Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 385

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا رَوْحٌ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ؛ وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ مَوْلَاهُمْ، عَنْ أَبِيهِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَأَمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ -وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ- قَالَ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ مِنْ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ فَسَمِعْتُهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلَاةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ، نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَقَدْ الْخَبَرَ كُلَّهُ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ [57 - أ] أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.

"حضرت ابو محذورہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ حنین سے واپس تشریف لائے تو میں دس میں سے دسواں شخص تھا جو مسلمانوں کی تلاش میں مکہ مکرمہ سے نکلا میں نے انہیں نماز کےلیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم نے ان کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے کھڑے ہو کر اذان دینا شروع کردی ( ہماری آواز سن کر ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے ان لوگوں میں ایک خوش آواز شخص کی اذان سنی ہے لہٰذا ٓپ نے ہماری طرف ( کسی شخص کو بلانے کےلیے ) بھیجا ۔ ( جب ہم حاضر خدمت ہوگئے تو آپ نے ہمیں اذان کہنے کا حکم دیا ) چنانچہ ہم نے ایک ایک کر کے اذان دی۔ میں سب سے آخر میں تھا ۔ جب میں نے اذان دی تو آپ نے فرمایا: میرے پاس آؤ ۔ پھر آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میری پیشانی پر ( اپنا دست مبارک ) پھیرا اور مجھے تین با ر برکت کی دعا دی ۔ پھر فرمایا: جاؤ بیت الحرام کے پاس اذان کہو۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کیسے ( اذان دوں ) ؟ لہٰذا آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے آج کل مسلمان اذان دے رہے ہیں۔اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ، اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ،( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ(نماز کی طرف آؤ ، نماز کےلیے آؤ ۔) حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ،( کامیابی وکامرانی کی طرف آؤ ۔ فلاح کی طرف آؤ۔) صبح کی پہلی اذان میں یہ کلمات کہلوائے : الصلاۃ خیر من النوم ، الصلاۃ خیر من النوم ، ( نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نماز نیند سے بہتر ہے ) اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کہتے ہیں آپ نے مجھے اقامت کے کلمات دو دو مرتبہ سکھائے ۔ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ۔قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ (نماز کھڑی ہوگئی ، نماز کھڑی ہوگئی ۔ ) اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ۔ ابن جریح کہتے ہیں : مجھے یہ ساری روایت عثمان نے اپنے باپ سے اور ام عبدالمالک بن ابی محذورہ سے بیان کی ، انہوں نے یہ روایت ابو محذورہ ؓ سے سنی ۔ ابن رافع اور یزید بن سنان نے حدیث میں اذان کی ابتداء میں اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (یعنی چار مرتبہ ) کہا ہے ۔ یزید بن سنان نے اقامت کے کلمات دو رقی کی روایت کی طرح دو دو مرتبہ ذکر کیے ہیں ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں کہا:"جب تم اقامت کہو تو دو مرتبہ کہو: قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ، (نماز کھڑی ہوگئی ، نماز قائم ہوگئی۔) کیا تم نے سن لیا ہے ؟ اور یہ اضافہ بھی بیان کیا کہ حضرت ابو محذورہ ؓ اپنی پیشانی ( کے بالوں ) کو نہ کاٹتے تھے اور نہ ان میں مانگ نکالتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔"یزید بن سنان نے اپنی روایت کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ابن جریج نے کہا : مجھے یہ ساری حدیث عثمان نے اپنے باپ سے اور عبدالمالک بن ابی محذورہ سے بیان کی ہے ، انہوں نے یہ روایت حضرت ابو محذورہ ؓ سے سنی ہے ۔"

أَبِي مَحْذُورَةَ وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ← أَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أم عبد الملك بن أبي محذورة انهما سمعا ذلك من أبي محذورة ← أَبِيهِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ ← عثمان بن السائب مولاهم ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبِي مَحْذُورَةَ: ← أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 385

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 386

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب موذن فجر کی اذان میںحَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہہ لے تو کہے : الصلاۃ خیر من النوم ( نماز نیند سے بہتر ہے ۔)"

الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ. ← الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ← مِنَ السُّنَّةِ إِذَا ← أَنَسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 386

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 387

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَوْنٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ-، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ يَتْبَعُ بِفِيهِ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ يَمِيلُ بِرَأْسِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ (2)، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ يَسِيرٌ، فَجَاءَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَاهُنَا -يَعْنِي بِقَوْلِهِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ- وَقَالَ وَكِيعٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ فِي هَذَا الْخَبَرِ: فَجَعَلَ يَقُولُ فِي أَذَانِهِ هَكَذَا، وَيُحَرِّفُ رَأْسَهُ، يَمِينَا وَشِمَالًا بِحَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ.

"حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال ؓ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنے منہ کو ( دائیں بائیں ) پھیر رہے تھے۔ سفیان نے اس کی کیفیت بیان کی تو کہا : وہ اپنے سر کو دائیں اور بائیں موڑ رہے تھے ۔ حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بطحاء کے مقام پر حاضر ہوا جبکہ آپ سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ تھے۔ چنانچہ بلالؓ آئے تو انہوں نے اذان کہی، پھر انہوں نے حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح کہتے ہوئے اپنے چہرہ دائیں بائیں پھیرا ۔"ثوری اس روایت میں کہتے ہیں : انہوں نے اپنی اذان میں حی علی الفلاح کہتے ہوئے اپنے سر کو دائیں بائیں پھیرا ۔"

أَبِيهِ ← عَوْنٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ-، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 387

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 388

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ، وَقَدْ جَعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَهُوَ يَلْتَوِي فِي أَذَانِهِ يَمِينَا وَشِمَالًا.

"حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے بلال ؓ کو اپنی دونوں انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے اذان دیتے ہوئے دیکھا اور وہ اپنی اذان میں دائیں بائیں مڑتے تھے۔( یعنی حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے۔)"

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← حجاج، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 388

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 389

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: إِذَا كُنْتَ فِي الْبَوَادِي، فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَا يَسْمَعُ صَوْتَهُ شَجَرٌ وَلَا مَدَرٌ وَلَا حَجَرٌ وَلَا جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ". وَقَالَ مَرَّةً: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي سَعِيدٍ، وَكَانَتْ أُمُّهُ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ.

"حضرت عبدالرحمان بن ابی صعصعہ ، حضرت ابو سعید ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: جب تم جنگلوں میں ہو تو اذان بلند آؤاز سے دینا کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : مؤذن کی آواز جو بھی درخت ڈھیلے ، پتھر ، جن اور انسان سنتے ہیں وہ اس کےلیے گواہی دیں گے ۔" مرہ کہتے ہیں : مجھے عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابی صعصعہ نے حدیث بیان کہ ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی اور وہ حضرت ابو سعید ؓ کے زیر کفالت یتیم تھے جبکہ ان کی والدہ حضرت ابو سعید کے پاس ( بیوی کی حیثیت سے ) تھیں۔"

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 389

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 390

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدٌ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مؤذن کے گناہ وہاں تک بخش دیے جاتے ہیں جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے ۔ اور ہر تازہ اور خشک چیز اس کےلیے گواہی دے گی ۔ اور نماز ( باجماعت ) میں حاضر ہونے والے کےلیے پچیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کےلیے دو نمازوں کے درمیانی گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔"امام ابوبکر فرماتے ہیں : ان کی مراد بینھما سے دو نمازوں کے درمیانی گناہ ہیں۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا يَحْيَى ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بُنْدَارٌ مُحَمَّدٌ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 390

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 391

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا، أَخْبَرَهُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْأَذَانِ، وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ حَكِيمٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

" حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہوجائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں ( نماز ادا کرنے میں ) کیا اجر وثواب ہے تو وہ پھر قرعہ اندازی کیے بغیر کوئی چارہ نہ پائیں ، تو وہ قرعہ اندازی کریں گے۔ یہ یحییٰ بن حکیم کی حدیث ہے ۔ عتبہ بن عبداللہ یحمدی کہتے ہیں: میں نے سمی سے یہ حدیث امام مالک پر قراءت کی ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ← مَالِكٍ، ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 391

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 392

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ [57 - ب]، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْأَذَانَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، وَلَهُ ضِرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَهُ".

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب شیطان نما زکےلیے اذان سنتا ہے تو پاد مارتا ہوا پیٹھ کر بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن پائے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ ب]

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 392

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 393

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، -وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ- عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ". قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ. فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ مِيلًا".

"حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: شیطان جب نماز کےلیے اذان سنتا ہے تو چلا جاتا ہے حتی کہ مقام روحا ء پر پہنچ جاتا ہے ، سلیمان کہتے ہیں: میں نے ( استاد محترم ابوسفیان سے ) پوچھا : روحاء کہاں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا: وہ مدینہ منورہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر ہے ۔"

الرَّوْحَاءِ. فَقَالَ: هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ مِيلًا". ← سُلَيْمَانُ1 فَسَأَلْتُهُ ← النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانُ الرَّوْحَاءِ". ← "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، -وَاللَّفْظُ لِجَرِيرٍ- ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 393

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 394

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ: "أَبْرِدْ"، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ: "أَبْرِدْ". قَالَ شُعْبَةُ: الثَّالِثَةُ -أَكْبَرُ عِلْمِي- حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، يَعْنِي الْجِبَالَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ".

"حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے تو مؤذن نے اذان کہنے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ٹھنڈا کرو ، پھر اس نے اذان دینی چاہی تو آپ نے فرمایا: ( نماز کو ) ٹھنڈا کرو ۔ شعبہ کہتے ہیں : حتی کہ سایہ ٹیلوں کے برابر ہوگیا ۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: " بے شک گرم گی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے تو نماز ( ظہر ) کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔"

"أَبْرِدْ". ← "أَبْرِدْ"، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، ← أَبَا ذَرٍّ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 394

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 395

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نَا حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- نَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَرَجُلٌ، فَوَدَّعَنَا، ثُمَّ قَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا (1) وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا"، قَالَ الْحَذَّاءُ: وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک اور آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر آپ نے ہمیں رخصت کیا تو فرمایا : جب تم دونوں سفر کرو اور نامز کا وقت ہوجائے تو اذان کہنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہواسے تمہاری امامت کروانی چاہیے ۔"خالد حذا ء کہتے ہیں : ہم دونوں قرآن مجید کی قراء ت میں برابر تھے۔"

الْحَذَّاءُ: وَكَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْقِرَاءَةِ. ← "إِذَا سَافَرْتُمَا وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا"، ← وَرَجُلٌ، فَوَدَّعَنَا، ثُمَّ ← اَتَیْتُ النَّبِیَّ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 395

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 396

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، فَقَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا".

" حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتےہ یں کہ میں اور میرا چچا زاد بھائی رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ تو ( الوداع کرتے وقت ) آپ نے فرمایا : جب تم دونوں سفر کرو تو اذان دو اور تکبیر کہو اور تم دونوں میں بڑا تمہاری امامت کروائے۔"

وَابْنُ عَمٍّ لِي، فَقَالَ: "إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا". ← أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ← مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 396

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals