Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 445

وجاء خالد بن حيان الرقي بطامة وحدثناه جعفر بن محمد الثعلبي حدثنا خالد - يعني ابن حيان - الرقي : قال أبو بكر : و لا أحل لأحد أن يروي عني بهذا الخبر إلا على هذه الصيغة فإن هذا إسناد مقلوب فيشبه أن يكون الصحيح ما رواه أنس بن عياض لأن داود بن قيس أسقط من الإسناد أبا سعيد المقبري فقال عن سعد بن إسحاق عن أبي ثمامة وأما ابن عجلان فقد وهم في الإسناد وخلط فيه فمرة يقول عن أبي هريرة ومرة يرسله ومرة يقول عن سعيد عن كعب و ابن أبي ذئب قد بين أن المقبري سعيد بن أبي سعيد إنما رواه عن رجل من بني سالم وهو عندي سعد بن إسحاق إلا أنه غلط على سعد بن إسحاق فقال : عن أبيه عن جده كعب و داود بن قيس و أنس بن عياض جميعا قد اتفقا على أن الخبر إنما هو عن أبي ثمامة

"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں کسی شخص کےلیے حلال نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ سے یہ حدیث بیان کرے سوائے اس صیغے کے ۔ کیونکہ یہ سند مقلوب ہے ۔ اور صیح کے مشابہ ، ابو داؤد بن قیس نے سند سے ابو سعید مقبری کو گرا دیا ہے اور اسے سعد بن اسحاق کی سند سے براہ راست حضرت ابو ثمامہ سے بیان کیا ہے ۔ جبکہ ابن عجلان کو اس سند میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے اس کو خلط ملط کر دیا ہے ۔ لہٰذا کبھی وہ اس روایت کو حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بیان کر تے ہیں ۔ کبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں اور کبھی ( سعد کی بجاے ) سعید عن کعب بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ ابن ابی ذئب نے بیان کیا ہے کہ سعید بن ابی سعید مقبری سے یہ روایت بنی سالم کے ایک شخص سے بیان کی ہے ۔ میرے نزدیک وہ شخص سعد بن اسحاق ہے مگر وہ سعد بن اسحاق کے بارے میں غلطی کر گئے ہیں اور کہہ دیا ہے کہ سعد اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کعب سے یہ روایت بیان کرتے ہیں ۔ جبکہ داؤد بن قیس اور انس بن عیاض ، دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ روایت حضرت ابو ثمامہ سے روایت کی گئی ہے ۔"

أبو بكر و لا أحل لأحد ← خالد يعني ابن حيان الرقي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، ← وجاء خالد بن حيان الرقي بطامة

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 445

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 446

ورواه محمد بن سليم الطائفي عن إسماعيل بن أمية قال أخبرني المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من توضأ ثم خرج يريد الصلاة فهو في صلاة حتى يرجع إلى بيته ولا يقول هذا - يعني يشبك بين أصابعه - أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه الفضل بن يعقوب الرخامي نا الهيثم بن جميل أخبرنا محمد بن مسلم ورواه شريك عن ابن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے وضو کیا پھر نماز کی ادائیگی کے ارادے سے نکلا تو وہ گھر واپس آنے تک نماز ہی کے حکم میں ہے لہٰذا وہ ایسے نہ کرے یعنی اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں نہ ڈالے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← ورواه محمد بن سليم الطائفي

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 446

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 447

حدثنا عمران بن موسى القزاز نا عبد الوارث نا إسماعيل بن أمية عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا توضأ أحدكم في بيته ثم أتى المسجد كان في صلاة حتى يرجع فلا يقل هكذا : وشبك بين أصابعه

"حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے گھر میں وضو کرے پھر وہ ( نما زکےلیے ) مسجد میں آئے تو وہ واپس لوٹنے تک نماز ہی میں ہوتا ہے ، لہٰذا وہ اس طرح نہ کرے ، اور آپ نے اپنی اگلیوں کو ایک دوسری میں ڈالا ( یعنی تشبیک کر کے دکھائی)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 447

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 448

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ شَيْءٌ، فَإِنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ أَقِفْ هَلْ سَمِعَ حَبِيبٌ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَمْ لَا؟ ثُمَّ نَظَرْتُ، فَإِذَا أَبُو عَوَانَةَ رَوَاهُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ.

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ وہ ( ایک رات) رسول اللہﷺ کے پاس سوئے ۔ وہ فرماتے ہیں : چنانچہ ( صبح کے وقت) موذن آپ کے پاس آیا تو آپ یہ دعا پڑھتے ہوئے نما زکےلیے چل پڑے : اللھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِی سَمْعِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِی بَصَرِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ خَلْفِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِی بِصَرِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ خَلْفِیْ نُوْرًا ، وَمِنْ أَمَافِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْراً ، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا ، اللھُمَّ أَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔"اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرماے دے ، اور میری زبان میں نور کر دے ، اور میری سماعت میں نور کر دے ، اور میری بصارت میں نور فرما دے ، اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے آگے نور کردے اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے ۔ اے اللہ! میرے لیے نور کو عظیم کر دے ۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس اسناد کے متعلق میرا دل مطمئن نہیں ہے ۔ کیونکہ حبیب بن ابی ثابت مدلس ہے اور مجھے علم نہیں ہوسکا کہ آیا حبیب نے یہ روایت محمد بن علی سے سنی ہے یا نہیں ؟ پھر میں نے ( روایات میں ) غور وفکر کیا تو ( معلوم ہوا کہ) ابو عوانہ یہ روایت حصین کے واسطے سے حبیب بن ابی ثابت سے بیان کرتےہیں اور وہ کہتے ہیں: حدثنی محمد بن علی مجھے محمد بن علی نے حدیث بیان کی ( یعنی مدلس راوی نے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے )"

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 448

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 449

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، [62 - ب] نَا أَبُو الْوَلِيدِ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ (1)، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قال: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"حضرت انس بن مالک ؓ سےمروی ہے ، وہ فرماتے ہیں : میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر رات بسر کی ۔ پھر پوری حدیث یبان کی اس حدیث کی سند میں محمد بن علی نے اپنے سماع کی وضاحت کر دی ہے ۔"

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حُصَيْنٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 449

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 450

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيَّ-، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ الصَّلَاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَتَوَجَّعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا فُلَانُ! لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمْضَاءَ، وَيَرْفَعُكَ مِنَ الرُّقَعِ، وَيَقِيكَ هَوَامَّ الْأَرْضِ. فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حَمْلًا حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ. قَالَ: فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ، وَذَكَرَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ".

"حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کا گھر مدینہ منورہ میں( مسجد نبوی سے ) سب سے دور تھا ( اس کے باوجود ) اس کی رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز باجماعت فوت نہیں ہوتی تھی۔ مجھے ( اسکی مشقت کی بنا پر ) اس پر بڑا ترس آیا ۔ تو میں نے اسے کہا: اے فلاں ! اگر تم ایک گدھا خرید لو ( تو تمہارے لیے بہت بہتر ہے ) وہ تمہیں تپتی ہوئی گرم زمین سے بچائے گا، ( تمہیں ٹھوکر لگنے سے محفوظ کرے گا اور تجھے زمینی کیڑے مکوڑوں سے بچائے گا ۔ تو اس نے انہیں جواب دیا : بلاشبہ میں ، اللہ کی قسم! یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر کے ساتھ متصل ہو۔ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات سخت گراں گزری حتی کہ میں نے بنی اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر یہ بات بیان کی ۔ کہتے ہیں :چنانچہ نبیﷺ نے اسے بلا کر اس کے متعلق پوچھا تو اس نے اسی طرح جواب دیا اور کہا کہ وہ اپنے پیدل چل کر آنے میں ثواب کی امید رکھتا ہے ۔ تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا: بے شک تمہیں وہی ثواب ملے گا جس کی تو نے امید رکھی ہے ۔"

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← عباد يعني ابن عباد المهلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 450

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 451

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "يَا بَنِي سَلِمَةَ! أَرَدْتُمْ أَنْ تَحَوَّلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟ " فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: "يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارَكُمْ، تُكْتَبْ آثَارُكُمْ"، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَدْ خَرَّجْتُ بَابَ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي كِتَابِ الْإِمَامَةِ بِتَمَامِهِ.

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں کہ مسجد نبوی کے پاس کچھ علاقہ خالہ ہوگیا تو بنیسلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا رسول اللہﷺ کو ان کے ارادے کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: اے بنی سلمہ! کیا تم نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی :جی ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا: اے بنی سلمہ ! اپنے گھروں ہی میں ٹھہرے رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں ( یعنی پیدل چل کر مسجد آنے کا ثواب لکھا جاتا ہے ) آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی ۔" میں نے " مساجد کی طرف چل کر جانے کا مکمل باب کتاب الامامتہ میں بیان کیا ہے ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 451

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 452

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ-، نَا الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ، وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبُوابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ، وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ".

" حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے:"اللھم افتح لی ابواب رحمتک ""اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔" اور جب وہ مسجد سے باہر نکلے تو اسے نبی ﷺ پر سلام پڑھنا چاہیے نیز یہ دعا پڑھے: "اللھم اجرنی من الشیطان الرجیم""اے اللہ ! مجھے شیطان مردود سے محفوظ فرما۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 452

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 453

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَايِذٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا، فَقَالَ حِينَ انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ: اللَّهُمَّ ائْتِنِي أَفْضَلَ مَا تُؤْتِي عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ. فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ. قَالَ: "مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟ "، قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذًا تَعْقِرُ جَوَادَكَ وَتُسْتَشْهَدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".

"حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نماز کےلیے جبکہ نبی اکرم ﷺ ہمیں نماز پڑھا رہے تھے ، جب وہ صف تک پہنچا تو اس نے یہ دعا مانگی ، اے اللہ ! مجھے اس سے افضل ( مقام ) عطا فرما جو تو اپنے نیک بندوں کو عطا فرمائے گا۔ پھر جب نبی اکرمﷺ نے نماز مکمل کی تو پوچھا : ابھی ابھی کون بول رہا تھا۔ ا س شخص نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! وہ میں ہوں ۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: پھر تو تمہارے عمدہ گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی جائیں گی اور تم اللہ کی راہ میں شہید کیے گئے ۔"

أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَائِذٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 453

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 454

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ (2) - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ"، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو اس نے نماز پڑھی پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔" پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا: جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو مکمل وضو کرو پھر قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہو۔ اور انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۔ یہ ابن نمیر کی روایت کے الفاظ ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 454

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 455

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ [63 - أ]: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ". زَادَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ: "وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى".

"جناب علقمہ بن وقاص لیثیؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے ۔"یحییٰ بن حبیب نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے : "اور بلاشبہ ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"

أ]: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ". زَادَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ: "وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 455

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 456

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ لِلصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا بِحَذْوِ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، فَإِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کرتے پھر اللہ اکبر کہتے ۔ پھر جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسی طرح ( رفع یدین ) کرتے ، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اسی طرح ( رفع الیدین ) کرتے ۔ اور جب سجدوں سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو رفع یدین نہیں کرتے تھے۔"

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 456

chevron_left Previous
1…789…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals