Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 361

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ، وَلَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ قَرْنَا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ. فَقَالَ عُمَرُ: أَفَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".

" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ منورہ آئے تو وہ یونہی جمع ہو جاتے تو نماز کےلیے ایک وقت مقرر کر لیتے ، انہیں کوئی بلاتا نہیں تھا، پھر ایک دن انہوں نے اس سلسلے میں بات چیت کی تو ان کے بعض افراد نے کہا کہ عیسائیوں کے گھنٹے جیسا گھنٹہ بنا لو ، جبکہ بعض نے کہا کہ یہودیوں کے نرسنگے جیسا نرسنگا بنا لو، حضرت عمرؓ نے کہاک کہ تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کا اعلان کرے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اے بلال: اٹھو نماز کےلیے اعلان کرو۔"

حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 361

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 362

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، [بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ] (1)، نَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ-، نَا [54 - أ] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلَالًا كَانَ يَقُولُ أَوَّلَ مَا أَذَّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: قُلْ فِي أَثَرِهَا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُلْ كَمَا أَمَرَكَ عُمَرُ".

"حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ بلالؓ شروع میں اذان ان کلمات کے ساتھ کہتے تھے:"أَشْھَدُأَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ"( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے ) "حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ(نماز کےلیے آؤ) تو حضرت عمر ؓ نے انہیں کہا: أَشْھَدُأَن لَّا إِلٰہَ إِلَّااللہُ کے بعد أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ(میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ) کہا کرو ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسی طرح کہا کرو جیسے تمہیں عمر حکم دے رہے ہیں۔"

رَسُولُ اللَّهِ "قُلْ كَمَا أَمَرَكَ عُمَرُ". ← لَهُ عُمَرُ: قُلْ فِي أَثَرِهَا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ← أَوَّلَ مَا أَذَّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. ← ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ بِلَالًا كَانَ ← أَبِيهِ ← أ] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ، [بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ]

Hadith 362

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 363

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، نَا أَبِي، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا أَصْبَحْنَا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ بِالرُّؤْيَا فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الرُّؤْيَا حَقٌّ. فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ. فَإِنَّهُ أَنْدَى أَوْ أَمَدُّ صَوْتًا مِنْكَ، فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَكَ، فَيُنَادِي بِذَلِكَ". قَالَ: فَفَعَلْتُ. فَلَمَّا سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نِدَاءَ بِلَالٍ بِالصَّلَاةِ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي قَالَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَلِلَّهِ الْحَمْدُ".

" حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ: جب ہم نے صبح کی تو ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، میں نے آپ کو (اذان کے متعلق ) خواب بیان کیا ۔ آپ نے فرمایا: بے شک یہ سچا خواب ہے ۔ بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز ہیں، اسے وہ کلمات بتاؤ جو تمہیں (خواب میں) بتائے گئے ہیں اور وہ ان کے ساتھ اذان کہیں۔ کہتے ہیں: تو میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ، پھر جب حضرت بن خطاب ؓ نے حضرت بلال ؓ کی نماز کےلیے اذان سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے رسول اللہﷺ کی طرف نکلے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ معبوث فرمایا ہے ، یقیناً میں نے اسی طرح دیکھا ہے جیسے نہوں نے پکارا ہے ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: پس سب تعریفیں اللہ ہی کےلیے ہیں ( جس نے یہ خواب سچ کر دکھایا ہے ۔)"

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 363

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 364

قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ".

" امام ابو بکر ؒ کہتے ہیں : حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں ہے : تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے بلال کھڑے ہو جاؤ اور نماز کےلیے اذان کہو۔"

ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "قُمْ يَا بِلَالُ! فَنَادِ بِالصَّلَاةِ". ← أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ نَافِعٍ،

Hadith 364

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 365

قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِنَّمَا يَجْتَمِعُ النَّاسُ إِلَيْهِ لِلصَّلَاةِ بِحِينِ مَوَاقِيتِهَا بِغَيْرِ دَعْوَةٍ.

" امام ابوبکر کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زید ؓ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ آپ کے پاس نما زکےلیے ان کے اوقات میں بغیر اذان کے جمع ہوجاتے تھے۔"

Hadith 365

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 366

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ أَيُّوبَ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا أَيُّوبَ؛ ح [ثَنَا] بُنْدَارٌ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، نَا خَالِدٌ؛ ح عَنْ مُحَمَّدٍ، غَيْرُ مُفَسَّرٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفضَّلِ- نَا خَالِدٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا هَشِيمٌ، عَنْ خَالِدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، كِلَيْهِمَا، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ.

" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان کےکلمات دو دو بار اور اقامت کے ایک ایک بار کہیں۔"

أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةِ. ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، كِلَيْهِمَا، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← خَالِدٌ، ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدٍ، غَيْرُ مُفَسَّرٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ-، ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 366

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 367

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلَاةِ. قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

" حضرت انس ؓ کا بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے کسی ایسی چیز کی تلاش کی جس کے ذریعے وہ نماز کے وقت کی خبر دینے کےلیے اذان کہہ سکیں ، کہتے ہیں کہ: بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے ایک ایک بار کہیں۔"

فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ. ← أَنَسٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ: أَنَّهُمُ الْتَمَسُوا شَيْئًا يُؤَذِّنُونَ بِهِ عِلْمًا لِلصَّلَاةِ. ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدًا ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 367

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 368

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، نَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ ذَكَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

" حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ( مسلمان ) لوگ زیادہ ہوگئے تو انہوں نے تذکروہ کیا کہ کوئی ایسی معروف چیز ہونی چائے جس سے وہ نماز کا وقت معلوم کرسکیں ( اور نماز کےلیے جمع ہوسکیں) تو انہوں نے تذکروہ کیا کہ وہ آگ جلا لیا کریں ، یا وہ گھنٹہ بجا لیا کریں تو حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات د و دو مرتبہ اور تکبیر کے کلمات ایک ایک بار کہیں۔"

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 368

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 369

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، نَا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ [54 - ب] ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ إِذَا حَضَرَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعَى رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَنَادَى: "الصَّلَاةُ، الصَّلَاةُ، الصَّلَاةُ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوِ اتَّخَذْنَا نَاقُوسًا. قَالَ: "ذَلِكَ لِلنَّصَارَى". قَالُوا (1): فَلَوِ اتَّخَذْنَا بُوقًا. قَالَ: "ذَلِكَ لِلْيَهُودِ". قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں جب نماز کا وقت ہوجاتا تو ایک آدمی راستے میں چلتے ہوئے نماز ، نماز ، نماز پکارتا تو یہ چیز لوگوں پر گراں گزری تو انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر ہم گھنٹہ بجانا شروع کر دیں ( تو بہتر ہو گا ) آپ نے فرمایا : یہ تو عیسائیوں کا شعار ہے ۔ انہوں نے عرض کی : اگر ہم بگل بجانا شروع کر دیں ( تو یہ بھی ٹھیک ہے ) آپ نے فرمایا : یہ تو یہودیوں کا شعار ہے ۔ کہتے ہیں : حضرت بلال ؓ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دوہرے اور تکبیر کے کلمات اکہرے کہیں۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ ب] ابْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 369

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 370

وأخبرنا الفقيه الإمام أبو الحسن علي بن المسلم نا عبد العزيز بن أحمد أنا إسماعيل بن عبد الرحمن قال أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر محمد بن عيسى نا سلمة - يعني ابن الفضل - عن محمد بن إسحاق قال : وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين قدمها إنما يجتمع الناس إليه للصلاة بحين مواقيتها بغير دعوة فهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجعل بوقا كبوق اليهود الذي يدعون به لصلواتهم ثم كرهه ثم أمر بالناقوس فنحت ليضرب به للمسلمين إلى الصلاة فبينما هم على ذلك أرى عبد الله بن زيد بن عبد ربه أخو الحارث بن الخزرج النداء فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له : يا رسول الله إنه طاف بي هذه الليلة طائف مر بي رجل عليه ثوبان أخضران يحمل ناقوسا في يده فقلت : يا عبد الله أتبيع هذا الناقوس فقال : وما تصنع به ؟ قلت : ندعو به إلى الصلاة فقال : ألا أدلك على خير من ذلك ؟ قلت : وما هو ؟ قال : تقول : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمد رسول الله أشهد أن محمد رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله ثم استأخر غير كثير ثم قال مثل ما قال وجعلها وترا إلا قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله فلما خبرتها رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنها لرؤيا حق إن شاء الله فقم مع بلال فألقاها عليه فإنه أندى صوت منك فلما أذن بلال سمع عمر بن الخطاب وهو في بيته فخرج إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يجر رداءه وهو يقول : يا نبي الله والذي بعثك بالحق لقد رأيت مثل ما رأى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فلله الحمد فذاك أثبت

"جناب محمد بن اسحاق ؒ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ بغیر اذان کے نماز کے اوقات میں آپ کے پاس جمع ہوجاتے تھے پھر رسول اللہﷺ نے یہودیوں کے بگل جس سے وہ اپنی نمازوں کے لیے بلاتے ہیں ، کی طرح کا بگل بنانے کا ارادہ کیا ۔ پھر آپ نے اسے ناپسند کیا ۔ پھر آپ نے گھنٹہ بنانے کا حکم دیا تو وہ تراش دیا گیا تاکہ مسلمانو ں کو نماز کےلیے بلانے کےلیے بجایا جائے ، آپ ( اور آپ کے صحابہ کرام ) اسی صلاح مشورے میں مصروف تھے کہ حارث بن خزرج کے بھائی عبداللہ بن زید بن عبدر بہ کو ( خواب میں ) اذان دکھائی گئی ۔ تو وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کی : اے للہ کے رسول ! آج رات میں نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا ، ایک آدمی میرے پاس سے گزرا ، اس پر د و سبز کپڑے تھے اور وہ ہاتھ میں گھنٹہ اٹھائے ہوئے تھا ۔ تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندے ! کیا تم اس گھنٹے کو بیچو گے ؟ اس نے کہا: تم اس سے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا: ہم اس سے نماز کےلیے بلائیں گے ۔ تو اس نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ میں نے کہا : وہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : تم کہا کرو : اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے ) اشھد ان لا الہ الا اللہ ۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ۔( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)اشھد ان محمد رسول اللہ، اشھد ان محمد رسول اللہ،( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ، اللہ کے رسول ہیں)( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ، اللہ کے رسول ہیں) حی علی الصلاۃ ، حی علی الصلاۃ، ( نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ) حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ، ( آؤ فلاح کی طرف ، آؤ کامیابی و کامرانی کی طرف) اللہ اکبر اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) لا الہ الا اللہ( اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں) پھر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا پھر اس نے اسی طرح کہا جیسے پہلے کہا تھا اور اس نے وہ کلمات اکہرے کہے سوائے قد قامت الصلاۃ کے ، اس نے ( دو مرتبہ) قدا قامت الصلاۃ ، قد قامت الصلاۃ ( نماز کھڑی ہوگئی ، نماز قائم ہوگئی) اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ ، ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) جب میں نے اس کی خبر رسول اللہﷺ کو دی تو آپ نے فرمایا : ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے ۔ بلال ؓ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ اور اسے یہ کلمات بتاؤ کیونکہ وہ تم سے بلند آواز والا ہے ۔ پھر جب حضرت بلال ؓ نے ان کلمات کے ساتھ اذان دی تو حضرت عمر خطاب ؓ نے اسے سنا جبکہ وہ اپنے گھر میں تھے ۔ تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے رسول اللہﷺ کی طرف نکلے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! اس ذات باری کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ، یقیناً میں نے بھی ایسا ہی ( خواب ) دیکھا ہے جیسا اس نے دیکھا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب تعریفیں اللہ ہی کےلیے ہیں اور اس ( گواہی نے) مسئلے کو زیادہ مضبوط اور واضح کر دیا ہے ۔"

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- ← أبو بكر محمد بن عيسى ← أَبُو طَاهِرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← الفقيه الإمام أبو الحسن علي بن المسلم

Hadith 370

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 371

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا يعقوب بن إبراهيم حدثني أبي عن أبي إسحاق حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن محمد بن عبد الله بن زيد بن عبد ربه حدثني أبي عبد الله بن زيد قال : لما أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناقوس فعمل ليضرب به للناس في الجمع للصلاة فذكر الحديث بطوله مثل حديث سلمة بن الفضل

"حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تو وہ بنا دیا گیا تاکہ لوگوں کو نماز کےلیے جمع کرنے کےلیے بجایا جائے ، پھر سلمہ بن فضل کی حدیث کی طرح مکمل حدیث بیان کی۔"

الحديث بطوله مثل حديث سلمة بن الفضل ← لما أمر رسول الله بالناقوس فعمل ليضرب به للناس في الجمع للصلاة ← أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 371

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 372

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال سمعت محمد بن يحيى يقول : ليس في أخبار عبد الله بن زيد في قصة الأذان خبر أصح من هذا لأن محمد بن عبد الله بن زيد سمعه من أبيه و عبد الرحمن بن أبي ليلى لم يسمعه من عبد الله بن زيد

" جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زید کے قصہ اذان کی روایات میں اس سے زیادہ صیح روایت اور کوئی نہیں کیونکہ محمد بن عبداللہ بن زید نے اسے اپنے والد محترم ( حضرت عبداللہ بن زید) سے سنا ہے ۔ اور عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حضرت عبداللہ بن زید سے اس روایت کو نہیں سنا ۔"

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 372

chevron_left Previous
1234…15
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals