صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2237
حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صَدَقَةَ -وَهُوَ ابْنُ يَسَارٍ- عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عُمَرَ قَالَ: بُنِيَ لِنَبِيّ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ اعْتَكَفَ فِي رَمَضَانَ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةً أَخْرَجَ رَأْسَهُ فَسَمِعَهُمْ يَقْرَؤُونَ. فَقَالَ: "إِنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى يُنَاجِي رَبَّهُ فَلْيَعْلَمْ أَحَدُكُمْ مَا يُنَاجِيهِ، يَجْهَرُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ؟ ". يُرِيدُ إِنْكَارَ الْجَهْرِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ.
''حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کےلیے کھجور کی ٹہنوں اور پتوں سے جھونپڑی بنائی گئی جس میں آپ نے رمضان المبارک میں اعتکاف کیا ۔ حتی کہ جب ایک رات ہوئی تو آپ نے اپنا سر مبارک باہر نکالا اور صحابہ کرام کو (بلند آواز سے) قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا :''بے شک نمازی جب نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے تو تم میں سے کسی شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا رسر گوشیاںکر رہا ہے، کیا تم میں سے بعض لوگ دوسروں پر بلند آواز سے (ان کی قراءت و ذکر میں) خلل ڈالتے ہیں ۔آپ نے ایک دوسرے پر بلند آواز سے قراءت کرنے کو نا پسند کیا تھا اور اس سے روکنا چاہتے تھے۔''
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← صَدَقَةَ وَهُوَ ابْنُ يَسَارٍ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← مَالِكُ بْنُ سُعَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2237
