Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2225

حَدَّثَنَا عَبْد الْوَارِثِ بْنُ عَبْد الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَعْتَكِفُ [الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا] (1) فَاعْتَكَفَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ لَيْلَةً.

''حضرت ابی کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ پھر ایک سا ل آپ اعتکاف نہ کر سکے تو آپ نے اگلے سال بیس دن اعتکاف کیا۔''

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ،

Hadith 2225

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2226

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَسَافَرَ عَامًا، فَلَمْ يَعْتَكِفْ، فَاعْتَكَفَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ عِشْرِينَ لَيْلَةً.

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، پھر ایک سال آپ نے سفر کیا تو اعتکاف نہ کر سکے، چنانچہ آپ نے اگلے سال بیس راتوں کا اعتکاف کیا۔''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 2226

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2227

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ.

''حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ایک سال آپ اعتکاف نہ کر سکے ، پھر جب اگلا سال آیا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 2227

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2228

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ. أَخْبَرَنا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْجِعْرَانَةِ، فَقَالَ: لَمْ يَعْتَمِرْ (2) مِنْهَا، قَالَ: وَكَانَ عَلَى عُمَرَ نَذَرُ اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ أَنْ يَفِيَ بِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ وَقْتَ رُجُوعِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَكَّةَ بَعْدَ فَتْحِ حُنَيْنٍ، وَإِنَّمَا كَانَ اعْتِكَافُ عُمَرَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ بَعْدَ رُجُوعِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[227 - أ] [وَ] إِعْطَائِهَا إِيَّاهُ مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ.

''جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ ﷺ کے جعرانہ مقام سے عمرہ کرنے کا تذکرہ کیا گیا انہوں نے فرمایا:''آپ نے جعرانہ سے کوئی عمرہ نہیں کیا۔''انہوں نے فرمایا:''حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر زمانہ جاہلیت کی ایک رات کے اعتکاف کی نذر تھی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے (یہ نذر پوری کرنے کے بارے میں)پوچھا۔تو آپ نے انہیں یہ نذر پوری کرنے کا حکم دیا تو وہ اس رات مسجد میں داخل ہوئے۔پھر مکمل حدیث بیان کی ۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''میں نے کتان الجہاد میں فتح حنین کے بعد نبی کریم ﷺ کی مکہ مکرمہ واپسی کا وقت بیان کر چکا ہوں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس رات کا اعتکاف نبی کریم ﷺ کی واپسی اور آپ کے حضرت عمر حنین کے قیدیوں میں سے ایک لونڈی عطا کرنے کے بعد کیا تھا۔''

وَكَانَ عَلَى عُمَرَ نَذَرُ اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَأَلَ النَبِيّ فَأَمَرَهُ ← لَمْ يَعْتَمِرْ مِنْهَا، ← عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّه مِنَ الْجِعْرَانَةِ، ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Hadith 2228

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2229

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ كَانَ عَلَيْهِ نَذْرُ اعْتِكَافٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً. فَسَأَلَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ، وَكَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ وَهَبَ لَهُ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ حُنَيْنٍ (1)، فَبَيْنَمَا هُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ النَّاسُ يُكَبِّرُونَ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْسَلَ سَبْيَ حُنَيْنٍ. قَالَ: فَأَرْسَلُوا تِلْكَ الْجَارِيَةَ. وَقَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ (2): فِي خَبَر نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا، فَإِنْ ثَبَتَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ فَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تَقُولُ يَوْمًا بِلَيْلَتِهِ، وَتَقُولُ لَيْلَةٌ تُرِيدُ بِيَوْمِهَا، وَقَدْ ثَبَتَتِ الْحُجَّةُ فِي كِتَابِ اللَّه - عَزَّ وَجَلَّ - فِي هَذَا.

''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ جاہلیت میں مانی ہوئے ایک رات کا اعتکاف کرنے کی نذر تھی۔ تو انہوں نے (اس بارے میں ) نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ نےانہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۔ اور نبی اکرمﷺ نے انہیں حنین کے قیدیوں میں سےایک لونڈی دی پس اس دوران میں کہ مسجد حرام میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے جب لوگ اللہ اکبر کہتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ انہوں نےجواب دیا : رسول اللہ ﷺ نے حنین کے قیدی آزاد کر دئیے ہیں (اور لوگ خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کر رہے ہیں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تو وہ لونڈی بھی آزاد کر دو۔''حضرت نافع کی،حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضرت عمر کی روایت کے ایک راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں:''حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :''بے شک میں نے ایک دن اعتکاف کرنے کی نذر مانی تھی۔''اگریہ الفاظ ثابت ہوجائیں تو یہ اسی قسم سے ہوں گے جسے میں بیان کر چکا ہوں کہ عرب لوگ کبھی دن بول کر رات سمیت دن مراد لیتے ہیں اور کبھی رات بول کر دن سمیت رات مراد لیتے ہیں اور اس مسئلے کی دلیل اللہ کی کتاب ثابت ہو چکی ہے۔''

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 2229

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2230

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَني يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ: أَنَّ عَائِشَة كَانَتْ إِذَا اعْتَكَفَتْ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَتْ بَيْتَهَا لِحَاجَةٍ لَمْ تَسْأَلْ عَنِ الْمَرِيضِ، إِلَّا وَهِيَ مَارَّةٌ، قَالَتْ عَائِشَة: وَإِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ، وَكَانَ يُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ.

''حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت عمر و رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ جب مسجد میں اعتکاف کرتیں پھر کسی ضرورت کےلیے اپنے گھر میں داخل ہوتیں تو چلتے چلتے مریض کی تیماردار کر لیتیں ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں : بے شک رسول اللہ ﷺ گھر میں صرف کسی انسانی حاجت ہی کےلیے داخل ہوتے تھے اور آپ مسجد ہی سے اپنا سر مبارک میری طرف کر دیتے تو میں آپ کنکھگی کر دیتی تھی۔''

عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 2230

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2231

أَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَني يُونُسُ وَمَالِكٌ وَاللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عَبْد الْأَعْلَى سَوَاءً، غَيْر أَنَّهُ قَالَ: إِلَيَّ رَأْسَهُ.

صرف انسانی حاجت کے سوا معتکف شخص اپنے گھر میں داخل نہ ہواور معتکف کےلیے اپناسر مسجد سے باہر اپنی بیوی کی طرف نکالنا جائز ہے تاکہ وہ اسے دھودےاور کنگھی کر دے

إِلَيَّ رَأْسَهُ. ← عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ: بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عَبْد الْأَعْلَى سَوَاءً، غَيْر أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسُ وَمَالِكٌ وَاللَّيْثُ، ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ

Hadith 2231

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2232

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَة، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَتَجِيءُ عَائِشَة فَيُخْرِجُ رَأْسَهُ، فَتُرَجِّلُهُ، وَهِيَ حَائِضٌ.

''حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺمسجد میں معتکف ہوتے تھے۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ تشریف لاتیں تو آپ اپنا سر مبارک باہر نکالتے اور وہ آپ کنگھی کر دیتیں حالانکہ وہ حائضہ ہوتی تھیں۔''

عَائِشَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى،

Hadith 2232

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2233

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّزَّاق، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ عَلِي بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ، فَقَامَ لِيَقْلِبَنِي وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ، فَمَرَّ رَجُلانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَسْرَعَا، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "عَلَى رِسْلِكُمَا، إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ". فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّه يَا رَسُولَ اللَّه! قَالَ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ. وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا، أَوْ قَالَ: شَيْئًا".

''حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کےلیے آئی اور آپ سے گفتگو بھی کی پھر میں واپس آنے کےلیے اٹھی تو اپ سے گفتگو بھی کی پھر میں واپس آنے کےلیے اٹھی تو آپ مجھے رخصیت کرنے کےلیے آٹھے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا گھر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کےمحلے میں تھا ۔ اس دورا ن دو انصاری صحابہ پاس سے گزرے ، پھر جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو تیزی سے آگے بڑھ گئےتو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ''تم دونوں آرام و سکون سےجاؤیہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ ہیں دونوں نے کہا:''سبحان اللہ'' اے اللہ کے رسول ! (کیا ہم آپ کے بارے کسی بدگمانی کا تصور کر سکتے ہیں)۔آپ نے فرمایا :''بے شک شیطان انسانی جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے اور مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی برا خیال نہ ال دے یا فرمایا: کوئی چیز نہ ڈال دے۔''

صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 2233

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2234

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِي، أَخْبَرَني عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، أَنَّ صَفِيَّةَ زَوْجَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا جَاءَتِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ لِتَنْقَلِبَ، وَقَامَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - معها لِيَقْلِبَهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَاب الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ بَاب أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ بِهَا رَجُلانِ مِنَ الْأَنْصَارِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

''حضرت صفیہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ وہ رمضان المبارک کےآخری عشر ے میں مسجد میں نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں جبکہ آپ اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے تھوڑی دیر آپ سے بات چیت کی پھر وہ واپس جانے کےلیے اٹھ کھڑی ہوئیں اور نبی کریم ﷺ بھی انہیں رخصت کرنے کےلیے اٹھے۔حتی کہ جب وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے دروازے کے قریب مسجد کے دروازے پر پہنچی تو ان کے پاس سے دو انصاری صحابی گزرے۔پھر مکمل حدیث بیان کی۔''

أَبِي الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 2234

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2235

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْوَاسِطِيُّ [227 - ب]. حَدَّثَنَا عَبْد الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمُرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، وَرُبَّمَا قَالَ: قَالَتْ: كُنْتُ أَسْهَرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا خَبَر لَيْسَ لَهُ مِنَ الْقَلْبِ مَوْقِعٌ، وَهُوَ خَبَر مُنْكَرٌ لَوْلَا مَا اسْتَدْلَلْتُ مِنْ خَبَر صَفِيَّةَ عَلَى إِبَاحَةِ السَّمَرِ لِلْمُعْتَكِفِ لَمْ يَجُزْ أَنْ يُجْعَلَ لِهَذَا الْخَبَر بَاب عَلَى أَصْلِنَا، فَإِنَّ هَذَا الْخَبَر لَيْسَ مِنَ الْأَخْبَارِ الَّتِي يَجُوز الِاحْتِجَاجُ بِهَا إِلَّا أَنَّ فِي خَبَر صَفِيَّةَ غُنْيَةً فِي هَذَا. فَأَمَّا خَبَر صَفِيَّةَ ثَابِتٌ صَحِيحٌ، وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ مُحَادَثَةَ الزَّوْجَةِ زَوْجَهَا فِي اعْتِكَافِهِ لَيْلًا جَائِزٌ وَهُوَ السَّمَرُ نَفْسُهُ.

''حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کو گفتگو کیا کرتی تھی جبکہ آپ اعتکاف بیٹھے ہوتے تھے اور بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں:''وہ فرماتی ہیں: میں شب بیداری کرتی تھی۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت کا میرے دل میں کوئی مقام و مرتبہ نہیں ہےاور یہ منکر روایت ہےاور اگر میں نےمعتکف شخص کےلیے رات کی گفتگو کے جواز کےلیے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے استدلال نہ کیا ہوتا تو اس روایت کےلیے اپنی شرط کےمطابق باب نہ باندھتا ۔کیونکہ یہ روایت ان روایات میں سے نہیں ہے کہ جن سے دلیل لینا جائز ہے مگر یہ کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس سے کفالت ہے۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح ثابت ہے اور اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ بیوی اپنے خاوند سے رات کے وقت اس کے اعتکاف میں گفتگو کر سکتی ہے اور یہی سمر (شب گوئی)ہے۔''

كُنْتُ أَسْهَرُ. ← كُنْتُ أَسْمُرُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، وَرُبَّمَا ← عَائِشَةَ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْمُعَلَّى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْوَاسِطِيُّ ب]. ← الْفَضْلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ،

Hadith 2235

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2236

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ، أَوْ وُضِعَ لَهُ سَرِيرُهُ وَرَاءَ أُسْطُوَانَةِ التَّوْبَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: اسْطُوَانَةُ التَّوْبَةِ هِيَ الَّتِي شُدَّ أَبُو لُبَابةَ بْنُ عَبْد الْمُنْذِرِ عَلَيْهَا، وَهِيَ عَلَى غَيْر الْقِبْلَةِ.

''حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ اعتکاف کرنا چاہتے تو آپ کا بستر یا آپ کی چار پائی توبہ کے ستون کے پیچھے بچھا دی جاتی ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''توبہ کا ستون وہ ہے جس کے ساتھ حضرت ابوالبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے خود کو باند ھ لیا تھا اور وہ قبلہ شریف کی مخالف سمت میں ہے۔''

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Hadith 2236

chevron_left Previous
1…28293031
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals