صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 445
وجاء خالد بن حيان الرقي بطامة وحدثناه جعفر بن محمد الثعلبي حدثنا خالد - يعني ابن حيان - الرقي : قال أبو بكر : و لا أحل لأحد أن يروي عني بهذا الخبر إلا على هذه الصيغة فإن هذا إسناد مقلوب فيشبه أن يكون الصحيح ما رواه أنس بن عياض لأن داود بن قيس أسقط من الإسناد أبا سعيد المقبري فقال عن سعد بن إسحاق عن أبي ثمامة وأما ابن عجلان فقد وهم في الإسناد وخلط فيه فمرة يقول عن أبي هريرة ومرة يرسله ومرة يقول عن سعيد عن كعب و ابن أبي ذئب قد بين أن المقبري سعيد بن أبي سعيد إنما رواه عن رجل من بني سالم وهو عندي سعد بن إسحاق إلا أنه غلط على سعد بن إسحاق فقال : عن أبيه عن جده كعب و داود بن قيس و أنس بن عياض جميعا قد اتفقا على أن الخبر إنما هو عن أبي ثمامة
"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں کسی شخص کےلیے حلال نہیں سمجھتا کہ وہ مجھ سے یہ حدیث بیان کرے سوائے اس صیغے کے ۔ کیونکہ یہ سند مقلوب ہے ۔ اور صیح کے مشابہ ، ابو داؤد بن قیس نے سند سے ابو سعید مقبری کو گرا دیا ہے اور اسے سعد بن اسحاق کی سند سے براہ راست حضرت ابو ثمامہ سے بیان کیا ہے ۔ جبکہ ابن عجلان کو اس سند میں وہم ہوا ہے اور انہوں نے اس کو خلط ملط کر دیا ہے ۔ لہٰذا کبھی وہ اس روایت کو حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بیان کر تے ہیں ۔ کبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں اور کبھی ( سعد کی بجاے ) سعید عن کعب بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ ابن ابی ذئب نے بیان کیا ہے کہ سعید بن ابی سعید مقبری سے یہ روایت بنی سالم کے ایک شخص سے بیان کی ہے ۔ میرے نزدیک وہ شخص سعد بن اسحاق ہے مگر وہ سعد بن اسحاق کے بارے میں غلطی کر گئے ہیں اور کہہ دیا ہے کہ سعد اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا کعب سے یہ روایت بیان کرتے ہیں ۔ جبکہ داؤد بن قیس اور انس بن عیاض ، دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یہ روایت حضرت ابو ثمامہ سے روایت کی گئی ہے ۔"
أبو بكر و لا أحل لأحد ← خالد يعني ابن حيان الرقي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّعْلَبِيُّ، ← وجاء خالد بن حيان الرقي بطامة
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 445
