Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1078

نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، -وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ-: أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَأَتَى الْمَدِينَةَ لِيَبِيعَ بِهَا عَقَارًا لَهُ بِهَا، فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّى يَمُوتَ. فَلَقِيَ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ فَحَدَّثُوهُ أَنَّ رَهْطًا مِنْ قَوْمِهِ أَرَادُوا ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَيْسَ لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ؟ " وَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَأَشْهَدَ عَلَى مُرَاجَعَةِ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْنَا فَأَخْبَرَ أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ! قَالَ: عَائِشَةُ، إيتِهَا، فَاسْأَلْهَا، ثُمَّ

" حضرت سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر مدینہ منورہ تشریف لائے تاکہ مدینہ منورہ میں اپنی زمین اور باغ کو فروخت کردیں۔ اس سے اسلحہ اور گھوڑے (سامان جنگ) خرید کر رومیوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوجائیں حتیٰ کہ انہیں موت آجائے۔ تو اپنی قوم کے ایک گروہ دے ملے تو انہوں نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کی قوم کی ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بھی یہی خواہش کی تھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: " کیا تمہارے لیے میری ذات مبارک میں نمونہ موجود نہیں ہے؟" لہٰذا آپ نے انہیں اس ارادے سے منع کر دیا۔ چنانچہ حضرت سعد نے اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنے پر (لوگوں کو) گواہ بنایا۔ پھر وہ ہمارے پاس واپس تشریف لائے تو انہوں نے بتایا کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے تھے او ان سے وتر کے بارے میں پوچھا تھا۔ تو انہوں نے فرمایا تھا: " کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں اہل زمین میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا: جی ضرور بتائیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہیں۔ ان کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ پھر واپس آکر مجھے ان کا جواب بتانا۔ لہٰذا میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا اور انہیں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ تو انہوں نے کہا: میں ان کی خدمت میں نہیں جاؤں گا۔ میں نے ان سے ان دو جماعتوں (حضرت علی اور حضرت معاویہ کے گروہوں) کے بارے میں کچھ بھی کہنے سےروکا تھا مگر انہوں نے انکار کیا اور (ان کی صلح کے لیے) چلی گئیں۔ تو میں نے انہیں قسم دے کر (اپنے ساتھ جانے پر) راضی کیا۔ تو وہ میرے ساتھ چلے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: کیا حکیم (آیا) ہے؟ اور انہوں نے پہچان لیا تھا۔ حضرت حکیم نے کہا: جی ہاںﷺ یا کہا: کیوں نہیں (حکیم ہی آیا ہے) انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: یہ سعد بن ہشام ہے۔ انہوں نے پوچھا: ہشام کون؟ جواب دیا کہ ہشام بن عامر تو حضرت عائشہ نے (عامر کے لیے) دعائے رحمت کی اور فرمایا: عامر بہت اچھے آدمی تھے۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے متعلق بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: " ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے۔ رات کو اللہ تعالیٰ آپ کو اٹھا دیتے جب اللہ تعالیٰ آپ کو اٹھانا چاہتے تو آپ مسواک کرتے، وضو کرتے، پھر آپ آٹھ رکعات نماز پڑھتے،صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، لہٰذا آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے، اور دعائیں مانگتے۔ اس جگہ ہارون نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ پھر آپ کھڑے ہوجاتے اور سلام نہ پھیرتے۔ پھر آپ نویں رکعت پڑھتے، پھر تشہد بیٹھتے، اپنے رب کی حمد وثنا بیان کرتے، نبی پر درود بھیجتے پھر آپ سلام پھیرتے تو ہمیں (اس کی آواز) سناتے۔ پھر آپ بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اے میرے پیارے بیٹھے! تو اس طرح یہ گیارہ رکعات ہوگئیں۔" جناب بندار اور ہارون دونوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: پھر جب آپ عمر رسیدہ ہوگئے اور آپ کا جسم مبارک فربہ ہو گیا تو آپ نے سات رکعات وتر ادا کیے۔ اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعات ادا کیں۔ میرے پیارے بیٹے! تو یہ نو رکعات ہوگئیں۔ جناب بندار نے اپنی سند سے حضرت قتادہ سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ "اور آپ ایک سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے۔" جناب بندار کہتے ہیں: میں یحییٰ سے کہا: دیگر راوی "تسلیمنتہ" ایک سلام، روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سعید سے اسی طرح یاد کیا ہے۔ جناب ہارون نے بھی اپنی سند سے جناب سعید سے یہ الفاظ روایت کیے۔ "پھر آپ سلام پھیرتے تو ہمیں سنا دیتے۔" جیسا کہ جناب یحییٰ کی روایت میں ہے اور عبد الصمد نے اپنی سند سے حضرت قتادہ سے اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: "پھر آپ ایک سلام پھیرتے اور ہمیں سنا دیتے۔"

-وَهَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ-: ← سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبِي جَمِيعًا ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ

Hadith 1078

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1079

كذلك ثنا محمد بن يحيى نا عبد الصمد ثنا هشام ح وثنا علي بن سهل الرملي نا مؤمل بن إسماعيل نا عمارة بن زادان ثنا ثابت عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يوتر بتسع ركعات فلما أسن وثقل أوتر بسبع وصلى ركعتين وهو جالس يقرأ فيهن بالرحمن والواقعة قال أنس : ونحن نقرأ بالسور القصار { إذا زلزلت } { قل يا أيها الكافرون } ونحوهما

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نو رکعات وتر ادا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کی عمر شریف زیادہ ہو گئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو آپ نے سات رکعات وتر پڑھنے شروع کردیے۔ اور آپ دو رکعات بیٹھ کر ادا کرتے، ان میں سورہ رحمٰن اور سورہ واقعہ کی تلاوت کرتے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اور ہم چھوٹی سورتیں جیسے (إِذَا زُلْزِلَتْ) اور (قُلْ یَاأَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ) اور ان جیسی سورتیں پڑھتے ہیں۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةُ بْنُ زَادَانَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← كَذَلِكَ

Hadith 1079

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1080

نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ.

" حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھے ہیں، ابتدائی رات میں بھی، درمیانی رات میں بھی اور رات کے آخری حصے میں بھی ادا کیے ہیں۔"

مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ. ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← بُنْدَارٌ

Hadith 1080

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1081

نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ: أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ، آخِرَ اللَّيْلِ أَوْ أَوَّلَهُ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ مِنْ آخِرِهِ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.

" حضرت عبد اللہ بن قیس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ وتر کیسے ادا کرتے تھے، آخری رات یا رات کے شروع میں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ ہر حصے میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ کبھی رات کے شروع میں پڑھ لیتے ، اور کبھی رات کے آخری حصے میں ادا کر لیتے ، تو میں نے کہا: سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملہ میں وسعت و گنجائش رکھی ہے۔"

مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بحر بن نصر

Hadith 1081

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1082

نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ ح وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ وَالْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ابْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ؛ ح وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا".

" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔"

"اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ← وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ وَالْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ ابْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ

Hadith 1082

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1083

نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَوْصَانِي حَبِيبِي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا، أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِالْوِتْرِ [119 - ب] قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، خَرَّجْتُهَا فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ.

" حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے حبیب ﷺ نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی تھی، میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں کا، ان شاء اللہ۔ آپ نے مجھے چاشت کی نماز پڑھنے کی وصیت فرمائی ، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے تین باتوں کی وصیت فرمائی۔" میں نے اسے ایک دوسری جگہ بیان کر چکا ہوں۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Hadith 1083

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1084

نا أبو يحيى محمد بن عبد الرحيم البزاز بخبر غريب غريب انا يحيى بن إسحاق السيلحيني ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن عبد الله بن رباح عن أبي قتادة : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر : متى توتر ؟ قال : أوتر قبل أن أنام فقال لعمر متى توتر ؟ قال : أنام ثم أوتر قال : فقال لأبي بكر : أخذت بالحزم أو بالوثيقة وقال لعمر : أخذت بالقوة قال أبو بكر : هذا عند أصحابنا عن حماد مرسل ليس فيه أبو قتادة

" حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیتا ہوں۔ پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب ادا کرتے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ میں سو جاتا ہوں پھر (بیدار ہوکر) وتر پڑھتا ہوں۔ تو نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: تم نے احتیاط اور پختہ کام اختیار کیا ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےکہا، تم نے مضبوط اور قوت والا کام کیا ہے۔ امام ابو بکر کہتے ہیں: یہ روایت ہمارے اصحاب کے نزدیک حماد کی سند سے مرسل ہے، اس میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واسطہ مذکور نہیں ہے۔"

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ← أبو يحيى محمد بن عبد الرحيم البزاز بخبر غريب غريب

Hadith 1084

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1085

ثنا محمد بن يحيى و أحمد بن سعيد الدارمي قالا : ثنا محمد بن عباد - هو المكي - نا يحيى بن سليم عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لأبي بكر : متى توتر ؟ قال : أوتر ثم أنام قال : بالحزم أخذت وسأل عمر فقال : متى توتر ؟ فقال : أنام ثم أقوم من الليل فأوتر قال : فعلي فعلت وقال محمد بن يحيى في قصة عمر قال : فعل القوي فعلت

" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب ادا کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں وترادا کرتا ہوں پھر سوتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم نے احتیاط والا کام اختیار کیا ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے عرض کی:میں سوتا ہوں پھر رات کو(اٹھ کر) نماز پڑھتا ہوں تو وتر بھی ادا کر لیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم نے میرا عمل اختیار کیا ہے۔ جناب محمد بن یحییٰ نے حضرت عمر کے قصے میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: تم طاقتور آدمی کا کام کرتے ہو۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← محمد بن عباد هو المكي ← محمد بن يحيى و أحمد بن سعيد الدارمي

Hadith 1085

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1086

حدثنا علي بن خشرم أخبرنا عيسى - يعني ابن يونس - ح وثنا علي أيضا أخبرنا عبد الله - يعني ابن إدريس - ح وثا يوسف بن موسى ثنا جرير جميعا عن الأعمش ح وثنا أبو موسى ثنا معاوية ح وثنا يعقوب بن الدوقي نا محمد بن عبيد قالا : ثنا الأعمش ح وثنا أبو موسى نا يحيى بن حماد ثنا أبو عوانة عن سليمان - وهو الأعمش - عن أبي سفيان عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من خاف منكم ألا يستيقظ من آخر الليل فليوتر من أوله وليرقد ومن طمع منكم أن يستيقظ في آخر الليل فليوتر من آخره فإن صلاة آخر الليل محضورة فذلك أفضل هذا حديث عيسى وفير حديث جرير و أبي عوانة قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم

" حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور تم میں جس شخص کو رات کے آخری حصے میں بیدار ہونے کا طمع ہو تو وہ آخری پہر میں وتر ادا کرے۔ بے شک رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اور یہ افضل ہے۔ یہ جناب عیسیٰ کی روایت ہے۔ جناب جریر اور ابو عوانہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: "میں نے نبی کریم ﷺ سنا۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سُفْيَانَ ← سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← وثنا يعقوب بن الدوقي ← مُعَاوِيَةَ، ← وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ← الْاَعْمَشِ ← جرير جميعا ← وثا يوسف بن موسى ← عبد الله يعني ابن إدريس ← وَثَنَا عَلِيٌّ أَيْضًا، ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Hadith 1086

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1087

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ".

" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ،

Hadith 1087

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1088

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ". وَقَالَ أَحْمَدُ: بَادِرْ.

" حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھنے میں جلدی کیا کرو۔" جناب احمد کی روایت میں (واحد کا صیغہ آیا) ہے کہ "تو جلدی کر۔"

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Hadith 1088

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ ذِکرِ الوِترِ وَمَا فِیہِ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1089

ثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا". ثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ، نَا عَلِيٌّ -يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ- عَنْ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نَضْرَةَ الْعَوْفِيُّ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُمْ: أَنَّهُمْ سَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: "أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ".

" حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم صبح کرنے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔" جناب ابو نضرہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں بتایا: " انہون نے نبی کریم ﷺ سے وتر کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَى،

Hadith 1089

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals