتو آپ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابو بکر میں تیرے پاس سے گزرا تھا اور تم نماز پڑھ رہے تھے اور قراءت آہستہ آواز سے کر رہے تھے انہوں نے عرض کی :میں جس ذات کے ساتھ مناجات کر رہا تھا میں نے اسے سنا لیا ہے ۔ اور اے عمر میں تیرے پاس سے گزرا تو تم بہت بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول، مجھے اس سے ثواب کی امید ہے میں سونے والے کو جگانا چاہتا تھا اور اس پر اجر و ثواب کی امید رکھتا ہوں ۔ آپ نے حضرت ابو بکر کو فرمایا : تم اپنی اآواز کچھ بلند کر لو ۔" اور حضرت عمر سے فرمایا " تم اپنی آواز کچھ آہستہ کر لو ۔"امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے اس آیت (وَلاَ تَجْھَرْ بِصَلاَ تِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِھَا)۔(الاسراء:110)کا شان نزول کتاب میں الامامتہ میں بیان کیا ہے۔"

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّالَحِينِيُّ، ← أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ،

Hadith 1161

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals