Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 517

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَاضِرٌ، نَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ مُحَاضِرَ بْنَ الْمُوَرِّعِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ أَصْحَابُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَوْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، شَكَّ هِشَامٌ.

"حضرت زید بن ثابت ؓسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نماز مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورہ اعراف پڑھا کرتے تھے۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ اس سند میں کسی راوی نے محاضربن مورع کی متابعت کی ہو۔ جناب ہشام کے شاگرد اس سند میں شک کے ساتھ روایت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :" حضرت زید بن ثابت ؓ یا حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے ۔" یہ شک ہشام کو ہوا ہے ۔"

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← مُحَاضِرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 517

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 518

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ -شَكَّ هِشَامٌ-، قَالَ لِمَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: إِنَّكَ تُخِفُّ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ

"جناب ہشام اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرب ابو ایوب ؓ یا حضر ت زید بن ثابت ؓ ( ہشام کو شک ہے ) نے مروان کو کہا جبکہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے: بے شک آپ نماز مغرب کی دونوں رکعتوں میں بہت کم قراءت کرتے ہیں ، اللہ کی قسم! بے شک رسول اللہﷺ تو ان دونوں رکعتوں میں پوری سورت اعراف پڑھا کرتے تھے۔( ہشام ) کہتے ہیں: تو میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا : مروان ان دونوں رکعتوں میں کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: طول المفصل( لمبی سورتوں میں سے ) پڑھا کرتا تھا۔ ہشام سے وکیع اور شعیب بن اسحاق نے اسی طرح روایت کیا ہے ، دونوں شک کےساتھ بیان کرتے ہیں ، کہتے ہیں : "حضرت زید یا حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے ۔"

لِمَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: إِنَّكَ تُخِفُّ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ ← أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ -شَكَّ هِشَامٌ-، ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 518

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 519

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا سلم بن جنادة نا وكيع نا أبو كريب نا شعيب بن إسحاق أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الجبار بن العلاء نا سفيان عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله ح وحدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي حدثنا سفيان عن الزهري ح وحدثنا عبد الله بن محمد الزهري نا سفيان نا الزهري ح وحدثنا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله ح وحدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي نا سفيان عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن أمه أم الفضل بنت الحارث : أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في المغرب بالمرسلات هذا لفظ حديث الدورقي غير أن عبد الجبار لم يقل : في المغرب

"حضرت ابن عباس ؓ اپنی والدہ محترمہ حضرت ام الفضل بنت الحارث ؓ سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو نماز مغرب میں سورہ مرسلات پڑھتے ہوئے سنا۔ یہ دورقی کی روایت کے الفاظ ہیں ۔ مگر ( امام صاحب کے استاد محترم ) عبدالجبار نے یہ الفاظ روایت نہیں کیے کہ: "نماز مغرب میں"( یہ سورت سنی ہے ۔)"

أمه أم الفضل بنت الحارث أنها ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 519

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 520

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ثنا بندار حدثنا أبو بكر - يعني الحنفي - أنا الضحاك - وهو - ابن عثمان - حدثني بكير بن عبد الله بن الأشج حدثنا سليمان بن يسار أنه سمع أبا هريرة يقول : ما رأيت أحدا أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان لأمير كان بالمدينة قال سليمان : فصليت أنا وراءه فكان يطيل في الأوليين ويخفف الأخريين ويخفف العصر وكان يقرأ في الأوليين من المغرب بقصار المفصل وفي الأوليين من العشاء بوسط المفصل رضي الله عنه وفي الصبح بطول المفصل قال أبو بكر : هذا الاختلاف في القراءة من جهة المباح جائز للمصلي أن يقرأ في المغرب وفي الصلوات كلها التي يزاد على فاتحة الكتاب فيها بما أحب وشيئا من سور القرآن ليس بمحظور عليه أن يقرأ بما شاء من سور القرآن غير أنه إذا كان إماما فالاختيار له أن يخفف في القراءة ولا يطول بالناس في القراءة فيفتنهم كما قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل : أتريد أن تكون فتانا وكما أمر النبي صلى الله عليه وسلم الأئمة أن يخففوا الصلاة فقال : من أم منكم الناس فليخفف وسأخرج هذه الأخبار أو بعضها في كتاب الإمامة فإن ذلك الكتاب موضع هذه الأخبار

"جناب سلیمان بن یسار بیان کرتےہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو فرماتےہوئے سنا : میں نے مدینہ منورہ کے فلاں امیر سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشاب ( نماز پڑھنے والے ) کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ جناب سلیمان فرماتے ہیں: تو میں نے بھی اس امیر کے پیچھے نماز پڑھی ( تو وہ اس طرح نماز پڑھتے کہ) (ظہر کی) پہلی دو رکعتوں میں طویل قراءت کرتے اور آخری دو رکعتوں میں کم قراءت کرتے ۔ اور عصر کی نماز مختصر پڑھاتے ۔ وہ نماز مغرب کی پہلی دو رکعتوں مین قصار المفصل ( چھوٹی سورتیں پڑھتے اور عشا ء کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اوساظ المفصل ( درمیانی ) سورتیں پڑھتے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتےہیں: قراءت کے متعلق یہ اختلاف جائز قسم کے اختلاف سے ہے ۔ نمازی کے لیے جائز ہے کہ وہ نماز مغرب اور دیگر تمام نمازوں ، جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ مزید قراءت کی جاتی ہے، میں قرآن مجید کی جو سورت اسے محبوب ہو، پڑھ لے ، اس کے لیے یہ ممنوع نہیں کہ وہ اپنی چاہت کے مطابق قرآن مجید کی کوئی سورت پڑھے ۔ سوائے اس حالت کے کہ وہ امام ہو تو پھر بہتر یہ ہے کہ وہ مختصر قراءت کرے اور طویل قراءت کر کے لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالے ( کہ نماز باجماعت پڑھنا ترک کر دیں ) جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے ( طویل قراءت کرنے پر ) حضرت معاذ بن جبل ؓ سے فرمایا تھا: " کیا تم فتنہ باز بننا چاہتے ہو۔" اور جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ائمہ کو ہلکی اور مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ، آپ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کروائے تو اسے تخفیف کرنی چاہیے ( مختصر نماز پڑھانی چاہیے ۔" عنقریب میں ان تمام احادیث یا ان میں سے بعض احادیث "کتاب الامامۃ"میں بیان کروں گا کیونکہ ان احادیث کا اصل مقام وہی کتا ب ہے ۔"

سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 520

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 521

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ -يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ- قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ يَرْجِعُ (4) إِلَى قَوْمِهِ فَيُصَلِّي بِهِمْ، فَأَخَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَرَجَعَ مُعَاذٌ يَؤُمُّهُمْ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ،

"جناب عمرو بن دینا ر اور ابو زبیر روایت کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا:(دونوں راویوں میں سے ایک اپنے ساتھی سے زیادہ الفاظ روایت کرتا ہے ) حضرت معاذ ؓ رسول اللہﷺ کے ساتھ (عشاء) کی نماز پڑھا کرتے تھے پھر واپس جا کر اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے ۔ اور ایک رات نبی اکرمﷺ نے نماز تاخیر سے پڑھائی تو حضرت معاذ نے واپس جا کر ا نہیں نماز کی امامت کروائی تو سورہ بقرہ پڑھی۔ لوگوں میں سے ایک شخص نے جب آپ کو سورہ بقرہ پڑھتے دیکھا تو اس نے مسجد کے ایک کونے میں الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگوں نے اسے کہا کیا تو منافق ہوگیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ۔ اس نے کہا: میں ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر وہ کر اس واقعے کی آپ کو خبر دوں گا ۔ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی : حضرت معاذ ؓ آپ کے ساتھ ( عشاء کی ) نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جا کر ہمیں نماز پڑھاتے ہیں ، کل رات آپ نے نماز دیر سے پڑھائی تو ( وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد ) آئے اور ہمیں نماز پڑھائی تو اس نے سورہ بقرہ پڑھی ، اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے پیچھے ہٹ کر اکیلے نماز پڑھ لی اور بے شک ہم ہاتھوں سے محنت ومزدوری کرتے ہیں( اس لیے رات کو طویل قیام نہیں کر سکتے ) تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تو فتنہ باز ہے ؟ سورہ(وَالَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی ) اور(سَبِّح اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی ) اور(السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ) پڑھا کرو۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کے دیگر طرق کتاب الامامتہ میں بیان کیے ہیں۔"

جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ -يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ- ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 521

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 522

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن يحيى بن سعيد و معمر سمعنا عدي بن ثابت يقول سمعت البراء بن عازب يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ بـ { التين والزيتون } في عشاء الآخرة فما سمعت أحسن قراءة منه

"جناب عدی بن ثابت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ کو فرماتےہوئے سنا: میں نے رسول اللہﷺ کو عشاء کی نماز میں سورہ والتین والزبتون پڑھتے ہوئے سنا، میں نے آپ ےس خوبصورت قراءت کسی سے نہیں سنی۔"

أَحْسَنَ قِرَاءَةً مِنْهُ ← رسول الله يقرأ بـ التين والزيتون في عشاء الآخرة فما ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← يحيى بن سعيد و معمر ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 522

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 523

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عيسى بن إبراهيم الغافقي نا ابن وهب عن مالك و ابن لهيعة عن ابن الأسود عن عروة بن الزبير عن زينب بنت سلمة عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت : شكوت أو اشتكيت فذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : طوفي مرور الناس وأنت راكبة قالت : فطفت على جمل ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إلى صقع البيت فسمعته يقرأ في العشاء الآخرة - وهو يصلي بالناس - { والطور * وكتاب مسطور } قال ابن لهيعة وقال أبو الأسود : يقرأ ويرتل إذا قرأ إلا أن مالكا قال : يصلي إلى جنب البيت

"نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں ( دوران حج) بیمار ہوگئی تو میں نے رسول اللہﷺ کو بتایا ۔ تو آپ نے فرمایا: لوگوں کےپیچھے پیچھے سواری پر سوا ر ہو کر طواف کرلو۔ آپ فرماتی ہیں : لہٰذا میں نے اونٹ پر سوا ہو کر طواف کیا جب کہ رسول اللہﷺ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے ، تو میں نے آپ کو لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے عشا ء کی نماز میں سورہ (وَالطُّوْرِ وَکِتَابٍ مَّسْطُوْرِ) پڑھتے ہوئے سنا ۔ ابن لہیعۂ کہتے ہیں: ابو الاسود فرماتے ہیں: آپ جب تلاوت فرماتے تو خوب ٹھہر ٹھہر کر تلاوت فرماتے تھے ۔ "مالک نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں: "آپ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔"

يصلي إلى جنب البيت ← أبو الأسود يقرأ ويرتل إذا قرأ إلا أن مالكا ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يقرأ في العشاء الآخرة وهو يصلي بالناس والطور وكتاب مسطور ← فطفت على جمل ورسول الله يصلي إلى صقع البيت ← طوفي مرور الناس وأنت راكبة ← شكوت أو اشتكيت فذكرت لرسول الله ← أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← زينب بنت سلمة ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ الأَسْوَدِ ← مالك و ابن لهيعة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 523

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 524

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيٍّ -وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ-، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِـ (التِّينِ وَالزَّيْتُونِ).

"عدی بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ کو سنا ، وہ فرما رہے تھے : رسول اللہﷺ ایک سفر میں تھے تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی تو اس کی ( پہلی ) دو رکعتوں میں سے ایک رکعت میں سورہ ( وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ ) کی تلاوت فرمائی۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ← بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 524

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 525

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَنَا أَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَقَرَأَ فِيهَا بِـ (التِّينِ وَالزَّيْتُونِ).

" جناب ابو اسحاق بیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت براء ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: نبی اکرمﷺ نے سفر میں نماز پڑھی تو عشاء کی نماز میں سورہ (وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ) پڑھی۔"

صَلَّى النَّبِيُّ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، فَقَرَأَ فِيهَا بِـ (التِّينِ وَالزَّيْتُونِ). ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 525

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 526

أَخْبَرَنَا [69ب] أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عبد الرحمن، نَا زَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِـ (ق)، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا.

"حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ صبح کی نماز میں سورہ ( ق) پڑھا کرتے تھے ۔ بعد میں آپ نے ہلکی اور مختصر نماز پڑھانا شروع کر دی۔"

كَانَ النَّبِيُّ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِـ (ق)، وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيفًا. ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← ب] أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 526

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 527

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ: سَمِعْتُ (1) النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَةِ (ق). [وَ] سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ).

"جناب زیاد بن علاقہ اپنے چچا حضرت قطبہ بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کو صبح کی نماز میں سورہ 'ق'پڑھتے ہوئے سنا ۔ اور میں نے آپ کو (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ) پڑھتے ہوئے بھی سنا۔"

يَقْرَأُ (وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ). ← النَّبِيَّ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَةِ (ق). [وَ] ← عَمِّهِ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ: ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 527

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 528

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ:

"حضرت ابوبرزہ ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز میں سو سے ساٹھ آیات یا ساٹھ سے سو آیات تک تلاوت کرتے تھے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ابو منہال : سیار بن سلامہ بصری ہیں۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبُو الْمِنْهَالِ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 528

chevron_left Previous
1…12131415
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals