Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 409

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

"حضرت ابو قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ چلے تو کچھ لوگوں عرض کی: اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں آخر شب پڑاؤ ڈالنے کی اجازت دے دیں ( تو بہت اچھا ہے ) آپ نے فرمایا: مجھے خدچہ ہے کہ تم نماز صبح سے سوئے رہ جاؤ گے ۔"پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ اور کہا : پھر رسول اللہﷺ بیدار ہوئے ، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو ، لوگوں کو نماز کےلیے ( جمع ہونے کےلیے) اذان دو۔"

سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 409

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 410

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر محمد بن أبي صفوان الثقفي نا بهز - يعني ابن أسد - ثنا حماد - يعني ابن سلمة - أخبرنا ثابت البناني : أن عبد الله بن رباح حدث القوم في المسجد الجامع وفي القوم عمران بن حصين فقال عمران من الفتى ؟ فقال أمرؤ من الأنصار فقال عمران : القوم أعلم بحديثهم انظر كيف تحدث فإني سابع سبعة تلك الليلة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمران : ما كنت أرى أحدا بقى يحفظ هذا الحديث غيري فقال : سمعت أبا قتادة يقول : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فقال : إنكم إلا تدركوا الماء من غد تعطشوا فانطلق سرعان الناس فقال أبو قتادة ولزمت رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الليلة فنعس فنام فدعمته ثم نعس أيضا فمال فدعمته ثم نعس فمال أخرى حتى كاد ينجفل فاستيقظ فقال : من الرجل ؟ فقلت : أبو قتادة فقال : من كم كان مسيرك هذا ؟ قلت : منذ الليلة فقال : حفظك الله بما حفظت به نبيه ثم قال : لو عرسنا فمال إلى شجرة وملت معه فقال : هل ترى من أحد ؟ قلت : نعم هذا راكب هذا راكب هذان راكبان هؤلاء ثلاثة حتى صرنا سبعة فقال : احفظوا علينا صلاتنا لا نرقد عن صلاة الفجر فضرب على آذانهم حتى أيقظهم حر الشمس فقاموا فاقتادوا هنيئة ثم نزلوا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أمعكم ماء ؟ فقلت : نعم معي ميضأة لي فيها ماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إئت بها فأتيته بها فقال مسوا منها مسوا منها فتوضأنا وبقى منها جرعة فقال : ازدهرها يا أبا قتادة فإن لهذه نبأ ! فأذن بلال فصلوا ركعتي الفجر ثم صلوا الفجر ثم ركبوا فقال بعضهم لبعض : فرطنا في صلاتنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما تقولون ؟ إن كان شيء من أمر دنياكم فشأنكم به وإن كان شيء من أمر دينكم فإلي قلنا : يا رسول الله فرطنا في صلاتنا فقال : إنه لا تفريط في النوم وإنما التفريط في اليقظة وإذا سها أحدكم عن صلاته فليصلها حين يذكرها ومن الغد للوقت فذكر الحديث بطوله

"حضرت ثابت بنانی ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن رباح ؒ نے جامع مسجد میں لوگوں کو حدیث بیان کی جبکہ لوگوں میں حضرت عمران بن حصین ؓ بھی موجود تھے۔ حضرت عمران ؓ نے پوچھا: یہ نوجوان کون ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: انصار میں سے ایک شخص ہے ۔ تو حضرت عمران ؓ نے فرمایا: لوگ اپنی حدیث سے خوب واقف ہیں، غوروفکر کرو تم کیسے حدیث بیان کر رہے ہو کیونکہ میں اس رات رسول اللہ کے ساتھ سات افراد میں سے ساتواں تھا۔ پھر حضرت عمران ؓنے فرمایا: میرا خیال نہیں کہ میرے سوا اس حدیث کو یاد رکھنے والا کوئی شخص باقی ہے ۔ تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوقتادہ ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا : " ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ نے فرمایا: "اگر تمہیں کل پانی نہ ملا تو تم پیاسے ہوجاؤ گے ، لہٰذا جلد باز لوگ چل دیے ۔ حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں : اور میں اس را ت رسول اللہﷺ کے ساتھ ساتھ رہا ، تو آپ ( اونٹ پر بیٹھے بیٹھے ) اونگھنے لگے پھر آپ سوگئے ( اور اونٹ پر سے ایک طرف جھک گئے ) تو میں نے آپ کو سہارا دیا ۔ پھر آپ دوسری بار اونگھنے لگے اور ایک طرف جھک گئے تو میں نے آپ کو سہارا دیا ۔ پھر آپ اونگنے لگے اور ایک طرف جھک گئے حتی کہ قریب تھا کہ آپ گر جاتے تو آپ بیدار ہوگئے۔ میں نے آپ کو سہارا دے کر سیدھا کیا تو فرمایا : یہ کون شخص ہے ؟ میں نے عرض کی : ابوقتادہ ہوں ۔ آپ نے پوچھا : تم کب سے اسی طرح چل رہے ہو؟ میں نے عرض کی : رات سے ، تو آپ نے فرمایا: اللہ تمہاری اسی طرح حفاظت فرمائے جس طرح تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے ۔ پھر فرمایا: اگر ہم آخر شب پڑاؤ ڈالیں تو بہتر ہے ، لہٰذا ٓپ ایک درخت کی طرف جھک گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ جھک گیا۔ آپ نے پوچھا : کیا تمہیں کوئی شخص نظر آرہا ہے ؟ میں نے کہا: جی ہاں یہ ایک سوار ہے ، یہ ایک سوار ہے ۔ یہ دو سوار ہیں ، یہ تین سوار ہیں حتی کہ ہم سات ہوگئے ، تو آپ نے فرمایا: ہماری نماز کی حفاظت کرنا ، ہم نماز فجر سے سوئے نہ رہ جائیں ۔ لہٰذا وہ سب سو گئے حتی کہ سورج کی حرارت نے انہیں بیدار کیا ۔ تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے ، انہوں نے تھوڑی دو ر تک جا کر پڑاؤ ڈالا ، تو رسول اللہﷺ نے پوچھا : کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کی: جی ہاں ۔ میرے پاس میرے وضو کے برتن میں پانی ہے ۔ آپ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ ، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا تو آپ نے فرمایا : اس سے لے لو ، اس سے لے لو ، تو ہم سب نے وضو کر لیا اور اس سے ایک گھونٹ باقی بچ گیا ، آپ نے فرمایا: اے ابو قتادہ اسے سنبھال لو ، کیونکہ اس کےلیے ایک عجیب خبر ہے ، حضرت بلال ؓ نے اذان دی تو انہوں نے فجر کی دو رکعت ادا کیں، پھر انہوں نے نماز فجر ادا کی پھر وہ سوار ہوگئے ( اور چل دیے ) کچھ لوگوں نے آپس میں باتیں کرتے ہوئے کہا: ہم نے اپنی نماز کی ادائیگی میں کوتاہی برتی ہے ( اس کا کیا کفارہ ہے ) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ اگر تو تمہارے کوئی دنیوی معاملہ ہے تو تم بہتر جانتے ہو اور اگر تمہارے کوئی دینی معاملہ ہے تو اسے میرے سپرد کر دو ۔ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی ہے ۔ تو آپ نے فرمایا: بے شک نیند میں کوتاہی نہیں ہے ، بلکہ کوتاہی بیداری کی حالت میں ہوتی ہے ۔ جب تم میں سے کوئی ایک اپنی نماز ( ادا کرنا ) بھول جائے تو جب اسے یاد آئے پڑھ لے اور دوسرے دن اس نماز کے وقت ادا کر لے ۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔"

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ← أبو بكر محمد بن أبي صفوان الثقفي ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 410

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 411

أَخْبَرَ أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا مَالِكٌ، نَا الزُّهْرِيُّ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْآيْلِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِيَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ".

"حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم مؤذن کو ( اذان دیتے ہوئے ) سنو تو ویسے ہی کہو جیسا وہ کہتا ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيُونُسُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَخْبَرَ أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 411

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 412

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عَمَّتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ عِنْدَهَا فِي يَوْمِهَا فَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى يَفْرُغَ.

"حضرت ام حبیبہ بنت سفیان ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ جب ان کے گھر ان کی باری والے دن تشریف فرما ہوتے اور مؤذن اذان دیتے ہوئے سنتے تو اسی طرح کہتے جیسے مؤذن کہتا حتی کہ وہ ( اذان سے) فارغ ہوجاتا ہے ۔"

الْمُؤَذِّنُ حَتَّى يَفْرُغَ. ← كَمَا ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَانَ عِنْدَهَا فِي يَوْمِهَا فَسَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ ← عَمَّتِهِ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 412

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 413

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى يَسْكُتَ الْمُؤَذِّنُ.

"حضرت ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اسی طرح ( کلمات ) کہتے جیسے مؤذن کہتا تھا حتی کہ مؤذن ( اذان دے کر ) خاموش ہوجاتا ۔"

أُمِّ حَبِيبَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 413

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 414

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا أَشْهَدُ. ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَأَنَا أَشْهَدُ. ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ. لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. ثُمَّ [قَالَ]: هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ.

"حضرت عیسیٰ بن طلحہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مؤذن نے نماز کےلیے اذان کہی تو اس نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ،( اللہ بہت بڑا ہے ) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی فرمایا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، پھر اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ( میں گو اہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی فرمایا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ، پھر اس نے کہا : اشھد ان محمد ا رسول اللہ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ اللہ کے رسول ہیں) پھر اس نے کہا: حی علی الصلاۃ ، ( آو نما زکی طرف ) تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں) پھر ا س نے کہا :حی علی الفلاح ( آؤ کامیابی کی طرف ) تو حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ پھر فرمایا: میں نے تمہارے نبی اکرمﷺ کو اسی طرح اذان کا جواب دیتے ہوئے سنا ہے ۔"

نَبِيَّکُمْ ← هَکَذَا ← مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. ثُمَّ ← حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ← مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. ثُمَّ ← حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ ← أَشْهَدُ. ثُمَّ ← مُعَاوِيَةَ، ← اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← أَشْهَدُ. ثُمَّ ← مُعَاوِيَةَ، ← أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← مُعَاوِيَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ. ثُمَّ ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 414

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 415

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا حَرْمَلَةُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ-، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ [60 - أ] اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: "اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ. فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ مُعَاوِيَةُ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ.

" حضرت عثمان بن عفان ؓ کے آزاد کردہ غلام جناب محمد بن یوسف ؒ بیان کرتے ہیں کہ مؤذن نے اذان دی تو کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ) تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے فرمایا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، تو اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ) حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ، اس نے کہا: اشھد ان محمدٍ رسول اللہ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں ۔) حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اشھد ان محمد ا رسول اللہ، پھر حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← معاوية هكذا ← مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ ← اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← مُعَاوِيَةُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ← أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ: "اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ. ← اللَّهُ أَكْبَرُ أ] اللَّهُ أَكْبَرُ، ← أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ← أَبِي ← حَرْمَلَةُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ-، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 415

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 416

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَقَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَخَبَرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَيْضًا، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابٍ آخَرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَعْنَى خَبَرِ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَ كَمَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى يَفْرُغَ أَيْ إِلَّا قَوْلَهُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ: "فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ"، أَيْ خَلَا قَوْلِهِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. وَخَبَرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَمُعَاوِيَةَ مُفَسِّرَيْنِ لِهَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ. قَدْ بُيِّنَ فِي خَبَرِ عُمَرَ وَمُعَاوِيَةَ أَنَّ مَنْ سَمِعَ هَذَا الْمُنَادِي يُنَادِي بِالصَّلَاةِ إِنَّمَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ، خَلَا قَوْلِهِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، وَيَقُولُ: -إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ- لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، الْمُصَلِّي (1). وَالْمُؤَذِّنُ لَا يَقُولُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فِي أَذَانِهِ. فَهَذَا الْقَوْلُ مِنْ سَامِعِ الْمُؤَذِّنِ، لَيْسَ هُوَ مِمَّا يَقُولُهُ الْمُؤَذِّنُ.

"حضرت محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میرے والد محترم نے میرے دادا سے روایت بیان کی کہ میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے پاس تھا کہ مؤذن نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ) تو حضرت معاویہ ؓنے فرمایا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، تو اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ، ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ، تو اس نے کہا: اشھد ان محمد ا رسول اللہ ، ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اشھد ان محمد ا رسول اللہ۔ تو اس نے کہا: حی علی الصلاۃ ( آو نماز کی طرف تو) حضرت معاویہ ؓ نے کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ ( نیکی کرنے کی طاقت اور گناہ سے بچنے کی ہمت اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر نہیں ہے ۔) تو اس نے پکارا : حی علی الفلا ح ( آؤ کامیابی کی وکامرانی کی طرف ) تو حضرت معاویہ ؓ نے کہا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ تو اس نے کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ( اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔) تو حضرت معاویہ ؓ نے بھی کہا: اللہ اکبر اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ ، پھر فرمایا: رسول اللہ ﷺ اسی طرح فرمایا کرتے تھے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ کی حدیث بھی اسی باب کے متعلق ہے ، میں نے اسے ایک اور باب میں بیان کیا ہے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ام حبیبہ ؓ کی حدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ( اذان کا جواب دیتے ہوئے ) اسی طرح کلمات کہے جیسے مؤذن نے کہے۔ یہاں تک کہ وہ اذان سے فارغ ہو گیا ، سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور وَلَا قُوَّۃ اِلَّا بِاللہِ کہا) اسی طرح حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث کا معنی بھی یہی ہے کہ تم اذان کا جواب اسی طرح د و جیسے مؤذن کہتا ہے سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاحِکے ۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت معاویہ ؓ کی احادیث ان دو احادیث کی تفسیر بیان کرتی ہیں ، حضرت عمر اور حضرت معاویہ ؓ کی احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص نما زکےلیے مؤذن کی اذان سنے تو وہ مؤذن ہی کی طرح کلمات دہرائے سوائے حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کے کلمات کے ، ان کلمات کے جواب میں وہ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کہے۔

أَشْهَدُ ← معاويةُ: الله أكبرُ الله أكبرُ. ← الْمُؤَذِنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ← كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، ← جَدِّي، ← أَبِي ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 416

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 417

أَخْبَرَنَا، أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ".

"حضرت عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب مؤذن اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، کہے تو تم میں سے کوئی شخص اس کے جواب میں اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، کہے ، پھر وہ اشھد ان لا الہ الا اللہ کہے تو وہ بھی جواب میں اشھد ان لا الہ اللہ کہے ، پھر موذن اشھد ان محمد ا رسول اللہ کہے تو وہ بھی جواب میں اشھد ان محمد ا رسول اللہ کہے ، پھر وہ کہے حی علی الصلاۃ تو وہ جواب میں کہے لا حول ولا قوۃ الا باللہ ، پھر موذن پکارے: حی علی الفلاح تو وہ جواب میں کہے : لا حول ولا قوۃ الا باللہ ، پھر موذن کہے : اللہ اکبر اللہ اکبر تو وہ بھی جواب میں اللہ اکبر اللہ اکبر ، کہے ، پھر موذن پکارے : لا الہ الا اللہ تو وہ بھی جواب میں صدق دل سے لا الہ الا اللہ کہے تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔"

جَدِّهِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَھْضَمِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 417

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 418

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُّ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَارُونَ مُوسَى بْنُ النُّعْمَانِ بِالْفُسْطَاطِ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي الْمُقْرِئَ-، نَا حَيْوَةُ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ -وَإِنَّهَا دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ -فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ حَيْوَةَ. وَفِي خَبَرِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: "وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ".

"حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم موذن کو ( اذان دیتے ہوئے ) سنو تو اس کے جواب میں اسی طرح کلمات کہو جیسے وہ کہتا ہے ، پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ سےمیرے لیے وسیلہ مانگو ، وہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے کےلیے خاص ہے ۔ تو جس شخص نے میرے لیے ( مقام ) وسیلہ طلب کیا، اس کےلیے ( میری ) شفاعت واجب ہوجائے گی۔"یہ حیوہ راوی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ سعید بن ابی ایوب کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ ( خوش نصیب ) بندہ میں ہی ہوں گا۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 418

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 419

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ (1) سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اثْنَتَانِ لَا تُرَدَّانِ أَوْ قَلَّ مَا تُرَدَّانِ: الدُّعَاءُ عِنْدَ النِّدَاءِ، وَعِنْدَ الْبَأْسِ حِينَ يَلْتَحِمُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا".

" حضرت سہل بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دو دعائیں رد نہیں کی جاتیں ، یا وہ بہت کم رد کی جاتی ہیں ، اذان کے وقت کی گئی دعا اور جنگ کے وقت جب وہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہوں ۔"

أَبُو حَازِمٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 419

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 420

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ [هَذِهِ] الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے اذان سننے کے بعد یہ دعا مانگی: اللھُمَّ رَبَّ ھٰذِہٖ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ ، اٰتِ مُحَمَّدًا الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَجِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ الَّذِیْ وَعَدْتَّہُ۔اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نما زکے رب! محمد ؓ کو وسیلہ اور بلند مربہ عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر پہنچا دے جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے ۔ تو اس شخص کےلیے قیامت والے دن ( میری ) شفاعت لازم ہو جائے گی۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← مُوسَى بْنُ سَهْلٍ3 الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 420

chevron_left Previous
1…456…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals