صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1032
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: أَنَّهُ نَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ فَسَبَّحُوا بِهِ، فَاسْتَتَمَّ (1)، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ انْصَرَفَ. ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنِي أَجْلِسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَنِيعٍ. قَالَ [113 - ب] أَبُو بَكْرٍ: لَا أَظُنُّ أَبَا مُعَاوِيَةَ إِلَّا وَهِمَ فِي لَفْظِ هَذَا الْإِسْنَادِ.
حجرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے مروی ہے کہ وہ دو رکعتوں میں ( تشہد بیٹھنے کی بجائے )کھڑے ہو گئے تو مقتدیوں نے سبحان اللہ کہہ کر انہیں متوجہ کیا ۔ تو انہون نے نماز کی اور نماز ختم کرتے وقت دو سجدے کر لیے ، اور فرمایا: تمہارا کیا خیال تھا کہ میں بیٹھ جاوں گا ، بلا شبہ میں نے اس طرح کیا ہے جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ ابن منیع کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ امام ابو بکر کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ ابو معاویہ کو اس سند میں وہم ہو اہے۔"
سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1032
