Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1043

ثنا محمد بن يحيى نا أبو سعيد الجعفي حدثني ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب حدثني سعيد بن المسيب و عبيد الله بن عبد الله و أبو سلمة بن عبد الرحمن و أبو بكر بن عبد الرحمن أن أبا هريرة قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر قال محمد بن يحيى بمثل حديث أبي صالح غير أنه لم يذكر كلام الزهري في آخر الحديث

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، جناب محمد بن یحییٰ نے بھی ابو صالح کی طرح حدیث بیان کی ہے مگر انہون نے حدیث کے آخر میں امام زہری کا کلام ذکر نہیں کیا۔"

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 1043

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1044

ثنا محمد نا سليمان بن عبد الرحمن نا الوليد بن مسلم نا عبد الرحمن بن عمرو قال : سألت الزهري عن رجل سها في صلاته فتكلم فقال : أخبرني سعيد بن المسيب و أبو سلمة و عبيد الله بن عبد الله أن أبا هريرة قال ثم ذكر نحو حديثهم في قصة ذي اليدين

" جناب عبدالرحمان بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہری سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنی نماز میں بھول کر گفتگو کرتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: مجھے سعید بن مسیّب، ابو سلمہ اور عبید اللہ بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں پھر ذوالیدین کے قصے میں مذکورہ ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔"

سعيد بن المسيب و أبو سلمة و عبيد الله بن عبد الله ← رَجُلٍ سَهَا فِي صَلاَتِهِ فَتَكَلَّمَ ← سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ ← عَبْد الرَّحْمَن بْنِ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 1044

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1045

ثنا محمد نا أبو صالح عن الليث عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن و سعيد بن المسيب و أبي بكر بن عبد الرحمن و ابن أبي حثمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسجد يوم ذي اليدين سمعت محمد بن يحيى يقول في كتاب العلل بعد ذكره أسانيد هذه الأخبار وقال : بين ظهراني هذه الأسانيد

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالیدین والے دن (سہو کے) سجدے نہیں کیے۔ میں نے محمد بن یحییٰ کو سنا وہ ان روایات کی اسانید کتاب العلل میں بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ان اسانید کے درمیان یہ اسانید بھی ہیں (جو درج ذیل ہیں۔)"

Hadith 1045

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1046

وثنا محمد قال : وحدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري عن أبي سلمة و أبي بكر بن سليمان عن أبي هريرة :

" امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ کی سند سے ابو بکر بن سلیمان کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي سلمة و أبي بكر بن سليمان ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← وحدثنا عبد الرزاق ← وثنا محمد

Hadith 1046

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1047

حدثنا محمد قال : وفيما قرأت على عبد الله بن نافع وحدثني مطرف عن ابن شهاب عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة قال : بلغني

" جناب ابو بکر بن سلیمان بَلَغَنِیْ (مجھے یہ روایت پہنچی ہے) کے الفاظ کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔"

بلغني ← أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← ابْنِ شِهَابٍ، ← على عبد الله بن نافع وحدثني مطرف ← وفيما ← مُحَمَّدٍ

Hadith 1047

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1048

وثنا محمد أيضا قال وثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح عن ابن شهاب أن أبا بكر بن سليمان بن أبي حثمة أخبره أنه بلغه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بهذا الخبر

" جناب ابو بکر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ انہیں خبر ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔"

أنه بلغه ← ابن شهاب أن أبا بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← وثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ← وَثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا،

Hadith 1048

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1049

ثنا محمد نا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهري أخبرني أبو بكر بن سليمان بن أبي حثمة : أن النبي صلى الله عليه وسلم سها في صلاته

" جناب ابو بکر بن سلیمان بن ابی حشمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی نماز میں بھول گئے ۔"

أبو بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 1049

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1050

وثنا محمد نا مطرف وقرأنه على ابن نافع عن مالك عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب و أبي سلمة بن عبد الرحمن : مثل ذلك

" جناب ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیّب اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔"

سعيد بن المسيب و أبي سلمة بن عبد الرحمن مثل ذلك ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← مطرف وقرأنه على ابن نافع ← وثنا محمد

Hadith 1050

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1051

ثنا محمد ونا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح قال قال ابن شهاب وأخبرني هذا الخبر سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : وأخبرنيه أبو سلمة بن عبد الرحمن و أبو بكر بن عبد الرحمن و عبيد الله بن عبد الله : سمعت محمد بن يحيى يقول : وهذه الأسانيد عندنا محفوظة عن أبي هريرة إلا حديث أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة فإنه يتخالج في النفس منه أن يكون مرسلا لرواية مالك و شعيب و صالح بن كيسان وقد عارضهم معمر فذكر في الحديث أبا هريرة والله أعلم قال أبو بكر : فقوله في خبر محمد بن كثير عن الأوزاعي في آخر الخبر : ولم يسجد سجدتي السهو حين لقنه الناس إنما هو من كلام الزهري لا من قول أبي هريرة ألا ترى محمد بن يوسف لم يذكر هذه اللفظة في قصته ولا ذكره ابن وهب عن يونس ولا الوليد بن مسلم عن عبد الرحمن بن عمرو ولا أحد ممن ذكرت حديثهم خلا أبي صالح عن الليث عن ابن شهاب فإنه سها في الخبر وأوهم الخطأ في روايته فذكر آخر الكلام الذي هو من قول الزهري مجردا عن أبي هريرة إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسجد يوم ذي اليدين ولم يحفظ القصة بتمامها و الليث في خبره عن يونس قد ذكر القصة بتمامها وأعلم أن الزهري إنما قال : لم يسجد النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ إنه لم يحدثه أحد منهم أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد يومئذ لا أنهم حدثوه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يسجد يومئذ وقد تواترت الأخبار عن أبي هريرة من الطرق التي لا يدفعها عالم بالأخبار أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد سجدتي السهو يوم ذي اليدين قال أبو بكر : قد أمليت خبر شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة وطرق أخبار يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة وطرق أخبار محمد بن سيرين عن أبي هريرة وخبر داود بن الحصين عن أبي سفيان مولى ابن أبي أحمد عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد يوم ذي اليدين سجدتي السهو قال أبو بكر : خرجت طرق هذه الأخبار وألفاظها في كتاب الكبير

امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث بیان کرتے ہیں: (امام صاحب فرماتے ہیں) میں نے محمد بن یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ تمام اسانید ہمارے نزدیک محفوظ و ثابت ہیں سوائے ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ کی روایت کے۔ اس کے بارے میں میرے دل میں خدشہ ہے کہ یہ مالک، شعیب اور صالح بن کیسان کی روایت سے مرسل ہوگی کیونکہ معمر نے ان کے بر خلاف حدیث کی سند میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واسطہ بیان کیا ہے۔ (واللہ اعلم) امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: محمد بن کثیر کی اوزاعی سے روایت (۱۰۴۰) کے آخر میں یہ الفاظ "اور آپ نے سہو کے دو سجدے نہ کیے جب آپ کو لوگوں نے یاد دہانی کرائی: یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ امام زہری کا کلام ہے۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ محمد بن یوسف (روایت نمبر ۱۰۴۱) نے یہ الفاظ اس قصے میں بیان نہیں کیے۔ نہ ابن وہب نے یونس کی روایت میں اور نہ ولید بن مسلم نے عبدالرحمٰن بن عمرو کی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں (دیکھیں روایت نمبر ۱۰۴۳،۱۰۴۴) جن راویوں کی روایات میں ذکر کی ہیں ان میں سے کسی نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے، سوائے ابو صالح کے جو لیث کے واسطے سے امام زہری سے بیان کرتے ہیں، بے شک ان سے روایت میں بھول ہوئی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں غلطی کا وہم ڈال دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے امام زہری کی آخری کلام حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کے بغیر ہی ذکر کر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالیدین (کے واقعہ) والے دن (سہو) کے سجدے نہیں کیے اور مکمل قصہ یا د نہیں رکھا۔ جبکہ لیث نے یونس سے روایت میں مکمل قصہ بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ بے شک امام زہری نے فرمایا: اس دن نبی کریم ﷺ نے سہو کے سجدے نہیں کیے اور یہ کہ ان کے اساتذہ میں سے کسی نے انہیں بیان نہیں کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس دن سجدے کیے تھے۔ یہ نہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہیں بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس دن سجدے نہیں کیے تھے۔ بلاشبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متواتر روایات کے ساتھ مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ذوالیدین (کے واقعہ ) والے دن سہو کے سجدے کیے تھے۔ ان روایات کا انکار نبی کریم ﷺ کے فرامین کی معرفت رکھنے والا شخص نہیں کر سکتا۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں: میں شعبہ کی سعد بن ابراہیم کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت املاء کرا چکا ہوں، یحییٰ بن ابی کثیر کی ابو سلمہ کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کے طرق بھی بیان کر چکا ہوں۔ اور محمد بن سیر ین کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اسانید بھی بیان کر چکا ہوں، داؤد بن حصین کی ابو سفیان مولیٰ ابن ابی احمد کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت بھی بیان کر چکا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے ذوالیدین ( کے واقعہ ) والے دن سہو کے دو سجدے کیے تھے۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں: میں ان روایات کی اسانید اور الفاظ کتاب "الکبیر" میں بیان کر چکا ہوں۔

صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدٍ

Hadith 1051

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1052

أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ، وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ.

"حضرت معاویہ بن حدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن نماز پڑھائی تو (نماز مکمل ہونے سے پہلے) سلام پھیر دیا حالانکہ نماز کی ایک رکعت ابھی باقی تھی۔"

مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Hadith 1052

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1053

نَا بُنْدَارٌ، نَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ سَهَوْتَ فَسَلَّمْتَ فِي رَكْعَتَيْنِ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَتَمَّ تِلْكَ الرَّكْعَةَ، وَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ سَهَوْتَ. فَقِيلَ لِي: تَعْرِفُهُ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ. فَمَرَّ بِي رَجُلٌ، فَقُلْتُ: هُوَ هَذَا، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ. هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ الْقِصَّةُ غَيْرُ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ، لِأَنَّ الْمُعْلِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَهَا فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ. وَمُخْبِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ ذُو الْيَدَيْنِ، وَالسَّهْوُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ إِنَّمَا كَانَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ، وَفِي هَذِهِ الْقِصَّةِ إِنَّمَا كَانَ السَّهْوُ فِي الْمَغْرِبِ، لَا فِي الظُّهْرِ وَلَا فِي الْعَصْرِ. وَقِصَّةُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قِصَّةُ الْخِرْبَاقِ قِصَّةٌ ثَالِثَةٌ؛ لِأَنَّ التَّسْلِيمَ فِي خَبَرِ عِمْرَانَ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ، وَفِي قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، وَفِي خَبَرِ عِمْرَانَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَتَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْحُجْرَةِ، وَفِي خَبَرِ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَكُلُّ هَذِهِ أَدِلَّةٌ أَنَّ هَذِهِ الْقِصَصَ هِيَ ثَلَاثُ قَصَصٍ، سَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً فَسَلَّمَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ، وَسَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ، وَسَهَا مَرَّةً ثَالِثَةً فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ، فَتَكَلَّمَ فِي الْمَرَّاتِ الثَّلَاثِ ثُمَّ أَتَمَّ صَلَاتَهُ.

"حضرت معاویہ بن حدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ بھول گئے اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو ایک آدمی نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں اور آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ہے تو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نےنماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ نے وہ رکعت مکمل کی، اور میں نے لوگوں سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے کہا تھا: "اے اللہ کے رسول ! بے شک آپ بھول گئے ہیں" تو مجھے کہا گیا: کیا آپ اسے پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا:، نہیں، مگر اسے دیکھ لوں ( تو پہچان سکتا ہوں ) پھر میرے پاس سے ایک آدمی گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص ہے، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبید اللہ ہیں۔ یہ بندار کی حدیث ہے۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں: یہ قصہ ذوالیدین کے قصے کے علاوہ ہے۔ کیونکہ اس قصے میں نبی کریم ﷺ کو بھول کی اطلاع دینے والا طلحہ بن عبید اللہ ہے۔ جبکہ اس قصے میں نبی کریم ﷺ کو بتانے والا ذوالیدین تھا۔ ذوالیدین کے قصے میں نبی اکرم ﷺ کو نماز ظہر یا عصر میں بھول ہوئی تھی اور اس واقعے میں آپ سےبھول مغرب کی نماز میں ہوئی، ظہر اور عصر کی نماز میں نہیں ہوئی۔ حضرت عمر ان بن حصین کی روایت میں مذکور خرباق کا واقعہ تیسرا واقعہ ہے۔ کیونکہ حضرت عمر ان کی روایت میں تیسری رکعت کے بعد سلام پھیرنے کا ذکر ہے۔ جبکہ ذوالیدین کے واقعے میں دوسری رکعت کے بعد سلام پھیرنے کا ذکر ہے، حضرت عمر ان کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ (نماز کے بعد ) اپنے حجر ہ مبارک میں تشریف لے گئے تھے پھر آپ حجرہ سے باہر تشریف لائے، اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی علیہ السلام مسجد (کے قبلے) میں آڑی رکھی ہوئی لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔ یہ تمام دلائل ا س بات کے شاہد ہیں کہ یہ تینوں الگ الگ واقعات ہیں۔ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ بھولے تو آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، ایک اور مرتبہ بھولے تو آپ نے تیسری رکعت کے بعد سلام پھیرا، تیسری بار بھولے تو مغرب کی دوسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا۔ تینوں مرتبہ آپ نے کلام کی، پھر اپنی بقیہ نماز مکمل کی۔"

لَهُ رَجُلٌ: ← صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَسَهَا فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ: ← سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بُنْدَارٌ

Hadith 1053

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1054

ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، نَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ خَالِدٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو هَاشِمٍ [116 - ب] زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ- ثَنَا خَالِدٌ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ؛ ح وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ثَنَا بِهِ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ الْحُجْرَةَ، فَقَامَ الْخِرْبَاقُ -رَجُلٌ بَسِيطُ الْيَدَيْنِ- فَنَادَاهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَخَرَجَ مُغْضَبًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَسَأَلَ، فَأُخْبِرَ، فَصَلَّى تِلْكَ الصَّلَاةَ الَّتِي كَانَ تَرَكَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. وَقَالَ الْآخَرُونَ: ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ.

" حضرت عمر ان بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کی تیسری رکعت کے بعد سلام پھیر دیا، پھر آپ اٹھ کر حجرہ مبارک میں تشریف لے گئے، تو خرباق لمبے ہاتھوں والے شخص نے آپ کو پکارا کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ توآ پ غصے کے ساتھ اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، آپ نے (حقیقت حال) دریافت کی۔ تو آپ کو بتایا گیا (کہ ایک رکعت رہ گئی ہے) آپ نے چھوڑی ہوئی نماز ادا کی پھر دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا۔ یہ بندار کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ جبکہ دوسرے راویوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: " پھر آپ نے سلام پھیرا ، پھر دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔"

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← بِهِ خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الصَّنْعَانِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← خَالِدٌ، ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو هَاشِمٍ ب] زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← خَالِدٌ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ،

Hadith 1054

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals