Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 397

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، نَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَنَحْنُ شَبِيبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنْ قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا -أَوِ اشْتَقْنَا- سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدَنَا، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: "ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ. وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا، وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا. وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي. فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ. بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. وَرُبَّمَا خَالَفَهُ فِي بَعْضِ اللَّفْظَةِ.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ: ہم رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ ہم ، ہم عمر نوجوان تھے۔ ہم ( آپ کے پاس) بیس راتیں رہے ۔ اور رسول اللہﷺ نہایت رحمد ل اور نرم مزاج تھے۔ پھر جب آپ نے محسوس کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کی خواہش یا ا ن سے ملاقات کا اشتیاق کر رہے ہیں تو ہم سے پوچھا کہ ہم کن کو اپنے پیچھے چھوڑ کر آئے ہیں ؟ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: "اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ ، ان کے ساتھ رہو اور انہیں ( دین کی ) تعلیم دو اور ( اچھے کاموں کا ) کا حکم دو۔" اور آپ نے کچھ چیزیں بیان فرمائیں ( جن میں سے کچھ مجھے یاد ہیں اور کچھ یاد نہیں) اور فرمایا: نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے دیکھا ہے ۔ پھر جب نما ز کا وقت ہوجائے تو تم میں کوئی ایک تمہارے لیے اذان کہے اور تم میں سے بڑا تمہاری امامت کروائے ۔"عبدالوھاب بن عبدالمجید نے بندار کی روایت کی طرح بیان کیا ہے اور بعض اوقات بعض الفاظ میں ان کی مخالفت کی ہے ۔"

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 397

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 398

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو هَاشِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، نَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ.

"ابو قلابہ نے ملاک بن حویرث سے روایت بیان کی اور مکمل حدیث بیان کی۔"

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ. ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو هَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 398

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 399

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "عَلَى الْفِطْرَةِ". قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: "خَرَجَ مِنَ النَّارِ"، فَاسْتَبَقَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّجُلِ، فَإِذَا رَاعِي غَنَمٍ حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَقَامَ يُؤَذِّنُ.

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو سنا جبکہ آپ ایک سفر میں تھے ، وہ کہہ رہا تھا اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) تو اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے فرمایا:( یہ شخص ) فطرت پر ہے ۔ اس نے کہا: اشھد ان لا الٰہ الا اللہ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ آپ نے فرمایا: آگ سے نکل گیا۔"تو لوگ دوڑتے ہوئے اس شخص کی طرف گئے تووہ بکریوں کا چرواہا تھا، اسے نماز کا وقت ہو گیا تو وہ کھڑا ہو کر اذان دینے لگا۔"

أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← نَبِي الله على الْفطْرَة ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← النَّبِيُّ رَجُلًا وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 399

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 400

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الْثَّقَفِيُّ، نَا بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانَا أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: "عَلَى الْفِطْرَةِ". فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: "خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِذَا كَانَ الْمَرْءُ يَطْمَعُ بِالشَّهَادَةِ بِالتَّوْحِيدِ لِلَّهِ فِي الْأَذَانِ وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ بِالشَّهَادَةِ بِاللَّهِ بِالتَّوْحِيدِ فِي أَذَانِهِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَتَسَارَعَ إِلَى هَذِهِ الْفَضِيلَةِ طَمَعًا فِي أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ. خَلَا فِي مَنْزِلِهِ، أَوْ فِي بَادِيَةٍ، أَوْ قَرْيَةٍ، أَوْ مَدِينَةٍ، طَلَبًا لِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ أَبُوابَ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ أَيْضًا فِي مَوْضِعٍ غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، فِي نَوْمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمْرُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا بِالْأَذَانِ لِلصُّبْحِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ تِلْكَ الصَّلَاةِ. وَتِلْكَ الْأَخْبَارُ أَيْضًا خِلَافُ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنْ لَا يُؤَذَّنَ لِلصَّلَاةِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا يُقَامُ لَهَا بِغَيْرِ أَذَانٍ.

"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز کے وقت (دشمن کی بستیوں پر ) حمل آور ہوتے تھے پھر اگر اذان کی آواز سن لیتے تو ( حملہ کرنے سے) رک جاتے ( اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو) حملہ کر دیتے ۔ چنانچہ ایک دن آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) تو آپ نے فرمایا: وہ فطرت اسلام پر ہے ۔ تو اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) آپ نے فرمایا: تو جہنم کی آگ سے نجات پا گیا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعلان وگواہی دینے کی خواہش ہو اور وہ امید رکھتا ہو کہ اس کی اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دینے سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے نجات عطا فرمائیں گے تو ہر مومن کو اس خواہش اور تمنا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اسے آگ سے نجات دے دیں گے ، اس فضیلت کے حصول میں سبقت کرنی چاہیے ۔ وہ اپنے گھر میں تنہا ہو یا جنگل میں یا بستی و شہر میں اکیلا ہو ، اس فضیلت واجر کو حاصل کرنے کےلیے ( اسے اذان دینی چاہیے ) میں نے اس جگہ کے علاوہ بھی کئی مقامات پر سفر میں اذان کے ابواب کو بیان کیا ہے ( مثلا ) نبی اکرمؓ کا صبح کی نماز سے سوئے رہ جانا حتی کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ ﷺ کا حضرت بلا لؓ کو نماز صبح کی اذان دینے کا حکم دینا جبکہ اس کا وقت ختم ہوچکا تھا ۔ یہ احادیث ان لوگوں کے قول کے برعکس ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ نماز کا وقت ختم ہو جانے کے بعد اس کےلیے اذان نہیں دی جائے گی بلکہ بغیر اذان کہے صرف اقامت کہی جائے گی۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 400

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 401

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يُحَدِّثُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ وَقَالَ فِي كُلِّهَا: عَنْ، عَنْ.

" حضرت سالم ؒ اپنے باپ بزرگوار حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "بلال ؓ رات کے وقت اذان کہتے ہیں تو تم ( روزہ رکھنے کےلیے کھاؤ پیو حتی کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔"امام ابو بکر ؒ نے اپنے استاد مخزومی سے بھی روایت کی ہے ، اس سند میں تمام جگہ عن سے روایت ہے ۔"

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 401

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 402

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، نَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ؛ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ -أَوْ يُنَادِي- لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ، وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا، حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا وَهَكَذَا". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ -وَهُوَ التَّيْمِيُّ- عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ بِهَذَا.

" حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: تم میں سے کسی شخص کو بلال ؓ کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے کیونکہ وہ تو ا س لیے اذان دیتے ہیں تاکہ تمہارا نفل پڑھنے والا ( آرام کرنے کےلیے ) لوٹ جائے اور تمہارے سونے والے جاگ جائے اور ( صبح کا وقت ) ایسے ایسے نہیں ہوتا حتی کہ ( روشنی ) ایسے ایسے ہوجائے ۔ امام صاحب فرماتے ہیں ہمیں یوسف بن موسیٰ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے ۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 402

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 403

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ". وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا قَدْرُ مَا يَرْقَى هَذَا، وَيَنْزِلُ هَذَا.

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بے شک بلال ؓ رات کے وقت اذان دیتے ہیں ، تو تم ( روزے کےلیے ) کھاتے پیتے رہو حتی کہ ابن ام مکتوم ؓ اذان دیں ۔ اور ان دونوں اذانوں کے درمیان صرف اتنا وقفہ ہوتا تھا کہ یہ ( اذان دینے کےلیے چڑھ جائیں اور وہ اتر آئیں۔" 55 اس روایت کا بیان جسے بعض جہلاء نے نبی اکرمﷺ سے بیان کیا ہے کہ وہ اس روایت کے مخالف ہے جو ہم نے بیان کی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بلالﷺ رات کے وقت اذان دیتے ہیں

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 403

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 404

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا هُشَيْمٌ،

" حضرت خبیب بن عبدالرحمٰن اپنی پھوپھی حضرت انیسہ بنت خبیب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب ابن ام مکتوم ؓ اذان دیں تو کھاؤ، پیو اور جب بلال ؓ اذان دیں تو مت کھاؤ پیو۔ لہٰذا اگر ہم میں سے کسی عورت کی سحری میں سے کچھ باقی رہ جاتا تو وہ حضرت بلالؓ سے کہتی : ذرا ٹھہریں تاکہ میں اپنی سحری سے فارغ ہوجاؤں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت کے بیان میں حضرت خبیب بن عبدالرحمٰن سے اختلاف کیا گیا ہے ۔ امام شعبہ نے ان کی پھوپھی حضرت انسیہ ؓ سے بیان کیا تو کہا : ابن مکتوم یا بلال ؓ رات کے وقت اذان دیتے ہیں۔"

هُشَيْمٌ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 404

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 405

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن بشار نا محمد بن جعفر نا شعبة عن خبيب - وهو بن عبد الرحمن - عن عمته أنيسة وكانت مصلية : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إن ابن أم مكتوم - أو بلال - ينادي بليل فكلوا واشربوا حتى ينادي بلال - أو ابن أم مكتوم - وما كان إلا أن ينزل أحدهما ويقعد الآخر فتأخذ بثوبه فتقول : كما أنت حتى أتسحر أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه أحمد بن مقدام العجلي نا يزيد بن زريع حدثنا شعبة بمثله قال أبو بكر : فخبر أنيسة قد أختلفوا فيه في هذه اللفظة ولكن قد روى الدراوردي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة مثل معنى خبر منصور بن زاذان في هذه اللفظة

"حضرت خبیب بن عبدالرحمٰن اپنی پھوپھی حضرت انسیہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ ( بکثرت نفلی ) نماز پڑھنے والی خاتون تھیں ، کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابن ام مکتوم ؓ یا بلال ؓ رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم کھاؤ پیو حتی کہ بلال ؓ یا ابن ام مکتوم اذان دیں اور فرق اتنا ہوتا تھا کہ ایک اترتا تو دوسرا بیٹھ جاتا۔ تو حضرت انیسہ ؓ ان کا کپڑا تھام کر کہتیں: اسی طرح تشریف فرما رہیں حتی کہ میں سحری کر لوں ۔ امام ابوبکر فرماتے یہں : ہمیں احمد بن مقدام عجلی نے بھی شعبہ سے اسی طرح بیان کیا ہے ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : حضرت انیسہ ؓ کی روایت میں راویوں نے ان الفاظ میں اختلاف کیا ہے لیکن دراور دی نے اپنی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے منصور بن زاذان کی روایت ( ۴۰۴) کے ہم معنی روایت بیان کی ہے ۔"

عمته أنيسة وكانت مصلية ← خبيب وهو بن عبد الرحمن ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أبو بكر ناه محمد بن بشار ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 405

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 406

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا إبراهيم بن حمزة نا عبد العزيز يعني بن محمد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن ابن أم مكتوم يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى يؤذن بلال فإن بلالا ل ا يؤذن حتى يرى الفجر وروى شبيها بهذا المعنى أبو إسحاق عن الأسود عن عائشة

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک ابن ام مکتوم ؓ رات کے وقت اذان دیتے ہیں تو تم کھاؤ اور پیو حتی کہ بلالؓ اذان دیں ۔ کیونکہ بلالؓ طلوع فجر دیکھ کر ہی اذان دیتے ہیں ۔ اسی سے ملتی جلتی روایت ابو اسحاق نے اسود کے واسطے سے حضرت عائشہ ؓ سے بیان کی ہے ۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عبد العزيز يعني بن محمد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 406

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 407

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه أحمد بن منصور الرمادي نا أبو المنذر نا يونس عن أبي إسحاق عن الأسود بن يزيد قال : قلت لعائشة : أي ساعة توترين ؟ قالت : ما أوتر حتى يؤذنون وما يؤذنون حتى يطلع الفجر قالت : وكان لرسول الله صلى الله عليه وسلم مؤذنان فلان و عمرو بن أم مكتوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أذن عمرو فكلوا واشربوا فإنه رجل ضرير البصر وإذا أذن بلال فارفعوا أيديكم فإن بلال لا يؤذن حتى الصبح

" حضرت اسود بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا: آپ کس وقت وتر ادا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی حتی کہ وہ اذان دینے لگیں اور وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے حتی کہ فجر طلوع ہو جائے ۔ فرماتی ہیں : رسول اللہﷺ کے دو مؤذن تھے ، فلاں اور عمرو بن ام مکتوم ؓ ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عمرو اذان کہیں تو کھاتے پیتے رہو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہیں۔ اور جب بلال ؓ اذان دیں تو اپنے ہاتھ (کھانے سے ) روک لو، کیونکہ بلال ؓ صبح ہونے پر ہی اذان کہتے ہیں۔"

وكان لرسول الله مؤذنان فلان و عمرو بن أم مكتوم ← مَا أَوْتِرُ حَتَّى يُؤَذِّنُونَ، وَمَا يُؤَذِّنُونَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ سَاعَةٍ تُوتِرِينَ؟ ← الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسَ ← أَبُو الْمُنْذِرِ ← أبو بكر ناه أحمد بن منصور الرمادي ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 407

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 408

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أحمد بن سعيد الدارمي و محمد بن عثمان العجلي قالا حدثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها قالت : كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة مؤذنين بلالا و أبو محذورة و عمرو بن أم مكتوم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أذن عمرو فإنه ضرير البصر فلا يغرنكم وإذا أذن بلال فلا يطعمن أحد قال أبو بكر : أما خبر أبي إسحاق عن الأسود عن عائشة فإن فيه نظر لأني لا أقف على سماع أبي إسحاق هذا الخبر من الأسود فأما خبر هشام بن عروة فصحيح من جهة النقل وليس هذا الخبر يضاد خبر سالم عن ابن عمر وخبر القاسم عن عائشة إذ جائز أن يكون النبي صلى الله عليه وسلم قد كان جعل الأذان بالليل نوائب بين بلال وبين ابن أم مكتوم فأمر في بعض الليالي بلالا أن يؤذن أولا بالليل فإذا نزل بلال صعد ابن أم مكتوم فأذن بعده بالنهار فإذا جائت نوبة ابن أم مكتوم بدأ ابن أم مكتوم فأذن بليل فإذا نزل صعد بلال فأذن بعده بالنهار وكانت مقالة النبي صلى الله عليه وسلم أن بلالا يؤذن بليل في الوقت الذي كانت النوبة لبلال في الأذان بليل وكانت مقالته صلى الله عليه وسلم أن ابن أم مكتوم يؤذن بليل في الوقت الذي كانت النوبة في الأذان بالليل نوبة ابن أم مكتوم فكان النبي صلى الله عليه وسلم يعلم الناس في كل الوقتين أن الأذان الأول منهما هو أذان بليل لا بنهار وأنه لا يمنع من أراد الصوم طعاما ولا شرابا وأن أذان الثاني إنما يمنع الطعام والشراب إذ هو بنهار لا بليل فأما خبر الأسود عن عائشة وما يؤذنون حتى يطلع الفجر فإن له أحد معنيين أحدهما : لا يؤذن جميعهم حتى يطلع الفجر لا أنه لا يؤذن أحد منهم ألا تراه أنه قد قال في الخبر إذا أذن عمرو فكلوا واشربوا فلو كان عمرو لا يؤذن حتى يطلع الفجر لكان الأكل والشراب على الصائم بعد أذان عمرو محرمين والمعنى الثاني : أن تكون عائشة أرادت حتى يطلع الفجر الأول فيؤذن البادي منهم بعد طلوع الفجر الأول لا قبله وهو الوقت الذي يحل فيه الطعام والشراب لمن أراد الصوم إذ طلوع الفجر الأول بليل لا بنهار ثم يؤذن الذي يليه بعد طلوع الفجر الثاني الذي هو نهار لا ليل فهذا معنى هذا الخبر عندي والله أعلم

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کے تین مؤذن تھے ۔ بلال ، ابو محذورہ اور عمروہ بن ام مکتوم ؓ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب عمرو ؓ اذان کہیں تو وہ تمہیں مغالطے میں نہ ڈال دیں کیونکہ وہ نابینا آدمی ہیں ۔ اور جب بلال ؓ اذان کہیں تو کوئی شخص ہر گز نہ کھائے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : رہی ابو اسحاق کی اسود کے واسطے سے عائشہ ؓ سے روایت تو اس میں غور وفکر کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے اسود سے ابو اسحاق کا اس روایت کا سماع نہیں ملا ۔ جبکہ ہشام بن عروہ کی روایت نقل کے اعتبار سے صیح ہے اور یہ روایت حضرت سالم کی ابن عمر سے روایت اور قاسم کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت کے مخالف نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رات کی اذان کےلیے حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم ؓ کی باری مقرر کی ہو ۔ لہٰذا آپ نے بعض راتوں میں حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ پہلے رات کے وقت اذان دیں، تو جب بلال ؓ ( اذان دے کر ) اترے تو حضرت ابن ام مکتوم ؓ ( اذان دینے کےلیے ) اوپر چڑھ گئے اور انہوں نے ان کے بعد صبح کی اذان دی ۔ پھر جب حضرت ابن ام مکتوم کی باری آئی تو انہوں نے رات کے وقت اذان دی ، پھر جب وہ اذان دے کر اترے تو بلال ؓ نے ان کے بعد اوپر چڑھ کر صبح کی اذان کہی۔ اور نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان مبارک کہ بلال رات کے وقت اذان دیتے ہیں ، یہ اس وقت ہوگا جب حضرت بلال ؓ کی باری رات کے وقت اذان دینے کی تھی۔ اور آ ﷺ کا یہ فرمان کہ ابن ام مکتوم ؓ رات کے وقت اذان دیتے ہیں ، یہ اس وقت ہو جبکہ را ت کے وقت اذان دینے کی باری حضرت ابن ام مکتوم ؓ کی تھی ۔ اس طرح نبی اکرمﷺ نے ہر دو وقتوں میں لوگوں کو بتایا کہ دونوں اذانوں میں سے پہلی اذان رات کے وقت ہے صبح کے وقت نہیں ۔ اور یہ اذان روزے کا ارادہ کرنے والے کو کھانے پینے سے منع نہیں کرتی ۔ اور دوسری اذان کھانے پینے سے روکتی ہے کیونکہ وہ دن کے وقت ( یعنی طلوع فجر کے بعد) ہوتی ہے رات کے وقت نہیں۔ جبکہ حضرت اسود کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت کہ وہ موذن اذان نہیں کہتے تھے حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ، تو اس کا دو معنوں میں سے ایک معنی ہوسکتا ہے ۔ ایک معنی یہ ہوسکتا ہے کہ وہ سب موذن اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک فجر طلوع نہیں ہوتی تھی۔ یہ مطلب نہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی ( طلوع فجر سے پہلے ) اذان نہیں دیتا تھا۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ انہوں نے اپنی روایت میں یہ کہا ہے : جب عمر ؓ اذان کہیں تو کھاتے پیتے رہو ۔ اس لیے اگر حضرت عمرو ؓ طلوع فجر کے بعد ہی اذان دیتے ہوتے تو حضرت عمرو ؓ کی اذان کے بعد روزے دار کےلیے کھانا پینا حرام ہوتا ۔ دوسرا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا مطلب یہ ہو کہ ( وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے ) جب تک پہلی فجر طلوع نہ ہو جائے ۔ تو موذن میں سے پہلے اذان دینے والا پہلی فجر کے طلوع کے بعد اذان دیتا نہ کہ اس سے پہلے ۔ یہی وہ وقت ہے جب روزے کا ارادہ رکھنے والے کےلیے کھانا اور پینا حلال ہوتا ہے کیونکہ پہلی فجر رات کے طلوع ہوتی ہے دن کے وقت نہیں ۔ پھر ان کے بعد والا مؤذن دوسری فجر طلوع ہونے کے بعد اذان کہتا ہے جو کہ دن میں ہوتا ہے رات میں نہیں ۔ تو اس روایت کا میرے نزدیک یہ معنی ہے ۔ واللہ اعلم۔"

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أحمد بن سعيد الدارمي و محمد بن عثمان العجلي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 408

chevron_left Previous
12345…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals