Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2201

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِي، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ: أَلَا تُحَدِّثُنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ، سَمِعَهُ أَبُوكَ مِنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: بَلَى أَقْبَلَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ رَمَضَانَ شَهْرٌ افْتَرَضَ اللَّه صِيَامَهُ، وَإِنِّي سَنَنْتُ لِلْمُسْلِمِينَ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَر: "مَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ" إِلَى آخِرِ الْخَبَر، فَمَشْهُورٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، ثَابِتٌ لَا شَكَّ وَلَا ارْتِيَابَ فِي ثُبُوتِهِ أَوَّلَ الْكَلَامِ، وَأَمَّا الَّذِي يُكْرَهُ ذِكْرهُ النَّضْرُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيه، فَهَذِهِ اللَّفْظَةُ مَعْنَاهَا صَحِيحٌ مِنْ كِتَابِ اللَّه - عَزَّ وَجَلَّ -، وَسُنَّةِ نَبِيّهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، فَإِنِّي خَائِفٌ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْإِسْنَادُ، وَهْمًا، أَخَافُ أَنْ يَكُونَ أَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيه شَيْئًا. وَهَذَا الْخَبَر لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَحَدٌ أَعْلَمُهُ غَيْر النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ.

'جناب نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو سلمہ سے کہا: کیا اآپ ہمیں کوئی ایسی حدیث نہیں سنائیں گے جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو؟تو انہوں نے فرمایا: کیو ں نہیں۔ رمضان المبارک کا مہینہ آیاتو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک رمضان کے مہینےمیں اللہ تعالی نے اس کے روزے فرض کیے ہیں اور میں نے مسلمانوں کےلیے اس کا قیام جاری کیا ہے۔لہٰذا جس شخص نے ایمان وثواب کی نیت سے اس مہینے کے روزے رکھے اور قیام کیا تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاک صاف ہوجائے گا جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنم دیاتھا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ''جس شخص نے اس مہینے کے روزے رکھے اور قیام کیا۔۔۔۔۔'' ''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی صورت میں مشہور ہے کہ ۔ یہ پہلاحصہ بلا شبہ ثابت ہے ۔ لیکن نضر بن شیبان کی حضرت ابو سلمہ کے واسطے سے حضرت عبدالرحمان سے روایت کردہ حصہ ناپسندیدہ ہے۔ یہ الفاظ ان کا معنی اللہ کی کتاب اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں صحیح ہے ۔ لیکن اس سند سےصحیح نہیں ہے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ سند وہم ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ حضرت ابو سلمہ نے اپنے والد گرامی سے کچھ نہیں سنا اور میرے علم کے مطابق اس روایت کو حضرت ابو سلمہ سے بھی صرف نضر بن شیبان ہی روایت کرتا ہے(گویا ان دو اسباب کی بنا ہر یہ سند ضعیف ہے)۔''

Hadith 2201

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2202

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِقِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْر أَنْ يَأْمُرَ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ يَقُولُ (1): "مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".

''حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبار ک میں قیام کرنے کا حکم عزیمت و وجوب کے بغیر دیا کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے جس شخص نے ایمان وثوا ب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا ، تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔''

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 2202

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2203

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ قَامَ [225 - أ] رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے رمضان المبارک کا قیام ایمان اور ثوا ب کے ساتھ کیا اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ،

Hadith 2203

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2204

حَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا زَيْد بْنُ الْحُبَاب، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ يَقُولُ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَنْ نُدْرِكَ الْفَلَاحَ، وَكُنَّا نُسَمِّيهِ السُّحُورَ، وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ لَيْلَةُ سَابِعَةِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، وَنَحْنُ نَقُولُ سَابِعَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ. فَنَحْنُ أَصَوْبُ أَمْ أَنْتُمْ؟.

''جناب نعیم بن زیاد ابو طلحہ انصاریؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو حمص کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا : ہم نے رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان المبارک کی تئیسویں رات کو تنہائی رات تک قیام کیا پھر ہم نے پچیسویں رات کو آدھی رات تک نفل پڑھے ۔ پھر ہم نے ستائیسویں رات کو اتنا طویل قیام کیا کہ ہم خیال کرنے لگے کہ سحری نہیں کھا سکیں گے۔ اور ہم فلاح کو سحری کا نام دیتے تھےاور تم ساتویں رات کو تئیسویں رات کہتے ہو، اور ہم ساتویں رات کو ستائیسویں رات کہتے ہیں ۔ تو ہم زیادہ درست ہیں یا تم؟''

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ ← نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ، ← مُعَاوِيَةَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ

Hadith 2204

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2205

حَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه، حَدَّثَنَا زَيْد، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَامَ بِنَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا أَحْسِبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ"، ثُمَّ قَامَ [لَيْلَةَ] خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: "مَا أَحْسِبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ" ثُمَّ قُمْنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ إِلَى الصُّبْحِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "إِلَّا وَرَاءَكُمْ" هُوَ عِنْدِي مِنْ بَاب الْأَضْدَادِ، وَيُرِيدُ: أَمَامَكُمْ، لِأَنَّ مَا قَدْ مَضَى هُوَ وَرَاءُ الْمَرْءِ، وَمَا يَسْتَقْبِلُهُ هُوَ أَمَامُهُ، وَالنَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَرَادَ: مَا أَحْسِبُ مَا تَطْلُبُونَ -أَيْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ- إِلَّا فِيمَا تَسْتَقْبِلُونَ، لَا أَنَّهَا فِيمَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ، وَهَذَا كَقَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا) [الكهف: 79]. يُرِيدُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ.

''حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک میں تئیسویں رات کو ہمیں پہلی تہائی رات تک نفل پڑھائے پھر آپ نے فرمایا :''میری خیال ہے تم جسے تلاش کر رہے ہو وہ تمہارے آگے ہے۔پھر پچیسویں رات کوآدھی رات تک قیام کیا۔ پھر فرمایا : میرا خیال ہے کہ تمہاری مطلوبہ چیز آگے ہے۔ پھر ہم نے ستائیسویں رات کو صبح تک نفل پڑھے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''اَلاَوراء کم''(تمہارے پیچھے)یہ میرے نزدیک اضداد کے باب سے ہے۔اور آپ کی مراد اس سے''آگے'' ہے کیونکہ جو چیز گزر جائے وہ آدمی کے پیچھے ہوتی ہے اور جو آنے والی ہو وہ اس کے آگے ہوتی ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کی مراد یہ ہے کہ میرے خیال میں جو تم طلب کر رہے ہو یعنی شب قدر ،تو وہ تمہارے آگے ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ گزشتہ دنوں میں تھی اور آپ کا یہ فرمان اللہ تعالی کے اس فرمان کی طرح ہے(وَکَانَ وَرَآءَھُمْ مَلِکٗ یَّا خُذُ کُلَّ سَفِیْنَۃٍغَصْباً) ''جب کہ ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی غصب کر لیتا تھا۔''اآیت میں مذکور لفظ ''وراءھم'' کا معنی بھی اُن کے آگے ہے

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ← مُعَاوِيَةَ، ← زيد1 ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 2205

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2206

حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّه بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صُمْنَا مَعَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا، حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا، فِي السَّادِسَةِ، وَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! لَوْ نَفَّلْنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ؟ قَالَ: "إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ". ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ، وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ. قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ.

'' حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ روزے رکھے تو آپ نے ہمیں قیام نہیں کرایا ۔ حتی کہ رمضان کے سات دن باقی رہ گئے ۔ پھر آپ نے ہمیں قیام کرایا حتی کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ پھر آپ نے چھٹی رات میں ہمیں قیام نہیں کرایا اور پانچویں رات ہمیں آدھی رات تک نفل پڑھائے تو میں نےعرض کی :اے اللہ کے رسول !کاش آپ ہمیں بقیہ رات بھی نفل پڑھاتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ آپ نے فرمایا: بے شک جس شخص نے امام کے ساتھ قیام کیا حتی کہ امام فارغ ہو گیا تو اس کےلیے پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔ پھر آپ نے ہمیں قیام نہ کرایا حتی کہ تین دن باقی رہ گئے ، پھر آپ نے تیسری رات ہمیں قیام کرایااور آپ نے اپنے گھر والوں اور عورتوں کو بھی جمع کیا اور ہمیں اس قدر طویل قیام کرایا کہ ہمیں خطرہ ہواکہ ہماری فلاح رہ جائے گی۔ میں نے عرض کی : فلاح کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا:''سحری کا کھانا''۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 2206

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2207

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ. عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَة: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ نَاسٌ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى فَصَلُّوا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يُنَادُونَ: الصَّلَاةَ، فَلَا يَخْرُجُ، فَكَمُنَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ قَامَ. فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَتَشَهَّدَ، فَحَمِدَ اللَّه، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمْ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْتَرَضَ [225 - ب] عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ، فَتَعْجِزُوا عَنْهَا". وَكَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَغِّبُهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْر أَنْ يَأْمُرَ بِعَزِيمَةِ أَمْرٍ، فَيَقُولُ: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَكَانَ الْأَمْرُ كَذَلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، حَتَّى جَمَعَهُمْ عُمَرُ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَصَلَّى بِهِمْ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى قِيَامِ رَمَضَانَ.

اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم ﷺ نے پورے رمضان المبارک کی راتوںمیں اس لیے قیام نہیں کیا تھا کہ آپ ڈر گئے تھے کہ کہیں آپ کی امت پر قیام اللیل فرض نہ کر دیا جائے پھر وہ اس سے عاجز آجائیں گے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 2207

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2208

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ يُصَلُّونَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: "مَا هَؤُلَاءِ؟ " فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ نَاسٌ لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِهِمْ، وَهُمْ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَصَابُوا -أَوْ نِعْمَ مَا صَنَعُوا-".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو اچانک کچھ لوگ رمضان المبارک میں مسجد کے ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے دریافت کیا: یہ لوگ کون ہیں؟آپ سے عرض کیا گیا : ''ان لوگوں کو قرآن مجید یاد نہیں ہے۔اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے ہیں اور وہ ان کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''ان لوگوں نے درست کا م کیا ہے یا انہوں نے بہت اچھا طریقہ اختیار کیا ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Hadith 2208

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2209

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر أَبِي هُرَيْرَة: وَقَدْ أُعْلِمَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ يَؤُمُّ قَوْمًا لَيْسَ مَعَهُمْ قُرْآنٌ، فَصَوَّبَ فِعْلَهُمْ، فَقَالَ: "أَصَابُوا -أَوْ نِعْمَ مَا صَنَعُوا! -".

''حضرت ابو ہریرہرضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بتایا گیا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ایسے لوگوں کونماز پڑھا رہے ہیں جنہیں قرآن یاد نہیں۔ تو آپ نے ان کے کام کو درست قرار دیا تھا اور فرمایا تھا:''انہوں نے درست یا بہت اچھا کام کیا ہے۔''

Hadith 2209

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2210

وَفِي خَبَر جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ". وَجَاءَ (1) فِي الْخَبَر: فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ فَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ، فَقَامَ حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، وَبَعْضُ أَصْحَابهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّنْ قَدْ صَلَّى مَعَهُ قَارِئٌ لِلْقُرْآنِ لَيْسَ كُلُّهُمْ أُمِّيِّينَ.

''حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے :''تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا:''جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے حتی کہ وہ نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کےلیے پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔''اور ایک روایت میں آیا ہے:''تو پھر آپ نے تیسری رات ہمیں قیام کرایا ، اپنے اہل و عیال اور ازواج مطہرات کو بھی جمع کیا۔ پھر آپ نے اپنا طویل قیام کیا کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا ڈر پید اہوا۔اورآپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے صحابہ کرا م قاری اور حافظ تھے۔ وہ سب کےسب ان پڑھ نہیں تھے''

رَسُولُ اللَّه "إِذَا صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← وَفِي خَبَر جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ

Hadith 2210

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2211

وَفِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ"، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْقَارِئَ وَالْأُمِّيَّ إِذَا قَامَا مَعَ الْإِمَامِ إِلَى الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاتِهِ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ. وَكَتْبُ قِيَامِ لَيْلَةٍ أَفْضَلُ مِنْ كَتْبِ قِيَامِ بَعْضِ اللَّيْلِ.

''رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان :''جس شخص نے امام کے ساتھ قیام کیا حتی کہ امام نماز سے فارغ ہوگیا تو اس کےلیے ساری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔''میں اس بات کی دلیل ہے کہ قاری اور ان پڑھ شخص جب امام کے ساتھ اس کی نماز سےفارغ ہونے تک قیام کرتا ہے تو اس کےلیے ساری رات قیام لکھا جاتا ہے اور ساری رات کے قیام کا ثواب کا لکھا جانا بعض رات کے قیام کے ثواب لکھے جانے سے افضل و بہتر ہے۔''

قِيَامِ بَعْضِ اللَّيْلِ. ← قِيَامِ لَيْلَةٍ أَفْضَلُ مِنْ ← لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ. ← الْأُمِّيَّ إِذَا قَامَا مَعَ الْإِمَامِ إِلَى الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاتِهِ ← لَهُ قِيَامُ لَيْلَتِهِ"، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْقَارِئَ ← وَفِي قَوْلِهِ "مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ

Hadith 2211

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2212

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، أَخْبَرَنا [الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ]، عَنْ شُعَيْبٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ- عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: جَاءَ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُل مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَالَ لَهُ: [يَا رَسُولَ اللَّه! أَرَأَيْتَ] إِنْ شَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّه، وَصَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ [الْخَمْسَ]، وَصُمْتُ الشَّهْرَ، وَقُمْتُ رَمَضَانَ، وَآتَيْتُ الزَّكَاةَ؟. فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ مَاتَ عَلَى هَذَا كَانَ مِنَ الصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ".

''حضرت عمر و بن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قضاعہ قبیلے کا ایک شخص آیا تو اس نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیں اگر میں گواہی دوں کہ ایک اللہ کے سورا کوئی معبو د نہیں ،ا ور آپ اللہ کے رسول ہیں اور نماز پنجگانہ ادا کروں ، رمضان المبارک کے روزےرکھوں اور قیام کروں ، زکوۃ ادا کروں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:''جو شخص اس حالت میں فوت ہوا تو وہ صدیقین اور شہداءمیں شمار ہوگا۔

جَاءَ رَسُولَ اللَّه رَجُل مِنْ قُضَاعَةَ، فَقَالَ لَهُ: ← عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ الْجُهَنِيَّ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← شُعَيْبٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ- ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ،

Hadith 2212

chevron_left Previous
1…2728293031
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals