صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 385
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا رَوْحٌ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ؛ وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ مَوْلَاهُمْ، عَنْ أَبِيهِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَأَمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ -وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ- قَالَ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ مِنْ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ فَسَمِعْتُهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلَاةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ، نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَقَدْ الْخَبَرَ كُلَّهُ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ [57 - أ] أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.
"حضرت ابو محذورہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ حنین سے واپس تشریف لائے تو میں دس میں سے دسواں شخص تھا جو مسلمانوں کی تلاش میں مکہ مکرمہ سے نکلا میں نے انہیں نماز کےلیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم نے ان کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے کھڑے ہو کر اذان دینا شروع کردی ( ہماری آواز سن کر ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے ان لوگوں میں ایک خوش آواز شخص کی اذان سنی ہے لہٰذا ٓپ نے ہماری طرف ( کسی شخص کو بلانے کےلیے ) بھیجا ۔ ( جب ہم حاضر خدمت ہوگئے تو آپ نے ہمیں اذان کہنے کا حکم دیا ) چنانچہ ہم نے ایک ایک کر کے اذان دی۔ میں سب سے آخر میں تھا ۔ جب میں نے اذان دی تو آپ نے فرمایا: میرے پاس آؤ ۔ پھر آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میری پیشانی پر ( اپنا دست مبارک ) پھیرا اور مجھے تین با ر برکت کی دعا دی ۔ پھر فرمایا: جاؤ بیت الحرام کے پاس اذان کہو۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کیسے ( اذان دوں ) ؟ لہٰذا آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے آج کل مسلمان اذان دے رہے ہیں۔اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ، اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ،( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ(نماز کی طرف آؤ ، نماز کےلیے آؤ ۔) حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ،( کامیابی وکامرانی کی طرف آؤ ۔ فلاح کی طرف آؤ۔) صبح کی پہلی اذان میں یہ کلمات کہلوائے : الصلاۃ خیر من النوم ، الصلاۃ خیر من النوم ، ( نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نماز نیند سے بہتر ہے ) اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کہتے ہیں آپ نے مجھے اقامت کے کلمات دو دو مرتبہ سکھائے ۔ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ۔قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ (نماز کھڑی ہوگئی ، نماز کھڑی ہوگئی ۔ ) اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ۔ ابن جریح کہتے ہیں : مجھے یہ ساری روایت عثمان نے اپنے باپ سے اور ام عبدالمالک بن ابی محذورہ سے بیان کی ، انہوں نے یہ روایت ابو محذورہ ؓ سے سنی ۔ ابن رافع اور یزید بن سنان نے حدیث میں اذان کی ابتداء میں اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (یعنی چار مرتبہ ) کہا ہے ۔ یزید بن سنان نے اقامت کے کلمات دو رقی کی روایت کی طرح دو دو مرتبہ ذکر کیے ہیں ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں کہا:"جب تم اقامت کہو تو دو مرتبہ کہو: قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ، (نماز کھڑی ہوگئی ، نماز قائم ہوگئی۔) کیا تم نے سن لیا ہے ؟ اور یہ اضافہ بھی بیان کیا کہ حضرت ابو محذورہ ؓ اپنی پیشانی ( کے بالوں ) کو نہ کاٹتے تھے اور نہ ان میں مانگ نکالتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔"یزید بن سنان نے اپنی روایت کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ابن جریج نے کہا : مجھے یہ ساری حدیث عثمان نے اپنے باپ سے اور عبدالمالک بن ابی محذورہ سے بیان کی ہے ، انہوں نے یہ روایت حضرت ابو محذورہ ؓ سے سنی ہے ۔"
أَبِي مَحْذُورَةَ وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ← أَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أم عبد الملك بن أبي محذورة انهما سمعا ذلك من أبي محذورة ← أَبِيهِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ ← عثمان بن السائب مولاهم ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبِي مَحْذُورَةَ: ← أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 385
