Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1032

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّهُ نَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ، فَاسْتَتَمَّ (1)، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ انْصَرَفَ. ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنِي أَجْلِسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَنِيعٍ. قَالَ [113 - ب] أَبُو بَكْرٍ: لَا أَظُنُّ أَبَا مُعَاوِيَةَ إِلَّا وَهِمَ فِي لَفْظِ هَذَا الْإِسْنَادِ.

حجرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ وہ دو رکعتوں میں ( تشہد بیٹھنے کی بجائے )کھڑے ہو گئے تو مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر انہیں متوجہ کیا ۔ تو انہون نے نماز کی اور نماز ختم کرتے وقت دو سجدے کر لیے ، اور فرمایا: تمہارا کیا خیال تھا کہ میں بیٹھ جاوں گا ، بلا شبہ میں نے اس طرح کیا ہے جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ ابن منیع کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ امام ابو بکر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ابو معاویہ کو اس سند میں وہم ہو اہے۔"

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1032

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1033

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا رَوْحٌ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". هَكَذَا قَالَ أَبُو مُوسَى: عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الشَّيْخُ يَخْتَلِفُ أَصْحَابُ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي اسْمِهِ. قَالَ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَهَذَا الصَّحِيحُ -عِلْمِي-.

" حضرت عب د اللہ بن جعفر ؓ نبی کریم ﷺ سے باین کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اپنی نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔" جناب ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ بن جعفر ؓ کے شاگرد کا نام عقبہ بن محمد بن حارچ ہی بیان کیا ہے۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : اس شیخ ( عقبہ بن محمد ) کے نام میں ابن جریح کے اصحاب کا اختلاف ہے ۔ حجان بن محمد اور عبد الرزاق نے ( اس کا نام ) عقبہ بن محمد بیان کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق یہی صحیح ہے۔

عُتْبَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَهَذَا الصَّحِيحُ -عِلْمِي-. ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: ← أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الشَّيْخُ يَخْتَلِفُ أَصْحَابُ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي اسْمِهِ. ← عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ. ← أَبُو مُوسَى، ← "مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ". هَكَذَا ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ. ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ، أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1033

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1034

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ وَبِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، -وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ- ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَسَهَا، فَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ، أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: "مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَمَا نَسِيتُ". فَقَالَ: "أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " فَقَامَ، فَصَلَّى، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَرٌ مَا رَوَاهُ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرُ أَبِي كُرَيْبٍ وَهَذَا، يَعْنِي بِشْرَ بْنَ خَالِدٍ.

" حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی اور بھول گئے تو آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ ذوالیدین نے آپ سے عرض کیا : " کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں ۔ پھر آپ نے( صحابہ کرام سے )پوچھا : کیا ایسا ہی ہوا ہے جیسا ذولیدین کہہ رہا ہے ؟ (صحابہ کرام نے عرض کی جی ہاں ) تو آپ کھڑے ہوئے اور ( باقی ) نماز پڑھی پھر دو سجدے کیے۔ امام ابو بکر کہتے ہیں : "یہ روایت ابو اسامہ سے صرف ابو کریب اور بشر بن خالد لہی بیان کرتے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← -وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ- ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← محمد بن العلاء الهمداني ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1034

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1035

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا حُسَيْنٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَسَنِ- ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛

" حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سہہ پہر کی دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، آپ نے دورکعتیں ادا کرنے کت بعد سلام پھیر دیا ۔ پھر آپ مسجد ( کے قبلے ) میں آڑی ترچھی پڑی ہوئی لکڑی کے پاس تشریف لائےاور اس پر اپنے دونوں ہاتھو ں کے ساتھ ٹیک لگائی۔ گویا کہ آپ سخت ناراض ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ( اسی دوران میں ) جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے نکل گئے ۔ اور ( آپس میں ) کہنے لگے: نماز کم ہو گئی ہے۔ حالانکہ لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر بھی موجود تھے مگر وہ بھی آپ سے بات کرنے سے ڈرگئے۔ لوگوں میں ایک لمبے ہاتھوں والا آدمی بھی تھا ، جسے ذولیدین کہا جاتا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہو گئی ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہ میں بھولا ہوں نہ نماز کم ہوئی ہے ۔ پھر آپ نے لوگون سے پوچھا : کیا ذولیدین ٹھیک کہہ رہا ہے؟ صحابہ نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : آپ تشریف لائے اور چھوڑی ہوئی نماز ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں جیسا سجدہ یا اس سے بھی چویل سجدہ کیا ۔ پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور اللہ اکبر کہا ۔ ( ابن عون ) راوی کہتے ہیں ۔ بسا اوقات شاگردوں نے ( ابن سیرین سے ) کہا: " پھر آپ سلام پھیرا " تو ابن سیرین نے فرمایا : مجھے حضرت عمران بن حصین ؓ سے خبر ملی ہے کہ انہوں نے ( اپنی روایت میں ) فرمایا : پھر آپ نے سلام پھیرا ۔" ( یہ لافاظ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی مذکورہ بالا روایت میں نہیں ہیں اس لیے ابن سیسرین نے شاگردوں کے استفسار پر حضرت عمران سے یہ الفاظ بیان کیے) یہ جناب صنعانی کی روایت کے الفاظ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← حُسَيْنٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَسَنِ- ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُحَمَّدٍ ← ابْنِ عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← «صَلَّى بِنَا أَبُو الْقَاسِمِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1035

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1036

وأخبرنا أبو بكر نا عيسى بن إبراهيم الغافقي ثنا ابن وهب حدثني عمر ببن الحارث حدثني قتادة بن دعامة عن ابن سيرين عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله يعني أنه سجد سجدتي السهو يوم جاءه ذو اليدين بعد التسليم قال أبو بكر : خبر ابن سيرين عن أبي هريرة دال على إغفال من زعم أن هذه القصة كانت قبل نهي النبي صلى الله عليه وسلم وألفاظ رواة هذا الخبر علم أن هذا القول جهل من قائله في خبر ابن سيرين عن أبي هريرة : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهكذا رواه مالك بن أنس عن داود بن الحصين عن أبي سفيان مولى بني أبي أحمد عن أبي هريرة قال : صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم

" حضرت ابو ہریرہ ؓ نبئی کریم ﷺ سےبمذکورہ بالا حدیث کی مثل روایت بیان کرتے ہیں۔ یعنی" آپ نے سہو کے دو سجدے کیے جس دن سلام پھیرنے کے بعد ذولیدین آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ( اور نماز میں کمی کی اطلاع دی تھی ) امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ابن سیرین کی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے یہ حدیث اس شخص کی غفلت پر دلالت کرتی ہے جس کا خیال ہے کہ یہ قصہ نبی اکرم ﷺ کے نماز میں کلام کرنے کی ممانعت سے پہلے کا ہے اور جو شخص علمی سوجھ بوجھ رکھتا ہو اور اس نے نبی اکرم ﷺ کے فرامین اوراس حدیث کے راویون کے الفاظ میں غور کیا ہو وہ جان لیتا ہے کہ یہ بات کہنے والے کی جہالت پر مبنی ہے ۔جناب ابن سیرین کی حضرت ابو ہریرہ ب سے مروی حدیث کے یہ الفاظ ہیں : " رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔" اسی طرح امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت بنی ابی احمد کے آزاد کردہ غلام جناب ابو سفیان کے واسطے سے حجرت ابو ہریرہ ؓ سے بیان کی ہے ۔اس مین "صلی بنا "کی بجائے "صلی لنا "کے الفاظ ہیں ( مطلب ایک ہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔)"

أبي هريرة دال على إغفال من زعم ← أبو بكر خبر ابن سيرين ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ، ← عمر ببن الحارث ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ

Hadith 1036

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1037

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يونس بن عبد الأعلى الصدفي أخبرنا ابن وهب أن مالكا حدثهم عن داود بن الحصين عن أبي سفيان مولى لبني أبي أحمد قال : سمعت أبا هريرة يقول : صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر فسلم في ركعتين فقام ذو اليدين فقال : أقصرت الصلاة يا رسول الله أم نسيت ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كل ذلك لم يكن فقال : قد كان بعض ذلك يا رسول الله فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس فقال : أصدق ذو اليدين ؟ فقالوا : نعم فأتم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما بقي من الصلاة ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد التسليم

" بنی ابی احمد کے آزاد کردہ غلام جناب ابو سفیان روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: " رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائیتو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ ذولیدین نے کھڑے پو کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو سرول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ تو اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اس میں سے کچھ بات تو یقینا ہوئی ہے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : ذولیدین کیا سچ کہہ رہا ہے ؟ تو صحابہ نے عرض کی : جی ہاں ! پس رسول اللہ ﷺ نے بقیہ بنماز مکمل کی، پھر آپ نے سلام پھیرنے کے بعد ( تشہد ) مین بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔"

أقصرت الصلاة ← صلى لنا رسول الله العصر فسلم في ركعتين فقام ذو اليدين ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أبي سفيان مولى لبني أبي أحمد ← دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1037

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1038

قال أبو بكر : وهكذا رواه أبان بن يزيد العطار عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم فذكر القصة ثناه محمد بن يحيى نا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان بن يزيد قال أبو بكر : فأبو هريرة يخبر أنه شهد هذه الصلاة مع النبي صلى الله عليه وسلم التي فيها هذه القصة فكيف تكون قصة ذي اليدين هذه قبل نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة ؟ و ابن مسعود يخبر أن النبي صلى الله عليه وسلم أعلمه عند رجوعه من أرض الحبشة لما سلم على النبي صلى الله عليه وسلم أن مما أحدث الله أن لا يتكلموا في الصلاة ورجوع ابن مسعود من أرض الحبشة كان قبل وقعة بدر إذ ابن مسعود قد كان شهد بدر وادعى أنه قتل أبا جهل بن هشام يومئذ قد أمليت هذه القصة في كتاب الجهاد و أبو هريرة إنما قدم المدينة بعد بدر بسنين قدم المدينة والنبي صلى الله عليه وسلم بخيبر وقد استخلف على المدينة سباع بن عرفطة الغفاري

" امام ابو بکر فرماتے ہیں : اسی طرح یہ روایت ابان بن یزید العطار بن یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے حضرت ابو سلمہ کی حجرت ابو ہریرہ سے روایت بیان کی ہے ۔" کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی۔" پھر پورا قصہ بیان کیا ۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت ابو ہریرہ ؓ بتارہے ہیں کہ وہ اس نماز میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے ، جس میں یہ قصہ ہے۔ لہٰذا ذولیدین کا یہ قصہ نماز میں نبی اکرم ﷺ کے کلام کو منع کرنے سے پہلے کا کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ ابن مسعود ؓ بتارہے ہیں کہ جب انہوں نے ملک حبشہ شے واپسی پر نبی ﷺ کو ( حالت نماز میں ) سلام کیا تو آپ نے انہیں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نیا حکم دے دیاہے کہ نمازی نماز کے دواران بات چیت نہ کیا کریں۔اور سر زمین حبشہ سے حضرت ابن مسعود ؓ کی واپسی جنگ بدر سے پہلے ہوئی تھی کیونکہ حضرت ابن مسعود ؓ نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی اور انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہوں نے اسی دن ابو جہل بن ہشام کو قتل کیا تھا ۔" میں نے یہ قصہ کتاب الجہاد میں بیان کیا ہے اور حضرت ابو ہریرہ ؓ جنگ بدر کے کئی سال بعد مدینہ منورہ تشریف لائے ہیں ۔ جب وہ مدینہ آئے تھے تو اس وقت نبی کریم ﷺ ( غزوہ خیبر کے لیے) خیبر میں تھے۔ اور آپ مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عرفطہ غفاری ؓ کو اپنا قائم مقام بنایا تھا ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أبو بكر وهكذا رواه أبان بن يزيد العطار

Hadith 1038

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1039

أنا أبو طاهر نا أبو بكر أنا أبو عمار نا الفضل بن موسى نا خثيم بن عراك بن مالك عن أبيه عن أبي هريرة : قال : قدمت المدينة والنبي صلى الله عليه وسلم بخيبر وقد استخلف على المدينة سباع بن عرفطة قد خرجت هذا الخبر في غير هذا الموضع وخرجت قدومه على النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر في كتاب الجهاد

جناب عراق بن مالک حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: " میں اس وقت مدینہ منورہ آیا جبکہ نبی کریم ﷺ خیبر میں تھے۔ اور آپ نے مدینہ منورہ میں حضرت سبا ع بن عرفطہ ؓ کو اپنا جانشین بنایا تھا ۔ ( مصنف کہتے ہیں ) میں نے یہ روایت اس کے علاوہ مقام پر بھی بیان کی ۔ جبکہ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی خیبر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضری کے متعلق کتاب الجہاد میں میں نے روایت بیان کی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← خُثَيْمُ بْنُ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1039

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1040

وقال إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم سمعت أبا هريرة يقول : صحبت النبي صلى الله عليه وسلم ثلاث سنوات ثناه بندار نا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر وبعده وهو يخبر أنه شهد هذه الصلاة مع النبي صلى الله عليه وسلم فمن يزعم أن خبر ابن مسعود ناسخ لقصة ذي اليدين لو تدبر العلم وترك العناد ولم يكابر عقله علم استحالة هذه الدعوى إذ محال أن يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا وقصة ذي اليدين بعد نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسنين فيكف يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا على أن قصة ذي اليدين ليس من نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسبيل وليس هذا من ذلك الجنس إذ الكلام في الصلاة على العمد من المصلي مباح والمصلي عالم مستيقن أنه في الصلاة فنسخ ذلك وزجروا أن يتعمدوا الكلام في الصلاة على ما كان قد أبيح لهم قبل لا أنه كان أبيح لهم أن يتكلموا في الصلاة ساهين ناسين لا يعلمون أنهم في الصلاة فنسخ ذلك وهل يجوز للمركب فيه العقل يفهم أدنى شيء من العلم أن يقول : زجر الله المرء إذا لم يعلم أنه في الصلاة أن يتكلم أو يقول : نهى الله المرء أن يتكلم في الصلاة وهو لا يعلم أن الله قد زجر عن الكلام في الصلاة وإنما يجب على المرء أن لا يتكلم في الصلاة بعد علمه أن الكلام في الصلاة محظور غير مباح و معاوية بن الحكم السلمي إنما تكلم وهو لا يعلم أن الكلام في الصلاة محظور فقال في الصلاة خلف النبي صلى الله عليه وسلم لما شمت العاطس ورماه القوم بأبصارهم : واثكل أمياه ما لكم تنظرون إلي ؟ فلما تكلم في الصلاة بهذا الكلام وهو لا يعلم أن هذا الكلام محظور في الصلاة علمه صلى الله عليه وسلم أن كلام الناس في الصلاة محظور غير جائز ولم يأمره صلى الله عليه وسلم بإعادة تلك الصلاة التي تكلم فيها بهذا الكلام والنبي صلى الله عليه وسلم في قصة ذي اليدين إنما تكلم على أنه في غير الصلاة وعلى أنه قد أدى فرض الصلاة بكماله وذو اليدين كلم النبي صلى الله عليه وسلم وهو غير عالم أنه قد بقي عليه بعض الفرض إذ جائز عنده أن يكون الفرض قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فأجابه النبي صلى الله عليه وسلم بأنه لم ينس ولم تقصر وهو عند نفسه في ذلك الوقت غير مستيقن أنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فاستثبت أصحابه وقال لهم أكما يقول ذو اليدين ؟ فلما استيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من تلك الصلاة قضاهما فلم يتكلم صلى الله عليه وسلم في هذه القصة بعد علمه ويقينه بأنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فأما أصحابه الذين أجابوه وقالوا للنبي صلى الله عليه وسلم بعد مسألته إياهم : أكما يقول ذو اليدين قالوا نعم فهذا كان الجواب المفروض عليهم أن يجيبوه عليه السلام وإن كانوا في الصلاة عالمين مستيقنين أنهم في نفس فرض الصلاة إذالله عز وجل فرق بين نبيه المصطفى وبين غيره من أمته بكرمه له وفضله بأن أوجب على المصلين أن يجيبوه وإن كانوا في الصلاة في قوله { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } وقد قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب و لأبي سعيد بن المعلي لما دعا كل واحد منهما على الانفراد وهو في الصلاة فلم يجبه حتى فرغ من الصلاة : ألم تسمع فيما أنزل علي أو نحوه هذه اللفظة { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } قد خرجت هذين الخبرين في غير هذا الموضع فبين أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في كلامهم الذي تكلموا به يوم ذي اليدين وكلام ذي اليدين على الصفة التي تكلم بها وبين من بعدهم فرق في بعض الأحكام أما كلام ذي اليدين في الابتداء فغير جائز لمن كان بعد النبي صلى الله عليه وسلم أن يتكلم بمثل كلام ذي اليدين إذ كل مصل بعد النبي صلى الله عليه وسلم إذا سلم في الركعتين من الظهر أو العصر يعلم ويستيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من صلاته إذ الوحي منقطع بعد النبي صلى الله عليه وسلم ومحال أن ينتقص من الفرض بعد النبي صلى الله عليه وسلم فكل متكلم يعلم أن فرض الظهر والعصر أربعا كل واحد منهما على الانفراد إذا تكلم بعد ما قد صلى ركعتين وبقيت عليه ركعتان عالم مستيقن بأن كلامه ذلك محظور عليه منهي عنه وأنه متكلم قبل إتمامه فرض الصلاة ولم يكن ذو اليدين لما سلم النبي صلى الله عليه وسلم من الركعتين عالم ولا مستيقن بأنه قد بقي عليه بعض الصلاة ولا كان عالما أن الكلام محظور عليه إذ كان جائز عنده في ذلك الوقت أن يكون فرض تلك الصلاة قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء وقوله في مخاطبته النبي صلى الله عليه وسلم دال على هذا ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم أقصرت الصلاة أم نسيت وقد بينت العلة التي لها تكلم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعد قول النبي صلى الله عليه وسلم لذي اليدين : لم أنس ولم تقصر وأعلمت أن الواجب المفترض عليهم كان أن يجيبوا النبي صلى الله عليه وسلم وإن كانوا في الصلاة وهذا الفرض اليوم ساقط غير جائز لمسلم أن يجيب أحدا ـ وهو في الصلاة ـ بنطق فكل من تكلم بعد انقطاع الوحي فقال لمصل قد سلم من ركعتين : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فواجب عليه إعادة تلك الصلاة إذا كان عالما أن فرض تلك الصلاة أربع لا ركعتين وكذاك يجب على كل من تكلم وهو مستيقن بأنه لم يؤد فرض تلك الصلاة بكماله فتكلم قبل أن يسلم منها في ركعتين أو بعدما سلم في ركعتين وكذاك يجب على كل من أجاب إنسانا وهو في الصلاة إعادة تلك الصلاة إذالله عز وجل لم يجعل لبشر أن يجيب في الصلاة أحدا في الصلاة غير النبي صلى الله عليه وسلم الذي خصه الله بها وهذه مسألة طويلة قد خرجتها بطولها مع ذكر احتجاج بعض من اعترض على أصحابنا في هذه المسألة وأبين قبح ما احتجوا على أصحابنا في هذه المسألة من المحال وما يشبه الهذيان إن وفقنا الله

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تین سال نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل کیا ۔ حضرت ابو ہریرہ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں جنگ خیبر اور اس کے بعد کے عرصے میں رہے ہیں ۔ اور وہ یہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادا کی تھی ، لہٰذ اجو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث ذوالیدین کے قصے کی ناسک ہے، اگر یہ شخص علم میں غورو فکر کرے ، جد چھوڑ دے اور اپنی عقل ہی کو اہمیت و بڑائی نہ دے تو اس دوعوے کے نا ممکن ہونے کو جان لے گا۔ کیونکہ یہ نا ممکن ہے کہ متاخر حکم منسوخ ہوا اور متقدم حکم ناسخ ہوا۔ اور ذوالیدین کا قصہ نبی اکرم ﷺ کے نماز میں گفتگو سے منع کرنے کے کئی سال بعد کا ہے ، چنانچہ متاخر حکم منسوخ اور متقدم حکم ناسخ کیسے ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ذوالیدین کے قصے کو نبی کریم ﷺ کے نماز میں بات چیت کے منع قرار دینے کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ۔ اور یہ مسئلی اس جنس کے ساتھ تعلق بھی نہین رکھتا، کیونکہ ( جس کلام سے منع کیا گیا وہ ) جائز کلام تھا جسے نمازی عمد ا نماز میں کرتا اور اسے یقینی علم ہوتا ہے کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ۔ تو یہ کلام منسوخ ہو گیا اور نمازیوں کو روک دیا گیا ہے کہ وہ عمدا نماز کے دوران میں کلام کریں جبکہ پہلے ان کے لیے یہ جائز تھا ۔ یہ نہیں کہ ان کے لیے نماز میں بھول چوک کی صورت میں گفتگو کرنا جائز قرار دیا گیا تھا ، جبکہ انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ حالت نماز میں ہیں ، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔ کیا کسی عقل مند شخص ، جو معمولی سی علمی سوجھ بوجھ رکھتا ہو ، کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو بات چیت کرنے سے منع کیا ہے جبکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ، یا وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز میں بات چیت کرنے سے منع کیا ہے حالانکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ اللہ تعالیی نے نماز میں گفتگو سے منع کیا ہے ۔ بے شک نمازی کو جب علم ہو جائے کہ اللہ تعالیی نے نماز میں کلام کرنے سے منع کر دیا ہے تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ نماز میں کالم نہ کرے ۔ حضرت معاویہ بن سلمیٰ ؓ نے ( نماز کے دوران میں ) گفتگو کی حا لانکہ انہیں علم نہیں تھا کہ نماز میں گفتگو گرنا ممنوع ہے۔ لہٰذ اانہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے چھینک مارنے والے کو جواب دیا (اسے یَرْحَمْکَ اللہُ کہا ) اور نمازیوں نے انہیں گھورنا شروع کر دیا ، تو انہوں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ چنانچہ جب انہوں نے دوران نماز میں یہ کلام کی حالانکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ نماز کی حالت میں ایسا کلام کرنا منع ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سکھایا کہ نماز میں لوگوں سے ہم کلامی ممنوع اور ناجائز ہے۔ مگر آپ نے اسے اس نماز کو دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا جس میں انہون نے کلام کی تھی۔ جبکہ ذویالیدین کے قصے میں نبی کریم ﷺ نے اس بنا پر کلام کی تھی کہ آپ کے خیال میں آپ مکمل نماز ادا کر چکے تھے اور حالت نماز میں نہیں تھے ۔ اور ذوالیدین نے آپ سے گفتگو کی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس پر ابھی فرضی نماز کچھ باقی ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ فرض نماز پہلے کی طرح دو رکعت کر دی گئی ہو جیسا کہ ابتدائے اسلام میں تھا ۔ کیا تم اسے یہ کہتے ہوئے نہیں سنتے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے عرض کرتا ہے : " کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا کہ نہ نمازز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں ۔ حالانکہ اس وقت آپ کو یقین نہیں تھا کہ آپ پر کچھ نماز باقی ہے ۔ لہٰذا آپ نے صحا بہ کرام سے تحقیق کی اور ان سے پوچھا: کیا معاملہ اسی طرح ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ پھر جب آپکو یقین ہو گیا کہ آپ کی نماز کی دو رکعتیں باقی رہ گئی ہیں تو پھر آپ نے مزید گفتگو نہیں کی ۔ البتہ صحابہ کرام کی گفتگو آپ ﷺ کے سوال کے جواب میں تھی ، جب ااپ نے ان سے پوچھا کہ کیا معاملہ اسی طرح ہے جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( آپ کے سوال پر) ان کا جواب دینا فرض تھا اگرچہ وہ نماز کی حالت میں ہی ہوں ، اور انہیں اپنے نماز میں ہونے پورا علم و یقین بھی ہو ، کیونکہ اللہ تعالیی نے اپنے خصوصی فضلو کرم کی بنا پر اپنے نبی مسطفیٰ اور دیگر لوگوں میں فرق رکھا ہے ۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیی نے نمازیوں پر رسول اللہ ﷺ کی لبیک کہنا واجب قرار دیا گیا ہے اگرچہ وہ نماز ہی پڑھ رہے ہون ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) " اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کا رسول کا کہنا مانو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ سے فرمایا جبکہ آپ نے ان دونوں کو الگ الگ بلایا تھا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے نماز سے فارغ ہونے تک آپ کی پکار کا جواب نہیں دیا تھا : کیا تم نے وہ حکم نہیں سنا جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے یا آپ نے اس قسم کے الفاظ فرمائے ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ)( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب وہ تمہیں اس بات کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" میںن نے یہ دو احادیث اس جگہ کے علاوہ دوسرے مقام پر بھی باین کی ہیں ۔ ذوالیدین والے دن نبی کے صحابہ ؓ کے کلام میں اور ذوالیدین کی گفتگو میں جس انداز سے انہوں نے گفتگو کی اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کی کلام میں بعض احکام کا فرق ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے ( اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ) بعد کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ ذوالیدین کی طرح کلام کرے جیسا کہ انہوں نے ابتدا میں کلام کیا ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد ہر نمازی جب ظہر یا عصر کی دو رکعتون کے بعد سلام پھیر ے گا تو اسے بخوبی علم و یقین ہو گا کہ ابھی اس کی نماز سے دو رکعتیں باقی ہیں ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے ، اور یہ نا ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد فرض نماز میں کمی واقع ہو۔ لہٰذا ہر بات کرنے والا جانتا ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کی چار چار رکعات فرض ہیں ۔ جب وہ دو رکعتوں کے بعد کلام کرے گا ۔اور دو رکعتیں ابھی باقی ہوں گی تو اسے مکمل یقین ہو گا کہ اس کا یہ بات چیت کرنا اس کے لیے حرام اور منع ہے ۔

بعده وهو يخبر ← إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي بخيبر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صحبت النبي ثلاث سنوات ثناه بندار ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ

Hadith 1040

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1040

نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ مِنْ خُزَاعَةَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "كُلٌّ لَمْ يَكُنْ". فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ! فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ يَقَّنَهُ النَّاسُ.

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو بنی زہرہ کے حلیف خزاعہ کے ایک شخص ذوالشمالین نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئےتو پوچھا: کیا ذوالدین سچ کہہ رہا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ تو آپ نے اپنی باقی نماز مکمل کی او سہو کے دو سجدے نہیں کیے حتیٰ کہ لوگوں نے آپ کو یقین دلایا۔ (کہ آپ واقعی بھول گئے تھے۔)"

«رَكْعَتَيْنِ» ← سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 1040

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1041

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، نَا يُوسُفُ، نَا الْأَوْزَاعِيُّ،

"امام زہری کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے یہ قصہ بیان کی ہے لیکن اس میں حضرت ابو ہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا۔ اور ان کی روایات ان الفاظ پر ختم ہوگئی ہے: تو آپ نے اپنی بقیہ نماز مکمل کی۔"

الْاَوْزَاعِیُّ ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 1041

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1042

وثنا محمد بن يحيى نا أبو صالح حدثني الليث حدثني يونس عن ابن شهاب قال : أخبرني ابن المسيب و أبو سلمة ابن عبد الرحمن و أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن أبا هريرة قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر أو العصر فسلم في ركعتين من إحداهما فقال له ذو الشمالين ابن عبد عمرو بن نضلة الخزاعي وهو حليف بني زهرة : أقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله ؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لم أنس ولم تقصر قال ذو الشمالين : قد كان بعض ذلك فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس فقال : أصدق ذو اليدين ؟ قالوا : نعم يا رسول الله ! فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتم الصلاة ولم يحدثني أحد منهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سجد سجدتين وهو جالس في تلك الصلاة وذلك فيما نرى - والله أعلم - من أجل أن الناس يقنوا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى استيقن

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، ان دو میں سے کسی ایک نمازمیں آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو بنی زہرہ کے حلیف ذوالشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ الخزاعی نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ ذوالشمالین نے عرض کی اس میں سے کچھ ضرور ہوا ہے، پس رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کردریافت کیا: کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟ انہوں نے عرض کی! جی ہاں، اے اللہ کے رسول : تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز مکمل کی۔" امام زہری کہتے ہیں: (ابن مسیّب، ابو سلمہ، ابو بکر بن عبد الرحمٰن اور عبید اللہ) ان میں سے کسی نے بھی مجھے یہ بیان نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس نماز ( کے تشہد) میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ اس لیے تھا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو ( نماز میں بھول جانے کا) یقین دلایا حتیٰ کہ آپ کو یقین ہو گیا (تو آپ نے سجدے کیے) واللہ اعلم

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 1042

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals