Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1119

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثَنَا آدَمُ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِيَاسٍ- ثَنَا قَيْسٌ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحَانَ الَّذِي أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ فَعَلِمَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي، وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، وَنُورًا بَيْنَ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، اللَّهُمَّ زِدْنِي نُورًا، وَأَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا".

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھےحضرت عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو میں آپ کے پاس شام کو حا ضر ہوا۔جبکہ آپ میری خالہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے۔چنانچہ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نے اُٹھ کر نماز تہجد پڑھی،پھر جب آپ نے فجر کی دو سنتیں ادا کیں تو یہ دعا مانگی "اللھُمَّ إِنَّی أَسْأَلُکَ رَحْمَۃً مِنْ عِنْدِکَ ۔۔۔۔۔وَاجْعَلْ لِی نُوْرًا۔"اے اللہ میں تجھ سے تیری عظیم رحمت کا سوال کرتا ہوںکہ جس کے ساتھ تو میرے دل کو ہدایت فرمادے، تو اس کے ساتھ میرے متفرق امور کو جمع فرما دے اور میرے پراگندہ و منتشرکاموں کو اکھٹا فرمادے۔ میری کجی کو درست کر دے۔اس کے ساتھ میرے دین کی اصلاح فرمادے،میرے باطنی اعمال کی حفاظت فرما دے،میرے ظاہری اعمال کو بلند و بالا فرمادے، اس اس کے ساتھ میرے اعمال کو پاکیزہ بنادے،اس کے ساتھ میرے چہرے کو روشن فرمادے، اور مجھے اس کے ساتھ رشد و ہدایت والے کاموں کی توفیق عطا فرما"جن سے تیری رضا و خوشنودی حاصل ہو"مجھے اس کے ساتھ ہر برائی سے مھفوظ فرما، اے اللہ ، مجھے سچا ایمان اور ایسا عظیم یقین عطا فرماجس کے بعد کوئی کفر نہ ہو، اور ایسی عظیم رحمت نصیب فرما ، جس کے ساتھ میں دنیا و آخرت میں شرف ا و منزلت پالوں۔اے اللہ میں ، میں تجھ سے فیصلے کے وقت کامیابی ،شہدا کا مقام و مرتبہ ،سعادت مندوں کی زندگی ، انبیائے کرام کی رفاقت اور دشمنوں پر غلبہ اور مدد کا طلب گار ہوں۔اے اللہ میں تیرے سامنے اپنی حاجت و ضرورت پیش کرتا ہوں اگرچہ میری عقل ناقص ،اور میرا عمل ضعیف و کمزور ہے۔میں تیری رحمت کا محتاج ہوں لہذا میں تجھ ہی سے مانگتا ہوں، اے معاملات کا فیصلہ فرمانے والے ، اے سینوں کو "ریا کاری جیسے امراض سے " شفا دینے والے ، تو جس طرح سمندروں کو "باہم"ملنے سے روکتا ہے، مجھے بھی جہنم کے عذاب سے پناہ عطا فرما ۔اور ہلاکت کی دعا کرنے سے محفوظ فرما۔اور قبر کے فتنے سے بچا۔اے اللہ،جس خیرو بھلائی جو تو اپنی کسی مخلوق کو عطا کرنے والا ہو، تو میں بھی اس کی رغبت و شوق رکھتا ہوں۔اور تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں اے جہانوں کو پالنے والے ۔ اے اللہ ۔ ہمیں سیدھی راہ دکھا نے والے ہدایت یافتہ بنا دے ، گمراہ ہونے والے اور گمراہ کرنے والے نہ بنانا ، ہمیں اپنے دشمنوں کے لیے جنگ اور اپنے دوستوں کے لیےامن و سلامتی والا بنا۔ہم تیری محبت کی بنا پرلوگوں سے محبت و پیار کریں،اور تیری دشمنی کی بدولت تیرے دشمنوں سے عدوات رکھیں ۔ اے اللہ ،یہ میری دعا ہے اور تو قبول و منظور فرما ۔ اور میری جد و جہد ہے اور تجھ ہی پر بھروسہ ہے ۔ اور اللہ کی مددحمایت کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت نہیں ہے۔اے اللہ۔مضبوط رسی "دین"والے ،اور درست و سیدھے معاملے والے ، میں تجھ سے عذاب کے دن امن کا سوال کرتا ہوں، اور ہمیشگی کے دن جنت مانگتا ہوں ، اپنے پرودگار کا دیدار کرنے والے مقربین کے ساتھ کثرت سے رکوع و سجود کرنے والوں اور وعدہ پورا کرنے والوں کے ساتھ ، بے شک تو بڑا مہربان اور محبت و شفقت کرنے والا ہے،اور تو جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کی چادر اوڑھی اور اس کو اپنے لیے خاص فرمایا۔پاک ہے وہ ذات جس نے عظمت و کبریائی کا لبا س پہنا اور اس کے ساتھ مکرم ہوا۔ پاک ہے وہ ذات جس کے سوا کسی کے لیے تسبیح جائز نہیں ہے ۔ وہ ذات پاک ہے جس نے ہر چیز کو شمار کیا اور اسے جانتا ہے ۔پاک ہے وہ ذات فضل و انعام والی ۔ پاک ہے وہ ذات قدرت و کرم والی۔اے اللہ ، میرے دل میں نور ڈال دے ، میری قبر میں نور کردیں، میرے کانوں میں نور ڈال دے۔میری آنکھوں میں نور پیدا کر دے،میرے بالوں میں نور ڈال دے،اور میری جلد میں نور پیدا فرما دے،میرے گوشت میں نور ڈال دے، میرے خون میں نور پیدا کر دے۔، میری ہڈیو ں میں بھی نور ،اور میرے سامنے بھی نور ، اور پیچھے بھی نور ، میرے دائیں جانب بھی نور، میرے بایئں جانب بھی نور،میرے اوپر بھی نور اور میرے نیچے بھی نور کر دے۔اے اللہ، میرے نور میں اضافہ فرما ، مجھے نور عطا فرما اور میرے لیے نور ہی نور پیدا فرما دے"

قَيْسٍ ← آدَمُ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِيَاسٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ

Hadith 1119

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1120

ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عن أبي صَالِح، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ" فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يَكْفِي أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ؟ قَالَ: لا، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ. فَقِيلَ لَهُ: هَلْ تُنْكِرُ مِمَّا يَقُولُ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا. وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا. فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: مَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسُوا.

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص فجر کی دو سنتیں ادا کرے تواسے اپنی دائیں کروٹ پر لیٹنا چاہیے۔ تو مردان بن حکم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے کہا:کیا ہم میں سے کسی شخص کے لیے مسجد کی طرف چلنا کافی نہیں ہو گا۔حتی کہ وہ "سنتیں پڑھ کر"لیٹ جائے۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ تک ان کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا :ابو ہریرہ "ہمیں " بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں تو ان سے عرض کی گئی : وہ جو بات بیان کر رہے ہیں کیا آپ اس کا انکار کرتے ہیں؟انہوں نے فرمایا نہیں۔لیکن انہوں نے "بکثرت احادیث بیان کرنے میں"جرئات سے کام لیا اور ہم بزدل بنے رہے، لہذا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ اس میرا کیا قصور ہے میں نے "فرامین نبوی"یاد رکھے اور وہ بھول گئے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ،

Hadith 1120

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1122

نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ [123 - ب] فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ لِلصَّلَاةِ (1).

" حضرت عائشہ رضی اللہ عنیا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعات "سنت"ادا کرتے، پھر اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ بات چیت کر لیتے ، اور اگر میں سوئی ہوتی تو آپ نماز کھڑی ہونے تک لیٹ جاتے"

وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ لِلصَّلَاةِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ب] فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً ← عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،

Hadith 1122

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1123

أَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، -قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو: ثَنَا غُنْدَرٌ، وَقَالَ الْآخَرَانِ-: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ بُنْدَارٌ: قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ وَرْقَاءَ -وَقَالَ الْآخَرَانِ: عَنْ شُعْبَةَ عَنْ وَرْقَاءَ- عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ". ثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺسے روایات کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا " جب نماز کھڑی ہو جائے تو پھر فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔"

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← وَرْقَاءُ ← شُعْبَةُ، ← وَرْقَاءَ -وَقَالَ الْآخَرَانِ: ← شُعْبَةُ، ← بُنْدَارٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← غُنْدَرٌ، وَقَالَ الْآخَرَانِ-: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1123

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1124

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي وَأَنَا أُصَلِّيهِمَا، فَنَهَانِي، فَجَذَبَنِي، وَقَالَ: "تُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ لِلصُّبْحِ أَرْبَعًا؟ ".

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "فرض" نماز کی اقامت ہو گئی اور میں نے دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں وہ سنتیں ادا کر رہا ہوں تو آپ نے مجھے منع کیا اور مجھے کھینچا اور فرمایا : تم صبح کی چار رکعات پڑھنا چاہتے ہو ؟ ابو عامر بن صالح بن رستم سے پوچھا گیا : کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ؟انہوں نے کہا :ہاں "۔ جناب ابن ابی ملکیہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :"صبح کی " نماز کی اقامت ہو گئی تو میں نے کھڑے ہو کر دو سنتیں ادا کرنی شروع کر دیں۔ تو رسول اللہ ﷺنے مجھے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا : کیا تم صبح کی چار رکعات پڑھو گئے؟۔

"تُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ لِلصُّبْحِ أَرْبَعًا؟ ← أُصَلِّيهِمَا، فَنَهَانِي، فَجَذَبَنِي، ← أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ،

Hadith 1124

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1125

ثنا أحمد بن المقدام العجلي ثنا حماد - يعني ابن زيد - ح وثنا أحمد بن عبدة قال : أخبرنا عباد - يعني ابن عباد المهلبي - ح و ثنا أحمد بن عبدة أيضا عن عبد الواحد بن زياد ح و ثنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ نا الفزاري يعني مروان بن معاوية ح و ثنا أحمد بن منيع نا أبو معاوية ح وثنا بندار ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة ح و ثنا محمد بن يحيى القطعي نا محمد بن بكر أخبرنا شعبة كلهم عن عاصم - يعني الأحول - عن عبد الله بن سرجس قال : جاء رجل ورسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الصبح فركع ركعتين فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال يا فلان أيتهما صلاتك التي صليت معنا أو التي صليت لنفسك ؟ هذا لفظ حديث حماد بن زيد

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص اس وقت آیا جبکہ رسول اللہ ﷺصبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ تو اس نے پہلے دو سنتیں ادا کیں " پھر جماعت کے ساتھ مل گیا " پھر جب رسول اللہ ﷺاپنی نماز مکمل کی تو فرمایا :" اے فلاں"تم نے کونسی نماز فرض شمار کی ہے، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے یا وہ جو تم نے اکیلے پڑھی ہے؟" یہ حماد بن زید کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٌ يَعْنِي: الْأَحْوَلَ ← شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← و، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← و، ← الْفَزَارِيُّ يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← و، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أحمد بن عبدة أيضا ← و، ← عباد يعني ابن عباد المهلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Hadith 1125

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1126

ثنا علي بن حجر السعدي بخبر غريب غريب قال : ثنا محمد بن عمار - يعني الأنصاري - عن شريك بن عبد الله - وهو ابن أبي نمر - عن أنس قال : خرج النبي صلى الله عليه وسلم حين أقيمت الصلاة فرأى ناسا يصلون ركعتين بالعجلة فقال : أصلاتان معا ؟ فنهى أن يصلي في المسجد إذا أقيمت الصلاة ثنا محمد بن عقيل نا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن شريك عن أنس بمثله إلى قوله : أصلاتان معا ؟ لم يزد على هذا قال محمد بن إسحاق : روى هذا الخبر مالك بن أنس و إسماعيل بن جعفر عن شريك بن أبي نمر عن أبي سلمة مرسلا وروى إبراهيم بن طهمان عن شريك كلا الخبرين عن أنس وعن أبي سلمة جميعا حدثنا بهما محمد بن عقيل ثنا حفص بن عبد الله نا إبراهيم بن طهمان بالإسنادين جميعا منفردين خبر أنس منفردا و خبر ابن سلمة منفردا

" حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺباہر تشریف لائے جبکہ اقامت ہو چکی تھی تو آپ نے کچھ لوگوں کو جلدی جلدی دو رکعات "سنت" ادا کرتے دیکھا ۔ آپ نے فرمایا : کیا دو نمازیں اکھٹی ادا کرنا چاہتے ہیں؟لہذا آپ نے مسجد میں اقامت ہونے کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرما دیا ۔جناب شریک نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ تک مذکورہ بالا روایت جیسی حدیث بیان کی ہے :کیا دو نمازیں اکھٹی ادا کرنا چاہتے ہیں ۔"جناب محمد بن اسحاق فرماتے ہیں:یہ روایت امام مالک بن انس اور اسماعیل بن جعفر نے شریک بن ابی نمر کے واسطے سے جناب ابو سلمہ سے مرسل بیان کی ہے اور ابراہیم بن طہمان نے شر یک کے واسطے سے یہ دونوں حدیثیں حضرت انس اور ابو سلمہ سے بیان کی ہیں۔جناب ابراہیم بن طہمان نے دونوں حدیثوں کو الگ الگ اسانید سے بیان کیا ہے۔حضرت انس کی حدیث کو الگ طور پر اور حضرت ابو سلمہ کی روایت کو الگ سند سے بیان کیا ہے۔"

Hadith 1126

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals