Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 493

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، [نَا] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغانِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، نَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ فِي الصَّلَاةِ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فَعَدَّهَا آيَةً، وَ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) آيَتَيْنِ، (وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ) وَجَمَعَ خَمْسَ أَصَابِعِهِ.

" حضرت ام سلمہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نماز میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھی تو اسے ایک آیت شمار کیا، اور "اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن" ( کے ساتھ ) دو آیتیں شمار کیں۔ اور "اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن"( کی تلاوت کرنے کے بعد) اپنی پانچوں انگلیوں کو جمع کر لیا۔ ( یعنی اسے پانچویں آیت شمار کیا۔)"

أُمِّ سَلَمَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 493

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 494

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ وَأَلْفَاظَهَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، "كِتَابِ الْكَبِيرُ"، وَفِي مَعَانِي الْقُرْآنِ، وَأَمْلَيْتُ مَسْأَلَةً قَدْرَ جُزْأَيْنِ فِي الِاحْتِجَاجِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ أَنَّ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) آيَةٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي أَوَائِلِ سُوَرِ الْقُرْآنِ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ ابوبکر اور عمر ؓ کے ساتھ نماز پڑھی تو میں نے ان میں سے کسی کو "بسم اللہ الرحمن الرحیم " پڑھتے ہوئے نہیں سنا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتےہیں : میں نے اس حدیث کی اسانید اور ان کے الفاظ کتاب الصلاۃ ، کتاب الکبیر " اور " معانی القرآن "میں بیان کیے ہیں اور میں نے اس مسئلے کے متعلق کہ " بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "قرآن مجید کی سورتوں کے آغاز میں کتاب اللہ کی ایک سورٹ ہے دو جز کے برابر دلائل املاء کروائے ہیں۔"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 494

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 495

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ يَجْهَرُوا بِـ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ).

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ، ابو بکر عمر اور عثمان کے پیچھے نمازیں پڑھی ہیں ، وہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم "کو بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 495

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 496

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْهَرْ بِـ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ، وَلَا عُثْمَانُ.

"حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہﷺ نے ( نماز میں ) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جہری آواز کے ساتھ نہیں پڑھی اور نہ ابو بکر ، عمر اور عثمان ؓ نے ( جہری آواز کے ساتھ ) پڑھی ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 496

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 497

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، [نَا] مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، نَا أَبُو الْجَوَّابِ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَلَمْ يَجْهَرُوا بِـ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ).

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺحضرت ابو بکر اور عمر ؓ کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں ، تو وہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم " کو بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔"

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← الْاَعْمَشِ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 497

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 498

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُسِرُّ بِـ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فِي الصَّلَاةِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ بِخِلَافِ مَا تَوَهَّمَ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ وَادَّعَى أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: (كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِـ (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)) وَبِقَوْلِهِ: "لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)، إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَقْرَؤونَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) جَهْرًا وَلَا خَفْيًا. وَهَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ أَنَّهُ أَرَادَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُسِرُّونَ بِهِ وَلَا يَجْهَرُونَ بِهِ عِنْدَ أَنَسٍ. أَبُو الْجَوَّابِ هُوَ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ.

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت ابوبکر اور عمر ؓ ،نماز میں " بسم اللہ الرحمن الرحیم " کو آہستہ آواز میں پڑھتے تھے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اس حدیث نے وضاحت کر دی ہے کہ ( نبی اکرمﷺ ، ابو بکر اور عمر ؓ " بسم اللہ الرحمن الرحیم " آہستہ آواز سے پڑھتے تھے ، کم علم لوگوں کے گمان کے برخلاف جن کا دعویٰ ہے کہ حضرت انس بن مالک ؓ کے اس فرمان" کو نبی اکرمﷺ، ابو بکر اورعمر ؓ قراءت کی ابتداء الحمد اللہ رب العالمین " سے کرتے تھے " اور آپ کے فرمان "میں نے ان میں سے کسی کو " بسم اللہ الرحمن الرحیم " پڑھتے ہوئے نہیں سنا "سے مراد یہ ہے کہ وہ حضرات گرامی ( نماز میں) " بسم اللہ الرحمن الرحیم "آہستہ آہستہ آواز سے پڑھتے تھے ، بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔ حدیث نمبر ۴۹۷ کی سند مذکورہ ابو الجواب راوی سے مراد الاحوص بن جواب ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 498

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 499

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا أَبِي وَشُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ- قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، نَا خَالِدٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَرَأَ: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)، ثُمَّ قَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ حَتَّى بَلَغَ وَلَا الضَّالِّينَ. فَقَالَ: آمِينَ، وَقَالَ النَّاسُ: آمِينَ. وَيَقُولُ كُلَّمَا سَجَدَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. وَيَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، جَمِيعُهَا لَفْظًا وَاحِدًا. غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عَبْدِ الْحَكَمِ قَالَ: وَإِذَا قَامَ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَيْنِ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدِ اسْتَقْصَيْتُ ذِكْرَ (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ"، وَبَيَّنْتُ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ أَنَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ بِبَيَانٍ وَاضِحٍ غَيْرِ مُشْكِلٍ عِنْدَ مَنْ يَفْهَمُ صَنَاعَةَ الْعِلْمِ وَيَتَدَبَّرُ مَا بَيَّنْتُهُ فِي ذَلِكَ الْكِتَابِ، وَيَرْزُقُهُ اللَّهُ فَهْمَهُ، وَيُوَفِّقُهُ لِإِدْرَاكِ الصَّوَابِ وَالرَّشَادِ بِمَنِّهِ وَفَضْلِهِ.

"نعیم مجمر ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی پھر ام القرآن کی تلاوت کی حتی کہ ( ولا الضالین) پر پہنچے تو آمین کہی، اور متقدیوں نے بھی آمین کہی، آپ جب بھی سجدہ کرتے ، اللہ اکبر کہتے اور جب ( تشہد ) بیٹھ کر اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک میں تم سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کی ساری نماز کے مشابہ نماز پڑھتا ہوں ۔ تمام راویوں نے ایک ہی طرح کے الفاظ روایت کیے ہیں ، سوائے ابن عبدالحکم کے ، انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے کہ :"اور جب آپ دو رکعتوں کے ( بعد تشہد ) بیٹھ کر اٹھتے تو فرماتے : اللہ اکبر ۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے کتا ب معانی القرآن میں بسم اللہ الرحمٰن الرحٰم کے متعلق دلائل پوری تحقیق کے ساتھ بیان کیے ہیں ۔ میں نے اس کتاب میں بیان کیا کہ بسم اللہ قرآن مجید کی آیت ہے ۔ میں نے اسے خوب واضح اور آسان انداز میں بیان کر دیا ہے کہ جو اہل علم اور ان لوگوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو میرے بیان کروہ دلائل میں غور وفکر کریں گے ، اور اسے اللہ تعالیٰ اس کے فہم سے نوازیں گے اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے حق بات کو سمجھنے کی توفیق عنایت فرمائیں گے۔

نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← خَالِدٌ، ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 499

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 500

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، نَا أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا"؟ قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "لَعَلَّكَ [67 - أ] أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ حَتَّى أُحَدِّثَكَ بِهَا". فَقُمْتُ مَعَهُ فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي وَيَدِي فِي يَدِهِ، فَجَعَلْتُ أَتَبَاطَأُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهَا، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْبَابِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي. قَالَ: "كَيْفَ تَبْدَأُ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ؟ ". قَالَ: فَقَرَأْتُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ. فَقَالَ: "هِيَ، هِيَ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي الَّذِي قَالَ اللَّهُ: (وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ) [الحجر: 87]

حضرت ابوہریرہ ؓ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی عظیم سورت نہ سکھا دوں کہ اس جیسی سورت تو رات ، انجیل اور قرآن مجید میں نازل نہیں کی گئی ؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ضرور سکھا دیں ۔ تو آپ نے فرمایا: یقیناً اس دروازے سے نکلنے سے پہلے پہلے میں تمہیں وہ سورت بیان کردوں گا ۔ لہٰذا میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور آپ میرے ساتھ گفتگو فرمانے لگے جبکہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ مبارک میں تھا تو میں نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کرد یا ، اس خدشے سے کہ کہیں آپ مجھے وہ سورت بتائے بغیر ہی باہر نہ نکل جائیں ۔ چنانچہ جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا( وہ بتا دیجیے ) آپ نے فرمایا: جب تم نماز کےلیے کھڑے ہوتے ہو تو قراءت کیسے شروع کرتے ہو؟ کہتے ہیں : میں نے فاتحہ الکتاب کی تلاوت کر کے سنائی۔ تو آپ نے فرمایا: یہی وہ سورت ہے ، یہی وہ عظیم سورت ہے اور یہی سبع مثانی ہے جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے (وَلَقَدْ اٰتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ)(الحجر:87) "بے شک ہم نے آپ کو سبع مثانی ( بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ) اور قرآن عظیم عطا کیا ہے ۔" وہ یہی ہے جو مجھے عطا کی گئی ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 500

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 501

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا حوثرة بن محمد أبو الأزهر نا أبو أسامة نا عبد الحميد بن جعفر حدثني العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن أبي هريرة عن أبي بن كعب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما أنزل الله في التوراة ولا الإنجيل ولا في القرآن مثل أم الكتاب وهي سبع المثاني

" حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تورات ، انجیل اور قرآن مجید میں ام الکتاب ( سورہ فاتحہ ) جیسی سورت نازل نہیں فرمائی ، اور یہی سبع مثانی ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← حوثرة بن محمد أبو الأزهر ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 501

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 502

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عتبة بن عبد الله اليحمدي قال قرأت على مالك بن أنس عن العلاء بن عبد الرحمن أنه سمع أبا السائب مولى هشام بن زهرة يقول سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من صلى صلاة لم يقرأ بأم القرآن فهي خداج فهي خداج فهي خداج غير تمام فقلت : يا أبا هريرة : إني أكون أحيانا وراء الإمام فغمز ذراعي وقال : اقرأ بها يا فارسي في نفسك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : قال الله تبارك وتعالى : قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين فنصفها لي ونصفها لعبدي يقول العبد : الحمد لله رب العالمين يقول الله حمدني عبدي يقول العبد الرحمن الرحيم يقول الله أثنى علي عبدي يقول العبد { مالك يوم الدين } يقول الله مجدني عبدي وهذه الآية بيني وبين عبدي يقول العبد { إياك نعبد وإياك نستعين } فهذه بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل يقول العبد { اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين } فهو لعبدي ولعبدي ما سأل

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کوئی نماز پڑھی ، ( اس میں ) ام القرآن نہ پڑھی تو وہ نماز ناقص ہے ، وہ ناقص ہے ، ناقص ہے مکمل نہیں ہے ۔ ( ابو سائب کہتے ہیں) تو میں نے پوچھا: اے ابو ہریرہ ! میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ( تو پھر فاتحہ کیسے پڑھوں ؟) تو انہوں نے میرے بازو کو دبایا اور فرمایا : اے فارسی ! اپنے دل میں پڑھ لیا کرو ۔ کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: " اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں : میں نے نماز کو اپننے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دیا ہے ۔ لہٰذا ٓدھی نماز میرے لیے اور آدھی میرے بندے کےلیے ہے ، بند کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) " تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ "تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری حمد وثنا بیان کی ہے ۔ بندہ پڑھتا ہے ( الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ) " نہایت رحم و کرم کرنے والا ( اللہ ) " اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے نے میری تعریف وتوصیف بیان کی ہے ۔ بندہ تلاوت کرتا ہے :(مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ) (اللہ) حساب کے دن کا مالک ہے " اللہ تعالیٰ فرماتےہیں:میرے بندے نے میری بڑائی اور بزرگی بیان کی ہے ۔ اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہے ۔ بندہ کہتا ہے :(إِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ) ( اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد طلب کرتے ہیں " تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان منقسم ہے ، اور اس کےلیے وہ ہے جس کا وہ سوال کرے ۔ بندہ کہتا ہے :(اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمِغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الصَّآلِّیْنَ) "( اے اللہ) ہمیں سیدھے راستے پر ڈال دے ، ان لوگوں کے راستے میں جن پر تو نے انعام کیا ہے ، جن پر غضب نہیں ہوا اور وہ نہ گمراہ ہوئے ۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← على مالك بن أنس ← عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 502

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 503

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الْكَتَّانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ. أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا، وَيَقْرَأُ [فِي] الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كُنْتُ أَحْسَبُ زَمَانًا أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ فِي ذِكْرِ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ أَبَانِ بْنِ يَزِيدَ وَهَمَّامِ بْنِ يَحْيَى عَلَى مَا كُنْتُ أَسْمَعُ أَصْحَابَنَا مِنْ أَهْلِ الْآثَارِ [67 - ب] يَقُولُونَ، فَإِذَا الْأَوْزَاعِيُّ مَعَ جَلَالَتِهِ قَدْ ذَكَرَ فِي خَبَرِهِ هَذِهِ الزِّيَادَةَ.

"جناب عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد محترم حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز ظہر اور عصر کی ( پہلی ) دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ، اور سورت پڑھا کرتے تھے ، اور آخری دور کعتوں میں سورت فاتحہ پڑھتےتھے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ، میں ایک مدت تک یہی خیال کرتا رہا کہ ظہر اور عصر کی نماز کی آخری دو رکعت میں سورت فاتحہ پڑھنے کے بار ے میں یہ حدیث صرف ابان بن یزید اور ہمام بن یحییٰ ہی روایت کرتے ہیں کہ جیسا کہ میں اپنے محدثین احباب سے سنا کرتا تھا ۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ جلیل القدر امام اوزاعی ؒ نے بھی یہ اضافہ اپنی روایت میں بیان کیا ہے ۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامٌ وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، جَمِيعًا ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الْكَتَّانِيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 503

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 504

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: كَذَاكَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ (2)، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، فَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ مَعَهَا، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الْأُولَى، وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا.

" حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد گرامی جناب ابو قتادہ ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں نماز ظہر اور عصر پڑھاتے تو پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت بھی پڑھتے ۔ اور آخری دو رکعتوں میں اکیلی سورت فاتحہ پڑھتے ۔ اور آپ پہلی رکعت کو لمبا کیا کرتے تھے اور کبھی کبھار ہمیں ایک آدھ آیت سنا دیتے تھے ۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، ← كَذَاكَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 504

chevron_left Previous
1…1112131415
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals