صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1078
نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، -وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ-: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ لِيَبِيعَ بِهَا عَقَارًا لَهُ بِهَا، فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ. فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ؟ " وَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَأَشْهَدَ عَلَى مُرَاجَعَةِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَ أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ! قَالَ: عَائِشَةُ، إيتِهَا، فَاسْأَلْهَا، ثُمَّ
" حضرت سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ منورہ تشریف لائے تاکہ مدینہ منورہ میں اپنی زمین اور باغ کو فروخت کردیں۔ اس سے اسلحہ اور گھوڑے (سامان جنگ) خرید کر رومیوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوجائیں حتیٰ کہ انہیں موت آجائے۔ تو اپنی قوم کے ایک گروہ دے ملے تو انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کی قوم کی ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بھی یہی خواہش کی تھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: " کیا تمہارے لیے میری ذات مبارک میں نمونہ موجود نہیں ہے؟" لہٰذا آپ نے انہیں اس ارادے سے منع کر دیا۔ چنانچہ حضرت سعد نے اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنے پر (لوگوں کو) گواہ بنایا۔ پھر وہ ہمارے پاس واپس تشریف لائے تو انہوں نے بتایا کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے تھے او ان سے وتر کے بارے میں پوچھا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا تھا: " کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں اہل زمین میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور بتائیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔ ان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ پھر واپس آکر مجھے ان کا جواب بتانا۔ لہٰذا میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا اور انہیں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ تو انہوں نے کہا: میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا۔ میں نے ان سے ان دو جماعتوں (حضرت علی اور حضرت معاویہ کے گروہوں) کے بارے میں کچھ بھی کہنے سےروکا تھا مگر انہوں نے انکار کیا اور (ان کی صلح کے لیے) چلی گئیں۔ تو میں نے انہیں قسم دے کر (اپنے ساتھ جانے پر) راضی کیا۔ تو وہ میرے ساتھ چلے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: کیا حکیم (آیا) ہے؟ اور انہوں نے پہچان لیا تھا۔ حضرت حکیم نے کہا: جی ہاںﷺ یا کہا: کیوں نہیں (حکیم ہی آیا ہے) انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: یہ سعد بن ہشام ہے۔ انہوں نے پوچھا: ہشام کون؟ جواب دیا کہ ہشام بن عامر تو حضرت عائشہ نے (عامر کے لیے) دعائے رحمت کی اور فرمایا: عامر بہت اچھے آدمی تھے۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے متعلق بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: " ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے۔ رات کو اللہ تعالیٰ آپ کو اٹھا دیتے جب اللہ تعالیٰ آپ کو اٹھانا چاہتے تو آپ مسواک کرتے، وضو کرتے، پھر آپ آٹھ رکعات نماز پڑھتے،صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، لہٰذا آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، اور دعائیں مانگتے۔ اس جگہ ہارون نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ پھر آپ کھڑے ہوجاتے اور سلام نہ پھیرتے۔ پھر آپ نویں رکعت پڑھتے، پھر تشہد بیٹھتے، اپنے رب کی حمد وثنا بیان کرتے، نبی پر درود بھیجتے پھر آپ سلام پھیرتے تو ہمیں (اس کی آواز) سناتے۔ پھر آپ بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اے میرے پیارے بیٹھے! تو اس طرح یہ گیارہ رکعات ہوگئیں۔" جناب بندار اور ہارون دونوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: پھر جب آپ عمر رسیدہ ہوگئے اور آپ کا جسم مبارک فربہ ہو گیا تو آپ نے سات رکعات وتر ادا کیے۔ اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات ادا کیں۔ میرے پیارے بیٹے! تو یہ نو رکعات ہوگئیں۔ جناب بندار نے اپنی سند سے حضرت قتادہ سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ "اور آپ ایک سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔" جناب بندار کہتے ہیں: میں یحییٰ سے کہا: دیگر راوی "تسلیمنتہ" ایک سلام، روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعید سے اسی طرح یاد کیا ہے۔ جناب ہارون نے بھی اپنی سند سے جناب سعید سے یہ الفاظ روایت کیے۔ "پھر آپ سلام پھیرتے تو ہمیں سنا دیتے۔" جیسا کہ جناب یحییٰ کی روایت میں ہے اور عبد الصمد نے اپنی سند سے حضرت قتادہ سے اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: "پھر آپ ایک سلام پھیرتے اور ہمیں سنا دیتے۔"
-وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ-: ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي جَمِيعًا ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ
Hadith 1078
