صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ الهمزة مع الغين · حديث 989
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ: نَامُوا حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ. فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ وَأَنَا أُحَدِّثُ الْحَدِيثَ فَقَالَ: يَا فَتَى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ. فَإِنِّي شَاهِدٌ الْحَدِيثَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا.
" حضرت ابو قتادہ ب بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے نیند کی وجہ سے کوتاہی کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا : " صحابہ کرام سوئے رہے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نیند میں کوتاہی نہیں ہے بے شک کوتاہی بیداری کی حالت میں ہے ۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص نماز سے سو جائے یا رہ جائے تو وہ اسے یاد آنے پر اور اگلے دن اس کے وقت میں پڑھ لے۔" جناب عبد اللہ بن رباح کہتے ہیں : " عمران ؓ نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تو فرماای : " اے نوجوان ! غورو فکر سے حدیث بیان کرو ، کیونکہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ موجود تھا ۔ لیکن انہوں نے اس حدیث سے کسی چیز کی تردید نہ کی۔"
أُحَدِّثُ الْحَدِيثَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ ← نَامُوا حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ← ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ، ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ،
Hadith 989
