صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1102
نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، نَا هِشَامٌ، ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُوتِرُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءِ وَالْإِقَامَةِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، فَإِذَا سَلَّمَ كَبَّرَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَالِسًا، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ مِنَ الْفَجْرِ.
" حضرت ابو سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: " آپ تیرہ رکعات پڑھتے تھے، پھر آٹھ رکعات نفل پڑھتے پھر وتر ادا کرتے ، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعات ادا کرتے، پھر آپ رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے، اور دو رکعات( صبح کی نماز کی ) اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔" یہ ابو موسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جناب الدورقی نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ بیان کیے: " اور آپ ایک رکعت وتر پڑھتے پھر جب آپ سلام پھیرتے ، تو اللہ اکبر کہہ کر بیٹھے بیٹھے دو رکعات ادا کرتے،اور دو رکعات نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان ادا کرتے۔"
صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← هِشَامٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی
Hadith 1102
